التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

حیوان وا نسان میں فرق واضح اور عقل کا اثبات

عام حیوانات کو دیکھئیے باوجود کثرت اور صنفی و نوعی باہمی اختلافات کے اس بات میں سب کےسب برابر ہیں کہ وہ اپنی پرانی روایات پرانی عادات اور پرانی وضع پر پوری وضع پر پوری طرح جمے ہوئے ہیں بسیط زندگی اور معمولی گزر اوقات پر ہمیشہ اکتفا کرتے چلے آئے ہیں ان کے لباس طبعی مساکن اصلی اور ویسے کے ویسے ہیں مثلا جو ابتدا ٖغاروں میں رہنے کے عادی تھے اب تک غاروں کی زندگی بسر کرتے ہیں اور جو پہلے سے پہاڑوں پر بسیر ا ہے جو جنگلات میں رہنے کے پابند ہیں  اور جن کو گھونسلوں کی عادت تھی وہ اب تک اسی دستور پر کاربند چلے آتے ہیں ان کی عادات و طور پر طریقہ میں قدیم و جدید کا کوئی فرق نہیں اور وہ اپنے آبا کےسابق طرز عمل سے ذرہ بھر ادھر ادھر نہیں ہوتے اور نہ کسی کا حالت میں کوئی ذرہ بھر بھی فرق یا انقلاب رونما ہوتا ہے پس ان کی تمام ترزندگی کی جدوجہد صرف گھاس پانی دانہ تک بھی محدود رہتی ہے سالہا سال گزرے لیکن ان کے رویہ میں کوئی ترقی رونما نہ ہوئی نہ ان میں علم نہ مادہ ایجاد نہ جذنہ ترقی اور نہ شوق بلندی ہےنہ وہ مادہ کشف رکھتے ہیں اورنہ وہ صناعت سے بہرہ ور ہیں

حیوانات میں صناعت کی بڑی سے بڑی جو مثال پیش کی جاتی ہے وہ عنکبوت کاجال یا شہد کی مکھی کا چھتہ ہے کہ مثلا اس کے تمام خانہ جات مسدس ہوا کرتے ہیں اور سب کے سب پیشمائشی طور پر برابر ہوتے ہیں لیکن آپ نے کبھی نہ سنا ہو گا اور نہ سنیں گے کہ انہوں نے یا ان جیسی کسی نوع نےاپنی متعلقہ صنعت میں کبھی کوئی ترقی یا تبدیلی کی ہو یا اپنی وضع قدیم میں کچھ ترمیم یا تنسیخ کی ہو بخلاف اس کے ادھر انسان کو دیکھئے کہ اس کی پوری زندگی اپنی اصلاحا ت اور ترمیم و تنسیخ میں گزرتی ہے اور ہمیشہ وہ کمال و سعاد ت کا طالب رہتاہے خواہ حال حاضر کے لئے خواہ دار آخرت کے لئے اوربعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو دنیا و آخرت دونو کی اصلاح کی فکر کرتے ہیں اور وہی اللہ کے خاص بندے ہیں لیکن ہیں بہت کم

خلاصتہ الکام ہم نے وحوش و طیور و بہائم کی زندگی کا جب مطالعہ کیا تو دیکھا کہ وہ بڑے مزے سے مطمئن اور پرسکون زندگی گزارتے ہیں اور ہر قسم کے افکار سے بالکل مبرائیں سوائے جنسی تعلقات اکل و شرب ور لہو و لعب کے لیکن انسان کو دیکھا تو اس کی فکر مسلسل آگے بڑھنے میں مصروف عمل ہے اور اس کے تمام اعضا دائمی طورپر اسی سلسلہ میں محترک رہتے ہیں اگر آپ انسان کے کردار کا جائزہ لیں گے توآپ قطعی طورپر اس نظریہ پر پہنچیں گے کہ وہ ہر وقت  زمین میں گردش  کر رہا ہے جیسے کسی گمشدہ شئیے کی تلاش  اس کو مطلوب ہو جیسے کوئی شکاری نئے شکار کے پھنسانے کی فکر میں ہو اور یہی  رفع کرنے کے لئے ہمیشہ پاوں مارتا ہے یہ حالات و آثار صاف بتلاتےہیں کہ حیوان و انسان میں تمام قوائے ظاہر یہ و باطنہ میں شرکت کے بعد انسان ایک انسان ایک خاص ایسی قوت کا حامل ہے جو اس کا امتیازی نشان ہے اور جس کی بدولت وہ ہمیشہ کمال و خیر  اور عز و شرف کی اوج تک رسائی کے لئے بے چین رہتا ہے اور اسی کو کہتے ہیں  قوت عاقلہ یا نفس ناطقہ پس جس نےاس کی بدولت سعادت اور شقاوت کے درمیان امتیاز کر کے سعادت کو طلب کیااور شقاوت سے بچ نکلااور اپنی کوششون کی بنا پر قدسی مخلوق ملائکہ سے جاملا بلکہ اس سے بھی افضل ہو گیا توو ہ ہے درحقیقت انسا ن لیکن اس قسم کی تعداد بہت کم ہے اور اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن کے متعلق خود خدا فرماتا ہے ان ھم الا کالا نعام بل ھم اضل سبیلا یعنی وہ مثل حیوانوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں او رعقل فطری ہے جو ترقی کے منازل طے کرنے کے ہیں بلکہ ان سے بھی بدترہیں اوریہ عقل کسبی بن جاتاہے اورعقل مسموع کے بعد عقل مطبوع کے درجہ ہے جس کی بدولت  وہ ورطہ ناسوت یاخست و پستی سے اوج کمال و رفعت کی طرف بڑھتا ہے اور یہ تب ہی ہو سکتاہے جب وہ خیر و پستی سے اوج کمال ورفعت کی طرف بڑھتا ہے اوریہ تب ہی ہو سکتا ہے جب وہ خیرو شر میں نیک و بد میں خست و شرف میں اور حسن و قبح میں تمیز کر سکے ورنہ ترقی کی طرف اقدام بے معنی اور شرف کی طرف تگ و دو بے فائدہ ہو جائے گی ۔


ایک تبصرہ شائع کریں