anwarulnajaf.com

تفسیر میں موجود ” م ” سے شروع ہونے والے موضوعات | تفسیر انوار النجف جلد 15 | tafseer anwar ul najaf jild 15 | shia books online

مار یہ قبطیہ ؑ : جس زما نہ میں حضرت جعفر
طیار ؑ حبشہ میں تھے تو ان کا لڑکا وہیں پیدا ہو اتھااور حبشہ کے باد شاہ نے ماریہ
قبطیہؑ کو حضرت پےغمبر کےلئے بھیجا جو کہ آپ کے فرزند ابراہیم ؑ کی والدہ تھیں
(ج۵ص۰۶۱)

٭      تفا سیر اہل بیت ؑ میں آیت افک میں جناب مار
یہ قبطیہؑ کی پا کیزگی کا ذکر ہے کیو نکہ بعض لو گوں نے اس کی پا کدا منی پر شک
کیا تھا کہ اس کے اپنے غلا م کے سا تھ نا جا ئز تعلقات ہیں پس حضرت علی ؑ کو حضرت
پےغمبر نے تحقیق پر ما مو ر فر ما یا تو آپ ؑ کی تحقیق کے مطابق پاکدامن ثابت
ہوئیں کیونکہ وہ غلا م خصی تھا (ج۰۱ص۱۲۱)

٭      نبی اکرم کی زو جا ت میں ما ریہ قبطیہؑ مال
غنیمت میں سے تھیں اور مملوکہ تھیں (ج۱۱ص۵۰۲)

٭      ”اِنْ جَائَ کُمْ فَاسِقٌ “ روایت کے ما تحت
ماریہ قبطیہؑ کی پا کدا منی کےلئے نازل ہو ئی (ج۳۱ص۶۹)

٭      حضرت مار یہ قبطیہؑ سے عا ئشہ و حفصہ کا
حسد (ج۴۱ص۰۶)

مالک اشتر: حضرت مالک اشتر کا کردار (ج ۰۱ص
۵۲۱)

٭      اصحاب کہف حضرت یوشعؑ بن نون مومن آ ل فرعون
جناب سلمان ؑ ابو دجانہ انصار ی مالک اشتر حضرت قائم آل محمد کے ہمراہ ہونگے
(ج۶ص۷۰۱-ج۹ص۴۹)

مارج: مارج اسکے معنی کی تفصیل (ج۹ص۰۸۱)

 مر ج البحرین: (ج۳۱ص۱۸۱و ج۰۱ ص۲۸۱)

مبارات: مبا رات کے احکا م (ج۳ص۹۶وص۰۷)

مبا ہلہ: (ج۳ ص۸۴۲تا ص۷۵۲)

٭      ایک روایت میں ہے کہ حضرت امیر المو منین ؑ
کا حا لت رکوع میں انگو ٹھی دےنے کا و اقعہ ۴۲ذوالحجہ کے دن تھا جس دن مبا ہلہ ہوا
(ج۵ص۴۳۱)

متعہ: عورت کے سا تھ متعہ کر نے کا
ثبوت(ج۴ص۰۶۱)

مثل: (ج۲ص۴۷-ج۸ ص۱۲۲،۸۲۲،۹۲۲ – ج۱۱ ص۹۰۱)

مجو سی: ماں بہن سے نکا ح کرنا جا ئز سمجھتے
ہیں(ج۲ص۵۵)

٭      مجو سیوں کا دستور تھا کہ ذبح شدہ کو نہیں
کھا تے تھے بلکہ اس کا گلہ دبا کر مار دےتے پھر اس کا گشت کھا تے تھے (ج۵ ص۹۱)

٭      قوم یہود کو سر کشی کی سزا ایک دفعہ بخت نصر
کے ذریعے، پھر فطرس نا می رومی با دشاہ کے ذریعے اور پھر تیسری دفعہ مجو سیوں کے
ذریعہ سے دی گئی(ج۵ص۸۳۱)

٭      ایک قول یہ بھی ہے کہ دقیا نوس با دشاہ جس
کے ڈر سے اصحاب کہف بھا گ آئے تھے وہ مجو سی تھا (ج۹ ص۳۸) اس کا شہر طر سوس کے گر
د و نوح میں تھا جس کا نام افسوس لکھا ہے اور اس میں مجو سیوں کی کثرت تھی (ج۹ص۰۹)

٭      مجوسی بھی اہل کتاب کہلا تے ہیں لیکن ان کے
متعلق تحقیق نہیں ہو سکی (ج۰۱ص۵۱)

مجلس:         مجلس
صحابہ کا دستور تھا کہ حضرت نبی اکر م کے پاس بیٹھنا پسند کر تے تھے چنا نچہ جب
کسی اور کو آتا دیکھتے توزیادہ پھیل کر زیا دہ بیٹھ جا تے تا کہ آنے والے کی جگہ
نہ بچے، خدا وند کر یم نے ایسا کر نے وا لوں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ نئے آنے والوں
کو جگہ دے دیا کر و تا کہ وہ فیض سے محروم نہ رہیں(۹ص۷۳۲)

٭      عمو ما ً مجا لس میں یہ نقص پا یا جا تا ہے
کہ کہ نیا آنے والا پہلے بیٹھے ہو ئے لو گو ں میں مشکل سے جگہ پیدا کرتا ہے کیو
نکہ وہ زیادہ سے زیا دہ پھیل جا تے ہیں پس ایسے لو گوں کوقرآن کے کا فر ما ن سے در
س لیا چاہیے۔

مجسمہ سازی: (ج۱۱ص۱۳۲)

 مجرم: (ج۰۱ص۳۰۲-ج۱۱ص۵۵،۸۴۱)

مچھلی: قوم یہود پر مچھلی کے شکار کی حرمت
اور ان کی حیلہ سازی (ج۲ص۹۱۱ -ج۶ص۸۰۱)

٭      چونکہ بروز ہفتہ ان پرشکار ممنوع تھا پس وہ
مچھلیوں کو پھنسانے کےلئے تالاب بنا لیتے تھے جب مچھلیاں ان میں داخل ہوتیںتو ان
کی واپسی کا راستہ بند کر لیتے اور ہفتہ کے گزرنے کے بعد ان کو پکڑ لیتے تھے، جب
یہودیوں نے حضرت پیغمبر پر تحویل قبلہ کے وقت اعتراض کیا کہ اگر بیت المقدس کی طرف
منہ کرنا غلط تھا تو اب تک تم نے اس کو قبلہ کیوں بنائے رکھا؟ صحیح تھا تو اب اس
سے انحراف کیونکر جائز ہے؟ پس آپ نے ان کو یہ جواب دیا کہ تم لوگوں پر ہفتہ کے دن
شکار ممنوع تھا اگر یہ شکار حرام ہے تو باقی دنوں میں جائز کیوں ہے؟ اور اگر جائز
ہے تو ہفتہ کے دن حرام کیوں ہے؟ پس لا جواب ہو گئے۔

