اشعری عقیدہ میں حسن اور قبح کے نہ ماننے کی دو وجہیں ہیں ایک وجہ سے افعال خالق یعنی وہ کہتے ہیں کہ تمام کائنات میں ہر طرح کے تصرفات کا اللہ کو اختیار کامل حاصل ہے پس وہ جو کچھ کرے حسن ہے اور بمطابق عدل ہے اس کی ملکیت میں اس تصرف پر قید لگانا اور اس کے بعض تصرفات کو ممنوع کہنا اس پر ظلم ہے حالانکہ وہ فرماتاہے لایسال عما یفعل وھم یسئلون وہ جوکچھ کرے اس سے باز پرس نہیں ہو سکتی اور لوگوں سے باز پرس ہوگی لہذا کہنا پڑتا ہے کہ اس کا ہر فعل حسن ہے
اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک ہم اس
کو ہر شئی کا مالک و مختار کل سمجھتے ہیں اور اس کے تصرفات میں قید لگانا ناجائز
جانتے ہیں اور اس کے تصرفات میں قید کون لگا سکتا ہے جب کہ نہ اس کا کوئی شریک ہے
نہ ضد اور نہ مثل بلکہ ہم یہ کہتےہیں کہ اس کی ذات سے جو فعل بھی سرزد ہو واقع کے
اعتبار سے چونکہ وہ اس کا فعل ہے لہذا اسے حسن ہی ہونا چاہیے پس وہ محکم ہی ہو گا
لیکن چونکہ ہمیں معلوم نہیں ہوتا لہذا وہ ہمارے نارسا عقول کے نزدیک دو قسموں سے
خالی نہ ہو گا محکم یامتشابہ محکم وہ ہے جس کی مصلحت اور حسن معلوم ہو یا ظنی طور پر منکشف ہو معلوم
المصلحت کو نص اور مظنون المصلحت کو ظاہر کہا جاتاہے اور متشابہ وہ ہے جس کا حسن
اور مصلحت معلوم و مظنون نہ ہو خواہ اس میں احتمال ایک ہو یا زیادہ یا احتمالات کا
دروازہ سر ے سے بند ہو پس اگر قابل تاویل ہو گا تو ماول ورنہ مجمل کہیں گے چونکہ
تمام عقول کا جزی و حتمی فیصلہ ہے کہ اللہ تمام صفات کمال کا جامع ہے اور اس سے
ایسے فعل کا صدور ناممکن ہے جو اس کی ذات کے لئے زیبا نہ ہو پس وہ فعل متشابہ صرف
ہمارے نزدیک متشابہ ہے ورنہ واقع کے لحاظ سے وہ ضرورکسی مصلحت کا حامل ہو گا لہذا
وہ حسن ہی ہو گا خواہ ہم اس کی مصلحت کو سمجھیں یا نہ سمجھیں باقی رہی یہ بات کہ
اس کے تصرف پر قید اور پابندی نہیں لگائی جاسکتی تو اس کے متعلق ہم اس قدر کہتے
ہیں کہ وہ اپنی عظمت شان قدسیت ذات اور لطف و کرم کی بنا پراپنے اختیار و ارادہ سے
فعل قبیح نہیں کرتا نہ اس لئے کہ وہ کسی کاپابند ہے یا کسی باز پرس کا اس کو ڈر ہے
پس یہ عقیدہ اس کے تصرف و اختیار کلی کے منافی نہیں کیونکہ اپنے لطف و کرم سے ایک کام نہ
کرنا اور ہے اور مجبورا ترک کرنا اور ہے پس وہ ذات ظلم و قبیح
سے منزہ ہے اور اپنی پوری خدا ئی میں تمام اختیارات و تصرفات میں کلی طور پر مختار ہے دیکھیئے ایک
شریف زمین یا رئیس اپنی فطرت شریفہ کے لحاظ سے اگر شراب نہ پئے یا جوا نہ کھیلے
یاکسی برائی کا ارتکاب نہ کرے تو یہ نہیں
کہا جاسکتا کہ وہ مجبورا ایسا نہیں کرتا کیونکہ رعایا میں سے کسی کی مجال نہیں کہ
اسے روکے ہاں اسے اپنی شرافت ضرور روکتی
ہے جس کی بنا پراس کے اختیار پر کوئی حرف نہیں آسکتا پس یہاں بھی اس کی عظمت و
جلال اس کی حکمت و علم اور قدرت وغیرہ کا تقاضا ہے کہ وہ ظلم نہ کرے یا فعل قبیح اس سے سرزد نہ ہو تو یہ عقیدہ اس کے
اختیارات کو ہرگز باطل نہیں کرتا پس اس شبہ کی بنا پردوسرے سے حسن اور قبح کا
انکار کر دینا اور عقل کا دروازہ بند کرنا ظلم اور اندھیر بلکہ انتہائی حماقت
کےسوا کچھ نہیں