والدین: جو ماں باپ اپنی اولاد کی اچھی تربیت کریں بروز محشر ان کے درجات بلند ہوں گے چنانچہ اپنے بچوں کو قرآ ن مجید کی تعلیم دلوانے والے والدین کو قیامت کے دن تاجِ کرامت عطا ہو گا اور فرشتے کہیں گے کہ یہ شرف تمہیں اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے کے عوض میں ملا ہے (ج۱ ص۷۲)
٭ مروی ہے کہ والدین کی طرف مہر و محبت سے
دیکھنا عباد ت ہے (ج۱ ص۹۳)
٭ والد کے اطاعت گزار اسرائیلی بچہ کو دنیا
میں بدلہ (ج۲ص ۴۲۱)
٭ والدین کی اطاعت (ج۲ص۰۳۱)
٭ والدین اگر اولاد کی اچھی تربیت کریں تو ان
کےلئے صدقہ جاریہ بنیں گے (ج۶ص۶۱۲)
٭ والدین کی نافرمانی سنگین
گناہ(ج۵ص۶۶۲،ج۶ص۴۶۱،ج۱۱ص۰۱۱،ج۳۱ص۸۵۱، ج۴ص۸۶۱)
٭ والدین کے ساتھ نیکی دانشمندی کی علامت ہے
(ج۶ص ۸۶۱)
٭ امام محمد باقرؑنے فرمایا وہ ہمارا شیعہ
نہیں جو والدین کے ساتھ نیکی نہیں کرتا (ج۶ص۸۶۱)
٭ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا جو شخص والدین کی
طرف غصہ کی نگاہ کرے اسکی نماز قبول نہیں (ج۶ص۱۷۱)
٭ والدہ ماجدہ حضرت امیرالمومنین ؑ کا ذکرِ
خیر(ج۶ص۴۷۱)
٭ دنیاوی امور میں والدین کی اطاعت واجب ہے
(ج۷ص۲۳،ج۱۱ص۷۶ص۸۶)
٭ والدین کے نافرمان بیٹے کا برا انجام
(ج۷ص۹۷۱)
٭ جب حضرت یوسف ؑ کی ملاقات کےلئے حضرت یعقوب
ؑ مصر پہنچے تو سواری سے پیدل ہو گئے لیکن حضرت یوسف ؑ پیدل نہ ہوئے پس حضرت یوسف
ؑ کی نسل سے نبوت ختم ہو گئی (ج۸ص۳۸)
٭ والدین سے نیکی کرنا آخرت کی منزل کو آسان
بناتا ہے (ج۸ص۷۶۱)
٭ والدین کے حقوق (ج۹ص۰۲ص۴۲، ج۱۱
ص۶۳۱،ج۳۱ص۵۲ص۳۹)
٭ والدین مومن تھے اور بیٹا نافرمان تھا جس
کو حضرت خضر ؑ نے قتل کیا تھا (ج۹ص۷۱۱)
٭ وہ والدین نیک تھے جن کے یتیم بچوں کی
دیوار کو حضرت خضر ؑ نے مرمت کیا تھا (ج۹ص۸۱۱)
٭ حضرت عیسیٰؑ نے گہوار ہ میں کہا کہ میں اپنی
اولاد کے ساتھ نیکی کرنے پر مامور ہوا ہوں (ج۹ص۹۴۱)
٭ ہر بچہ فطرت اسلامی پر پیدا ہوتا ہے اور پھر
والدین اس کو یہودی یا نصرانی بناتے ہیں (ج۱۱ص۰۱۱)
٭ نیک والدین کی اولاد کو بروز محشر کافی
سہولت میسر ہو گی (ج۳۱ص۸۳۱)
٭ والدین کا نافرمان جنت کی بو بھی نہ سونگھ
سکے گا جو پانچ سو برس کی مسافت تک پہنچتی ہے (ج۳۱ص۳۱۱)
٭ حضرت نوحؑ کے والدین لمک بن متو شلخ اور
سمیحا بنت انوش مومن تھے (ج۴۱ص۲۲۲)
٭ وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدْ کی تفسیر میں
اقوال (ج۴۱ص۲۲۲)
وادی : وادیء برہوت جس میں کفار کے ارواح
جاتے ہیں (ج۶ص۲۳)
٭ اِنِّکَ بِا الْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی
