التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

صفت عبادت

جناب رسالتمآب  کے بعد مرتبہ عبادت میں آئمہ اہل بیتؑ سے کوئی  نہیں بڑھ سکتا اصل عبادت تو یہ ہے کہ انسان میں عبدیت پوری طرح نافذ ہو جس طرح غلام کے تمام اعضاء اپنے آقا کے کنٹرول میں ہوتے ہیں پس خداکا صحیح  معنی میں عبد وہ ہوگا  جس کے تمام اعضاء پروردگار کی مرضی کے مطابق متحرک ہوں اور عبدیت کایہ معنی آل محمدؐ میں  بدرجہ  اتم پایا جاتاہے مقام مناجات میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کا یہ کلمہ بڑا وزنی ہے وجدتک ربا کماارتضی فاجعلنی عبدا کماترتضی اے اللہ میں نے تجھے ایسا رب پایا جیسے  میں چاہتا تھا اب تو مجھے اپنا ایسا عبدبناجیسے تو چاہتاہے ایک مقام پر ارشاد ہے کفیٰ بی فخرا ان تکون لی ربا وکفابی عزاان اکون لک عبدا یعن میرے فخر  کے لئے اناکافی ہے کہ تو میرا پروردگار ہے اور میری عزت کے لئے اس قدرکافی ہے کہ میں تیرا عبد ہوں حضرت امام حسین علیہ السلام نے عبدیت وعبادت کا وہ منظر پیش کیا جورہتی دنیا تک تمام انسانوں کے لئے مشعل راہ رہے گا حضرت علیؑ بن الحسین علیہ السلام نے اس عہدہ کو اس طرح نبھایا کہ دوست ودشمن سب زین العابدین کہنے  اور سید الساجدین لقب بن گیا اسی طرح حضرت علیؑ سے لے  حضرت مہدیؑ تک تمام آئمہ  اہل بیتؑ کی عبادت کا یہی عالم رہاہے  حضرت سجاد علیہ السلام کے باغ میں پانچ سودرخت کھجور کے تھے اور ہر رات ہر درخت کے پاس دورکعت پڑھا کرتے تھے  گویا ہر رات ایک ہزاررکعت نماز ادا فرماتے تھے اور حجرت امیرالمومنین علیہ السلام کا بھی یہی دستور تھا ایک دفعہ جناب زینت عالیہ  نے خواہش کی اور کہلوابھیجا کہ بیٹا عبادت کو کچھ کم کردو تو آپ نے فوکر جواب دیاکہ میری عبادت میرے جدنا مدار حضرت علیؑ کی عبادت کے مقابلہ میں اس طرح  ہے جس طرح ایک قطرہ سمندر کے مقابلہ میں اور جس طرح جناب رسالتمآبؐ سے ایک حدیث منقول ہے کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے اسی طرح آئمہ طاہرینؑ نماز میں مناجات پرورکاگار کی لذت محسوس فرماتے تھے

ایک تبصرہ شائع کریں