التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

Taqwa | Taqwa Ki Taraf Rujoo | Allah Ki Ita'at Aur Piety | Ruku 2 Ki Tafsir | Hablullah Ki Tashreeh | Ummat Ke Tafarqaat | رکوع۲، بیان تقوی، اِتقُوْا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہ ، رکوع 2 بیان تقوٰی، حبل اللہ کا بیان، تفرقہ امت

"Embrace Taqwa & Allah's Obedience | Ruku 2 Exegesis | Understanding Hablullah | Unity Amidst Ummah | تقویٰ، اِتقُوْا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہ"
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِۦ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ (102) وَٱعْتَصِمُوا۟ بِحَبْلِ ٱللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا۟ ۚ وَٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَآءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِۦٓ إِخْوَٰنًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ ٱلنَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمْ ءَايَـٰتِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (103)

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جس طرح ڈرنے کا حق ہے اور تم پر موت نہ آنے پائے مگر اس حالتمیں کہ تم مسلمان ہو (102) اور تمسک پکڑو اللہ کی رسی سے مل کر اور جدا جدا نہ ہو اور یاد کیا کرو خدا کی نعمت کو جو تم پر ہے کہ تم آپس میں دشمن تھے پس اس نے تمہارے دلوں کو ایک دوسرے سے مانوس کر دیا پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہو گئے اور تم جہنم کے گڑھے کے کنارے پر تھے پس اس نے تم کو اس سے بچایا اسی طرح بیان کرتا ہے خدا اپنی آیات کو تاکہ تم سلجھو (103)
Taqwa | Taqwa Ki Taraf Rujoo | Allah Ki Ita'at Aur Piety | Ruku 2 Ki Tafsir | Hablullah Ki Tashreeh | Ummat Ke Tafarqaat | رکوع۲،  بیان تقوی،  اِتقُوْا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہ ، رکوع 2  بیان تقوٰی،  حبل اللہ کا بیان، تفرقہ امت

رکوع۲  |  بیان تقوی |  اِتقُوْا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہ

تقوی کے کئی مراتب ہیں اور اس کا ادنیٰ مرتبہ یہ ہے کہ تمام واجبات و محرمات میں اس کے احکام کی اطاعت کی جائے اطاعت کی منزلیں جس طرح ایک دوسری سے بلند ہوتی چلی جاتی ہے اسی طرح تقوی کے منازل میں ترقی ہوتی جاتی ہے اوراطاعت کی آخری بلند ترین منزل یہ ہے کہ انسان

عَبْدِی کُنْ لِیْ اَکُنْ لکَ (اے بندہ تو میرا ہوجاتو میں تیرا ہوجاوں )کے مرتبہ تک پہنچ جائے اوریہی تقوی کی آخری منزل ہے جس کو حق تقوی کہا گیا ہے اوریہ چیز معرفت کے تابع ہے معرفت کا پہلا زینہ ظاہری اسلام اس کے بعد یقین اورپھر علم الیقین اورآخر میں حق الیقین تک پہنچتی ہے اوردرحقیقت اسلام کی حقیقی منزل اورواقعی قرار گاہ بھی یہی ہے جس کے متعلق حضرت اِبراہیم نے اپنے لئے دعا طلب کی تھی رَبنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ اور ظاہر ہے کہ جب عہدہ نبوت ورسالت پر فائز ہونے والا معصوم اپنے لئے اسلام کی دعا مانگ رہا ہے تو اس سے معرفت کی اخری منزل ہی مراد ہوسکتی ہے۔اور اسی کو دوسرے مقام پر اطمینان قلبی سے تعبیر کیا گیا ہے چنانچہ ہے لیطمئن قلبی پس معرفت کی منازل کی ساتھ ساتھ اسلام و تسلیم کے مراتب اور اطاعت و تقویٰ کے مدارج میں ارتقاے ہوتا جاتا ہے جب معرفت حق الیقین کے مرتبہ پر پہنچتی ہے تو تسلیم و اطاعت میں۔کن لی اکن لک۔کا منظر سامنے ہوتا ہے اور تقویٰ۔حق تقاتہ۔کی منزل کو پہنچ جاتا ہے اور تمام انسانوں کو تقویٰ کی اسی آخری منزل تک پہنچنے کی دعوت دی گئی ہے لیکن چونکہ ہر انسان کے بس سے باہر ہے کہ اس مرتبہ پر فائز ہو کیونکہ اطاعت کی بعض منزلیں ایک عام انسان کیلئے ناشدنے اور غیر ممکن معلوم ہوتی ہے۔ حالانکہ اہل معرفت مقام سلوک میں انکو اپنے پیچھے چھوڑ کر آگے نکل چکے ہوتے ہیں لہذا دوسرے مقام پر کود ہی ارشاد فر ما دیا۔فَاتَّقُوْا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْیعنی تقویٰ اختیار کرو جس حد تک کر سکو۔

میں ایک روایت میں دیکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ایک نماز گذار کے پاس سے گذر ہوا تو اس کی نماز ناقص دیکھ کر حیران ہوئے ورخداوند کریم کی بارگاہ میں اپنی حیرت کا اظہار بھی کیا تو ارشاد ہوا اے موسی تو اپنی معرفت کے ساتھ اس کی عبادت کا مووازنہ نہ کر بلکہ اس کی عبادت کا موازنہ اسکی اپنی معرفت سے ہوگا اوارتیری عبادت کا موازنہ تیری معرفت سے ہوگا اگر تجھے میری معرفت اس طرح حاصل ہوتی جس طرح میں خود اپنی معرفت رکھتاہوں توتجھے اپنی عبادت اسی طرح حقیر معلوم ہوتی جس طرح اب اس عبادت گزار کی عبادت کو تو حقیر سمجھ رہاہے

پس اطاعت وتقوی کی آخری منزل تک جانے کی دعوت ہر ایک کوہے لیکن اس مرحلہ تک جانے والوں کے مراتب میں تافادت ہے اورہر شخص اپنی قوت معرفت اورطاقت ایمان ویقین کی مقدار کے ماتحت اس کی طرف اقدام کرتا ہے اور لا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ بھی اسلام کی اسی آخری منزل تک پہنچنے کا پیغام ہے اورقطعا یہاں اسلام سے اس کا پہلا مرتبہ مراد نہیں ہے کیونکہ یہاں خطاب ایمان والوں کو ہے اورایمان کادرجہ اسلام سے بلند ہے بلکہ یہاں اسلام سے اس کا وہ مرتبہ مقصودہے جو حضرت خلیل سے اپنے لئے طلب کیا تھا وروہی حق تقوی کے مساوی ہے

تفسیر برہان میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے مروی ہے کہ اس آیت پر سوائے اہلبیت رسول کے اورکسی نے عمل نہیں کیا ہم نے اس کا ذکر کیا اورکبھی اس کو مرامو نہیں کیاہم نے اس کا شکر کیا اورکبھی کفرآن نہ کیاورہم نے ہی اسکی اطاعت کی اورکبھی گناہ نہ کیا اوریہ آیت اُتری تو صحابہ نے عرض کی یارسول اللہ ہم میں تاب نہیں کہ حق تقوی کی منزل کو پہنچ سکیں تب ارشاد ہوا وَاتَّقُوْا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ یعنی تقوی کرو جس حد تک کرسکو اوراورمعرفت جب حق الیقین کے مرتبہ تک پہنچتی ہے تو کبھی عبادت سے سیری حاصل نہیں ہوتی ادھر سے ارشاد ہوتا ہے میرے حبیب ہم نے قرآن اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑو پ۱۶ لیکن اس طرف سے جی نہیں بھرتا عرض کرتے ہیں مَا عَبَدْنَاکَ حَقَّ عِبَادَتِکَ اوریہ ہے تقوی کی آخری منزل ادھر سے محبت وجپیارکے لہجے میں عبادت کے گھٹا نے کی فہمائش اورادھر سے رنگ عبودیت میں عبادت کے بڑھانے کی خواہش اورکربلا والوں نے حق تقوی کا جو مظاہرہ کیا وہ ان کی منزل حق الیقین کا خوب ترجمان ہے اگر طوالت کاخوف دامن گیر نہ ہوتا تو اس مقام پر روشنی ڈالی جاتی تاہم تاریخ کی اوراق گردانی کے بعد نتائج برامد ہوسکتے ہیں

وَاعْتَصِمُوْ ابِحَبْلِ اللّہ کی تفسیر

۱ تفسیر برہان میں جابر بن عبداللہ انصاری سے مروی ہے کہ ایک دفعہ اہل یمن کا وفد خدمت اقدس جناب رسالتمآ ب میں پہنچا تو اپ نے ان کو دیکھ کر فرمایا یہ وہ قوم ہے جن کے دل نرم اورایمان راسخ ہیں اورانہی سے منصور ہوگا جو ستر ہزار کی فوج لے کر میرے خلیفہ اورمیرے وصی کے خلیفہ کے نصرت کرے گا اوران کی تلواروں کے میان چرمی ہوں گے انہوں نے عرض کی حضور اپ کا وصی کون ہوگا تو اپ نے فرمایا وہ وہی ہے جس کے متعلق ارشاد ہے واعتصموابحبل اللہ الخ

انہوں نے عرکی کی اس حبل سے کیا مراد ہے تو اپ نے فرمایاخدا فرماتا ہے الابحبل من اللہ وحبل من الناس اللہ کی طرف سے حبل قران مجید ہے ورلوگوں میں سے حبل میرا وصی ہے پھر انہوں نے وصی کا مصداق دریافت کیا تو اپ نے فرمایا کہ وہ وہی ہے جس کو جنب اللہ کہاگیا ہے کہ ارشاد قدرت ہے ان تقول نفس یاحسرتی علی مافرطت فیجنب اللہ پ ۱۹ زمر اپ نے فرمایا کہ اسی کو خدانے سبیل بھی کہاہے یوم یعض الظالم علی یدیہ یقول یالیتنی اتخذت معالرسول سبیلاپ۱۹نمل)جس دن ظالم حیرت وحسرت سے اپنے دانتوں سے اپنے ہاتھ کاٹے گا اورکہے گا کاش میں نے رسول اللہ کے ساتھ سبیل کو پکڑا ہوتا اس سے مراد میراوصی ہے اوروہی میرے بعد مجھ تک پہنچانے کاراستہ ہے انہوں نے اپ کواپنی نبوت کاواسطہ دے کر پھر سوال کیا کہ وہ کون ہے اپ نے فرمایا کہ خدانے اس کو غور کرنے والوں کے لئے آیت ونشانی قرار دیاہے لہذاتم اس مجمع کو صفوں میں غور سے نگاہ کرو پس جس کی طرف تمہارادل جھک جائے سمجھوکہ وہی ہے پس ان میں سے ابوعامراشعری ابوغرہ خولانی ظبیان عثمان بن قیس غرقہ دوسی اورلاحق بن علاقہ نے کھڑے ہوکر تمام صفوں پر نگاہ دوڑائی اخر کار حضرت امیرالمومنین علیہ السلام پر ان کی نظر انتخاب نے قرار پکڑا پس جناب رسالتماب نے ان کی تصدیق وتائید فرمائی اوران کو نہایت وقیع لفظوں میں خراج تحسین پیش کیا پھر فرمایا کہ تم نے اس کو کس طرح پہچان لیا ہے عرض کرنے لگے حضوور ہم نے جب تمام صفوں کو چھانٹاتو ہماری نظریں سوائے علی ابن ابیطالب کے کسی پر مطمئن نہ ہوئیں لیکن اس کو دیکھتے ہی انکھیں سیر ہوگئیں دل ٹھنڈ ا ہوگیا اورطبیعت میں سکون واطمینان اگیا پس ہم یہ سمجھے یہ وہی ہوگا پھر اپ نے ان کو دعادی اورشہادت کی بشارت دی اورجنت کامژدہ سنایا چنانچہ ایساہی ہوا اوریہ لوگ حضرت امیراعلیہ السلام کے ہمرکاب ہو کرجنگ صفین میں شہید ہو کر داخل جنت ہوئے

۲ حضرت علی ابن الحسین سے مروی ہے کہ ایک دن حضرت رسالتماب اپنے صحابہ کے ساتھ مسجد میں رونق افروزتھے اپ نے فرمایا ابھی یہاں ایک شخص ائے گا جواہل جنت سے ہوگا اورکام کی بات پوچھے گا پس فوراہی ایک لمبی قد والا جوان جواہل مصر سے مشابہت رکھتا تھا داخل مسجد ہوا جناب رسالتماب پر سلام کرے کے بیٹھ گیا پھر پڑھ کر عرض کرنے لگا حضور فرمائیے حبل اللہ سے کون مراد ہے اپ نے تھوڑی دیر خاموشی سے سرجھکا کر بلند کیا اورعلی کی طرف اشارہ کرکے فرمایاکہ یہ وہی ہے جس نے اس کے ساتھ تمسک پکڑا وہدنیاواخرت میں گمراہی سے محفوظ رہا پس اس شکس نے فورا اٹھ کر حضرت علی کو گلے لگایا اوراعتصمت بحبل اللہ یعنی میں حبل اللہ سے تمسک رکھتا ہوں کہتے ہوئے چلا گیا ایک شخص نیاٹھ کرعرض کی یارسول اللہ اگر اجازت ہوتو میں اس سے بخشش کی دعا کاسوال کروں اپ نے اجازت دی پس وہ باہر اکر اس سے ملا اورطلب بخشش کی اپنے لئے خواہش ظاہرکی اس نے جواب دیاکہ جناب رسالتماب کے ساتھ میرا سوال وجواب تو نے سن لیا ہے یانہیں اس نے کہاہاں سناہے پس اس نے جواب دیا کہاگر تو اسی شخص سے تمسک پکڑے گا (یعنی علی سے ) تو تیرے لئے خدا کی بخشش ہے ورنہ نہیں

۳ بروایت امالی شیخ امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ لتسئلن یومئذ عن النعیم سے مراد ہم ہیں الخ میں حبل اللہ سے مراد بھی ہم ہیں

۴ جناب رسالتماب نے مرض موت میں مہاجروانصار کے مجمع میں ایک خطبہ پڑھتے ہوئے ارشادفرمایا کہ اے گروہ مہاجر وانصاراورجملہ حاضرین جواس جگہ موجود ہیں خواہجن ہوں یانسان ان کا فرض ہے کہ غیر موجود لوگوں تک میری بات پہنچا دیں اوروہ یہ کہ میں تم میں اللہ کی کتاب چھوڑے جارہاہوں جس مٰں نور وہدایت اورفرائض خداوندی کا بیان ہے وہ اللہ کی طرف سے اورمیری اورمیرے ولی کیطرف سے تم پر حجت ہے اورمیں تم میں علم اکبر علم دین اورنور وشمع ہدایت علی بن ابیطالب کو چھوڑے جارہا ہوں اوریہ ہے حبل اللہ اس کے بعد کی آیت تاخر تلاوت فرمائی اورفرمایا اے لوگو جو شخص علی سے محبت وتولی رکھے گا اس نے اللہ کے عہد کو پورا کیا ورجس نے اس کے ساتھ بغض وعداوت کو برتاتو وہ بروزمحشر اندھا وبہرہ محشور ہوگا اوراس کی کوئی شنید نہ ہوگی

۵ عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ ہم خدمت نبوی میں موجود تھے کہ ایک عرابی نے پوچھا حضور اپ فرماتے ہیں الخ ہمیں بتائیے تو سہی وہکون حبل اللہ ہے جس سے ہم کو تمسک کا حکم دیا جارہاہے تو اپ نے اپنادست مبارک علی کے ہاتھ پر رکھ کرفرمایااس کے ساتھ تمسک پکڑو کیونکہ یہی حبل اللہ ہے

۶ بروایت عیاشی امام موسی کاظم علیہ السلام سے مروی ہے کہ حضرت علی ابن ابیطالب حبل اللہ ہیں

۷ جابر نے امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی کہ ال محمد ہی حبل اللہ ہیں جس سے تمسک کا حکم ہے

نیز حدیث ثقلین جوفریقین میں تواتر سے ثابت ہے بلکہ علمائے حدیث سے مروی ہے کہ یہ حدیث جناب رسالتماب سے پینتیس صحابہ نے روایت کی ہے اوراس کے بعض حوالہ جات بمعہ اصل عبارات مقدمہ تفسیر انوارالنجف ص۹۰تا۹۴ میں ہم نے نقل کردئیے ہیں لہذا یہاں اعادہ کی ضروت نہیں

تفرقہ امت

حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے مروی ہے کہ جناب رسالتماب نے فرمایا حضرت موسی کی امتکے اکہتر فرقے ہوئے جن میں سے ایک ناجی اورستر ناری تھے اورحضرت عیسی کی امت کے بہتر فرقے ہوئے جن میں سے ایک ناجیاوراکہتر ناری تھے وان امتی ستفترق بعدی علی ثلث وسبعین فرقۃ فرقۃ منھاناجیۃ واتنتان وسبعون فی النار اورمیری امت کے تہتر فرقے ہوں گے ان میں سے صرف ایک فرقہ ناجی ہوگا اوربہتر ناری ہوں گے اسی روایت کوترمذی ابن ماجہ ابوداود اورحاکم وغیرہ نے نقل کیا ہے گوالفاظ جداجدا ہیں لیکن مطلب ایک ہے (میزان

حضرت موسی علیہ السلام کیامت کے اکہتر فرقوں میں سے ایک ناجی تھا اوروہ یقینا وہی تھا جو حضرت موسیٰ کے بعد حضرت موسی کے وصی حضرت یوشع کی پیروی میں رہا اورجوان سے انحراف کرکے اپنی خواہشات کی طرف دوڑ کر الگ ہوگئے وہ ناری ہوگئے اورحضرت عیسی کے نامزد وصی حضرت شمعون کا پیروکار رہاپس جہنوں نے ان سے علیحدگی اختیار کرکے نئی جماعتوں کی تشکیل کی وہ گمراہ ہو کرناری ہوگئے اسی طرح حضرت رسالتماب کی امت کے تہتر فرقوں صے بھی ناجی فرقہ صرف وہی ہوسکتا ہے جو حضرت رسالتماب کے بعد ان کے نامزد وصی حضرت علی بن ابی طالب کاپیروکار رہے گا اورقران مجید نے تفریق کی تردید کرکے صرف حبل للہ سے تمسک پکڑنے کاحک دیا ہے جس کامصداق ازرئے احادیث صرف حضرت علی بن ابی طالب ہی ہے اوران کے بعد ان کی عترت طاہرہ ہے اوران کے بعد ان کی عترت طاہرہ ہے اورنیز حدیث ثقلین کے غیر مبہم الفاظ بھی اسی امر کی تائید کرتے ہیں پس یقینا امت محمد یہ کے تہتر فرقوں میں سے ناجی فرقہ صرف وہی ہے جوحضرت علی کا پیروکار ہواوراس کے علاوہ جس قدر فرقے ہونگے ازروئے قران وحدیث وہ قطعا ناجی نہیں ہوسکتے ہم تفسیر انوارالنجف جلددوم ص۱۹۶ تا۲۰۱ اس کی مزید وضاحت کرچکے ہیں )

ایک تبصرہ شائع کریں