٭      مچھلی وہی حلال ہے جس پر چھلکا ہو (ج۵ص۰۵)   

٭      حضرت عیسیٰؑ کی دعا سے جو مائدہ آسمان سے
اترا تھا اس میں نوپکی ہوئی مچھلیاں تھیں (ج۵ص۲۸۱)

٭      بنی اسرائیل میں سے بعض لوگ نافرمانیوں کی
بدولت بے چھلکا مچھلی کی شکل میں مسخ ہوئے (ج۵ص۴۸۱)

٭      حضرت یونس ؑ کا مچھلی کے شکم میں چلے جانا
(ج۷ص۳۸۱)

٭      حضرت یونس ؑ زیادہ سے زیادہ چالیس دن مچھلی
کے شکم میں رہے (ج۲۱ ص۲۷،۴۷)

٭      حضرت موسیٰؑ بھونی ہوئی مچھلی کو ساتھ لے کر
حضرت خضر ؑ کی تلاش میں نکلے تھے پس آب حیات کے کنارے بیٹھ کر جب وضو کیا تو چند
پانی کے قطرات پڑنے سے وہ مچھلی زندہ ہوکر پانی میں کود گئی (ج۹ص۷۰۱)

٭      حضرت خضر ؑ نے بھی ایک مچھلی کے ذریعہ سے
چشمہ آب حیات تلاش کیا تھا کیونکہ وہ زندہ ہو کر اس میں کود گئی اور حضرت خضر ؑ نے
اس کو ڈھونڈتے ہوئے اسی چشمہ کا پانی پی لیا اور اسکندر ذوالقرنین کو واقعہ کی
اطلاع دی لیکن اسکندر کو وہ چشمہ نہ مل سکا (ج۹ص۲۲۱)

٭      ایک دن حضرت سلیمان ؑ نے ایک مچھلی کو دعوت
پر بلایا چنانچہ ایک پہاڑ برابر غلہ کا انتظام کیا لیکن مچھلی نے اس سارے غلہ کو
ایک نوالے میں ہڑپ کر لیا (ج۰۱ص۹۴۱)

٭      حضرت سلیمان ؑ نے جو ملکہ بلقیس کے لئے محل
تیار کرایا تھا اس کے سامنے ایک تالابنوایا جس پر آئینہ کاری کی گئی اور اس میں
مختلف اقسام کی مچھلیاں چھوڑی گئی (ج۰۱ص۱۵۲)

٭      نٓ وَالْقَلَمْ کی تفسیر میں ایک یہ بھی ہے
کہ نون ایک مچھلی کا نام ہے جس کی پشت پر یہ زمین بچھی ہوئی ہے (ج۴۱ص۲۸) بعض
مفسرین نے کہا ہے کہ نون ہر مچھلی کو کہا جاتا ہے اور حضرت یونس ؑ کا لقب ذوالنون
اسی لئے ہے کہ وہ مچھلی کے پیٹ میں رہے (ج۴۱ص۳۸)

محبت: دو آدمیوں سے رائی برابر محبت رکھنے
والا ہرگز داخل جنت نہ ہوگا (ج۳ص۲۸۱)

٭      حضرت یوسف ؑ نے فرمایا میرے ساتھ جس جس نے
محبت کی اس نے مجھے مصیبت میں ڈالا پھوپھی یا خالہ نے محبت کی تو میری طرف چوری کی
نسبت دی گئی، باپ نے محبت کی تو کنوئیں میں ڈالا گیا اور زلیخا نے محبت کی تو قید
کی کوٹھڑی نصیب ہوئی (ج۸ص۸۳)

٭      اللہ سے محبت کرنی ہے تو محمد و آل محمد کی
اطاعت کرو (ج۳ص۲۱۲،۷۱۱)

٭      قرآن کی محبت اور آل محمد کی محبت لازم و
ملزوم ہیں (مقدمہ تفسیر ص۹۲۱)

٭      اطاعت ِ خدا محمد و آل محمد کی اطاعت ہے
(ج۲ص۰۷۱-ج۲۱ص۷۰۲)

٭      محبت کا دعویٰ بغیر عمل فضول ہے (ج۶ص۸۳،۲۷۱)

٭      محبت کا کرشمہ، ابو مظفر واعظ کا قصہ
(ج۵ص۷۸)

٭      محب اور شیعہ میں فرق (ج۲۱ص۳۴،۰۵)

٭      مومن کی مومن سے محبت (ج۵ص۹۱۱)

محکم و متشابہ: قرآن کے محکمات و متشا بہات
کا علم حضرت علی ؑ کے پاس تھا (ج۱ ص۴۸)

اقول: اللہ نے قرآن مجید میں محکمات کے ساتھ
متشابہات رکھ کر قیامت تک امت مسلمہ کو رَاسِخُوْنَ فِی الْعِلْم کا محتاج کر دیا
ہے تاکہ کبھی بھی کوئی حَسْبُنَا کِتَابَ اللّٰہ کا دعویٰ نہ کر سکے اور اسی مضمون
کی روایت معصوم سے بھی منقول ہے۔

٭      محکمات و متشابہات کا مفصل بیان
(ج۳ص۱۹۱،۹۹۱)

٭      قرآن مجید کی آیات محکم ہیں (ج
۷ص۱۸۱-ج۳۱ص۹۴)

٭      قرآن مجید کتاب متشابہ ہے (ج۲۱ ص۹۱۱)

محراب: لفظی تشریح (ج۳ص۳۲۲)

٭      جائے نماز کو محراب کہنے کی وجہ یہ ہے کہ
محراب حرب سے ہے اور اس کا معنی ہے جنگ، چونکہ جائے نماز شیطان سے جنگ کرنے کا
مقام ہے اس لئے اس کو محراب کہا جاتاہے (ج۹ص۰۴۱)

٭      مسجد اقصیٰ کے محرابوں کو بلوری کے پتھروں
سے سجایا گیا تھا (ج۱۱ ص۰۳۲)

محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم:
حروف تہجی میں (الف) کی نسبت اللہ سے جو سب سے اوّل ہے اور (ب)کی نسبت حضرت محمد
مصطفےٰ سے اور (ب)کے نیچے نقطہ کو نسبت حضرت علی ؑ سے ہے (ج۲ ص۶۲)

٭      حضور نے باقی انبیا ء کی طرح کو اپنا وصی
نامزد فرمایا (ج۲ص۰۰۱)

٭      حضور نے فرمایا: اَنَا وَعَلِیّ اَبَوَا
ھٰذِہِ الْاُمَّةِ(ج۲ص۲۳۱)

٭      یہودی لوگ پہلے زمانہ حضرت پیغمبر کی آمد کے
منتظر تھے(ج۲ص۰۴۱)

٭      یہودو نصاریٰ کو پتہ تھا کہ آخری نبی دو
قبلوں کی طرف نماز پڑھے گا(ج۲ص۱۹۱)

٭      حضرت پیغمبرکی گیارہ خصوصیات (ج۴ص۱۲)

٭      جنگ احد میں معجزہ (ج۴ص۸۵)

