التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

تقوی کی حقیقت

جب اللہ کو اپنا حقیقی مولا تسلیم کرلیا جائے توتقوی کی حقیقت خو د بخود واضح ہو جاتی ہے کہ ذات و نفس عقل و حس آنکھ اور کان منہ اور زبان بلکہ سرتاپا جمیع اعضا ءو قوی اقوال خواہشات و خیالات غصہ و رضا غرضیکہ جمیع احوا ل ملکیت کاملہ او ر سلطنت نامہ کے لحاظ سے درحقیقت اللہ کی ولایت میں ہیں لہذا اس کی رضا واذان کے بغیر ان کا استعما ل ناجائز بلکہ ظلم و عددان ہے پس انسان کا تمام حرکات و سکنات میں امور کے مالک کامل کے اذن کو ملحوظ رکھنا ہی حقیقت  تقوی ہے پس کسی شئیی میں مالک کی رضا معلوم کئے بغیر صرف نہ کر ے اور اس طرز عمل کو سختی اپنانے کی کوشش کرے اور اپنے افعال و اعمال کا محاسبہ کرتا رہے تو رفتہ رفتہ یہ ریاضت حقیقت کا جامہ پہن لے گی اور یہ عادت ملکہ بن جائے گی اور اس صورت میں اس کا ہرقول و فعل ہر حرکت و سکون ہر خیال و فکر اور ہر نشست و برخاست منشائے پروردگار کے ماتحت ہوجائے گی تو گویا حق خالق ادا ہو گیا اور حقوق اللہ میں عدل کا منشا ءپورا ہو گیا اور یہی عبد کا بلند مرتبہ اور اس کی غایت قصوی ہے جس کے متعلق فرماتا ہے اتقوا اللہ حق تقاتہ یعنی تقوی ایسا اختیار کرو جو تقوی کا حق ہے اور یہ خاصان خدا کا حصہ ہے پھر اس کے نیچے تقوی کے مراتب ہیں جس کی انتہا اس گھٹیا پن تک پہنچتی ہے جب عبد اپنے خالق کے حق میں ظلم کا کردار کرنےلگ جاتاہے العباذباللہ ہم لوگ صرف کہنے کےہیں کہ ہماراسب کچھ اللہ کا ہے اورمحمد وآل  محمد دل و جان سے سب کچھ اللہ کا سمجھتے تھے اس لئے وہ دین خدا پر ہر قسم کی  قربانی خندہ پیشانی سے دیا کرتے تھے اور اس سلسلہ میں بڑی سے بڑی محبت بھی ان کی راہ میں حائل نہ ہو سکتی تھی چنانچہ حضرت سید الشہدا کی میدان کربلا میں قربانیاں اسی عظیم مقصد کے پیش نظر تھیں اور یہی تقوی کی انتہائی منازل تھیں کہ امام نے اپنے کردار سے کھلے میدان میں ان کو سر کر دکھایا اور واضح کر دیا کہ ہم سب کچھ اپنے خالق کاسمجھتے ہیں اور اس کے دین کی بقا کی خاطر کھلے دل سے اپنا سب کچھ قربان کرسکتے ہیں چنانچہ فرمایا ترکت الخلق طرا فی ھوا لک وایتمت عیالی کے اراک ترجمہ یعنی میں نے تمام خلق کی محبت کو تیری محبت پر قربان کردیا ہے اور بچوں کی یتیمی کو تیری ملاقات کی خاطر برداشت کیا ہے حضر ت امیر المومنین علیہ السلام کےالقاب ید اللہ عین اللہ لسان اللہ اذن اللہ اور نفس اللہ اسی مقصد کے آئینہ دار ہیں کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام ان کا واقعی طور پر اللہ کی ملکیت و ولایت کے ماتحت سمجھتے تھے پس چونکہ ان کے ہاتھ سے بغیر رضائے پروردگار کوئی کام سرزد نہ ہوتا  تھا پس ان کے ہاتھ گویا ا ن کے نہ تھے بلکہ ید اللہ تھے اسی طرح ان کی آنکھ سے کوئی کام رضائے پروردگار کے خلاف نہ ہوتا تھا بلکہ وہ رضائے مالک کے تابع تھیں اس لئے  گویا وہ آنکھ ان کی نہ تھی اللہ کی تھی پس عین اللہ کہلائی اسی طرح ان کی زبان رضائے پروردگار کی ترجمان تھی ان کے کان فحش کی سماعت سے یکسو اور قرآن و ذکر خدایا حق بات سننے کے لئے وقف تھے گویا رضائے خدا کے تابع تھے اور ان کا نفس خواہشات و جذبات سے الگ تھلگ رضائے پروردگار کے سانچے میں ڈھلا ہوا تھا پس وہ لسان اللہ اذن اللہ اور نفس اللہ کہلانے کے مستحق تھے اور اسی بناءپر رسول کی زبان ناطق کو پروردگار نے اپنی وحی سے تعبیر فرمایا ما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی اور ان کی تیر اندازی کو اپنا فعل قرار دیا وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی اور ا ن کے ہاتھ کواپنی طرف منسوب فرمایا یداللہ فوق ایدیھم اور یہی وجہ ہے کہ علی علیہ السلام تقوی کے اس مرتبہ پر فائز ہیں کہ ان سے آگے کوئی نہ بڑھ سکا گویا وہ سب متقی لوگوں کے پیش روہیں پس وہ امام المتقین ہوئے اور حضرت رسالتمآب تقوی کےاس زینہ پر تھے کہ وہ علی کے بھی امام و آقا قرار پائے اللھم صل علی محمد وال محمد پس نتیجہ یہ ہوا کہ بندے اور  اللہ کے درمیان بندے کا عدل یہ ہے کہ تقوی اختیار کرے

ایک تبصرہ شائع کریں