وہ لوگ عقل کے اندھے ہیں جنہوں نے حسن و قبح کا انکار کر کے عدل کی شریعت کو للکاراا جب ہم ثابت کر چکے ہیں کہ عقل اشیا کے حسن و قبح کو جانتا ہے اور اسی وجہ سے انسان حیوانوں سے ممتا ز ہے تو معلوم ہو اکہ ان کا حسن و قبح ذاتی ہے اعراض خارجہ اور جہات زاہدہ سے نہیں جیسے احسان کا حسن اور ظلم کا قبح یا صدق کاحسن اور کذب کا قبح اور خدا چونکہ عادل ہے اورعدل کا معنی ہے ہر شئی کو اپنے مناسب محل پر رکھنالہذا وہ کبھی ایسی شئی کو بجا لانے کا حکم نہ دے گا جس کی بجا لا نا قبیح ہو بلکہ وہ ایسی شئی کا حکم دے گا جس کا بجا لانا حسن ہو پس حسن کاا عتبار حکم سے پہلے ہو گا اور قبح کا لحاظ نہی سے مقدم ہو گا ایسا نہیں کہ تمام چیزیں ذات کے لحاظ سے برابر ہو ں اور حکم یا نہی کے بعد وہ حسن یا قبیح ہوتی چلی جائیں البتہ یہ الگ بات ہے کہ کسی شیئی کا حسن یا قبح ہمیں معلوم نہ ہو تو حکم شرعی اس کے حسن کا کاشف اور نہی شرعی اس کے قبح کی کاشف ہو گی اور جو چیزیں حسن و قبح کی صفات سے الگ ہیں تو شریعت میں نہ ہو ان کے متعلق امروارد ہے او نہ نہی پس خارجی طور پر جہت حسن سے متصف ہو گی تو واجب یا سنت ہو گی اور اگر کوئی جہت قبح ان کو لاحق ہو گئی تو حرام یامکروہ ہو گی ورنہ دونوں پہلو برابر ہونے کی صور ت میں اسے مباح کہا جائے گا
خدا وند کریم نے جب سے انسان کو
پیدا کیا اور دین کے احکام جاری فرمائے کوئی امت اور کوئی شریعت وظائف عقل پر
کماحقہ عامل نہیں ہوئی جس طرح شریعت سامئیہ اسلامیہ اور ملت محمودہ محمدیہ اس پر
عامل ہوئی صرف اسی شریعت نے عقل کو آگے بڑھا یا اور اس کے لئے دروازے کھولے اور
اس کو آزاد چلنے پھرنے کی دعوت دی اور اسی شریعت نے ہی انسانی عقول کو حقوق عطا
فرمائے جو ان کے لئے سزاوار تھے یعنی یہ
کہ وہ علوم و معارف میں آگے بڑھیں اور عقائد حقہ کی تحصیل کر کے پستی سے نجات
پاکراوج کمال تک پہنچیں اسلام نے ہی فکر و بصیرت کو آسمانوں اور زمین میں سیر کر
نے کی دعوت دی تاکہ ان کے دقیق راز معلوم ہو سکیں اور اس کے مخفی خزائن حاصل کئے
جاسکیں قرآن مجید میں بہت سی آیات ہیں جن میں تدبر کی دعوت اور ترک فکر پر سرزنش
کی گئی ہےاور ان آیات کا ظاہر و منطوق یہی بتلاتا ہے کہ فکر و نظر کے لئے قوت
عاقلہ کو آگے بڑھایاجائے اسی بنا پر تو قرآن نے ماں باپ کی تقلید سے روکا اور
سابقہ خیالات کو اپنانے سے باز رکھنے کی سعی فرمائی اور اپنی دعوت میں عقل انسانی
کو جھنجھوڑ کر ناقابل تردید دلیلیں پیش کیں نیز
ظن اور انداز سے پر اکتفا کر لینے کی مذمت فرمائی اور یہ صرف اسی مقدس دین کا ہی خلاصہ ہے ورنہ اگر آپ روئے زمین پر
پھیلے ہوئے مذاہب بدھ برہمن سکھ اور آتش
پر ست وغیرہ کا جائزہ لیں گے تو
آپ کو ہماری گذارش کا مزید یقین ہو گا اورآج کل کے روشن خیال کہلوانے والے
انگریز لوگ مذہبی معاملہ میں بالکل مقلد ہیں اور دین کی کسی بات کو عقل کی کسوٹی
پر پر کھنے کی ان کو قطعا اجازت نہیں بخلاف اس کے چونکہ اسلامی قواعد سب کے سب
اصولو و فرد عا عقلی حسن و قبح پر نہیں بخلاف اس کے چونکہ اسلامی قواعد سب کے سب
اصولا وفروعا عقلی حسن ق قبح پر مبنی ہیں لہذا اسلام ببانگ دہل ہر مکتبہ فکر کے
لوگوں کو اپنے منشور کی دل کھول کر دعوت
دیتا ہے اور ان کو تدبر کرنے اور اسلامی اصول و فروع کو کسوٹی پر پرکھنے کا
چیلنج کرتاہے اس ساری تفصیل کے بعد آپ خود اندازہ فرمائیں کہ جو لوگ عقلی
حسن و قبح کا نکار کریں ان سےبات کرنا
کہاں تک درست ہے حقیقت تویہ ہے کہ جو لوگ حسن و قبح عقلی کا انکار کرتے ہیں وہ درحقیقت عقل کے آثار کو باطل کرتے ہیں
کیونکہ عقل کا اثر و عمل تو یہی ہے کہ حسن و قبح میں امتیاز کر کے حسن کی طرف بڑھے
اور اسی کی بدولت تو وہ حیوانات سے ممتاز ہے اور جو لوگ عقل کے آثار کو باطل کریں
گو یا وہ عقل کی ذات و حقیقت کو باطل سمجھتے ہیں کیونکہ کوئی قوت بغیر آثار کے
نہیں ہوتی اور عقل کو باطل قرار دینے والا خود عقل و شعور سے کورا اور بمنزلہ
حیوان ہے