٭      حضور کا دانت مبارک شہید ہو ا (ج۴ص۶۶)

٭      قیامت کے دن آپ کا مقام (ج۴ص۳۹ -ج۵ص۵۸۱)

٭      آپ کے تعددِ ازواج پر اعتراض اور اس کا
دندان شکن جواب(ج۴ص۵۱۱)

٭      حضور کا ارشا د ہے کہ کسی نبی کو اتنی اذیتیں
نہیں دی گئیں جس قدر مجھے دی گئیں اور حضرت علی ؑ تنہا وہ ذات شریف ہے جو ہر مشکل
مرحلہ پر جان دُکھوں میں ڈال کر حضور کے سا منے سینہ سپر رہے(ج۵ص۸)

٭      اَوَّلُنَا مُحَمَّدٌ وَ آخِرُنَا
مُحَمَّدٌ الخ(ج۵ص۰۸)

٭      حضرت پیغمبر کے لیے دو دفعہ سورج
پلٹا(ج۵ص۶۸)

٭      یہود خیبرنے زانی مرد و عورت کی سزا دریا فت
کی تو آپ نے بحکم خدار جم کا حکم دیا اور ابن صوریا سے مفصل گفتگو (ج۵ ص۸۰۱)

٭      حضور نے فر ما یا کو ئی شخص بھی جنت میںاپنے
اعمال کی بدولت دا خل نہ ہو سکے گا لوگوں نے عر ض کیا یارسول اللہ ! آپ بھی؟ فر ما
یا ہاں جب تک وہ اپنی رحمت ڈھا نپ نہ لے اور جو بھی رنج و غم پہنچتا ہے اس کو
سوائے اللہ کے کوئی دفع نہیں کر سکتا (ج۵ ص۶۹۱)

٭      حضور پا ک کی نبو ت عا لمی و کلی تھی اس لئے
آپ کا قرآن ار تقائے انسانی کے جملہ اصول و قواعد پر حاوی ہے (ج۶ ص۷۸)

٭      آپ نے فر ما یا: اَنَا سَیّد وُلْدِ آدَم
وَلا فَخْر (ج۶ص۶۰۱و ج۳۱ص۸۹۱)

٭      حضرت یو سف ؑ نے زلیخا سے فر ما یا کہ تو
میرے حُسن پر گرویدہ ہے اگر تم خا تم المرسلین حضرت محمد مصطفےٰ کا دیدار کرتی تو
کیسے بر داشت کرتیں؟ کہنے لگی وا قعی وہ آپ سے حسین تر ہیں حضرت یو سف ؑنے پو
چھاتو نے غائبا نہ کیسے تصدیق کر لی؟ تو کہنے لگی ان کا نام نامی سنتے ہی میرے دل
نے تسلیم کر لیا، پس بخت جا گے قسمت نے پلٹا کھا یا جوانی واپس آئی اور وحی
پروردگا رکی بدولت حضرت یوسف ؑنے اس کو اپنے نکا ح میں لے کر حرم سر میں داخل کر
لیا (ج۸ص۲۹،۳۹)

٭      حضو ر کی بد دعا سے اپنے دشمنوں پر عذاب خدا
وندی (ج۸ص۷۱۱)

٭      حضور کی ولا دت کے وقت ظہور معجزات (ج۸ص۲۷۱)

٭      اللہ کی جا نب سے حضور کی نزاہت و برائت کی
توضیح(ج۰۱ص۹۷)

٭      حضور کے معراج جسما نی کے امکان پرسا ئنسی
استدلال (ج۰۱ص۹۴۲)

٭      تو رات میں حضور کی تعریفیں مو جو د تھیں
(ج۱۱ ص۲۴)

٭      حضور نے زندگی میں غربت اور سلطانی کے دونوں
دَور دیکھے (ج۱۱ص۰۶،۸۹-ج۲۱ ص۳۳۲)

٭      حضور نے کسی سے پڑھنا لکھنا نہ سیکھا تھا
ورنہ مشرکین کہہ دیتے کہ یہ پڑھا لکھا آدمی ہے اور سا بقہ کہانیوں کو بنا بنا کر
ہما رے سا منے دہراتا ہے (ج۱۱ص۴۹)

٭      تورات میں حضور کے اوصاف ایک یہودی پا دری
کی زبا نی (ج۱۱ص۸۶۱)

٭      حضور تمام لو گوںکے لئے بشیر و نذیر ہو کر
مبعوث ہو ئے (ج۱۱ص۶۴۲)

٭      آپ نے فر ما یا: اَنَا ابْنُ الذَّبِیْحَیْن
میں دو ذبیحوں کا بیٹا ہو ں(ج۲۱ص۳۶)

٭      حضرت الیا س ؑ سے حضور کی ملاقا ت اور دعوت
(ج۲۱ص۰۷)

٭      حضور کو اللہ نے دولت کی پیش کش کی تو آپ نے
فر مایا میں ایک دن سیر ہو کر کھاﺅں اور ایک دن بھوک سے گزاروں مجھے زیادہ پسند ہے
(ج۲۱ص۴۹)

٭      مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتَاب کی
تشریح (ج۲۱ص۲۲۱)

٭      حضور کی دعا اے اللہ مجھے مسکین زندگی دے
اور مسکین ہو کر مروں اور بروز محشر مسا کین کے زمرہ میں میرا حشر ہو (ج۲۱ص۵۳۲)

٭      اگر اللہ کا کوئی بیٹا ہو تا تو میں پہلا
عبادت گزار ہو ں(ج۲۱ص۲۵۲)

٭      آپ کی سادہ زندگی کا یہ عالم تھا کہ کھجور
کے پتوں سے بھرا ہوا تکیہ سر کے نیچے رکھتے تھے (ج۳۱ص۸۲)

٭      سورہ محمد کے پڑھنے کے فضائل (ج۳۱ ص۹۳)

٭      ایک دفعہ ابن مسعود نے عرض کیا مجھے حق دکھا
ئیے؟ آپ نے فر ما یا اس کمرہ میں دا خل ہو، اس نے دیکھا کہ حضرت علی ؑ حضرت محمدکے
واسطہ سے اپنے شیعوںکی بخشش کی دعا مانگ رہے تھے وہ جب واپس حضرت پےغمبر کو اطلاع
دینے کے لئے نکلا تو حضور اپنی دعا میں حضرت علی ؑ کے واسطہ سے امت کی بخشش کی د
عا مانگ رہے تھے آپ نے فر مایا اے ابن مسعود! اب ایمان کے بعد کفر نہ کرنا، آخرمیں
فر ما یا بروز محشر میں اور حضرت علی ؑ ہر کفا رو عنید کو جہنم میں پھینکیں گے،
کفا ر سے مراد نبو ت کے دشمن اور عنید سے مراد علی ؑ کی ولایت کے دشمن(ج۳۱ص۸۸۱)

٭      حضرت عیسیٰؑ نے پیش گو ئی کی تھی کہ میرے
بعد جو نبی آئے گا اسکا نام احمد ہو گا (ج۴۱ص۸)