یہاں طویٰ بدل ہے وادی مقدس سے یعنی موسیٰؑ کو خطاب ہوا کہ جوتے اُتار دو کیونکہ
آپ وادی مقدس میں ہیں جو کہ وادی طویٰ ہے (ج۹ص۴۷۱)
٭ حضرت موسیٰؑ کا وادی مقدس میں ورود اور
توحید سے مکالمہ (ج۰۱ص۵۲۲ج۱۱ص۴۳)
٭ وادی نمل سے حضرت سلیمان ؑ بن داﺅد ؑ کا گزر
اور چیونٹی کی تقریر (ج۰۱ص۲۳۲ص۳۳۲)
٭ وادی قری میں شہر حجر کے وہ باشندے جنہوں نے
حضرت صالحؑ کے قتل کا ارادہ کیا تھا وادی قریٰ قوم ثمود کا مسکن تھی، لیکن حضرت
پیغمبر کے زمانہ میں یہ جگہ یہودیوں کے قبضہ میں تھی چنانچہ خیبر کی فتح کے بعد
وادی قریٰ کے یہودیوں نے ہتھیار ڈالے (ج۳۱ص۳۸)
وثنی: وثنی فرقہ کا عقیدہ یہ ہے کہ موجودات
عالم کی ہر شئے کا ربّ الگ ہے (ج۴ص ۹۶)
٭ دو مستقل خداﺅں کے قائل تھے ایک خالق خیر
جسے نور سے تعبیر کرتے تھے اور دوسرا خالق شر جسے ظلمت سے تعبیر کرتے تھے، حضرت
رسالتماب نے ان سے خطاب کر کے فرمایا اگر ضدیں دو ہوں تو خدا دو ہوں گے لیکن اگر
ضدیں دو سے زیادہ ہوں تو پھر خدا کتنے ہوں گے جیسے الوانِ مختلفہ؟ تو وہ لاجواب ہو
گئے (ج۷ص۲۴)
٭ دقیانوس وثنی فرقہ سے تعلق رکھتا تھا
(ج۹ص۳۸)
وحشی: قاتل حضرت حمزہ ؑ مسلمیہ کذاب کا قاتل
تھا (ج۵ص۲۲۱)
٭ وحشی کی توبہ (ج۲۱ص۰۳۱)
٭ وحشی نے حضرت حمزہ ؑ کا جگر نکال کر ہند
مادرِ معاویہ کو بطورِ ہدیہ پیش کیا تھا (ج۴ص۹۳)
وجہُ اللہ: وجہُ اللہ حضرت علی ؑ ہےں
(ج۲۱ص۴۵۲،ج۳۱ص۳۸۱)
وحی: ابن صوریا کے سوال کے جواب میں حضور نے
وحی کی حقیقت بیان فرمائی (ج۲ص۷۴۱، ج۵ص۹۰۱)
٭ شیاطین اپنے دوستوں کی طرف وحی کرتے ہیں
(ج۵ص۱۵۲)
٭ روءیائے صادقہ کو الہام یا وحی کہا جاتا ہے
(ج۸ص۱۱) بعض انبیا ء پر وحی اسی قسم کی تھی (ج۸ص۵۳)
٭ روایات میں ہے کہ روءیائے صادقہ نبوت کا ایک
حصہ ہے (ج۲ص۷۳ص۸۳)
٭ حضرت یوسف ؑ پر بچپنے میں وحی ہوئی جس طرح
کہ حضرت یحییٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ پر ہوئی۔
٭ حضرت یعقوب ؑ کو حضرت یوسف ؑ کی زندگی کا
بذریعہ وحی علم تھا (ج۸ص۲۷)
٭ لفظ وحی کی تفسیر اور وحی کی اقسام
(ج۸ص۶۲۲،ج۲۱ص۸۱۲،ج۳۱ص۸۴۱)
٭ انبیا ء پر وحی(ج۲۱ص۷۹۱)
٭ اسکندر ذوالقرنین پر وحی ہوئی تھی (ج۹ص۴۲۱)
٭ حضرت پیغمبر پر وحی کی تاخیر کی وجہ
(ج۹ص۰۶۱)
٭ حضرت موسیٰؑ پر پہلی وحی (ج۹ص۴۷۱،ج۱۱ص۴۳)
٭ حضرت داﺅ د ؑ نے اپنے وصی کا تعین وحی کے
ذریعہ کیا (ج۹ص۱۴۲)
٭ حضور پر وحی عربی زبان میں ہوئی اور اگر
کوئی آدمی کسی دوسرے زبان سے آپ سے ہمکلام ہوتا تھا تو وہ بھی آپ کے کانوں تک عربی
زبان میں ترجمہ ہو کر پہنچتی تھی اور خدا خود ترجمان ہوتا تھا (ج۰۱ص۴۱۲)
٭ حضرت سلیمان ؑ کو وحی ہوئی کہ جہاں بھی کوئی
مخلوق بات کرے گی ہوا اس کی آواز کو تیرے کانوں تک پہنچادے گی (ج۰۱ص۲۳۲)
٭ حضرت موسیٰؑ کی والدہ پر وحی کی حقیقت
(ج۱۱ص۵۱)
٭ شب معراج حضور پر جو وحی ہوئی اس میں علی ؑ
کے خلیفہ بلا فصل ہونے کا اعلان تھا (ج۳۱ص۰۵۱)
٭ آغازِ وحی (ج۴۱ص۱۳۱)
وردِ نام علی ؑ: خیبر کا یہودی حضرت علی ؑ
کا ہمسفر بنا تو راستہ میں پانی عبور کرنا تھا پس یہودی نے ورد پڑھا اور پار ہو
گیا پس حضرت علی ؑ نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو پانی خشک ہو گیا یہودی نے پوچھا تو نے
کیا عمل کیا ہے؟ آپ ؑ نے فرمایا پہلے تو ہی بتا کہ تو نے کیا پڑھا تھا؟ اس نے جواب
دیا میں آخری نبی کے وصی کے نام کے ورد کی بدولت پار ہوتا ہوں، آپ ؑ نے فرمایا جس
کے نام کی برکت سے تو پار ہوا ہے وہ علی ؑ میں ہوں، پس یہودی قدموں میں گرا اور
فوراًمسلمان ہو گیا (ج۶ص۸۳۱)
وراثت: حضرت ابوبکر سے کلالہ کامعنی پوچھا
گیا جو مرنے والے کے وارث ہوتے ہیں (ج۱ ص ۶۵۱)
٭ بعض لوگوں نے آیت وراثت کو آیت وصیت کا ناسخ
قرار دیا ہے (ج۲ص۴۱۲)
٭ وراثت کے احکام کی تفصیل (ج۴ص۲۱۱ تا ۸۴۱)
٭ کلالہ کی وراثت(ج۴ص۶۷۲)
٭ حضرت پیغمبر سے مروی ہے کہ ہر شخص کےلئے دو
دو گھر ہیں ایک جنت میں دوسرا جہنم میں، پس کافر شخص مومن کے دوزخ والے گھر کا
وارث ہو گا اور مومن کافر کے جنت والے گھر کا وارث ہو گا (ج۶ص۸۵۱)
٭ جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا امام وارث ہو
تا ہے (ج۶ص۸۵۱)
٭ طبقات وراثت میں قریبی کی موجودگی میں بعید
وارث نہیں ہو سکتا وَاُوْلُوْ الْاَرْحَامِ (ج۶ص۶۵۲، ج۱۱ص۱۶۱)
٭ حضرت زہراؑ کا حق وراثت اور فخر رازی کی
منطق (ج۷ص۰۹)
٭ حضرت ذکریاؑ کا اپنے وارث کےلئے دعا مانگنا
(اگر نبیوں کا وارث کوئی نہیں ہوتا تو حضرت ذکریا ؑ کی دعا کا کیا معنی؟) (ج۹ص۷۳۱)
٭ حضرت سلیمان ؑ حضرت داﺅد ؑ کے وارث تھے
(ج۰۱ص۸۲۲)
٭ وارث کتاب کو ن کون لوگ ہیں؟ (ج۲۱ص۵۶۲)
٭ عمالقہ پر فتح حاصل کرنے کے بعد حضرت داﺅ د
ؑ کو ایک ہزار گھوڑے ملے تھے جو وراثت میں حضرت سلیمان ؑ کو ملے تھے (ج۲۱ص۰۹)
وسوسہ : وسوسہ شیطانی کو شیطانی وحی بھی کہا
جاتا ہے (ج۳ص۵۲۲)
٭ وَسْوَاسِ الْخَنَّاسْ شیطانی فوج کا ایک
نامور جرنیل ہے جس کو مشکل مقامات سر کرنے کےلئے بھیجا جاتا ہے (ج۴ص۲۵)
٭ شیطان کا حضرت آدم ؑ پر وسواس کا جال
(ج۶ص۷۱)
٭ طریقہء وسواس (ج۲ص۲۹،ج۱ص۹۹۱،ج۰۱ص۱۴)
٭ وسوسہ کی حقیقت، نیز وسواس اور الہام میں
فرق (ج۶ص۰۲ص۱۲،ج۲۱ص۵۶۱)
٭ جنگ بدر کے دن شیطان نے سراقہ بن مالک کی
شکل میں آکر قریش مکہ کو ڈھارس دی (ج۶ص۳۸۱ص۱۴۲)
٭ وساوسِ شیطانیہ کی مثال پانی کے اوپر والی
جھاگ کی سی ہے جو بہت جلد نیست و نابود ہو جاتی ہے (ج۸ص۴۲۱)
٭ حضرت آدم ؑ پر وسواس کا جال ڈال کر ابلیس
کو فطرت انسانی کا پتہ چل گیا کہ اس کو راہِ راست سے کیسے بھٹکا یا جا سکتا ہے پس
خم ٹھونک کر کہا کہ میں اولادِ آدم ؑ کو گمراہ کروں گا (ج۹ص۰۴)
وسیلہ : بارہ امام بفرمان پیغمبر خالق و
مخلوق کے درمیان وسیلہ ہیں(ج۱ ص ۱۷)
٭ محمد و آل محمد کو وسیلہ قرار دے کر اور ان
سے مدد طلب کرنا جائز ہے (ج۲ص۱۳،ج۷ص۷۶۱ص۱۹۱)
٭ قبول توبہ آدم ؑ بوسیلہ اسمائے محمد وآل
محمد ہوئی (ج۲ص۶۹،ج۹ص۸۸۱)
٭ حضرت کالب بن یوحنا نے بوسیلہ محمد و آل
محمد دریا کا پاٹ عبور کیا (ج۲ص۷۰۱)
٭ بنی اسرائیل سے وسیلہ محمد و آل محمد سے قتل
کی سزا بر طرف ہوئی (ج۲ص۷۰۱)
٭ جس گائے کا حصہ مارنے سے مقتول زندہ ہوا وہ
بنی اسرائیل میں ایک نوجوان کے پاس تھی جو والدین کا فر مانبردار تھا اور محمد و
آل محمد پر درود پڑھا کر تا تھا (ج۲ص۴۲۱)
٭ وسیلہ کے تلاش کرنے کا
حکم(ج۵ص۷۹،ج۶ص۵۳۱،۷۳۱،۰۵۱-ج۱۱ص۵۷،۹۹)
٭ محمد و آل محمد انبیا ء کا بھی وسیلہ ہیں
(ج۹ص۸۸۱ص۱۹۱)
٭ دعا مانگنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ محمد و
آل محمد کا واسطہ دے کر دعا مانگنا اور حضور کا علی ؑ کے وسیلہ سے دعا مانگنا
(ج۲۱ص۴۱۱، ج۴۱ ص۷۹۱،ج۸ص۸۱۱)
٭ حضرت علی ؑ کا حضر ت محمد کا واسطہ دے کر
دعا مانگنا اور حضور کا علی ؑ کے وسیلہ سے دعا مانگنا (ج۳۱ص۸۸۱)
وصیت: وصیت کا حکم (ج۲ص۳۱۲،ج۵ص۷۷۱)
٭ ہر امام نے وقت اخیر میں نماز کی وصیت
فرمائی (ج۲ص۲۰۱)
٭ وصیت پیغمبر کو نظر انداز کرنا مسلمانوںمیں
انتشار کا باعث ہوا ہے (ج۵ص۱۸)
٭ وصایائے حضرت ابو طالب ؑ کہ حضرت محمد کو نہ
چھوڑنا(ج۵ص۷۰۲)
٭ وصیت پیغمبر تھی کہ یا علی ؑ اپنے حق کےلئے
جنگ نہ کرنا جس طرح کہ حضرت موسیٰؑ کی حضرت ہارون ؑ کو وصیت تھی کہ اصلاح کرنا اور
فسادیوںکی اتباع نہ کرنا (ج۶ص۰۹)
٭ اگر زہرا ؑ کا حق نہ ہوتا تو حضور پر ضروری
تھا کہ وصیت کر جاتے کہ میرا بحیثیت نبی ہونے کے کوئی وارث نہیں ہے لہذا میری
اولاد کو اس بارے میں مطالبہ کرنے اور جھگڑنے کا کوئی حق نہیں حالانکہ حضور نے
اپنی بیٹی کو کوئی اس قسم کی وصیت نہیں فرمائی (ج۷ص۰۹)
٭ حضرت یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں کو چار وصیتیں
کیں:
۱-
گھرمیں میری تنہائی نہ بھولنا ۲-امن میں
میری وحشت کو نہ بھولنا
۳-
میری بھوک و پیاس کو یاد رکھنا ۴- میر
ی جوانی کو یاد رکھنا (ج۷ص۷۱)
٭ جنہوں نے وصیت پیغمبر پر عمل کیا وہ شفاعتِ
پیغمبر سے ناجی ہوں گے (ج۸ص۸۶۱)
٭ وصیت نامہ (ج۹ص۶۶۱)
٭ حضرت علی ؑ کے وصیت نامے کی عبارت (ج۹ص۱۵۲)
٭ وصیت امیر المومنین ؑ میرا جنازہ پشت کوفہ
کی طرف لے جانا جہاں رک جائے وہاں مجھے دفن کر دینا (ج۰۱ص۳۶)
٭ وصیت نہ کرنا ان گناہوں میں سے ہے جو ندامت
کا باعث بنتے ہیں (ج۱۱ص۰۲۱)
٭ حضرت لقمان ؑ کی وصیتیں(ج۱۱ص۳۳۱)
٭ وصیت حضرت ابراہیم ؑ و حضرت یعقوبؑ(ج۲ص۱۸۱)
٭ حضرت پیغمبر نے وصیت لکھنے کےلئے آخری وقت
میں قلم و دوات طلب فرمائی (ج۴۱ص۳۸، ج۵ص۱۲۱)
٭ مومن کی شان ہے حق اور صبر کی وصیت کرنا
(ج۴۱ص۰۶۲)
وصی: اوصیائے پیغمبر (ج۱ص۰۹،
ج۲ص۷۶۱ص۲۷۱،ج۴ص۴۲ص۶۲،ج۵ص۳۳،ج۱۱ص۷۴۱)
٭ تمام انبیا ء نے یکے بعد دیگرے اپنا اپنا
وصی نامزد فرمایا (ج۲ص۰۰۱)
٭ حضرت ابوطالب ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے آخری وصی
تھے (ج۵ص۱۱۲)
٭ حضرت پیغمبر نے شب معراج اپنے اوصیائے
طاہرین کو دیکھا (ج۹ص۸)
٭ حدیث بساط میں اصحاب کہف نے حضرت علی ؑ کو
یا وصی کے لفظ سے سلام کیا (ج۹ص۴۸)
٭ حضرت داﺅد ؑ نے حضرت سلیمان ؑ کو اپنا وصی
معین فرمایا (ج۹ص۱۴۲)
٭ دعوت عشیرہ میں حضرت پیغمبر نے حضرت علی ؑ
کو اپنا وصی نامزد کیا (ج۰۱ص۶۱۲)
٭ وصی حضرت سلیمان ؑ جناب آصف بن برخیا کے پاس
ایک اسم اعظم تھا اور حضرت علی ؑ فرماتے ہیں میرے پاس بہتر /۲۷ اس اعظم ہیں اور کل
تہتر/۳۷ میں سے صرف ایک اللہ کےلئے مخصوص ہے (ج۰۱ص۸۴۲)
٭ حضرت نوحؑ نے بحکم خدا حضرت سام کو اپنا وصی
نامزد کیا (ج۱۱ص۲۷)
٭ ہر نبی کو اس کا وصی غسل دیا کرتا ہے اور
میرا وصی علی ؑ ہے (ج۱۱ص۸۸۱)
٭ حضرت نوحؑ کی امت کے بعض افراد اہل یمن میں
سے حاضر بارگاہ ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے نبی کا وصی سام تھا آپ کا وصی کون ہے؟
تو فرمایا میرا وصی علی ؑ ہے پس ان کی درخواست پر حضرت علی ؑ نے حضرت سام بن نوحؑ
کو زندہ کیا تو انہوں نے زندہ ہو کر حضرت علی ؑ کو سلام کیا اور حضرت علی ؑ کے وصی
نبی ہونے کا اعتراف کیا چنانچہ سام نے صحیفہ نوحؑ میں سے ایک سورہ کی تلاوت فرمائی
اور پھر حضرت علی ؑ کا سلام کر کے دوبارہ موت کی نیند میں سو گیا (ج۲۱ص۲۰۲ص۳۰۲)
٭ وسیلہ کی وضاحت اور کفر کا طرز عمل(ج۵ص۵۷۱)
وضو: تلاوت قرآن مجید کے وقت باوضو ہونا
بہترہے (ج۱ص۳۴)
٭ وضو کا بیان(ج۵ص۳۵ تا ص۶۶)
٭ غسل جنابت کے بعد نماز کےلئے وضو کی ضرورت
نہیں ہے باقی ہر غسل کے ساتھ اوّل یا آخر میں نماز کےلئے وضو ضروری ہے (ج۵ص۰۷)
وضع حمل : حاملہ عورت کو اگر طلاق دی جائے
تو اس کی عدت وضع حمل ہو گی (ج۳ص۸۶)
٭ اگرشوہر مر جائے تو حاملہ عورت کی عدت
(اَبعد الاجلین ہو گی یعنی اگر وضع حمل چر ماہ دس دن سے پہلے ہو جائے اس کی عدت
چارہ ماہ دس دن ہو گی لیکن اگر چار ماہ دس دن گزرنے کے بعد وضع حمل ہو تو عدت وضع
حمل ہوگی) (ج۳ص۲۸،ج۴۱ص۴۵)
وعظ: ابو منصور واعظ بغداد نے فضائل حضرت
علی ؑ بیان کئے تو بادل فضا میں پھیل گئے اور معلوم ہونے لگا کہ اب شام ہو گئی ہے
پس واعظ نے اٹھ کر سورج کو خطاب کر کے چند اشعار کہے جن کا مقصد یہ تھا کہ اے سورج
جب تک میں آل نبی اور بالخصوص حضرت علی ؑ کے فضائل کو بیان نہ کر لوں غروب نہ کرنا
چنانچہ ابھی تک اس کے اشعار ختم نہ ہوئے تھے کہ بادل پھٹے اور سورج نمودار ہو گیا
(ج۵ص ۷۸)
٭ ربانیوں کی تفسیر میں ہے کہ ربانی کی معنی
ہے واعظ (ج۵ص۲۱۱)
٭ حضرت ذکریاؑ کے وعظ کا یحییٰ پر اثر
(ج۸ص۹۴۲)
٭ بنی اسرائیل پر عذاب آیا تو اَسی ہزار میں
سے صرف دس ہزار بچ گئے جو واعظ تھے (ج۶ص۰۱۱)
٭ اللہ نے حضرت موسیٰؑ کو وعظ کرنے کا طریقہ
بتایا کہ فرعون مزاج لوگوں کےلئے نرم لہجہ میں گفتگو کرنا مفید ہوتا ہے کیونکہ تلخ
کلامی یا جوش کی باتیں ایسے مقام پر نقصان دہ ثابت ہوتی ہے (ج۹ص۴۸۱)
٭ وعظ و نصیحت میں غور تدبر کرنا اللہ کے نیک
بندوں کی نشانی ہے (ج۰۱ص۷۸۱)
٭ دانا و اعظ کا فرض ہے کہ نااہل کو سمجھانے
کےلئے موثر انداز اختیار کرے (۲۱ص۸۸)
وقوف: وقوف عرفات (ج۳ص۹۱)
٭ وقوف مشعر (ج۳ص۰۲)
ولادت: ولادت حضرت علی ؑ در کعبہ
(ج۴ص۶۱،ج۰۱ص۲۵)
٭ ولادت حضرت موسیٰؑ (ج۱۱ص۷)
٭ ولادت حضرت قائم آل محمد ؑ(ج۱۱ص۲۱)
٭ ولادت حضرت ابراہیم ؑ (ج۵ص۲۳۲،ج۹ص۳۵۱)
ولایت: امام زین العابدین ؑ نے فرمایا اگر
کسی شخص کی حضرت نوحؑ کے برابر عمر ہو اور رُکن و مقام کے درمیان ساری زندگی عبادت
کرے لیکن اگر ہماری ولایت کا قائل نہ ہو تو اسے عبادت کوئی فائدہ نہ دے سکے گی
(ج۴ص۱۱)
٭ حضرت علی ؑ کی ولایت کے بارے میں اللہ کی
طرف تسکین (ج۴ص۶۴)
٭ آیت ولایت (اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہ)
(ج۵ص۹۲۱ تا ۴۳۱)
٭سابق
کتابوں میں نبوت محمد اور ولایت علی ؑ کا ذکر تھا (ج۵ص ۹۳۱)
٭ ولایت حضرت علی ؑ کا انبیا ء سے اقرار
(ج۶ص۰۳۱ص۱۳۱،ج۰۱ص۳۱۲،ج۸ص۸۰۲ص۲۶۲)
٭ مرنے کے وقت ولائے علی ؑ کا فائدہ (ج۷ص۱۷۱)
٭ حضرت امام رضا ؑ کی ولایت عہد(ولیعہدی)
(ج۸ص۰۵)
٭ شب معراج حضرت پیغمبر کے سوال کے جواب میں
بیت المعمور پر تمام انبیا ء نے جواب دیا تھا کہ ہم آپ کی اور حضرت علی ؑ کی ولایت
کی شرط پر مبعوث ہوئے ہیں (ج۸ص۲۶۲،ج۲۱ص۰۴۲)
٭ حضور کو زندگی بھر میں ۰۲۱ مرتبہ معراج ہوئی
اور ہر دفعہ ولایت علی ؑ کا حکم ہوا (ج۸ص۴۶۲)
٭ حضرت ذکریاؑ کے فرزند حضرت یحییٰؑ درجہ
