التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

معراج جسمانی کا عقیدہ

ہمارا عقیدہ ہے کہ حضور رسالتمآب ؐ کومعراج جسمانی ہوئی تھی اور ایک بار نہیں بلکہ کئی بار ہوئی اور جو لوگ معراج روحانی کے قائل ہیں ان کا دامن دلیل سے خالی ہے ہمارے پا س قرآن مجید کا صریح فرمان سبحان الذی اسری بعید ہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی الذی بارکنا حولہ لیذیہ من ایتنا پا ک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندے کومسجد الحرام سے مسجد اقصی تک سیر کرائی وہ مسجد اقصی جس کے گرد ونواح کو ہم نے با برکت بنا یا ہے تاکہ ہم اس کو اپنی نشانیاں دکھائیں پس آیت مجیدہ صاف جسمانی معراج کو ثابت کر رہی ہے کیونکہ فرمان ہے کہ اس نے اپنے عبد خاص کو سیر کرائی اور عبد صرف روحکا نام نہی بلکہ جسم و روح کے مجموعہ کا نام ہوا کرتا ہے اور مسجد اقصی سے بیت المقدس مراد لینا غلط ہے کیونکہ اقصی کا معنی ہے سب سے دور اس لئے کہ وہ افعل التفضیل کاصیٖغہ ہے پس مسجد اقصی وہ جائے عبادت ہوگی جو سب سے دورہو اور اگر چہ بیت المقدس پر بھی مسجد اقصی  کا اطلاق مجازا وراد ہے کیونکہ وہ عربوں سے بہت دور تھا لیکن  آیت مجیدہ میں اسی مجازی دوری کا مراد لینے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ لے جانے والے کے استعمال میں جب حقیقی معنی مراد لیا جا سکتاہے توبغیر قرینہ کے مجاز مراد لینا خلاف قاعدہ ہے اور چونکہ اللہ ہی  لے گیا ہے پس اس کی ذات کے نزدیک سب سے دور یعنی بیت المقدس بھی کیا جائے توا س سےآگے کی نفی اس سے ثابت نہیں ہوتی البتہ یہ کہاجائے گا کہ بیت المقدس تک جانا قرآن سے ثابت ہے او رآگے امکان کی انتہائی حدود تک جانا احادیث متواترہ ہے ثابت ہےبہرکیف معراج کے اثبات میں تواتر سے احادیث موجود ہیں جس میں شک کرنے کی ذرہ بھر گنجائش نہیں ہو سکتی کسی زمانہ میں معراج کی عقلی صحت کیلئے خرق و التیام کا مسئلہ آڑے آجاتاتھا لیکن آج کل جدید معلومات نئے انکشافات نے خرق و التیام فرسودہ خیال ثابت کردیا ہے چاند پرراکٹ بھیجنے اور مریخ پر ڈیرہ ڈالنے کا خواب دیکھنے والے خرق والتیام کی محالیت کو ختم کربیٹھے ہیں اور آسمانی منازل کو وہ انسان کا مقدر ور ثابت کر چکے ہیں پس وہ انسان جو امکان کی آخری منز ل ارتقاءپر فائز ہو اس کے لئے اپنی روحانی طاقت کے ذریعے یہ بلندیاں طے کرنا کوئی مشکل نہیں جب کہ مادہ  کی طاقت سے بدر جہا قوی اور مضبوط تر ہوتی ہے اور پھر حضور ﷺ کے متعلق تو خو د خد انے یہ دعوی کیا کہ میں خود لے گیا ہوں پس اشکال کی کوئی وجہ ہی نہیں ہے باقی رہا کہ معرا ج پر حضور ﷺ نے کیا کیا دیکھا تو اس کی تفاصیل کتب میں درج ہے البتہ باتیں ہوئیں اور کتب حدیث گواہ ہیں کہ جو باتیں ہوئیں وہ حضرت علی ؑ کے لہجہ میں ہوئیں جیسے کہ نیا بیع المودۃ اور تفسیر برہان و دیگر کتب میں بھی موجودہے بعض ہونے والی باتوں میں سے ہم نے تفسیر کی تیسری جلد میں تذکرہ کیا ہے ایک مرتبہ ایک یہودی نے اعتراض کیا تھا کہ موسی ؑ سے خدا نے خود کلام کیا تھا اس کے بدلہ میں آپ کو کیا ملا تو آپ نے فرمایا مجھے اس کے بدلہ میں معراج ملا تفصیل تفسیر کی جلد چہارم کے اخیر میں ملاحظہ فرمائیں بہرکیف معراج پرجس قدر باتیں ہوئیں وہ مخاطبہ کے ذریعے سے ہوئیں جبرئیل درمیان میں واسطہ نہ تھا کیونکہ معراج منزل جبرئیل کے مقام السدرۃ المنتہی سے بلند تھی اور معراج پر جاتے ہوئے حضورﷺنے مقام البیت  المعمور پر تمام انبیا کو نما ز پڑھائی تھی اور انبیا سے پو چھا تھا کہ تم کیوں نبی مبعوث ہوئے؟ تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ توحید خدا اور آپ کی نبوت اور علی کی ولاءپر ہم مبعوث ہوئے آیت میثاق کی تفسیر میں تفصیل سے ملاحظہ فرمائیں معراج کی دعوت کے لئے جانے والا اور ساتھ لانے والا جبرئیل امین تھااور جس سواری پر لایا گیا اس کا نام براق تھا اور حجابات کی منازل آپ نے رفرف پر طے کیں اور جبرئیل ٹھہر گیاتھا کیونکہ اس نے عرض کی تھی کہ اگر ایک انگلی کے برابر بھی آگے بڑھوں تو میرے پرجلتے ہیں معراج کے واقعات میں کلا یا جزءاختلاف ہو سکتا ہے لیکن علمائے امامیہ میں یہ بات مسلمات میں سے ہے کہ حضور ﷺ کو معراج جسمانی ہواتھا اور یہ آپ کے معجزات و کمالات میں سے اہم معجزہ و کمال ہے جو کسی نبی کو نصیب نہیں ہوا اور یہ حضرت موسیؑ کے کلیم اللہ ہونے سے بدرجہا افضل ہے کیونکہ قرب و محبت کا بلند ترین مقام ہے اسی لئے آپ ﷺ کے القاب میں سے حبیب اللہ ممتا ز ترین لقب ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں