حلم و حوصلہ | hilm wa hosla | Patience and encouragement
ہادیان دین اور رہنمایان شرع متین کے لئے یہ صفت انہتائی ضروری ہے کیونکہ ہر قسم کے لوگ جب ان سے بات کریں گے تو بعض ضدی اور اکھڑ مزاج ایسے بھی ہوا کرتے ہیں جن کو ادب و متانت سے بات کرنا آتا ہی نہیں وہ شرافت و تہذیب کے ماحول سے کوسوں دور ہوا کرتے ہیں اگر حلم و حوصلہ نہ ہو اور جذبات و خواہشات کارفرما ہوں تو یقیناً مقصد میں کامیابی ناممکن ہے دیکھئے حضرت موسٰی کو فرعون کی طرف مبلغ بنا کر بھیجنے سے قبل ہی پروردگار نے انہیں حوصلہ اور نرمی کی تلقین فرما دی تھی کہ قُولا لہ قولاً لینا یعنی فرعون کے شاہانہ مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے حق کی دعوت دینا اور اس کی ہر قسم کی تلخ کلامی کو صبر و ضبط کے دامن میں جگہ دے کر انس ے بات کرنا اسی بناء پر اپنے حبیب کی تعریف میں فرماتا انک لعلی خلق عظیم ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا لوکنت فظا غلیظ القلب لانفضوا من حولک اگر آپ سخت مزاج اور تند خو ہوتے تو یہ لوگ آپ سے دور ہو جاتے اور اس صفت میں اگر آئمہ اہل بیتؑ کی سیرت کا جائزہ لیا جائے تو انبیاء سابقین سے ان کا قدم بہت آگے نظر آتا ہے۔
حضرت امام حسین علیہ السلام نے انتہائی حوصلہ شکن حالات کے باوجود جس کردار کا مظاہرہ فرمایا وہ صرف آپ کا ہی حصہ ہے آپ کی طرف ایک شعر بھی منسوب ہے۔ ولقد امر علی اللیم یستبنی فمضیت ثم قلت لا یعینی یعنی جب میں کسی پست فطرت انسان کے پاس سے گزرتا ہوں جو مجھے سب کر رہا ہوتا ہے تو یہ خیال کر کے چپکے سے گزرجاتا ہوں کہ کسی اور کو ہو گا چنانچہ ایک مرتبہ کسی شامی کے پاس گزرے تو اس نے گالیاں دینا شروع کر دیں آپ اس کے پاس چلے گئے اور فرمایا اگر بھوکا ہے تو میں کھانا کھلاؤں اگر پیدا ہے تو سواری دوں اگر مقروض ہے تو قرضہ اتاروں اگر گھر نہیں تو حسب منشاء مکان خرید کردوں غرضیکہ کوئی حاجت پیش کرو جس کو میں پورا کروں بلا وجہ حسنؑ کو گالیاں کیوں دیتا ہے ان اخلاق کریمانہ کا یہ اثر ہوا کہ وہ شخص تائب ہو کر قدموں میں گرگیا بے شک تلوار کی نوک یا تازیانہ کے رعب سے کسی کو چپ کرانا اور ہے اور حلم و حصلہ سے کسی کی مشکل کشائی کر کے اس کے دل پر قبضہ کر لینا اور ہے اسی بناء پر حضرت رسالتمابؐ نے بھی ارشاد رمایا تھا کہ حسنؑ میرے اخلاق کا آئنیہ دار ہے صرف یہی نہیں حضرت سید الشہداء و امام حسینؑ نے جو حلم و حوصلہ اور صبر و ضبط کا منظر پیش کیا ہے تاریخ عالم اس کی مثال پیش نہیں کر سکتی باجود ضرورت کے دشمن کے لشکر کو سیراب کرنا حسینؑ ہی کا کام تھا اور باوجود انتہائی دشمنی کے حضرت سجاد کی حاکم مدینہ کے لئے امداد کی پیش کش حلم و حصلہ کی ایسی مثال ہے جس کی مثال نہین جب کہ ظلم و تشدد کا اس سے قصاص لیا جانے لگا تو جب اس کی نظر حضرت سجادؑ پر پڑی بدن کانپ گیا دریافت پر اس نے بتایا کہ جو مظالم میں اس پر کئے ہیں ان کا بدلہ مجھ سے ادا نہیں ہو سکتا لیکن امام نے قریب آکر اس کے کان میں آہستہ سے فرمایا بتاؤ اس عالم مصیبت میں میں تیری کیا امداد کروں؟ بہر کیف جزوی واقعات اگر بیان کئے جائیں تو کافی طول ہوگا آئمہ اہلبیتؑ کا حسن کردار علم حلم وحوصلہ اور صبر و ضبط پوری انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے۔