٭      انجیل میں حضرت مسیحؑ کی یہ پیش گو ئی بھی
ہے کہ میرے بعد فا رقنبط آئے گا یہ یو نا نی لفظ ہے جس کا معنی محمد بنتا ہے
(ج۶ص۵۰۱)

٭      امام محمدبا قر ؑکا دربا ہشام بن عبدالملک
میں داخلہ اور دلائل امامت سننے کے بعد آپ ؑ کی قید کا حکم آپ ؑ کے حسن اخلاق سے
صرف قیدی نہیں بلکہ تمام اہل شام آپ ؑکے گرویدہ ہو گئے پس ہشام نے رہا کر کے واپس
مدینہ کی طرف روانہ کر دیا، تین روز کے متواتر سفر کے بعد آپ ؑ مدین پہنچے تو لو
گوں نے دروازے بند کر دیئے پس آپ ؑ نے وہ آیت پڑھی جو حضرت شعیب ؑ نے اپنی تبلیغ
میںپڑھی تھی اور آپ ؑ نے فر مایامیں بَقِیَّةُ اللّٰہ ہو ں پس لو گو ں نے دروازہ
کھولا اور آپ ؑ اندر دا خل ہوئے(ج۶ص۸۵،۱۵)

٭      طاﺅوس یمانی سے امام محمد باقرؑ کی گفتگو:
طاﺅو س نے پوچھا وہ کون سا پرندہ ہے جو صرف ایک دفعہ اڑا؟ آپ ؑ نے فرمایا وہ طور
سینا ہے، جو اُڑ کر بنی اسرائیل پر سایہ فگن ہوا تھا جس میں قسم وقسم کے عذابوں کا
منظر تھا (ج۶ص۲۱۱)

٭      وَاسْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا کی تفسیر میں
نافع غلامِ عمر نے ہشام کے کہنے پر دورانِ حج حضرت امام محمدباقرؑ سے سوال کیا کہ
حضرت پیغمبر اور حضرت عیسیٰؑ کے درمیان کس قدر فاصلہ ہے؟ آپ ؑ نے فرمایا تمہارے
عقیدہ کے مطابق پانچ سو برس اور میرے عقیدہ کے مطابق چھ سوبرس، پس فوراً اس نے
اعتراض کیا کہ سابق انبیا ء سے سوال کرنے کا مقصد؟ تو آپ ؑ نے آیت معراج پڑھی اور
فرمایا کہ تمام انبیا ء جمع تھے اور جبرائیل ؑ نے آذان کہی اور حضور نے ان سے سوال
کیا اور انہوں نے جواب دیا اور حضور کی رسالت کی گواہی دی بعد شہادت توحید کے۔

اقول: دوسری روایت میں ہے کہ تو حید اور
نبوت و ولایت کی گواہی سب نے دی جیسا کہ مُلّا سلیمان حنفی قنذوری نے بھی اس کا
ذکر کیا ہے (ج۲۱ص۹۳۲،۰۴۲)

٭      امام محمد تقی علیہ السلام سے معتصم کا چور
کی سزا کے متعلق دریا فت کر نا اور امام ؑ کا قرآن سے صرف ہا تھ کی انگلیوں کے کا
ٹنے کا حکم ثا بت کر نا (ج۱ ص۶۶)

٭      امام محمد تقی علیہ السلام کم سنی میں امام
تھے (ج۹ص۱۴۱-ج۵ص۹۹)

٭      امام محمد تقی علیہ السلام کا یحییٰ بن اکثم
سے مناظرہ(ج۵ص۹۶،۱۷۱)

٭      امام پر سوال کیا گیا کہ آپ ؑ بچپنے میں
کیسے امام بن گئے؟ آپ ؑ نے سلیمان بن داود ؑ کا حوالہ دیا کہ وہ بھی بچپنے میں نبی
ہو ئے تھے (ج۰۱ص۰۳۲)

مدد: آئمہ طا ہرین ؑ سے مدد ما نگتے سے شرک
لا زم نہیں آتا (ج۲ص۱۳)

٭      یا علی ؑ مدد(ج۲ ص۷۳)

٭      اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ رسولوں اور مومنوں کی
مدد فر ما تا ہے (ج۲۱ص۹۵۱)

٭      مومن آل فر عون کی اللہ نے کیسے مدد فر مائی
(ج۲۱ص۶۵۱)

٭      آل محمد بروز محشر شیعوں کی مدد کر یں گے
(ج۲ص۴۰۱)

مدینہ: مدنیہ حرم رسول ہے اس کا پہلا نا م
یثرب تھا۔

مدارس:© مدرسہ با ب النجف جاڑا کی تعمیر کی
ابتداء اور حائل مشکلات (ج۱ ص۷)

٭      دینی مدارس میں قرآنی علوم کی تدریس ضروری ہے
(ج۱ ص۱۲،۲۲)

٭      دینی درس گاہوں میں خرچ کر نا صدقہ جاریہ ہے
(ج۲ص۶۱۲،۷۱۲-ج۵ص۰۶۲)

٭      دور حاضر میں زکوٰة کا بہترین مصرف مدارس
دینیہ ہیں (ج۷ص۶۸)

٭      مدارس دینیہ کی مدد ضروری ہے (ج۶ص۴۹۱)

٭      مدارس دینیہ کا وجود غنیمت ہے (ج۸ص۹۴۲)

مرتد: مرتد کی دو قسمیں ہیں: مرتد ملی ،
مرتد فطری

مرتد ملی: جو کافر والدین کے گھر پیدا ہو
اوربا اختیا رہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہو کر دوبارہ کافر ہو جائے

 مرتد فطری: وہ ہے جو مسلمان والدین کے ہاں پیدا
ہو اور کا فر ہو جائے

٭      اکثر علماء کے نزدیک مرتد فطری کی توبہ قبول
نہیں بلکہ مرتد ہوتے ہی وہ واجب القتل ہو گا، اس کی بیوی اس سے فارغ اور اس کی
جائیدا د تقسیم ہو جائے گی، لیکن بعض علماء کے نزدیک اس کی تو بہ قبول ہے اور
مرتدملی کو تو بہ کی دعوت دی جائے گی اور توبہ نہ کرنے پر وہ واجب قتل ہو گا
(ج۳ص۶۴)

٭      جنگ احد کے بعد جب حضور کی وفات کی خبر
مشہور ہوئی تو بعض صحابہ مرتد ہو کر کفر کی طرف پلٹنے پر آمادہ ہو گئے تھے اور
حضرت پیغمبر کی وفات کے بعد تو بہت سے مرتد ہو گئے (ج۴ص۹۵)

٭      اور حضور کے بعد بہت سے صحابہ کے مرتد ہونے
کی روایت بخاری شریف میں بھی موجود ہے (ج۱ ص۸۴۱ص۹۴۱)

مریم ؑ: حضرت مریم ؑ کی پیدائش و تربیت کا
تفصیلی ذکر(ج۳ص۹۱۲ تا ۳۲۲)

