التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

جنو ں کے متعلق عقیدہ

جن کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ وہ اجسام ناریہ ہیں اور ہرشکل اختیار کر سکتے ہیں حتاکہ کتا اور سود کی شکل میں بھی وہ آسکتے ہیں گوبر اور ہڈی وغیرہ ان کی غذا ہے جیساکہ روایات میں آیا ہے ان کے اثبات کے لئے بھی روایات یا اجماع کاسہارا لینا بے کار ہےقرآن مجید ان کے وجود کااعلان کرتاہے اورہمار ا عقیدہ ہے کہ وہ بھی انسانوں کی طرح ذی ہوش اورصاحب عقل مخلوق ہے اور عبادت کی تکلیف میں انسانوں کے ساتھ شریک میں چنانچہ ارشاد خداوندی ہے وما خلقت الجن والانس الا یعبدون ہم سے جنوں او ر انسانوں کو نہیں پیدا کیا مگرعبادت کے لئے قوم جن کی پیدائش کامادہ آگ ہےاو رابلیس ان کا جدا علی نہیں بلکہ اس کے متعلق توہے کان من الجن یہ  قوم جن سے تھا بہر کیف کوئی کہتا ہے کہ  ان کا جدا علی نسناس تھا کوئی کچھ اور کہتا ہے خلقت حضرت آدم ؑ سے قبل زمین ان کی جائے رہائش تھی اور انسانوں کی آبادی کے بعد جنگلوں اور گھاٹیوں میں رہتے ہیں میں نے کہیں ایک روایت میں دیکھا ہے کہ خدا نے ان کے پاس ان کی قوم سے ایک نبی بھیجا تھا لیکن انہوں نے سرتابی کر کے اس کو مار دیا حضرت آدم کی خلقت سے قبل انہوں نے زمین پر کافی شرو فساد بپا کررکھا تھا پس ملائکہ کو حکم ہو اتو انہوں نے ان کو مارا اور قتل کیا لیکن ابلیس تائب ہو گیا اور اس کو چھوڑ دیا گیا پھر حضرت آدم علیہ السلام کے سجدہ کے وقت جو اس نے گل کھلائے وہ قرآن میں موجود ہیں بلکہ روایات میں تو یہ بھی ملتا ہے کہ حضرت آدم کے جسد خاکی کوبھی یہ خواہ مخواہ چھیڑا کر تا تھا اور اس کو توہین آمیز نگاہوں سے دیکھتا تھا بہر کیف روح کے داخلے کے بعد تواس کی توبہ و شرافت کا بھانڈا پھوٹ گیا اور انسان کا بلکہ دین خدا کا  اعلانیہ دشمن بن گیا قرآن مجید نے اس کے شرو وسوسہ سے بچنے کا حکم دیا اور اسی وجہ سے متعدد مقامات پر حضرت آدم کے قصہ کو دہرا کر اس کے دھوکہ میں آنے سے بچنے کی دعوت دی پس نیک بخت انسان وہ ہے جو اس کے دام تزویر سے بچ نکلے کیونکہ انسان کو ہر رنگ میں ہر طور سے گمراہ کرتا ہے اور ہر انسان کو اس کے اپنے انداز سے گمراہ کرتا ہے عابد کو عبادت میں دھوکا دیتا ہے عالم کو علمی رنگ میں گمراہ کرتاہے غرضیکہ و ہ انتہائی عیارو  مکار اور تجربہ کار دشمن ہے اس سے ہوشیار رہنا عقل مند آدمی کا کام ہے قوم جن عبادت میں ہمارے ساتھ شریک ہے یہ معلوم نہیں کہ وہ کس طرح ان عبادات کر بجا لاتے ہیں بہر کیف ان کی تکالیف میں ان کی نوعی حیثیت کو مدنظر رکھناضروری ہے حضر ت سلمان کے درباری جن کافی تھے بلکہ آپ کی شادیاں بھی ا ن میں ہوئیں  اور جناب رسالتمآب ﷺ کی بارگاہ فیض انتساب میں بھی آکر مشرف ہوتے تھے چنانچہ سور ہ جن قرآن مجید میں انہی کے فضائل کا تذکرہ کرتاہے حضرت امیر علیہ السلام کی خدمت میں جن کا آنا اور مسائل دریافت کرنا کتب تواریخ میں موجود ہے حضرت سید الشہدا ء کی بارگاہ میں جنو ں کا آنا اور نصرت کی پیش کش کر نامذکورہ ہے جن سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے نیک لو گ اور مومن لوگ موجود ہیں البتہ ان میں سے شریر اور فاسق و فاجر افراد کا ہونابلکہ کثرت سے ہونا بھی قابل تسلیم ہے کیونکہ ہرقوم میں نیک قلیل المقدار ہوا کرتے ہیں جہان تک معلومات کاتعلق ہے جن انسانوں کو تکلیفیں دیتے ہیں او ر اسی بنا ءپر آئمہ کی جانب سے شر جنات کے دفع کرنے کے لئے حزر بھی منقول ہیں بلکہ جناب رسالتمآب