التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

صفت علم

ہمارا عقیدہ ہے کہ آئمہ  اہل بیتؑ تمام افراد امت سے علم میں افضل واکمل تھے اور تاریخ بتلاتی ہے کہ ہر دور کے علماء ان کے سامنے طفل مکتب کی حیثیت رکھتے تھے  اور ان کی شاگردی کو اپنے لئے مایہ افتخار قرار دیتے تھے چنانچہ اہل خلاف کے بڑے امام نے بھی اپنے آ پ  کو حضرت صادقؑ  کا شاگرد کہلانا اپنا کمال سمجھااور آج تک اس کے مقتدی  اسی بات پر جخر محسوس کرتے ہیں پس ہمیں بجافخر حاصل ہے کہ ہمارے آئمہ  لوگوں کے بڑے بڑے آئمہ  کو پڑھاتے ہیں اور پڑھاسکتے ہیں لیکن آئمہ اہل بیتؑ  کو پڑھانے کی نہ کسی میں ہمت ہے نہ امکان اور پہلے دور سے ہی دیکھ لیجئے قرآن مجید کے سمجھنے یا شریعت اسلامیہ کے مشکل مسائل  کو حل کرنے میں جب صحابہ کو دقت  پیش آئی  تو انہوں نے باب علوم نبویہ پر آکر دستک دی اور حضرت عمر تک علیؑ کی مشکل کشائی کے بعد لولاعلی لھلک عمر کا کمہ پڑھتے ہوئے واپس پلٹے لیکن قطعا تاریخ یہ نہیں ثابت  کرسکتی کہ کسی مسلہ میں حضرت علیؑ نے کسی بڑے سے بڑے صحابی سے امداد لی ہو – ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء پس ہر دور میں علمائے اسلام مسائل مشکلہ میں آئمہ اہل بیت ؑ کی طرف ہی رجوع کیاکرتے تھے ایک شاعر نے خوب کہاہے(انوارالنجف جلد4)

اذاشئت ان تختارا  لنفسک مذھبا وتعلم ان الناس فی نقل اخبار فدع  عنک قول الشافعی ومالک واحمد والمروی عن کعب اخبار فوال اناسا قولھم وحدیثھم زوی جد ناعن جبرئیل عن الباری   جب تو اپنے لئے کوئی مذہب  اختیار کرنا چاہے  اور تجھے پتہ ہوکہ لوگ احادیث نقل کرنے کے درپے ہیں تو شافعی اور مالک کے قول کو چھوڑئیے  اوراحمد حنبل اور کعب الاحبار  کی روایتوں کو ترک کیجئے  پس ان لوگوں سے محبت رکھئے جن کا قول وحدیث اس طرح ہوکہ ہمارے نانا نے جبریل سے اور جبریل نے خدا کی طرف سے یہ حکم پہنچایا

اور تاریخ عالم گواہ ہے کہ سوائے علیؑ کے سلونی قبل ان تفقدونی کا دعویٰ کوئی نہ کرسکا اور ہر دور میں ائمہ طاہرینؑ یکے بعد دیگرے تشنگان علوم کو اپنے بجور علمیہ سے سیراب کرتے رہے    مقدمہ تفسیر مراۃ الانوار سے مروی ہے ایک مرتبہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے مکہ میں کسی نے عرض کی کہ آپ  نے فرمایاعلینا نزل قبل الناس ولنا فسس قبل الناس فنحن نعرج حلالہ وحرامہ وناسہخہ ومنسوخہ وسفریہ وحضریہ وفی ای لیلۃ نزلت من ایۃ وجہ لمن نزلت وفی ماانزلت    الخبر   ترجمہ قرآن  لوگوں سے پہلے ہم پر اترااور لوگوں سے پہلے  ہم پر اس کی تفسیر گھلی پس ہم ہی اس کے حلال وحرام ناسخ ومنسوخ اور سفری وحضری کو جانتے ہیں ہمیں پتہ ہے کہ کس رات میں کونسی آیت اتری اور کس باب میں اتری کافی میں امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے قال مایستطیع احد ان یدعی ان عندہ علم جمیع القران کلہ ظاہرہ وباطنہ   فرمایاکہ کسی کی مجال نہیں کہ یہ دعویٰ کرے کہ میں تمام قرآن  کے ظاہر وباطن کا علم رکھتاہوں سوائے اوصیاء کے بہر کیف اس قسم کی احادیث آئمہ طاہرین  علیہم السلام سے متواتر منقول ہیں اور ایسے واقعات جن میں اہل اسلام عاجز گئے اور آئمہ اہل بیتؑ نے ہی ان کی علمی مشکلوں کو حل فرمایا ہو تاریخ میں بکثرت موجود ہیں جو معنوی طور پر تواتر کی حدتک ہیں پس  ہمارا عقیدہ ہے کہ وارث قرآن  یہی تھے اور علوم نبویہ سینہ بسینہ انکے پاس موجود تھے اور چونکہ قرآن  تمام کتب سماویہ کے علوم پر حاوی ہے لہذاآئمہ معصومین علیہ السلام  علمی مقام میں سابق انبیاء  سے افضل واکمل تھے

ایک تبصرہ شائع کریں