Embark on a journey of enlightenment with our curated collection of Hadees in Urdu. Uncover the deep meanings and profound wisdom encapsulated in the sayings of Prophet Muhammad (PBUH). This treasure trove of knowledge serves as a guiding light for life, offering valuable insights and lessons for spiritual growth.
لایؤدی عنی الاانا اورجل منی
اس روایت کو تیرہ معتبر اکابر صحابہ نے روایت کیاہے۔ 1 حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام، 2 حضرت ابوبکر ، 3 ابن عباس ، 1 انس بن مالک، 2 ابوسعید خدری ، 3 ابورافع ، 4 سعد بن ابی وقاص ، 5 ابوہریرہ ، 6 عبداللہ بن عمر ، 7 حبشی بن جنادہ ، 8 عمران بن حصین ، 9 ابوذرغفاری ، 10 جابر بن عبداللہ اور جن کتب معتبرہ میں یہ روایت موجود ہے وہ یہ ہیں
درمنثور ج3 - ص 209 کنزالعمال جلد 1 – ص 247؛246 مسند احمد ج 1 - ص 151تفسیر شوکانی ج2ص 193- تاریخ ابن کثیر ج5ص38 وج7 ص 357 - حسینی شرح بخاری ج 8ص637 - خصائص نسائی ص 2 -کفایتہ کنجی ص125 – جامع ترمزی ج2 ص 135- سنن بہیقی ج9ص224- قسطلانی شرح صحیح بخاری ج7136 - فتح الباری ، ج8ص256- عینی ج 8 ص637 - اور روح المعانی
اس حدیث کی اہمیت تو اس امر سے خوب واضح ہے کہ یا اسکو رسولؐ خود پہنچائے یاوہ آدمی پہنچائے جو رسول سے ہو ابوبکر کو راستہ سے واپس بلانا اور حضرت علیؑ کو نامزد کرکے بھیجنا اس امر کو خوب واضھ کرتاہے کہ نیابت رسولؐ کا عہدہ سوائے علیؑ کے اور کوئی نہیں سنبھال سکتا کیونکہ جب صرف دس آیتوں کیلئے ایک شخص شہر والوں کا مبلغ نہیں قرار دیاجاسکتا تو پورے قارا-ن کا مبلغ پورے عالم کے لئے کیسے بن سکتاہے ؟ پس یہ حدیث شریف حضرت علیؑ کی خلافت پر نص قاطع ہے اس کے متعلق لمبی چوڑی بحث سوالات وجوابات کےساتھ ہم نے تفسیر انوار النجف کی ساتویں جلد میں کی ہے وہاں ملاحظہ فرمایئے۔
یہ حدیث کتب صحاح مثلا بخاری ومسلم ومسند احمد بن حنبل سے نقل کی جاتی ہے کہ حضورؐ نے فرمایا ۔
اماترضیٰ ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ الاانہ لانبی بعدی
اے علیؑ کیاتو راضی نہیں کہ تیری مثال مجھ سے وہ ہے جو ہارونؑ کو موسیٰ سے تھی مگر فرق صرف اتنا ہے کہ میرے بعد نبی کوئی نہیں ہوگا یعنی جس طرح ہارون حضرت موسیٰ ؑ کی تمام امت سے افضل تھا اسی طرح حضرت حضرت علیؑ جناب رسالتمآبؐ کی تمام امت سے افضل تھے جس طرح وہ حضرت موسیٰ کے خلیفہ تھے اسی طرح حضرت علیؑ بھی جناب رسالتمآبؐ کے خلیفہ تھے پس روایت کی دلالت خلافت بلا فصل پر روز روشن کی طرح واضح ہے۔
برزالایمان کلہ الی الکفرکلہ
سارے کا سارا ایمان سارے کے سارے کفر کے مقابلہ میں جارہا ہے اور تمام مورخین نے حضرت رسالتماآبؐ کا علیؑ کے حق میں یہ فرمان نقل کیاہے جبکہ آپ جنگ خندق میں عمروابنعبدود کے مقابلہ کو روانہ ہوئے اور جب علیؑ کل ایمان ثابت ہوئے تو خلافت پر اسکی دلالت اظہر من الشمس ہے کیونکہ خدائی عہدہ کی تقسیم ایمان کے تابع ہے اور علیؑ ایمانکل ہے لہذا تمام صحابہ سے اس کی افضلیت عیاں ہے جنگ خندق کی تفصیل تفسیر انوار النجف جلد گیارہ(11)
لایحبک الا مومن ولا یبغضک الا منافق