ولایت پر تھے ھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا (ج۹ص۷۳۱ص۹۴۲)
٭ ولایت بمعنی نصرت (ج۱۱ص۳۸) ولایت (ج۱۱ص۳۵۲)
٭ ولایت علی ؑ فرمان خداوندی ہے
(ج۴۱ص۸۹،ج۵ص۸۹، ج۵ص۷۶۲)
٭ بروز محشر حکم ہوگا ان کو روکو ابھی ان سے
کچھ پوچھا جانے والا ہے یعنی قِفُوْھُمْ اِنَّھُمْ مَسْئُوْلُوْنَ عَنْ وِلایَةِ
عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ (ج۲ص۳۴۱، ج۲۱ص۶۳ص۷۳)
٭ کالب بن یوحنا نے نبوت محمد اور ولایت علی ؑ
کا نعرہ لگا کر گھوڑے کو پانی میں داخل کیا (ج۲ص۷۰۱)
٭ انکار ولایت علی ؑ کا نام سیئہ ہے
(ج۱ص۹۲۱ص۲۱۲، ج۸ص۰۴۲، ج۰۱ص۷۶۲)
٭ شب ہجرت حکم ہوا کہ پس جاکر سید ولی کو سلام
کہنا (علی ؑ) (ج۳ص۶۸۱)
٭ اسلام سے مراد حضرت علی ؑ کی ولایت کو تسلیم
کرنا ہے (ج۲ص۷۰۱)
٭ حضرت پیغمبر نے فرمایا اگر کسی کے پاس ستر
انبیا ء کے عمل بھی ہوں تو بھی جب تک میری اولاد اور علی ؑ کو دلا کو پیش نہ
کرےگااس کا کوئی مقبول نہ ہو گا (ج۳ص ۸۱۲، ج۵ص۲۵، ۴۵)
٭ آل محمد کی ولایت سے درجات میں بلندی ہوتی
ہے (ج۴ص۷۷)
٭ ولایت علی ؑ کے اعلان کے بعد اسلام کو کمال
کی سند ملی (ج۵ ص۰۴ ص ۱۴)
٭ نو ر سے مراد ولائے علی ؑ ہے (ج۵ص ۱۵۱)
پیغام ولایت (ج۷ص۶۹۱)
٭ ولایت علی ؑ کے صدقہ میں مومن کی ایک نیکی
دس گناہ ثواب کا باعث بنتی ہے (ج۵ص۰۷۲)
٭ قبر میں ولائے علی ؑ کے بغیر گزار نہ ہوگا
(ج۶ص۴۲ص۴۷۱)
٭ ولایت علی ؑ کلید جنت ہے (ج۶ص۸۳،ج۳۱ص۵۲۱)
٭ ولایت علی ؑ فریضہ ہے (ج۷ص۱۰۲)
٭ شیطان مومن کو ولایت علی ؑ سے نہیں بھٹکا
سکتا (ج۸ص۳۴۲)
٭ ولائے علی ؑ
(ج۹ص۳۱ص۶۱ص۵۵۱ص۲۵۱ص۳۹۱،ج۱۱ص۴۶،ج۲۱ص۱۷۱، ج۳۱ص۲۲)
٭ ذکر سے مراد ولائے علی ؑ ہے (ج۶ص۸۲۱)
٭ صراط مستقیم سے مراد (ج۰۱ص ۰۸)
٭ فرشتے محمد وآل محمد کی وِلا رکھنے والوں
کےلئے استغفار کرتے ہیں (ج۲۱ص۴۴۱)
٭ منکرین ولایت کا ٹھکانہ جہنم ہو گا (ج۶ص۶۷۱،
ج۳۱ص۰۴)
٭ عنوانِ صحیفة المومنین حُب علی ؑ (ج۳۱ص۶۱)
ولید بن مغیرہ: ولید بن مغیرہ کے سامنے
عثمان بن مظعون نے یہ آیت پڑھی: اِنَّ اللّٰہَ یَاءمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ
وَ اِیْتَائِ ذِی الْقُرْبیٰ تو ولید کہنے لگا اگر محمد نے یہ بات کہی ہے تو خوب
ہے اور اگر اس کے خدا نے کہی ہے تو خوب ہے اور ایک روایت ہے کہ حضور نے خود بنفس
نفیس یہ آیت اس کے سامنے پڑھی تو اس نے دوبارہ پڑھنے کی خواہش کی، چنانچہ آپ نے
دوبار ہ پڑھی تو کہنے لگا بے شک کلام شیریں بیان، دلکش، شاخیں پھلدار اور اس کی
جڑیں گہریں ہیں اور یہ بشر کا کلام نہیں (ج۸ص۹۳۲، ج۴۱ص۳۳۱)
٭ ایک دفعہ ابوجہل نے حضور کو پتھر مارنے کی
