التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

معجزہ قرآن انبیا کے تمام معجزوں سے بڑھ کر ہے

پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ ہر نبی کو معجزہ ایسا ملا جو اس زمانہ کے اہل کمال لوگو ں کی گردنیں جھکا دے بنا بریں جناب رسالتمآب کے زمانہ میں چونکہ فن شعر وشاعری اور خطابت میں فصاحت بلاغت کا زبردست چرچا تھا اور اس لیے عرب لوگ باقی تمام ممالک کے لوگوں کو گونگا سمجھتے تھے اور اسی بنا پر اپنا نام عرب یعنی اپنے مافیالضمیر کو ادا کر سکنے والے اور دوسروں کا نام عجم انہوں نے تجویز کر کیا تھا اور اس زمانہ میں جملہ مملک سے مذہب طبقہ کو ایسے انداز سے پیغام خدا پہنچانے کی ضرورت  تھی جو مافوق العادہ کلان کے ذریعے فصحا وبلغا تو بجائے کد فصاحت وبلاغت کو اپنے قدموں میں جھکا کے پس خدائے علام نے اسی لئے جناب رسالتمآب  کو قرآن بطور معجزہ عطا فرمایا تاکہ دستور بعثت کے ماتحت دور حاضر کے مفکرین کو مقصد توحید کے سمجھانے میں زیادہ سےزیادہ موثر ہو سکے اور قرآن نے آتے ہی چیلنج  پر چیلنج شروع کر دیا کہ اگر یہ بشر کا کلام ہے تو بے شک سب کے سب مل کر اس  کا اس کی ایک سورت کا اس کی دس آیتوں کا حتاکہ ایک آیت کا مقابلہ کر کے اس جیسا کلام کے آو لیکن وہ سب کے سب مقابلہ میں گنگ رہے پس حضور کا معجزہ تمام نبیوں کے معجزوں سے  بڑا معجزہ ہے کیونکہ ان کے معجزات ایک محدود وقت تک محدود قوموں کے لئے تھے اور یہ معجزہ قیامت تک کے لئے ہے وہ معجزے آنی ہوتے تھے کہ ظاہر ہونے کےفورا بعد ختم ہو گئے لیکن قرآن مجید وہ معجزہ ہے جو دائمی ہے اور ہر زمانہ میں یہ زندہ معجزہ ہے حتی کہ علوم و فنون میں مہارت رکھنے والاہر انسان اس معجزہ کو سمجھنے پر مجبور ہو جاتاہے اور اسلام کی تصدیق میں جو موثر کردار قرآن نے ادا کیا ہے وہ کسی ظاہری طاقت سے نہ ہو سکا ہم نے تفسیر انوارالنجف کے مقدمہ میں قرآنی اعجاز کے بارہ پہلو ذکر کہتے ہں یعنی یہ بارہ طریقوں سے معجزہ ہے پس جس کو تفصیل کی ضرورت ہو ہماری تفسیر کامطالعہ کرے

ایک تبصرہ شائع کریں