التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

تشریعی نظام تکوینی نظام سے اشرف و افضل ہے

یہاں تک یہ واضح ہو گیاکہ بدن انسان عالم اکبر کا خلاصہ و نچوڑ ہےجس طرح عالم اکبر میں دونظام تکوینی و تشریعی رائج ہیں اسی طرح عالم اصغر بدن انسانی میں بھی دو نظام جاری و ساری ہیں بے شک عالم اکبر کی و ستعوں بلندیوں اور پستیوں میں خالق اکبر کی جانب سے قائم کئے جانے والے بے حدو حساب کارخانہ جات ہیں اس کے ملائکہ کام کر رہے ہیں اور بلاکمی بیشی ایک پائیدار و لازوال نظام کے ماتحت ہر کارخانہ دار اپنے کارخانے کاکام چلا رہا ہے کوئی ہوا چلاتا ہے کوئی بادل بنا تا ہے کوئی بارش پرمامور ہے کوئی سبزیاں اگاتا ہے کوئی دریاوں پہاڑوں وادیوں اور غاروں میں مصروف کار ہے کوئی صرف تسبیح و تقدیس پروردگار پر  مامور ہے اور انہی سے عالم اکبر کا تکوینی نظام اپنے اسباب و علل کے ماتحت باحسن وجوہ چل رہا ہے قرآن کا ارشاد ہے خلق لکم مافی الارض جمیعا کہ میں نے زمین کا سارا نظام تمہارے لئے ہی پیدا کیا ہے اور قرآن مجید کے مفصل مطالعہ سے آپ کو پتہ چلےگا کہ نظام تکوین سب انسان ہی کی خاطر ہے زمین اور اس کی آبادیاں پہاڑ او ر اس کے دامن میں چھپے ہوئے بیش بہا خزانے سمندر اور اس کےتہ نشین موتی و جواہر ہوا بادل آگ بجلی اور آسمانی مخلوق چاند سورج ستارے حتاکہ محکمہ جات قدرت کی تمام سروسیں انسان کی خاطر ہی معرض وجود میں آئی ہیں اور ظاہر ہے کہ غرض مبادی سے اشرف و اعلی ہو ا کرتی ہے چونکہ یہ انسان تمام موجودات عالم کا غرض تخلیق ہے پس اشرف المخلوقات و اکرم الموجودات ہے اور چونکہ و ہ مبادی متضادہ مواد متحاریہ اخلاط متخالفہ اور امزجہ متبائنہ سے علل و ذرائع کے گوناگوں انقلابات تصرفات اور تطہورات کے بعد اوصاف متضادہ اور حرکات و سکنات مختلفہ کا مظہر بن کر آیا ہے جس میں عالم علوی اور عالم سفلی کے ملے جلے اثرات موجود ہیں پس ان کو تصادم و تجارت سے بچانے اور ان کے تمدن کو برقرار رکھنے کے لئے جس نظام کی ضرورت ہے و ہ اس تکوینی نظام سے بدر جہا افضل و اشرف ہو گاکیونکہ وہ نظام تکمیل و تتمیم کے بعد وجود انسانی کا مقدمہ ہے پس انسان کی بقا و ارتقا تکوینی نظام کی غایت قصوی ہےتو لا محالہ و ہ اشرف وارفع ہے کیونکہ حکیم کی شان سے بعید ہے کہ ناقص کو کامل کی غرض قرار دے اور اخس کو اشرف کا مقصود بنائے اور انسانی بقا ء و ارتقا کے لئے جو نظام قائم کیا گیا ہے وہ ہے نظام تشریعی نیز تکوینی نظام اضطراری ہے اور تشریعی نظام اختیاری ہے اور نظام اختیاری نظام اضطراری سے بدرجہا افضل و اشرف ہوا کرتاہے

جس طرح بدن انسان میں تکوینی نظام یعنی اصلاح بد ن کا نظام انسان کے اختیاری افعال کی بجا آوری کا مقدمہ ہے اورنظام تشریعی میں عقل کو خیر کی اقدام کرنے کا مبلغ  و داعی قرار دیا گیا ہے اور اسی کو شریعت نے رسول باطن کا لقب دیاہے اسی طرح عالم اکبر میں تشریعی نظام انبیا کے سپرد کیا  گیا ہے اور حضرت سرور کائنات محمد مصطفی اور اس کے جانشین آئمہ طاہرین علہیم السلام پوری کائنات میں نظام تشریعی کے علمبردار اور ناظم اعلی ہیں نیز جس طرح نظام تشریعی نظام تکوینی سے افضل و اشرف ہے اسی طرح نظام تشریعی کے عہدہ دار نظام تکوینی کے عہدہ داروں سے افضل و اشرف ہیں پس جس  طرح بدن انسان میں عقل باقی جسمانی قوی سے اٖفضل ہیں اور تمام نبیوں کاسلطان تمام کائنات کے جزوی و کلی کا رخانہ دار عبادت گذار ملائکہ مقربین قدسسیین و کروبیین سے بدر جہا اشرف و ارفع ہیں حتاکہ  نظام تکوین کے تمام ملائکہ کاسلطان سید الملائکہ حضرت جبرئیل نظام تشریع کےسلطان سیدالانبیا کا غلام ہے لیکن یہ یاد رہے کہ نظام تکوین اگرچہ ملائکہ کے سپردہے اور اسباب وعلل کے ماتحت ایک خاص انداز سے آگے بڑھ رہا ہے لیکن اقتدار اعلی خالق کائنات پروردگا ر عالم کے پاس ہے وہ اس موجودہ نظام کا محتاج نہیں اور  نہ ملائکہ کے ہاتھ میں دے کر وہ بے بس ہے بلکہ جب چاہے جس طرح چاہے اس کو بدل سکتاہے اور اس کا ختم بھی کر سکتاہے ملائکہ سے لے بھی سکتا ہے  او ان کو اس عہدہ سےبر طرف بھی کرسکتا ہے اور سب ملائکہ باوجود انتہائی اطاعت گذار ہونے کے اس کے غضب و جلال اور اس کی قہرمانیت سے  ترساں دلرزاں ہیں اور اس کی عظمت کے سامنے ہر وقت سرنگوں و مصروف اطاعت ہیں  اسی طرح نظام تشریعی میں محمد و آل محمد اگرچہ مختار کل ہیں اور حلال و حرام ان کے حکم سے بنتے ہیں ان کی اطاعت اطاعت خدا ہے اور ان کی نافرمانی خدا کی نافرمانی ہے اور ان کی رضا خدا کی رضا ہے اور ان کا غضب خدا کا غضب ہے لیکن ان کا اقتدار اعلی اور اختیار بالا بھی ہر وقت و ہر لمحہ خالق کائنات کے پاس ہے وہ جب چاہے جس وقت چاہے ایک نظام کو بدل کردوسرا نظام رائج کرسکتاہے  یمحق اللہ مایشا ءویثبت الآیتہ فرماتاہے جسے چاہے مٹا دے اور جسے چاہے اس کو ثابت رکھے اور اس کو روکنے والا کوئی نہیں وہ فاعل مختار ہے فاعل مجبور نہیں فرماتا ہے ماننسخ من ایتہ اوننیھانات بخیر منھا اومثلھا الآیتہ یعنی جس آیت کوہم منسوخ کردیں اور جسےفراموش کرا دیں اس کی جگہ ہم اس سے بہتر یا اس جیسی اور لاتے ہیں پس جس طرح نظام تکوین فرشتو ں کے ہاتھوں میں دینے کے بعد وہ مجبور و بے بس نہیں بلکہ اس کی ترمیم یا تنسیخ اس کے ہاتھ میں ہے او ر حضرات محمد آل محمد نے کبھی اس کے سامنے  فخر نہیں کیا بلکہ اس کی ذات کے سامنے ہر وقت سرنگوں رہے اور اس کی عظمت کے سامنے سر بسجود رہے وہ خوف خدا میں اس قدر روتے تھے کہ ریش مبارک آنسو سے تر ہو جاتی تھی حتی کہ آذان کی آواز سن کر بد ن تھر اجاتاتھا چہرہ کی رنگت پریشان ہوجاتی تھی جسم پرکپکپی طاری ہو جاتی تھی اور آنکھیں خوف خدا میں موتیوں کی لڑیوں کی طرح آنسو کےقطرات مسلسل گراتی جاتی تھیں

ایک تبصرہ شائع کریں