کوشش کی تو پتھر اس کے ہاتھ سے چمٹ گیا اور ناکام واپس آیا، بنی مخزوم کا دوسرا
آدمی آگے بڑھا جب کہ حضور نماز میں مشغول تھے تو اللہ نے اس کی بینائی سلب کر لی
پس وہ بھی ناکام ہوا (ج۲۱ص۹ص۰۱)
٭ ایک دفعہ تمام صفادید قریش ولید بن مغیرہ کی
قیادت میں حضور کے پاس وفدکی صور ت میں پہنچے کہ آپ ہمارے خداﺅں کا شکوہ نہ کریں
تو آپ نے بر ملا فرما دیا قُوْلُوْ لا اِلٰ©ہَ اِلَّا اللّٰہ پس وہ منہ بناتے اور
بڑبڑاتے واپس چلے گئے (ج۲۱ص۸۷)
٭ ایک دفعہ ولید بن مغیرہ کی قیادت میں ابو
البختری بن ہشام اور ابوجہل بن ہشام، عاص بن وائل اور عبداللہ بن ابی امیہ خدمت
پیغمبر اکرم میں آئے جب کہ حضور صحن کعبہ میں دینی مسائل کی تعلیم دے رہے تھے،
عبداللہ بن امیہ نے کہا اے محمد اگر خدا نے رسول بھیجنا تھا تو مکہ اور طائف کے
نامور سرداروں کو اس عہدہء جلیلہ کے لئے نامزد فرماتا؟ مکہ کے سردار ولید بن مغیرہ
اور طائف کے سردار عروہ بن مسعود ثقفی دونوں بارسوخ آدمی ہیں، آپ نے فرمایا اللہ
کے نزدیک دولت و مال کی قیمت ایک مچھر کے پَر کے برابر بھی نہیں تم کون ہو اللہ کی
رحمت کو تقسیم کرنے والے؟ وہ جسے چاہے عطا فرمادے (ج۲۱ص۱۳۲ص۲۳۲)
٭ مَنَّاعٍ لِلْخَیْر کا مصداق ولید بن مغیرہ
ہے (ج۳۱ص ۹۹۱)
٭ ولید بن مغیرہ قرآن آیات سے متاثر ہو کر ایک
دفعہ مسلمان ہو گیا تھا لیکن کفارکی طعنہ زنی سے تنگ آکر اس نے کفر اختیار کر لیا
تھا (ج۳۱ص۰۶۱)
٭ سورہ قلم کی آیات وَلا تُطِعْ کُلَّ
حَلَّافٍ مُھِیْنٍ ولید بن مغیرہ کے حق میں اتری یعنی جھوٹی قسمیں کھانے والا چغل
خور، کذاب، نیکی سے روکنے والا، سرکش، فاسق، اکھڑ مزاج اور زنیم یعنی حرامزادہ اور
اس کا تاویلی مصداق ثانی کو کہا گیا ہے (ج۴۱ص۶۸)
٭ وحید کا مصداق ولید بن مغیرہ ہے (ج۴۱س۲۳۱)
٭ اٰثِمًا اَوْ کَفُوْرًا میں آثم سے مراد
عتبہ بن ربیعہ اور کفورا سے مراد ولید بن مغیرہ ہے (ج۴۱ص۳۵۱)
ولید بن عقبہ: ولید بن عقبہ بن ابی معیط نے
حضرت علی ؑ کے سامنے اپنی برتری بیان کی تو حضرت علی ؑ نے فرمایا اے فاسق خاموش ہو
جا پس قرآن کی آیت اتری کہ مومن اور فاسق دونوں برابرنہیں (ج۱۱ص۰۵۱)
٭ امام حسن ؑ نے ولید بن عقبہ سے فرمایا کہ تم
اپنی ماں سے دریافت کرو کہ اس نے تجھے اپنے باپ سے ہٹا کر عقبہ کا بیٹا کیسے بنا
دیا؟ (ج۴۱ص۱۵۱)
٭ ولید بن عقبہ کا فاسق ہونا قرآن کی گواہی ہے
کہ وہ فاسق ہے لیکن عثمان نے اپنے دور اقتدار میں اس کو اپنے اعتماد میں لے لیا جس
پر علامہ مودودی نے خلافت و ملوکیت میں اظہار افسوس کیا ہے (ج۳۱ص۶۹)
ویل: جہنم میں ایک وادی ہے جس کا نام ویل ہے (ج۳۱ص۷)