٭      حضرت مریم ؑ کا برگزیدہ ہونا (ج۲ص۸۲۲تا ۷۳۲)

٭      عیسائیوں کا ایک گروہ تین خداﺅں کے قائل ہے
جن کو اقانیم ثلاثہ کہتے ہیں باپ، بیٹا اور روح القدس یا مریم ؑ اس فرقہ کو
ملکائیہ کہا جاتا ہے (ج۵ص۸۴۱)

٭      حضرت جعفر طیار ؑ نے نجاشی بادشاہ کے سامنے
سورہ مریم ؑ کی تلاوت کرکے اس کو مطمئن کیا تھا (ج۵ص۷۵۱)

٭      مسجد براثا حضرت مریم ؑ کی بھی عبادت گاہ ہے
(ج۷ص۶۲)

٭      سورہ مریم ؑ کے فصائل (ج۹ ص ۵۳۱)

٭      حضرت مریمؑ کا حضرت عیسیٰؑ کو جنم دینا (ج۹ص
۲۴۱ تا ۷۴۱)

٭      حضرت مریم ؑاور حضرت عیسیٰؑ بذات خو د ایک
معجزہ تھے (ج۹ ص ۸۴۲)

٭      حضرت مریم ؑ کی طرف حضرت ذکریا ؑ کی زنا کی
نسبت دے کر ابلیس لوگوں کو گمراہ تھا (ج۹ ص۰۵۲)

٭      حضرت علی ؑ کی ولادت کے موقعہ پر جناب فاطمہ
بنت اسد ؑ نے اپنی مریم بنت عمران ؑ پر برتری کا اعلان فرمایا تھاکہ حضرت عیسیٰؑ
کی ولادت کے بعد ان کو خشک کھجور کے پلانے کا حکم ہو ا تھا اور ترو تازہ کھجور سے
ان کی ضیافت کی گئی تھی (ج۰۱ ص۲۵) لیکن میں تین دن متواتر اللہ تعالیٰ کے دستر
خوان پر مہمان ہو کر بہشتی کھانے اور میوہ ہائے جنت کھاتی رہی ہوں۔

٭      مجمع البیان میںہے کہ مصریوں میں سے حضرت
موسیٰؑ کی دعوت پر تین آدمی مسلمان ہوئے:

(۱)
آسیہ زوجہ فرعون (۲)مومن آل فرعون (۳)مریم نامی ایک عورت

٭      حضرت موسیٰؑ کی بہن کا نام مریم بنت عمران ؑ
تھا جو کا لب بن یوحنا کی زوجہ تھیں (لوامع التنزیل ص۸۱۲) (ج۵ص ۵۷)

مر جئہ: حضرت امام جعفر صادقؑ نے مرجئہ فرقہ
پر دو دفعہ لعنت فرمائی اور ارشاد فرمایا یہ وہ فرقہ ہے جو ہمارے قاتلوں کو مومن
سمجھتا ہے پس تا قیامت انکے لباس ہمارے خون سے رنگے رہیں گے (ج۴ص ۲۹)

مروان: شجرہ ملعونہ کی تفسیر میں ہے کہ یہ
شجرہ ملعونہ بنی امیہ ہیں اور حضور نے دیکھا تھا کہ میرے منبر پر بندر ناچ رہے ہیں
اور یہ لوگ اسی خواب کی تعبیرہیں (ج۹ص ۹۳)

٭      مروی ہے کہ مروان کو اپنی بیوی نے جو یزید
کی بیوہ تھی قتل کیا (خزائن نراقی ص۳۵۳)

مردار: (ج۵ص۹۱تا ۵۲،۸۴- ج۷ص۸۳)

مسمر یزم: اس علم کو علماء نے حرام قرار دیا
ہے (ج۲ص۲۵۱)

٭      اس کی تھوڑی سی وضا حت (ج۲ ص۱۴)

مسیح : مسیح کی لفظی تشر یح اور معنوی وضاحت
(ج۳ص۶۳۲)

٭      مسیح ابن مریم ؑ کی خصو صیت یہ ہے کہ اس کی
ماں صدّیقہ تھیں(ج۵ص۹۴۱)

مسخری : قرآن کو انتہائی تیزی سے پڑھنا کہ
سمجھ کچھ نہ آئے یہ قرآن کے سا تھ مسخری ہے (ج۱ ص۸۴)

٭منا
فقوں نے کہا کہ ہم مومنوں کے ساتھ میل جول صرف ان سے تمسخر کے لئے رکھتے ہیں تو
اللہ نے ان کے جواب میں فر مایا کہ بروز محشر ان کو اس مسخری کا جواب مسخری سے دیا
جائے گا (ج۲ص۶۶-ج۴۱ص۲۹۱)

٭جب
حضرت مو سیٰؑ نے قا تلوں کو تلا ش کر نے کے لئے بنی اسرائیل کو گائے ذبح کر نے کا
حکم دیا تو انھوں نے کہا آپ ہم سے مسخری کر رہے ہیں تو آپ نے فر مایا مسخری کرنا
جا ہلوں کا کام ہے جس سے میں اللہ کی پنا ہ چاہتا ہوں (ج۲ص۳۲۱)

٭      حکم خداوندی ہے کہ جو لوگ تمھا رے دین کو
مسخری و مذاق سمجھتے ہیں ان سے دوستی نہ رکھو (ج۶ص۴۳۱)

٭ایسی
مجلس سے اٹھ جا نے کا حکم ہے جہا ں دین سے مسخری ہو رہی ہو (ج۵ص۸۲۲)

٭زلیخا
نے حضرت یو سف ؑ سے کہا آپ ؑ مجھے سے مسخری کر رہے ہیںتو آپ ؑ نے فر مایا مسخری
نہیںبلکہ اگرتو چاہے تو میرے حرم سرا میں داخل ہو جا (ج۸ص۸۴)

٭      حق والوں سے مسخری کرنا جا ہلوں کا ہمیشہ کا
دستور ہے (ج۸ص۲۷۱ -ج۰ص۹۷ ۱-ج۲۱ص۴۴۲)

٭      رسول اللہ پر مسخری کرنے والوں کو اللہ نے
بد ترین سزائیں دیں(ج۸ص۳۹۱)

٭      کفار کا مو منوں سے مسخری کر نا (ج۰۱ص۰۹)
ایسے لو گ ایک دن اپنی مسخری کا مزا چکھیں گے (ج۰۱ص۱۹۱-ج۲۱ص۵۰۱)

٭      حضرت پےغمبر نے فر مایا چا ر آدمیوں پر اللہ
کی لعنت ہے:

(۱)
مرد ہوکر عورتوں سے مشابہت کر نے والا   (۲)
عورت جو مردوں کے مشا بہ بننے کی کو شش کرے

 (۳) اولاد کے ڈر سے شادی نہ کر نے والا      (۴) لوگوں سے مسخری کرنے والا(ج۰۱ص۴۳۱)

