یعنی خداوندی قدوس جو مبداء جمیع خلائق ہے وہ واحد اور ہر لحاظ سے بسیط ہے اس کی کوئی جُز نہیں نہ تحلیلی نہ ترکیبی ۔نہ خارجی نہ ذہنی تمام موجودات کو اس نے اپنی قدرت کاملہ سے پیدا فرمایا ہے اس میں اسکا کوئی شریک وحصہ دار نہیں ہے اس کی نہ ابتدا ء ہے نہ انتہا وہ ہر شیءسے اول ہے اس سے پہلے کوئی نہیں اور وہ ہرشیءکے آخر ہے اسکے بعد کوئی شیءنہیں وہ فاعل مختار ہے فاعل موجب نہیں ۔ساری خدائی کا نظام اسکے حسن تدبر وحکمت کاملہ کانتیجہ ہے اور وہ اس نظام میں نہ تھکتاہے نہ کسی دوسرے کی مدد کا محتاج ہے وہ ہر ایک کا محسن ہے انسان ملک جن نبی رسول ولی اور سب کی سب مخلوق اس کی قبضہ قدرت میں ہے اور ہر ایک ولی وکارساز وہی ایک ہے ۔
التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔
یہاں کلک کریں
علامہ حسین بخش جاڑا کی تصانیف ، تفسیر انوار النجف، قرآن مجید کی بہترین تفسیر ، لمعۃ الانوار، اس میں شیعہ عقائد ، اصحاب الیمین، شہداء کربلا کے بارے ، مجالس کا مجموعہ، مذہب شیعہ کی حقانیت پر مدلل کتاب ، احباب رسول، کتاب اصحاب رسول کا جواب ، اسلامی سیاست، اصول دین کی تشریح پر مفصل بحث ، امامت و ملوکیت ، خلافت و ملوکیت کا جواب ، معیار شرافت، اخلاقیات ، انوار شرافت، خواتین کے مسائل، انوار شرعیہ، مسائل فقہیہ ، اتحاد بین المسلمین پر مبنی مناظرہ ، نماز امامیہ، شیعہ نما زکا طریقہ اور ضروری مسائل