فرقہ وہابی کی تردید | firqa wahabi ki tardeed | wahhabism beliefs
لیکن یہ یادرہے کہ شیعوں کے نزدیک ایساشخص بھی بے ایمان اورگمراہ ہے جو محمدؐوآل محمدؐ کو اپنی طرح کسی علوم کا مالک سمجھے آئمہ پڑھ کرعالم نہیں بنتے بلکہ انکا علم محض عطیہ پروردگار ہے چنانچہ کسی تاریخ میں نہیں ملتاکہ آئمہ نے کسی سے درس لیابلکہ خود انہوں نے اپنے امام باپ یا دادا سے بھی اس طرح نہیں پڑھا جیسے پڑھنے کا عام دستور ہے جس طرح حضرت رسالتمآبؐ نے کسی سے نہیں پڑھا اسی طرح حضرت علیؐ نے بھی حضرت رسالتمآبؐ سے نہیں پڑھا اور امام حسنؑ وحسینؑ نے بھی نہ باپ سے پڑھا ہے نہ ماں سے اور نہ نانا سے روایات میں حسنینؑ کا تختیاں لکھنا ملتاہے لیکن یہ نہیں ملتاکہ انکو خوشخطی کون پڑھاتا یاسکھاتا تھا علیٰ ہذالقیاس اس قدر ملتاہے کہ ایک امام نے بوقت اخیر دوسرے امام کو وصیت فرمائی اور اسرار امامت تفویض کہئے پڑھانا کہیں نہیں ملتا بلکہ بعض آئمہؑ پڑھنے کی حدود سے بھی چھوٹے تھے جب باپ کا سایہ سر سے اٹھا اور بعض آئمہ کو اپنی زندگیاں نظر بندیوں اور قید خانوں میں گزارنی پڑیں لہذا پڑھنا اور پڑھانا کیسے ممکن ہوسکتاہے؟ اگر اب بھی باورنہ ہوتو تجزیہ کرکے دیکھئے امام حسن عسکری علیہ السلام کی وفات کے وقت حضرت قائم آلؑ محمد چار برس کے تھے امام محمدتقی علیہ السلام امام رضا علیہ السلام سےدور تھے اور بوقت شہادت آپ کی عمر بھی کم تھی لیکن علوم دفنون میں بڑے سے بڑے اسلام علماء انکے سامنے منقار زیر پر تھے یحیٰ ابن اکثم سے سوال وجواب تمام کتب تاریخ وحدیث میں ملتے ہیں حالانکہ باپ سے پڑھنے کا موقع نہیں ملا اور کسی دوسرے سے پڑھنا تاریخ نہیں بتلاتی اسی طرح امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی عمر کا اکثر وبیشتر حصہ زندان میں گزرا ہے تو امام علی رضا علیہ السلام کی تربیت کس نے کی اور تعلیمکس نے دی وعلی ہزالقیاس
آپ
تاریخ کو بڑی غور سے دیکھیں کہ انہوں نے
کسی سے کچھ پڑھا بھی نہیں نہ اپنے سے پہلے
امام نے انکو درسی سبق دیئے اور نہ کسی
دوسرے نے انکے استاد ہونے کا دعویٰ کیا
آئمہ تو بجائے خود اس خاندانکی شہزادیاں بھی عالمہ غیر معلمہ کے لقب سے مقلب ہیں جناب خاتون جنت عالمہ غیر معلمہ ہے اور
جناب زینت خانون سلام اللہ علیہا بھی عالمہ غیر معلمہ ہے بہر کیف جو لوگ محمدم وآل
محمدم کو اس طرح کسی علم سے عالم سمجھیں انہوں نے ان کی شان کو نہیں سمجھا ہم
ایسے لوگوں کو ایمان سے کافی دور سمجھتے ہیں بس آخری بات یہی ہے اور اسی پر ایمان
وعقیدہ ہے کہ انکا علم اللہ کا عطیہ ہے اس
نے انکو سب سے زیادہ علم عطافرمایاہے اور
جہاں روایات میں یہ ملتاہے کہ حجرت علیؑ فرماتے ہیں علمنی رسول اللہ الف باب من العلم یعنی حضور
نے مجےھ ایک ہزار علم کے دروازے تعلم فرمائے اسکا مقصد بھی وہ پڑھنا پڑھانا
نہیں جو درس وتدریس کے ذریعے ہواکرتاہے
بلکہ ایک رمز ہے جس طرح تمام مخلوق محمدؐ وآل محمدؐ کے وسیلہ سے پیدا ہوئی حالانکہ
پیداکرنے والا سب کو اللہ ہے یاجس طرح محمدؐ مصطفیٰ کو قرآن ظاہری طور پر عطاہوا
اور درمیان میں واسطہ جبریل ہے حالانکہ دی نے والا خود اللہ ہی تھا اسی طرح علوم
علیؑ کے لئے درمیان میں واسطہ حضرت رسالتمابؐ تھے
اور دینے والا خود اللہ تھا اسی طرح حسنین شریفین وباقی آئمہ اسی بناپر آپ کا یہ ارشادکہ زقنی
رسول اللہ زقا مجھے حضور نے علم اس طرح
دیا جس طرح پرندہ بچے کو دانا بھراتاہے حالانکہ علم کھانے کی چیز نہیں مقصد صرف
یہی ہے کہ علوم علویہ خدا کی جانب سے ہیں اور حضرت رسالتمآب درمیان میں وسیلہ ہیں آپ نے اپنے علم کے متعلق
فرمایا ھذاالعاب رسول اللہ میرا یہ علم رسول کا لعاب ہے یع نی رسول کی زبان چوسنے
کا نتیجہ ہے بس مقصد یہ ہے کہ انکا علم وہبی
ہے کسبی نہیں اور یہی ہمارا عقیدہ ہے