٭      وہ گنا ہ تین جن کا انتقام خود خدا لیتا ہے:
مومن پر بغاوت ، تکبر ، مسخری (ج۱ ۱ص۰۲۱)

٭حضرت
لقمان ؑ نے زندگی بھر کسی سے مزاح،تمسخر نہ کیا (ج۱۱ص۹۲۱)

٭مسخری
کرنے سے اللہ تعالی نے منع فر ما یا ہے (ج۳۱ص۰۲۱)

مسواک: حضرت پےغمبر صبح سویرے مسواک کیا کر
تے تھے (ج۴ص۶۹)

٭      مسواک کرنا سنت موکدہ ہے اسکے فوائد زیادہ
ہیںنماز اور قرآن خوانی سے پہلے اسکی بہت تاکید ہے۔

مسیلمہ کذاب: اس نے حضور کے زمانے میںدعویٰ
نبوت کیا تھا آخر کا ر ابو بکر کے زمانے میں اس حبشی کے ہا تھوں قتل ہو ا جس نے
حضر ت حمزہ کو قتل کیا تھااسلئے کہا کر تا تھا کہ میں نے زمانے کفر میں بہترین
انسان کو قتل کیا اور زمانے اسلام میں بد ترین کو قتل کیا ہے (ج۲ص۱۲۱، ۲۲۱)

مسجد: مسجد ذوالقبلتین بنی عبد الاشہل کی
مسجد ہے جس میں انہوں نے دو رکعت بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھی پس معلوم ہو ا
کہ قبلہ تبدیل ہو چکا ہے تو پچھلی دو رکعات کعبہ کی طرف منہ کر کے پڑھ لیں، پہلے
مرد آگے تھے پھر عورتیں آگے ہو گئیں(ج۲ص۱۹۱)

٭      تعمیر مسجد ایک صدقہ جا ریہ ہے (ج۲ص۶۱۱)

٭      مسجد قبا مسجد ضرار(ج۷ص۸۲۱)

٭      تعمیر مسا جد و احکا م مسا جد (ج۷ص۳۲)

٭      آداب مسجد (ج۷ص۸۱)

٭      مسجد کو فہ (ج۷ ص۴۱۱ – ج۴۱ص۳۱۱)

٭      مسجد حرام و مسجد اقصیٰ (ج۹ص۷)

٭      غا ر اصحا ب کہف کے باہر مسجد تعمیر کر ائی
گئی (ج۹ص۲۹)

٭      مسجد سہلہ حضرت ادریس ؑ کا گھر تھا جہا ں
کپڑوں کی سلائی کیا کرتے تھے (ج۹ص۷۵۱)

٭      مساجد کی تشریح (ج۹ ص۴۱،۰۲۱)

٭      مسجد شجرہ اہل مدنیہ کے لئے میقات ہے جہا ں
سے احرام باندھا جاتا (ج۰۱ص۳۲)

مسخ : شہوت غضب اور خواہش نفس کی پےروی کی
وجہ سے امت حضرت مو سیٰؑ میں مسخ واقعہ ہوا (ج۲ص۴۴)

٭      نافرمانی کرکے بنی اسرئیل بند ر کی شکل میں
مسخ ہو ئے (ج۲ص۰۱۱ -ج۶ص۰۱۱)

٭      خدا وند کر یم نے کئی قوموں کو کئی شکل میں
مسخ کر دیا مثلاً سور،بند ر،ریچھ وغیرہ پس ان جا نوروں کا گوشت قرار دیا گیا
(ج۵ص۰۲)

٭      مسخ شدہ جانور ریچھ بندر چمگادڑ اور مور
وغیرہ سب حرام ہیں (ج۵ص۰۵)

٭      بنی اسرائیل بندر ریچھ اور سور کی شکل میں
مسخ ہوئے اسی طرح ریچھ اور سور کی شکلوں میں بعض دشمنان علی ؑ کا مسخ ہونا بھی
روایت میں ہے (ج۵ص۸۷)

٭      دشمن امام حسن مرد سے عورت بن گیا تھا(ج۱
ص۳۳)

٭      دشمن علی ؑ کتے کی شکل میں مسخ ہو گیا
(ج۰۱ص۸۴۲)

٭      حضر ت عیسیٰؑ سے دستر خواں کے نزول کا سوال
کر کے پھر کافر ہونے والے مسخ ہو گئے (ج۵ ص۴۷۱) ملی مچھلی کی شکل میں، مگرمچھ کی
شکل میں اور سور کی شکل میں مسخ ہوئے (ج۵ ص۴۸۱)

٭      مروی ہے کہ اساف و نائلہ زنا کر کے پتھروں
کی شکل میںمسخ ہوگئے (ج۰۱ص۳۲)     

٭      حضرت لوط ؑ کی نافرمان بیوی سیاہ پتھر کی
شکل میں مسخ ہوگئی (ج۱۱ص۰۸،۱۸)

٭      حضرت داود ؑ کی بد دعا سے سور و بندر کی شکل
میں مسخ ہونے والے شامی تھے (ج۲۱ص۳۰۲)    

مسائل مشکلہ: (ج۸ص۲۲۲)

٭      عمر کا قول: لَوْ لا عَلِیٌّ لَھَلَکَ
عُمَر(ج۳ص۹۹۱-ج۶ص۹۲۱- ج۱ ص۳۳۱)

معتزلہ و اشاعرہ: بچہ کی موت کے بعد اسکے
حشر کے متعلق معتزلہ اور اشاعر کا اختلاف (ج۸ص۳۲۲)

مشرق و مغرب: لِلّٰہِ الْمَشْرِقُ
وَالْمَغْرِبُ (ج۲ص۷۵۱،۲۹۱،۰۱۲)

٭      ہر طرف اللہ تعالیٰ ہے (ج۵ص۲۹۱)

٭      حضرت ذوالقرنین ؑ بادل کی سواری کرتے تھے
اور مشرق اور مغرب پر ان کا سکہ تھا (ج۹ص۴۲۱)

٭      مشارق و مغارب کی تشریح (ج۲۱ص۳۳)

٭      مشرقین و مغربین کی وضاحت (ج۳۱ص۱۸۱)        

مشرکین : مشرکین کی تردید(ج۲ص۸۵۱
-ج۵ص۸۸۱،۵۳۲،۴۴۲ -ج۶ص۰۵۱ -ج۷ص۲۴ -ج۸ ص۲۰۲،۹۲۲)

٭      مشرکین بیت اللہ کا طواف برہنہ کرتے تھے
(ج۶ص۳۲)

٭      مشرکین کی سزا (ج۶ ص۲۸)

٭      مشرکین کا دارالندو ہ میں اجتماع اور حضور
کے خلاف سازش (ج۶ص۱۹۱)

٭      مشرکین نجس ہیں (ج۷ص۶۳) 

٭      مشرکین کے لئے دعاسے منع (ج۷ص۲۳۱)

٭      مشرکین کو تہدید (ج۹ص۰۳۱)

٭      مشرکین کا انجام (ج۹ص۳۵۲)

