خداوند کریم نے انسان کو اپنے لطف و کرم سے تخریب و تعمیر کی دونو قوتیں عطا فرماکر اس کی خود مختار فرما دیا اور عقل ایسی عظیم دولت دیکر اس کو غیر و شر میں تمیز کی صلاحیت تفویض فرمانے کے بعد اسے اعمال صالحہ کی بجا آوری کی طرف مدعو فرمایا اور اسی سلسلہ میں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اور ان کے اوصیاء نامزد کر کے بھیجے تاکہ وہ انسان کی رہنمائی کر کے اس کو صرف مادی حیثیت تک محدود رہنے کے بجائے روحانی ارتقائی منازل کی نشاندہی کریں جنکو طے کر کے انسان ملکوتیت کے سامنے اپنی برتری کے گن گا سکتا ہے چنانچہ جب فرشتوں نے متضاد عناصر سے پیدا ہونے والی مخلوق کے متعلق اپنا نظریہ یہ بیان کیا تھا کہ یہ فسادی ہو گا اور خونریزی کرے گا تو خدائے قدوس نے ان پر اس کی علمی و عقلی بہتری کو واضح کر کے ان کو اپنے الفاظ واپس لینے پر مجبور کیا تھا ہم نے قرآن مجید کی اؤل سے آخر تک تفسیر آئمہ طاہرین علیہم السلام کے اقوال کی روشنی میں کی ہے اور اس کی چودہ جلدیں منظرِ عام پر آچکی ہیں اس کے مطالعہ سے روحانی منازل کے طے کرنے کا سراغ ملتا ہے پس انسان جب رُوح کی اصلاح کر لے تو مادی مسائل کا خودبخود علاج ہو جاتا ہے اور مادی مسائل کا سوائے روحانی وسائل کوئی حل تلاش کرنا فضول ہے پس اگر دنیا کا انسان امن و اطمینان چاہتا ہے تو اسلام کے امن سے وابستہ ہو کر محمد و آلِ محمد علیہم السلام کی ہدایت کو مشعل راہ قرار دے کر آگے بڑھے اور حضرت قائم آلِ محمد علیہ السلام کا دور ہی صحیح معنوں میں انسان کے لئے امن و امان کا دور ہو گا۔ اَللٰھُمٔ عجل مرجہ۔

Leave a Reply