التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

حقوق اللہ میں عدل کامیزان

مصر کی گورنری سونپنے کے بعد مالک اشتر کو بطوردستور العمل کے ایک عہد نامہ میں ارشاد فرمایا اللہ سے تقوی اختیار کرو اس کی اطاعت کو ہر امر پر ترجیح دو او ران فرائض و سنن کی اتباع کرو جو اس نے اپنی کتاب میں ذکر فرمائے کیونکہ اس کے بغیر سعادت ناممکن ہے اور ان کا انکار یا مخالفت بد بختی ہے لہذا دین خدا کی ہاتھ اور زبان سے نصرت کرو الخ

 حضرت امام حسن علیہ السلام کے وصت نامہ میں ارشاد فرمایا اے فرزند میں تجھے اللہ کے تقوی اس کے امر کی اطاعت اس کے ذکر سے دل کی تعمیر اور اس کی توفیق سے تمسک کی وصیت کرتاہوں کیونکہ تیرے اور اللہ کے درمیان جورشتہ ہے اس سے زیادہ قابل وثوق اورکوئی رشتہ نہیں بشر طیکہ اسے تھامے رکھو پھر سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا اے فرزند عزیز میر ی وصیت جو مجھے تیرے لئے زیادہ عزیز اورمحبوب تر ہے تقوی کو اختیار کرتے ہوئے اپنے فرائض کی ادائیگی پر کڑی پابندی عائد کرنااور اپنے آبائے سلف اوراہلبیت طاہرین کے مسلک پر ثابت قدمی کے ساتھ عمل کو جاری رکھنا ہے یہ آپ کے اس وصیت نامہ کا حصہ ہے جو جنگ صفین سےواپسی پرآپ نے کافی حاضرین کی بھری محفل میں اپنے فرزند حضرت امام حسن کے لئے تحریر فرمایا اس کے علاوہ حقوق اللہ کے متعلق بہت کچھ ارشادات خاندان عصمت سے دستیاب ہوتے ہیں جن کے جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور سب کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کی جانب سے بندہ پرعائد شدہ حقو ق کا جامع ہے تقوی پس عبد کا اپنے مولا کے ساتھ عدل یہ ہے کہ خوف و تقوی کو اختیار کر نے اور رضائے خالق ہی اس کا مطمح نظرہو او ر اگر وجود خالق کاآپ کو یقین ہے تو اس کی مزید توضیح خود بخود آپ کے سامنے ہے  اس امر کو ضروری طورپر جان لینا چاہئیے کہ انسان پر اللہ کا پہلا حق یہ ہے کہ اس کی ربوبیت و وحدانیت کا دل و جان سے اقرار کرے اس پر ایمان پرلا کر اس کی عبادت واطاعت میں کسی کو شریک نہ کرے اور یہی عقیدہ تمام حقوق اللہ کی جڑ اور تقوی کی اصل و اسا س ہے ورنہ شرک کی صورت میں کوئی عمل صالح قبول نہیں ہو  سکتا خواہ شرک جلی ہو یا شرک خفی جو چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہو کر چلتا ہے پس جو عبد شرک کا مرتکب ہو گاوہ اپنے پروردگار کے حقوق کا ظالم ہو گا کیونکہ ارشاد قدرت ہے ان الشرک لظلم عظیم اور تقوی اس حقیقت کے بعد ہی نصیب ہو سکتا ہے چنانچہ قرآن مجید میں عمل صالح اورتقوی کو ایمان پرہی عطف کیا گیا ہے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں