التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

بیت المقدس

اس کا مسجد اقصٰی کہا جاتا ہے مقدس کا تلفظ عام طور پر دال مشدد سے ہوتاہے  مقدس  لیکن اگر میم  پر زبر قاف کو ساکن اور دال پر زبر ہو تو تلفظ درست رہے گا یعنی مقدس ترکیبی لحاظ  سے مصدر میمی  مضاف الیہ ہوگا اور معنی  ہوگا پاک رہنے کی جگہ  یا تقدس کا گھر پہلی صورت میں کوئی خاص معنی نہیں بنتالیکن وہاں بھی تقدیس سے مصدر میمی قرار دے کر مقدس کا معنی تقدیس لیاجاسکتاہے  بہر کیف  استعمال بغیر شد کےزیادہ بہترہے

 حضور  ابتداء بیت المقدس  کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے اور وہ اس طرح کہ کعبہ کو درمیان میں رکھ لیتے تھے تاکہ دونو کی طرف منہ ہوجائے لیکن جب وارد مدینہ ہوئے تو یہودیوں نے اعتراض شروع کردیا کہ  اگر آپ نبی  ہوتے  تو اپنا قبلہ  بھی الگ بناتے  پس حضور نے آمان کی طرف منہ بلند کرکے دعامانگی جس کی حکایت قرآن مجید میں موجود ہے  قدنری تقلب وجھک فی السمآء  الآیہ  تحقیق  ہم نے تیرا  چہرہ آمان کی طرف پھرتا ہوا دیکھا ہم ضرور تجھے ایسے قبلہ کی طرف پھیردیں گے جو تجھے پسند  ہے اور حضور ؐ شدت سے اس امر کے منتظر  تھے کہ قبلہ مجھے وہی عطاہو جو میرے جد  حضرت ابراہیمؑ  کا تھا کیونکہ حضرت ابراہیم واسمعیل کا قبلہ یہی کعبہ تھا

مکہ  میں   13  برس  آپ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے اور مدینہ میں جانے کے بعد   16   یا    17  ماہ  بیت المقدس  کی طرف منہ کیا پس جب قبلہ کعبہ مقرر ہوا تو یہودیوں  نے اعتراض کی نوعیت بدل لی اور کہنا شروع کردیاکہ اگر پہلا قبلہ درست تھا تو اب غلطی کررہے ہو  تو آپ نے  ان کو جواب دیاکہ تمہیں خدا نے ہفتہ کے دن مچھلی کے شکار سے منع  فرمایا تھااور باقی دنوں میں اجازت دی تھی اگر مچھلی  کا شکار  جائز ہے تو سنیچر  کو کیوں حرام ہے اور اگر ناجائز ہے تو باقی ایام میں کیوں جائز ہے ؟ انہوں نے جواب دیاکہ دونو صورتیں مصلحت ایزدی سے درست ہیں آپ نے فرمایاجس طرح تمہاری دونوصورتیں مصلحت پروردگار سے درست ہیں تو ہماری بھی  اسی مصلحت کی بناء پر دونو وقت کی نمازیں درست ہیں

 ہماراعقیدہ ہے کہ بیت المقدس ایک برگزیدہ اور مقدس  مقام ہے مسجد کوفہ کے بیان میں  ذکرہوا ہے کہ یہ ان چار مساجد میں سے ہے جن کو خدانے چن لیا ہے اور یہ مسجد بہت سے انبیاء  کی عبادت گاہ  ہے اس کی تعمیر حضرت  داؤدوسلمان  علیہما  اسلام  نے کی تھی جس کی تفصیل تفسیر انوارالنجف کی جلد  11 پر ملاحظہ ہو  اور حضرت زکریا  اور حضرت یحییٰ  دونو اسی مسجد میں تبلیغ کے فرائض انجام دیتے رہے  حضرت  عیسیٰ  اسی مسجد میں کافی عرصہ وعظ فرماتے رہے حضرت مریم کی عبادت گاہ یہی مقام تھا  نیز مریم کا والد عمران جو بقولے نبی  تھا وہ بھی اسی مسجد میں عبادت کیاکرتے تھے بہر کیف ہمارے نزدیک وہ مقام نہایت قابل احترام اور واجب التعظیم ہے  یہ  مسجد ابتدائے اسلام سے مسلمانوں کے قبضہ میں رہی  لیکن  اس سال  1967 ء  بمطابق 1286ھ  میں اسرائیلیوں نے جہاں عربوں کے اورکافی علاقہ پر قبضہ  کرلیا وہاں انہوں نے بیت المقدس کو بھی مسلمانوں  کےہاتھوں سے چھین لیا

 

ایک تبصرہ شائع کریں