ی - تفسیر میں موجود 'ی' سے شروع ہونے والے موضوعات | تفسیر انوار النجف جلد 15 | tafseer anwar ul najaf jild 15 | shia books online
یا علی ؑمدد: دعائے توسل میں تمام آئمہ طاہرین کو ”یا“ سے خطاب کر کے پکارا جاتا ہے۔
٭ زیارت معصومین ؑ میں یَا حُجَّةَ اللّٰہِ
یَا اَمِیْنَ اللّٰہِ وغیرہ خطابات سے پکارا جاتا ہے۔
٭ دعائے فرج میں یَا مُحَمَّدُ یَاعَلِیُّ
اِکْفِیَانِیْ کے الفاظ ہیں ان میں اور اس قسم کی تمام دعاﺅں و زیارات میں ان کو
وسیلہ کے طور پر پکارا جاتا ہے نہ کہ عقیدہ تفویض سے لہذا نہ شرک ہے نہ گناہ بلکہ
مستحب ہے (ج۲ص۲۳ تاص۶۳)
٭ یا علی ؑ مدد کے جملہ پر بحث (ج۲ص۷۳ تا ۸۴)
یاسین: یٰسین
کے فضائل (ج۲۱ص۶)
٭ یسٰین کی تشریح (ج۲۱ص۸)
٭ آل یسٰین سے مراد آل محمد ہیں (ج۲۱ص۱۷)
٭ وسعت رزق بطلانِ سحر و آسیب و جملہ حاجات
کےلئے :
سورہ یٰسین کے اعداد کا نقش مربع اپنے پاس
رکھیں خانہ اوّل ۰۴۶سے شروع کریں اور خانہ پنجم میں ایک کا اضافہ کریں۔
یاجوج وماجوج: یاجوج وماجوج اور ترک حضرت
نوحؑ کے فرزند یافث کی نسل ہیں (ج۶ص۴۴)
٭ کفار مکہ نے حضور سے یاجوج ما جوج کے متعلق
بھی دریافت کیاتھا (ج۹ص۲۸)
٭ حضرت ذوالقرنین ؑ ملک فتح کرتے کرتے یا جوج
ماجوج کی حدود تک پہنچے (ج۹ص۶۲۱)
٭ یا جوج و ماجوج کی لفظی تشریح، ان کے
۱۲قبیلے ہیں باقی سب سدِّ سکندری کے اندر آ ئے صرف ایک قبیلہ بچ گیا جو ترک ہیں
(ج۹ص۹۲۱)
٭ قیامت کے قریب زمانہ میں سدِّ سکندری ٹوٹ
جائے گا اور یا جوج ماجوج کو پھیلنے کا موقع ملے گا بعض لوگوں نے ان سے چین و روس
مراد لیا ہے (ج۹ص۳۵۲)
یافث ؑ: حضرت آدم ؑ کا فرزند تھا جو ہبة
اللہ شیث ؑ کے بعد پیدا ہوا لیکن یا جوج و ماجوج کا جدّ اعلیٰ یہ نہیں ہے بلکہ
یافث بن نوحؑ ہے (ج۶ص۴۴)
یتیم : یتیم پروری کا ثواب عظیم (ج۶ص۳۳۱)
٭ بیٹے کی یتیم پروری باپ کی بخشش کا موجب بن
گئی (ج۹ص۵۴۱)
٭ یتیموں کے مال کی حفاظت کا حکم (ج۳ص۰۵،
ج۴ص۸۱۱ص۰۲۱)
٭ یتیم کے مال کو کھانے کی ممانعت (ج۴ص۸۰۱،
ج۹ص۸۲، ج۱۱ص۰۱۱)
٭ مومن کی علامت ہے یتیم کے سر پر مہر و محبت
سے ہاتھ پھیرنا (ج۶ص۶۶۱)
٭ یتیموں ور ہمسایوں کی خبر گیری دانشمندی کا
تقاضا ہے (ج۶ص۸۶۱)
٭ یتیموںپر دست درازی کرنے والوںکا عذاب
(ج۸ص۴۶۲)
یثرب: مدینہ الرسول بننے سے پہلے مدینے کا
نام یثرب تھا (ج۷ص۱۵)
یحییٰؑ : حضرت یحییٰؑ کی بشارت (ج۳ص۴۲۲)
٭ حضرت یحییٰؑ کی حضرت عیسیٰؑ سے مشابہت
(ج۳ص۴۲۲ص۶۲۲)
٭ حضرت یحییٰؑ کے قتل کی سازش (ج۳ص۷۴۱، ج۹ص۲۱)
٭ حضرت یحییٰؑ کی امام حسین ؑ سے مشابہت
(ج۹ص۸۳۱)
٭ حضرت یحییٰؑ بچپنے میں کامل تھے (ج۹ص۱۴۱)
٭ حضرت یحییٰؑ کا زہد اور تقویٰ (ج۹ص۹۴۲ص۰۵۲)
٭ حضرت یحییٰؑ کا قاتل ولد الزنا تھا
(ج۲۱ص۴۶۲)
ید بیضا ء : حضرت پیغمبر کو بھی یہ معجزہ ملا
(ج۶ص۲۸،ج۹ص۶۷ص۷۷۱،ج۱۱ص۵۳)
٭ ید کا معنی طاقت و قدرت(ج۲۱ص۴۶۲)
یزید : یہ شاہِ روم کے امتحان میں ناکام و
نامراد واپس آیا (ج۲۱ص۴۰۲)
یشوع: یشوع
کی تشریح (ج۳ص۶۳۲)
یعقوب ؑ: ان کا اصلی نام اسرائیل ہے (ج۲ص۹۹)
٭ حضرت یعقوب ؑ نے اپنے بیٹوں کو جمع کر کے
پوچھا کہ کس کی عبادت کرو گے تو سب نے کہا اللہ کی جو تیرا اور تیرے بزرگوں کا بھی
الٰہ و معبود ہے (ج۲ص۲۸۱)
٭ حضرت یوسف ؑ نے اپنا خواب اپنے باپ کے سامنے
بیان کیا (ج۸ص۸)
٭ حضرت یعقوبؑ نے ملک الموت سے حضرت یوسف ؑ کی
زندگی کے بارے پوچھا تھا (ج۸ص۲۷)
٭ حضرت یعقوب ؑ کا فراق حضرت یوسف ؑ میں گریہ
(ج۸ص۳۷ص۵۷)
٭ بعض علماء نے حضرت یعقوب ؑ و یوسف ؑ کو اولو
العزم پیغمبروں میں شمار کیا ہے (ج۳۱ص۷۳)
٭ یقین کے چار مراتب:
یقین ، علم الیقین ، عین الیقین ، حق الیقین
(ج۳ص۲۵۱،ج۴ص۲۲)
یوسف ؑ: ایک قوم جنات میں نبی تھا جس کا نام
یوسف ؑ تھا (ج۵ص۴۵۲)
٭ قصہ حضرت یوسف ؑ (ج۸ ص۶)
٭ سورہ یوسف ؑ کا لکھ کر پاس رکھنا ترقی مراتب
اور وسعت رزق کےلئے موزوں ہے۔
٭ نقش مربع پاس رکھے ۷۸۹۵۲۱سے ابتدا خانہ نہم
میں ایک زیادہ کرے۔
یونس ؑ : حضرت عیسیٰؑ کے بعد مبعوث ہونے
والے نبیوں میں ان کا نام بھی ہے (ج۵ص۴۸)
٭ حضرت یونس ؑ نے شکم مچھلی میں محمد و آل
محمد کے وسیلہ سے دعا مانگی (ج۵ص۸۹)
٭ حضرت یونس ؑ کا ذکر (ج۷ص۲۸۱ تاص۴۸۱،
ج۹ص۶۴۲،ج۲۱ص۱۷،ج۴۱ص۰۹)
٭ حضرت یونس ؑ کو ذو النون کہنے کی وجہ
(ج۴۱ص۳۸)
یوشع بن نونؑ: (ج۲ص۴۱۱)
٭ حضرت موسیٰؑ کے نامزد جانشین تھے (ج۲ص۷۶۱،
ج۵ص۶۷ص۹۸ص۳۳۱)
٭ یوشعؑ بن نون حضرت یوسف ؑ کی اولاد سے تھے
(ج۵ص۴۷)
٭ حضرت یوشعؑ بن نون کےلئے ردّ شمس (ج۵ ص۶۸)
٭ حضرت موسیٰؑ و حضرت ہارون ؑ کی وفات کے بعد
حضرت یوشعؑ بن نون اور کالب فاتحانہ طور پر اریحا میں داخل ہوئے (ج۵ص۰۹)
٭ حضرت موسیٰؑ کی قوم میں ناجی فرقہ وہی ہے جو
ان کے وصی یوشعؑ کا پیرو کار ہو (ج۶ص۴۸)
٭ حضرت قائم کا ظہور ہو گا تو یوشعؑ بن نون ان
کے ہمراہ ہوں گے (ج۶ص۷۰۱، ج۹ص۴۹)
٭ حضرت خضر ؑ کی ملاقات کے وقت حضرت موسیٰؑ کے
ہمراہ حضرت یوشعؑ بن نون تھے (ج۹ص۶۰۱)
٭ بعض روایات میں ہے کہ یوشعؑ بن نون کو ذو
الکفل کہتے ہیں (ج۹ص۵۴۲)
٭ حضرت یوشعؑ حضرت موسیٰؑ کے بعد تیس/۰۳ برس
زندہ رہے (ج۱۱ص۸۸۱)
٭ حضر ت یوشعؑ کی وفات بھی اسی رات ہوئی جس
رات حضرت علی ؑ کی شہادت ہوئی (ج۲۱ص۸۵۲)
تَمَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّ عَدْلا