یہ حدیث ترمذی شریف اور مسند احمد بن حنبل میں مزکور ہے ابن حجر مکی نے صواعق مھرقاہ میں بھی اسی مضؐون کی احادیث نقال کی ہے بلکہ یہ حدیث معنوی طور پر اپنے اندر تواتر کا درجہ رکھتی ہے بنابریں صحابہ کرام سے حضرت علیؑ کی فضیلت ثابت ہوئی کیونکہ صحابہ سب مومن تھے تو ایمان کی شرائط میں سے ایک شرط محبت علیؑ تھی لہذا علیؑ کی محبت انکےلئے جزوایمان تھی لیکن علیؑ پر کسی صحابیکی محبت جزوایمان ہونے کی حیثیت سے فرض نہ تھی پس جب علیؑ افضل ثابت ہوئے تو خلافت بھی ثابتہوگئی کیونکہ افضل کی موجود گی میں مفضول کو مقدم کرنا انتہائی ناانصافی ہے۔ مسند احمد بن حنبل اور کتب معتبرہ میں مزکور ہے کہ ایک دفعہ جناب رسالتمآبؐ کے پاس پرندے کا بھونا ہوا گوشت آیا تو آپنے یہ دعامانگی ۔
اللھم اتنی باحب الناس الیک یاکل معنی فجاء فاکل معہ
اے اللہ میرے پاس اپنا محبوب ترین آدمی بھیج جو میرے ساتھ کھانا کھائے پس دعاقبول ہوئی اور حضرت علیؑ آگئے تو آپ نے انکےساتھ مل کر کھایا یہ حدیث تواتر کا درجہ رکھتی ہے اور اس حدیث سے ثابت ہواکہ حضرت علیؑ خداکا محبوب ترین بندہ تھا پس افضلیت اور خلافت ثابت ہوگئی۔
الحق مع علی وعلی مع الحق لن یفتر قا
حق علیؑ کےساتھ ہے اور علیؑ حق کےساتھ ہے اور یہ دونو آپس میں جدا نہ ہوں گے اس روایت کے الفاظ مختلف ہیں حدیث تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہے بلحاظ معنی کے اور التزامی طور پر اس کی خلافت پر دلالت ظاہر ہے۔
انامدینۃ العلم وعلی بابھا
میں علم کا شہرہو ں اور علیؑ اسکاکدروازہ ہے حدیث مشہور ومعروف ہے پس جب حضرت علیؑ علم میں تمام صحابہ کرام سے افضل وبرترتھے بلکہ سب کا ملجاوماوی تھے جسکی تصدیق حضرت عمر نے لولا علی لھلک عمر کے فقرہ سے کردی تو اس سے بڑھ کر خلافت کی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے کیونکہ مسند نبوت پر تمکن علمی مرتبہ کے لحاظ سے ہونا قرین عقل ہے احادیث مزکورہ کے حوالہ جات گزر چکے ہیں۔
یہ حدیث کتب صحاح میں موجود ہے اور حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہے اس حدیث کے موضوع پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی جاچکی ہیں چنانچہ مولانا سید حامد حسین قبلہ لکھنوی اعلیٰ اللہ مقامہ نے عبقات الانوار کی ایک ضخیم جلد میں صرف حدیث ثقلین ہی کو موضوع بحث قرار دیا مسند احمد تفسیر ثعلبی صحیح مسلم وغیرہ سب کتب میں یہ حدیث موجود ہے اگر چہ روایات کے الفاظ مختلف ہیں لیکن اس مفہوم میں سب شریق ہیں کہ حضور نےفرمایا تھا
انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ وعتراتی اھلبیتی ماان تمسکتم بھما لن تضلوابعدی
میں تم میں دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت جب تک تم ان دونو سے تمسک کئے رہو گے ہرگز ھرگز میرے بعد گمراہ نہ ہوگے یہ حدیث تمام صحابہ کرام کو حضرت علیؑ اور باقی اہل بیتؑ سے تمسک کرنے کی وصیت ہے اور ہم ثابت کرچکے ہیں کہ اہل بیت سے مراد حضرت علیؑ وفاطمہؑ وحسنؑ وحسینؑ ہی ہیں جیسے آیت تطہیر کے بیان میں مختصرا گزر چکاہے پس انکو قرآن کا قرین بنانا ان کی خلات پر نص ہے ایک حدیث میں
علی مع القرآن والقرآن مع علی
فرمایا چنانچہ یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے پس حدیث کی دلالت خلافت پر عیاں راچہ بیان کی مصداق ہے۔ سیوطی سے لئالی میں حاکم سے منقول ہے کہ حضورؐ نے حضرت علیؑ کے حق میں فرمایا