٭      شرک کی نفی (ج۱۱ص۹۰۱-ج۲۱ص ۰۶۱،۱۵۲)

مشورہ: (ج۴ص۳۷)

٭      باہمی مشورہ کر کے کام کرنا اہل جنت کی
نشانی ہے (ج۲۱ ص۴۱۲،۵۱۲)      

مصر: مصر سے حضرت موسیٰؑ کی بنی اسرائیل کو
ہمراہ لے کر روانگی اور فرعون کا تعاقب (ج۲ص۶۰۱)

٭      حضرت یوسف ؑ کے زمانہ میں مصر کا حکمران
ولید بن مصعب تھا جس کا لقب فرعون تھا ور حضرت موسیٰؑ کے وقت بھی وہی فرعون تخت
مصر پر قابض تھا اور حضرت یوسف ؑ کے مصر میں داخلے اور حضرت موسیٰؑ کے داخلہ مصر
میں چار سوبرس کا فاصلہ تھا (ج۶ص۵۶)

٭      حضرت موسیٰؑ کا مصر میں داخلہ
(ج۹ص۲۸۱-ج۰۱ص۷۹۱)

مصلائے ابراہیم ؑ: جو مقام ابراہیم ؑ ہے
(ج۲ص۴۷۱)

٭      ایک روایت میں ہے کہ اگر ایک شخص حجیں پا
پیادہ کرے کوہِ اُحد کے برابر راہ خدا میں سونا خرچ کرے اور مظلوم ہو کر رکن اور
مقام کے درمیان قتل ہو جائے لیکن اگرحضرت علی ؑ کی وِلا دل میں نہیں تو نیک اعمال
کے باوجود جہنم کا ایندھن بنے گا۔

مصیبت: محمد و آل محمد کے وسیلہ سے دعا
مانگی تو بنی اسرائیل سے مصیبت ٹل گئی (ج۲ ص۹۰۱،۵۲۱)

٭      بنی اسرائیل تابوت کی بے حرمتی کی بدولت
مبتلائے عذاب ہوئے (ج۳ص۰۲۱،۶۴۱)

٭      عبادت گزاروںکی بدولت بدکاروں سے بھی عذاب و
مصیبت ٹل جایا کرتے ہیں (ج۳ص۸۴۲)

٭      کسی کی مصیبت پر خوش ہونا اچھانہیں (ج۶ص۰۰۱)

٭      مصائب زہرا ؑ(ج۶ص۳۵،۴۵،۸۹ – ج۱ ص۱۷۱)

٭      مصائب کربلا(ج۲ص۹۹۱ -ج۹ ص۶۳۱، ۹۳۱ -ج۱۱ ص۹۸)

٭      مومن دنیامیں مبتلا ئے مصیبت ہو ا کرتا ہے
(ج۶ص۸۶۱ -ج۱۱ ص۶۶ -ج۴۱ص۰۴)

٭      حضرت یونس ؑ کی قوم سے توبہ کے باعث مصیبت
ٹل گئی (ج۷ص۳۸۱)

٭      حضرت یوسف ؑ کے مصائب (ج۸ص۸۷،۴۸)

٭      مصیبت میں صبر کرنا بہت بڑی عبادت ہے
(ج۸ص۸۲۱)

٭      شیعوں کا صبر (ج۸ص۰۷۱)

٭      حضرت خضر ؑ نے حضرت موسیٰؑ و حضرت یوشعؑ کے
سامنے مصائب آل محمدپڑھے تو دونوں نبی سخت روئے (ج۹ص۹۰۱)

٭      حضرت ایوب ؑ کے مصائب (ج۹ص۴۴۲-ج۲۱ص۸۹،۲۰۱)

٭      مصائب آل محمد (ج۰۱ص۹۴ -ج۱۱ص۸۸،۹۸-ج۲۱ص۶۳۲
-ج۷ص۱۲۱ -ج۸ص۴۷ – ج۳۱ص۴۲۲) (مقدمہ تفسیرص۳۰۱)

٭      بنی اسرئیل کا مصائب سے تنگ آکر حضرت موسیٰؑ
کی آمد کے لئے دعائیں مانگنا چنانچہ ایک چاندنی رات میں بنی اسرئیل کا اجتماع تھا
اور ان کا عالم حضرت موسیٰؑ کے اوصاف بیان کر رہا تھا کہ وہ لادی بن یعقوب ؑ کی
اولاد سے ہوگا وغیرہ اچانک حضرت موسیٰؑ وہاں پہنچ گئے (ج۱۱ص۳۲)

٭      صدقہ مصائب کو دفع کردیتاہے (ج۲۱ص۳۱۲)

مصافحہ: عید غدیر کے روز مومنین ایک دوسرے
سے مصافحہ کریں تو بہت ثواب ہے (ج۵ ص۷۳)

٭      امام جعفر صادقؑ نے فرمایا دو مومن ایک
دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں جس طرح خشک پتے جھڑتے
ہیں(ج۸ ص۴۳۱)

٭      جب مومن ایک دوسرے سے مصافحہ کریں تو ان پر
اللہ کی رحمت برستی ہے (ج۳۱ص۷۱۱)

مصلحت: عدت کی مصلحت (ج۳ص۱۰۱)

٭      جہاد کی مصلحت (ج۳ص۹۳) (ج۷ص۷۶)

٭      نقدی کی مصلحت (ج۳ص۵۷۱)

معراج: مقدمہ تفسیر
(ص۲۴-ج۲ص۱۴-ج۹ص۴۶-ج۴۱۱۰۱،۳۸۱)

٭      شب معراج دودھ، شراب، پانی اور شہد کی چار
نہریں دیکھیں جو بسم اللہ پڑھنے والے کو عطا ہوں گی (ج۲ص۹۱-ج۱۱ص۹۴۱)

٭      شب معراج جنت کے دروازوں پر کیا کیا دیکھا؟
(ج۲ص۲۴،۳۴)

٭      اثبات معراج (ج۷ص۳۹۱ -ج۰۱ص۹۴۲)

٭      لہجہ علی ؑ میں شب معراج کلام ہوا
(ج۲ص۹۵۱-ج۳۱ص۹۴۱)

٭      شب معراج کی باتیں (ج۲ ص۲۸۱ -ج۹ص۶۲-
ج۲۱ص۹۱۲)

٭      شب معراج حضور نے جانب عرش اپنے بارہ وصیّوں
کومصروف عبادت دیکھا (ج۳ص۵۸۱،۶۸۱)

٭      شب معراج حضرت آدم ؑ و حضرت موسیٰؑ سے
ملاقات (ج۶ ص۰۲ -ج۱۱ص۲۵۱)

٭      جبرائیل ؑ کا قول لَ©وْدَنَوْتُ اَنْمُلَةً
لَاَحْتَرَقْتُ جَنَاحَی اگر میں یہاں سے انگلی برابر بھی آگے بڑھوں تو میرے پر جل
جائیںگے۔

