حدیث میں وارد ہے کہ یہ جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے اس میں ایک ہزار ستر نبیوں نے نماز پڑھی ہے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ اس میں ایک ہرار نبی اور ایک ہزار وصی نے نماز ادا کی ہے بلکہ ایک روایت میں ہے کہ کوئی عبد صالح نہیں گزرا جس نے اس مسجد میں نماز ادا نہ کی ہو حتی کہ شب معراج حضرت رسالتماۤب نے بھی اس میں نماز ادافرمائی اس مسجد میں نماز فریضہ ایک ہزار کے برابر اور نافلہ پانچسوکے برابر ہے اس مسجد میں بغیر تلاوت وعبادت پیٹھنا بھی عبادت ہے پہلے پہل اس کا نشان حضرت آدمؑ نے قائم کیا تھا امام محمد باقر علیہ السلام سے پوچھا گیاکہ حرم خدا ورسول کے بعد کونسی زمین اشرف ہے تو آپ نے فرمایا کوفہ یہ پاک وپاکیزہ ٹکڑا ہے اس میں انبیاء واوصیاء کی قبریں ہیں اس میں مسجد ہے جس میں ہر نبی نے نماز ادا کی ہے اسی میں اللہ کا عدل قائم ہوگا (شاہد اس سے حضرت قائم آل محمؐد کی دولت ساطعہ مرادہو )
امام جعفر علیہ السلام نے فرمایا مکہ اللہ کا حرم اور نبیؐ علیؑ
کا حرم بھی ہے اس میں ایک نماز ایک
لاکھ کے برابر ہے اور ایک درہم راہ خدا
میں خرچ کرنا ایک لاکھ کے خرچ کے برابر ہے
اور مدینہ اللہ نبی ؐوعلیؑ کا حرم ہے اس
مین ایک نماز ایک ہزار نماز کے برابر
ہے حجرت امیرالمومنین علیہ السلام
نے ایک دن فرمایا اے اہل کوفہ تم
کو اللہ نے ایک ایسی چیز عطاکی ہے جو اور
کسی کو عطا نہیں ہوئی تمہاری جائے عبادت آدمؑ
کا گھر نوح ؑ کا گھر اور
ادریسؑ کا گھر ہے حضرت ابراہیمؑ
کا حضرت خضرؑ اور میرا مصلا ہے اور
تمہاری مسجد ان چاروں مسجدوں میں سے ہے
جنکو خدانے چنا ہے ( مسجد نبوی مسجدالحرام
مسجد اقصی اور مسجد کوفہ یہ مسجد بروز
مھشر اپنے اہل کے لئے اور ان لوگوں کے لئے شفاعت کرے گی جنہوں
نے اس میں نماز پڑھی ہوگی اور اس کی شفاعت قبول ہوگی اور زمانہ نہ گزارے گا
کہ اسی میں حجرا سود نصب ہوگا (شاید زمانہ قائم آل محمد علیہ السلام
مرادہو) اور ایک زمانہ آئے گاکہ یہ مسجد حضرت مہدی کا مصلا ہوگی جو میری اولاد سے ہوگا اور ہر مومن کا مصلا ہوگا اور مومن جہاں بھی ہوں گے
اس میں اکٹھے ہوں گے پس اس کو نہ
چھوڑو اور اللہ کی خوشنودی کی خاطر اس میں نماز ادا کیا کرو اور اللہ سے اپنی حاجات طلب کیاکرو اگر لوگ اس کی برکات کو جانتے
ہوتے تو اس کی طرف اطراف زمین سے
کھچ کر آجاتے اگر چہ برف پر ہی انکو
چلنا پڑتا تفسیر انوار النجف جلد4