التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

آیت ولایت

اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ

سوائے اس کے نہیں کہ تمہارا ولی اللہ اور اس کا رسول ہے  اور وہ لوگ جو ایمان لائے جو نماز کو قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں  حالت رکوع میں آیت  مجیدہ کے متعلق اکثر مفسرین اہل سنت نے تسلیم کیاہے کہ یہ حضرت علیؑ  علیہ السلام  کے حق میں آئی  ہے تفسیر کبیر رازی  اور تفسیر ثعلبی میں  حضرت ابوذر سے منقول ہے باختلاف الفاظ کہ ہم نے نماز ظہر حضورؐ کے پیچھے پڑھی مسجد میں ایک سائل نے سوال کیا جب اس کو کچھ نہ ملا تو اس نے جانب آسمان منہ کرکے اپنی محرومی کا شکوہ کیا پس حضرت علیؑ نے حالت رکوع میں انگلی کا اشارہ کیا اور اس نے آکر انگوٹھی اتارلی حضرت رسالتمآب  نمازکے بعد دست بد عاہوئے کہ اے پروردگار میرے بھائی موسیٰؑ نے  تجھ سے دعامانگی تھی اے رب میرا سینہ کھول دے میرا معاملہ آسان کردے  میری زبان کی گرہ کو دور کر تاکہ لوگ میری بات کو سمجھیں اور میرے لئے میری اہل میں سے میرے بھائیہارون کو میرا وزیر مقرر فرما اور اسکو میر  شریک کار بنادے تو تو نے قرآن  میں صاف بتایاہے کہ اس کی دعامستجاب ہوئی اور تونے ارشاد فرمایا سنشدعضدک باخیک ونجعل لکما سلطانا فلایصلون الیکما پ ع  ہم تیرا بازو تیرے بھائی کے ذریعہ سے مضبوط کردیں گے اور تمہیں غلبہ دیں گے بس وہ تم تک نہ پہنچ سکیں گے وانامحمد نبیک وصفیک اللھم فاشرح لی صدری ویسر لی امری واجعل لی وزیر من اھلی  علیا ناشد بہ ظھری اور میں تیرا نبی وبرگزیدہ ہوں اے اللہ پس تو میرا سینہ کشادہ کر اور میرا معاملہ آسان کر  اور میرے لئے میری اہل سے علیؑ کو میرا وزیر مقرر فرما اور اس کے ذریعہ سے میری پشتکو مضبوط کر ابوذر کہتاہے خداکی قسم ابھی دعاپوری نہیں ہوئی تھی کہ اللہ کی جانب سے جبرئیل  اترا اور یہ آیت  لے کر آیا  انما ولیکم اللہ  الایہ  آیت  مجیدہ میں ولایت مطلقہ ہے  اس میں کوئی قید نہیں ہے اور ولایت مطلقہ جس کے لئے ثابت ہو ا سے معصوم ہونا چایئے  کیونکہ غیر معصوم کی ولایت خدا کی جانب سے مطلقہ ہو نہیں  سکتی بلکہ غیر معصوم کے تصرفات پر پابندی لگانا پڑتی ہے جس طرح والدین کی اولاد پر ولایت  ہے لیکن اطاعت نصرفات پر پابندی لگانا پڑتی ہے جس طرح والدین کی اولاد پر ولایت ہے لیکن اطاعت میں پابندی عائد کردی گئی  ہے کہ اس صورت میں اطاعت واجب ہے جب خلاف حکم خدا وہ حکم نہ دیں لیکن جس کی ولایت مطلقہ بلا قید واجب ہوتو مقصد یہ ہے کہ اس سے خلاف حککم خدا حکم صادرہونے کا امکان نہیں اور اسی کو عصمت کہاجاتاہے چونکہ آیت  باتفاق مفسرین علیؑ کے حق میں  ہے لہذا آیت مجیدہ  جس طرح جناب رسالت مآب ؐ کو معصوم اور ولی مطلق ثابت کرتیہے اسی طرح حضرت علیؑ کو بھی ولی مطلق اور معصوم ثابت  کررہی ہے اور چونکہ ضمیر مخاطب کم تمام مومنوںکو خطاب کررہی ہے لہذاجس طرح خداورسول کی ولایت تمام مومنوں پر ہے اسی طرح علیؑ کی ولایت بھی تمام مومنوں پر ہے اور ولایت کا جو معنی خدا اور رسول ؐ کے لئے ہوگا وہی معنی علیؑ کے لئے بھی ہوگا اور چونکہ خداکی ولایت نصرف کامل کے معنی میں ہے لہذا رسولؐ وعلیؑ کی ولایت کو بھی تصرف کامل کے معنی میں ہونا چایئے  اور رسالت مآبؐ کی ولایت بمعنی  تصرف کے مسلم ہے تو علیؑ کی ولایت  بھی اسی معنی میں خود بخود ثابت ہوگئی کیونکہ لفظ مشترک  سے ایک استعمال میں متعدد معانی مراد لینا ناجائز ہے اور ولایت مطلقہ یعنی تصرف کامل کا دوسرا معنی خلافت وحکومت  ہے پس آیت کی رو سے علیؑ کی خلافت بلا فصل ثابت ہوگئی


ایک تبصرہ شائع کریں