عدل وانصاف سے وابستگی
اوراس کے میزان کو قائم کرنایا اسکے اصول کا اجراء حقوق کی معرفت پر موقوف ہے
اورچونکہ حقوق بہت کچھ ہیں ان کا شمار چنداں آسان بھی نہیں مثلا حقوق اعتقاد دیا
اور حقوق عملیہ دو ہیں پھر حقوق اعتقادیہ بہت سی اقسام پر ہیں اور حقوق حمہلیہ کی
بھی متعد واقسام ہیں ۔حقوق نفس حقوق منزل
حقوق معاشرہ پھر ان کے اقسام کو پھیلایا جائے تو ایک بہت لمبی فہرست مرتب ہوگی باپ
بیٹے کے حقوق شوہر بیوی کے حقوق ہمسایہ کے حقوق
فقراء مساکین کے حقوق سائل کے حقوق دوست کے حقوق عالم ومسجدوقرآن کے حقوق حیوانات کے حقوق
کنیزوں اور غلاموں کے حقوق چنانچہ ابواب فقہ میں ایک سرسری مطالعہ کرنے سے حقوق کا
ایک بہت بڑا دفتر کھل جاتاہے اورتمام حقوق میں عدل کی حکومت ہی معیار شرف ہےپس
حقوق کی نوعی وشخصی کثرتوں کے باواجود ان کا انحصار تین اصولوں میں کیا جاسکتاہے
جو تمام حقوق کا مرجع بن سکتی ہے اور شہادت عقل جملہ حقوق ان میں منحصر ہیں ۔
1حقوق نفسیہ
وہ حقوق جو انسان کے اپنے
نفس کے لئے ہی اسکی ذات پر عائد ہیں ۔
2حقوق اللہ
وہ حقوق جو انسان پر اپنے
خالق کی ذات کے لئے عائد ہیں
3حقوق معاشرہ
وہ حقوق جو انسان کے
دوسروں کے ساتھ وابستہ ہیں ۔اور حقوق کی ہرسہ اقسام اور ان میں عدل کے ضابطے درس
خداوندی کے تعلیم یافتہ عالم ربانی کی زبانی ہم پیش کرتےہیں جن کے سامنے معلم اول
وثانی تفل مکتب کی حیثیت سے بھی پست ترہیں پس ہر اصل کے متعلق مولائے مومنین کا
ارشاد کافی ووانی ہے ۔