من اراد ان ینظر الی اٰدم فی علمہ ونوح فی فھمۃ وابراہیم فی علمہ ویحیٰ فی زھدہ وموسیٰ فی بطشہ فلینظر الی علی
جو شخص آدمؑ کو علم میں نوحؑ کوفہم میں ابراہیمؑ کو حلم میں یحیٰ کو زہد میں اور موسیٰؑ کو اپنی قوت میں دیکھناچاہے تو علیؑ کو دیکھے یہ حدیث بھی مختلف کتب میں مختلف الفاظ سے مروی ہے جسکا مقصد یہ ہے کہ علیؑ جامع کمالات انبیاء ہے پس علیؑ انبیاء سابقین سے افضل ہیں جن میں ایک ایک کمال تھا کیونکہ علیؑ میں ان سب کے کمالات موجود تھے پس حضورؑ رسالتمآب کے بعد انکے صحیح قائمقام وخلیفہ یہی ہوں گے۔
بروایت ینابیع المودۃ ابن مسعود سے مروی ہے کہ حضورؐ رسالتمآبؐ ارشاد فرماتے ہیں معراج پر جاتے ہوئے جب میں چوتھے آسمان پر پہنچا تو یاقوت احمرکا ایک مکان دیکھاجبرئیل نے بتایاکہ یہ البیت المعمور ہے اور وہاں مجھے نمازکے لئے کہاگیاتو تمام نبیوں کو خدانے جمع کیا اورانہوں نے میرے پیچھے صف باندھ لی چنانچہ میں نے انکو دورکعت نماز پڑھائی جب سلام پڑھ چکا تو اللہ کی جانب ایک قاصد آیا کہ اے محمدؐ خدا سلام کے بعد فرماتاہے
سل الرسل علی مارسلتھم من قبلک فقلت معاشرالرسل علی مابعثکم ربکم قبلی فقالت الرسول علی نبوتک وولایتہ علی بن ابی طالب
ان رسولوں سے پوچھئے کہ تجھ سے پہلے یہ کیوں رسول بناکر بھیجے گئے ہیں تو میں نے پوچھا اے گروہ رسل تمہارے رب نے تم کو مجھ سے پہلے کیوں کوبھیجا تھا توکہنے لگے کہ تیری نبوت پر اور علیؑ بن ابی طالب کی ولایت پر نیز سورہ زخرف میں آیہ مجیدہ
واسئل من ارسلنا من قبلک
میں جہاں حکم ہے کہ اے رسول اپنے سے گزشتہ انبیاء سے پوچھو اس آیت مجیدہ کی تاویل میں کافی عرصہ تک لوگ سرگرداں رہے کہ جن سے پوچھنے کا حکم ہے وہ موجود نہیں تو حکم یوں دیا گیاہے اور اگر پوچھنا ممکن ہے تو کیسے ؟ چنانچہ یہ سوال ایک مرتبہ امام م محمد باقر علیہ السلام سےہوا اور امام جعفر صادق سے بھی ہوا جیساکہ بحارالانوار ج 4 میں موجود ہے اور آئمہ نے یہی جواب دیاکہ یہ آیت زمین پر نہیں اتری بلکہ شب معراج البیت المعمور پر یہ اۤیت اتری ہے اور فخرالدین رازی نے بھی اس بات کو تسلیم کیاہے اور روایت غالبا ابن عباس سے نقل کی ہے کہ شب معراج البیت المعمور پر یہ اۤیت اتری جب سب انبیاء سامنے موجود تھے تو حضورؐ نے انبیاء سے اس لئے نہ پوچھا کہ انہیں ان کا جواب معلوم تھا پس بات راز پوشیدہ رہ گئی لیکن اۤئمہ اہل بیتؑ سے صاف طور پر مروی ہے چنانچہ تفسیر برہان میں بھی موجود ہے کہ حضورؐ نے سب انبیاء سےدریافت فرمایاکہ تم کس چیز پر مبعوث ہوئے ہو تو سب نے یہی جواب دیاکہ ہم تین اقراروں پر مبعوث ہوئے ہیں اللہ کی توحید تیری نبوت اور علی ابن ابی طالب کی ولایت اور تفاسیر اہل سنت میں تفسیر نیشاپوری سے بھی اسی طرح منقول ہے پس اس روایت سے حضرت علیؑ کی فضلیت عیاں ہے کہ انبیاء کی بعثت حضرت علیؑ کی ولایت کے اقرار پر ہوئی اور کتاب ینابیع المودۃ ملا سلیمان حنفی نقشبندی میں بھی صاف موجود ہے۔
لم یبعث نبی قط الا بولاء علی بن ابی طالب
کہ کوئی نبی مبعوث نہ ہوا مگر ساتھ ولایت علیؑ بن ابی طالب کے اور یہ شرف صحابہ میں سے کسی کو حاصل نہیں ہوالہذا خلافت نبوی کا ان کے علاوہ کوئ بھی حقدر نہیں ہے ۔