ﷺ سے بھی منقول ہیں لیکن زمانہ حاضرہ میں بالخصوص مغربی پاکستان میں جنوں کے مستقل اڈے ہیں وہ غالبا قوم جنات کو بدنام کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں پیسہ کمانے کے لئے دوکاندار لوگوں نے بالخصوص پیر طبقہ نے قوم جن کی شرارت کو اس قدر اچھالا ہے کہ اس قوم کا دانش مند طبقہ بھی انسانوں کی اس بد سرشت سے انگشت بدنداں ہو گا تو ہم پرستی تو ویسے بھی سر زمین ہند میں معمول عام تھا لیکن وہ بیماری جو موجودہ دورمیں نشکل جن ظاہر ہوئی ہے انتہائی خطر ناک عبرتنا ک اور افسوسناک ہے لوگوں نے اس کو ایک مستقل فن بنالیا ہے اور لوگوں میں جن نکالنے کی ٹریننگ حاصل کی جاتی ہے اور یہ فن اس لئے بھی زیادہ دلچسپی کاموجب بن گیا ہے کہ اس عورتوں کی آمد زیادہ ہے اور شیطان نے انسانوں کو گمراہ کرنے کے لئے جو جال بچھایا ہے اس کے حسن کرتب یا کمال فریب کاہی نتیجہ ہے جو عورت اپنے شوہر سے یاماں باپ سے کسی وجہ سے ناراض ہو یا اس کا کوئی مطالبہ نہ مانا جارہاہو اس کو شیطان اس  راستہ پر آسانی سے دھکیل کر لے آتاہے پس وہ اس داو سے مردوں کے دماغوں پرسوار ہوجاتی ہے اور جو چاہتی ہے کرتی ہے اور روایات میں ہے کہ عورتیں شیطان کا جال ہیں ہم بچپنے کے زمانہ میں جن نکالنے کے اڈے بہت کم سنتے تھے لیکن اب جو اس صنعت نے ترقی کی ہے پاکستان میں کسی دوسری صنعت کو ایسا فروغ حاصل نہ ہو اہو گا میرے اندازہ سے تقریبا ہر شہر میں اس کو چھوٹا یا بڑا اڈہ ضرور موجود ہے اور اکثر جن نکالنے کے فن کار انتہائی عنڈے قسم کے لوگوہوتے ہیں اور بالخصوص جنوں کے گرفتا ر مریض کو ڈھول طبلے کی پرکشش تھا یوں سے اس قدر مسحور کر لیاجاتا ہے کہ وہ ان کے کانوں میں شراب کے نشہ سے بھی زیادہ موثر ثابت ہوتاہے یہ لوگ پھر انتہائی غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ زبان کو زیبا نہیں اور قلم کو ایسے شرمناک بیانات سے جھجھک محسوس ہوتی ہے بس خاموشی ہی بھلی اگر قوم جن میں کوئی خدا پرست طبقہ اس وقت موجود ہے جوغیرت و حمیت کی دولت اپنے پاس رکھتا ہواور میری یہ گزارشات بھی ان تک پہنچ جائیں تو میں ان سے پرزور سفارش کروں گا کہ اپنی قوم کو اس بدنامی سےمحفوظ رکھئیے اور چونکہ جن و انسان مقصد عبادت میں شریک ہونے کی حیثیت سے بھائی بھائی ہیں لہذا ایسےغنڈوں کا اس طرز عمل سے باز رکھنے میں قدم بڑھائیے تاکہ ناموس انسانیت بھی تباہ نہ ہو اور قوم جن کا وقار بھی مجروع نہ ہو اور قوم جن کو حق حاصل ہے کہ ان کی قوم کی بدنامی کا سامان مہیا کرنے والے دوکانداروں کو ہی وہ اپنی گرفت میں لائیں تاکہ باقی انسانوں کو ان کے شر سے نجات حاصل ہو اور وہ بھی ان کے شر سے محفوظ رہیں اب تو یہ وباء اس قدر عام ہے کہ جس بیمار کی بیماری کو نیم طبیب لوگ معلوم نہ کر سکیں اور ان کا علاج موثر ان کے پاس نہ ہو تو اپنی نااہلیت کو چھپانے کاان کو بہانہ مل جاتا ہے فورا  کہہ دیتے ہیں کہ اس کو جن ہے بس طبیب کا بھرم رہ گیا اور بیمار کاستیاناس ہو گیا اس نے اس وہم کو مول لے کر اپنے پورے خاندان کی شرافت و غیرت کا بیڑا غرق کر دیا اور میں نے پہلے عرض کیاہے کہ اس بیماری کا شکار عورتیں ہی زیادہ ہو ا کرتی ہیں میں اس کا انکار نہیں کرتا کہ جن بھی اذیتیں دیتے ہیں یعنی ان میں جو غنڈہ عنصر ہے وہ ایسا کرتا ہو گا چنانچہ حرز و تعویذ  کا وجود اس امر کا  شاہد ہے لیکن میں تو یہ کہتا ہوں کہ یہ اکثر یتی رجحان محض دوکانداری اور فریب کاری ہے خدا مومنوں کو اس سے محفوظ رکھے

ایک تبصرہ شائع کریں