٭      جبرائیل ؑ نے عرض کی آپ وہاں پہنچے جہاں آج
تک کوئی بنی مرسل یا ملک مقرب نہیں پہنچ سکا (ج۶ص۸۲۱)

٭      حضور اکرم نے واپس آکر صحابہ کو بتایااور اس
کی نشانی یہ ہے کہ فلاں پر ابو سفیان کا سرخ رنگ کا اونٹ گم ہو گیا اور وہ اس کی
تلاش میں تھے (ج۷ص۵۸۱)

٭      تفصیل واقعہ معراج (ج۸ص۵۵۲،۱۷۲-ج۹ص۶،۸-ج۳۱ص۱۵۱)

٭      شب معراج حضور نے ایک خوشبو سونگھی تو
جبرائیل ؑ نے عرض کی یہ اس گھر سے آرہی ہے جس کے مالکوں کو محبت خدا کے جرم میں
قتل کردیا گیا تھا (ج۹ص۹،۰۲۱)

٭      حضرت موسیٰؑ کا معراج کوہ طور تھا(ج۱۱ص۸۸)

٭      نمازہر مومن کا معراج ہے (ص۸۸-ج۲ص۴۴)

٭      حضور کی ملک الموت سے ملاقات (ج۱۱ص۶۴۱،۷۴۱)

٭      حضور نے شب معراج جبرائیل ؑ کو دیکھا کہ اس
کے چھ لاکھ پر تھے (ج۱۱ص۷۵۲)

٭      شب معراج اللہ نے فرمایا فرشتوں کا موضوع
بحث دو چیزیں ہیں کفارات اور درجات:

        کفارات:
موسم سرما میں وضو ، جماعت کی طرف چل کر جانا ، ایک نماز کے بعد دوسری کا انتظار

         درجات: ہر یک پر سلام کہنا ، بھوکوں کو روٹی
کھلانا ، نماز شب (۲۱ص۶۰۱،۷۰۱)

٭      شب معراج حضور سے تین چیزوں پر صبر کرنے کا
عہدہ لیا گیا تھا:

(۱)
خود بھوکارہ کر دوسروں کی حاجت روائی پر صبر

(۲)
لوگوں کے جھٹلانے پر صبر

 (۳) آل پر مصائب ہوں گے پھر صبر کرنا (ج۲۱ص۶۳۲)

٭      وَاسْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا کی تفسیر (ج۲۱
ص۸۳۲،۰۴۲)

٭      شب معراج اللہ کی جانب سے سوال ہوا کہ زمین
پر تمہارا خلیفہ کون ہے؟ تو عرض کیا علی بن ابی طالب ؑ پس ارشاد باری ہوا کہ زمین
پر پہنچ کر میری جانب سے علی ؑکو سلام کہنا (ج۳۱ص۷۴۱-ج۴۱ص۵۹۱)

معجزہ : امام حسنؑ کا معجزہ (ج۱ ص۳۳)

٭      معجزہ کی وضاحت (ج۱ ص۷۵)

٭      قرآن میں اعجازی پہلو گیارہ ہیں(ج۱ص۰۶،۱۶)

٭      معجزہ کی ضرورت (ج۱ص ۲۶)

٭      پتھر سے پانی کا نکلنا حضرت موسیٰؑ کا معجزہ
تھا (ج۲ص۷۱۱)

٭      حضرت علی ؑ کے اعجاز سے مریض لا علاج کا
تندرست ہونا (ج۲ص۶۴۱)

٭      حضرت ابراہیم ؑ کے پاﺅں کے نیچے پتھر موم ہو
جاتا تھا جیساکہ مقام ابراہیم (ج۲ص۶۷۱)

٭
اسباب وعلل کے بغیر شئے کا معرض وجود میں آنے کانام معجزہ ہے (ج۳ص۰۹۱)

٭      حضرت عیسیٰؑ کے معجزات (ج۳ص۹۳۲-ج۵ص۱۸۱)

٭      نزول مائد ہ (ج۵ص۳۸۱،۴۸۱)

٭      آیات بینات (ج۴ص۱۱)

٭      حدیبیہ کے مقام پر معجزہ (ج۲۱ص۸۵)

٭      معجزات پیغمبر (ج۴ص۱۲،۸۵- ج۵ص۶۰۲ – ج۶ص۱۸،۴۸
-ج۸ص۷۱۱،۳۷۱ -ج۱۱ ص۱۴۱)

٭      حضرت علی ؑ کے معجزہ سے جنگ احد کے تندرست
ہونا (ج۴ ص۲۶)

٭      حضرت موسیٰؑ کے
معجزات(ج۵ص۰۹-ج۶ص۷۶،۸۶،۰۷،۳۷-ج۹ص۶۷۱-ج۰۱ص۵۹۱، ۶۲۱ -ج۱۱ص۴۳،۸۳)

٭      نام حضرت علی ؑ کی تا ثیر (ج۶ص۸۳۱)

٭      معجزہ حضرت علی ؑ (ص۹۳۱-ج۶۲،۸۰۱)

٭      حدیث بساط (ج۹ ص۳۸ -ج۰۱ص۸۴۲)

٭      امام جعفر صادقؑ کا معجزہ (ج۷ص۷۴)

٭      معجزہ در حقیقت فعل خدا ہوتا ہے
(ج۷ص۴۶۱،۴۵۲ -ج۸ص۰۴۱ -ج۹ ص۲۷ – ج۰۱ص۶۲۲)

٭      انبےا ء کا چیلنج بھی اےک معجزہ تھا
(ج۷ص۱۲۲)

٭      حضرت داود ؑ کا معجزہ (ج۲۱ص۳۸)

٭      حضرت ےوسف ؑ کی قمیض کا حضرت ےعقوب ؑ کے لئے
باعث بینائی بننا بھی معجزہ تھا (ج۸ص۰۸)

٭      حضرت رسول کریم کا حضرت علی ؑکی فریاد پر
قبر سے ہاتھ باہر نکالنا (ج۹ص۹۹)

٭      حضرت خضر ؑنے با عجاز نبوت لوگوں کو اپنے
گھروں تک پہنچایا (ج۹ص۰۲۱)

٭      حضرت موسیٰؑ و حضرت یوشعؑ کے ہاتھو ں میں
پکی ہوئی مچھلی آب حیات کے قطرات سے زندہ ہوگئی(ج۹ ص۸۰۱)

٭      حضرت مریم ؑسے صادر ہونے والے معجزات (ج۹
ص۴۴ ۱)

٭      حضرت ذکریا ؑ کو بیٹے کی شہادت بڑھاپے میں
معجزہ ہے (ج۹ص۰۴۱ص۸۴۲)

٭      ولادت حضرت علی ؑ کے معجزات (ج۰۱ص ۲۵،۴۵)

٭      حضرت سلیمان ؑ کے معجزات (ج۰۱ ص۰۳۲)

٭      تخت بلقیس کا حاضر کرنا (۶۴۲ تا ۸۵۲)

٭      کفار کا پیغمبر سے معجزات کا طلب کرنا
(ج۱۱ص ۴۹،۵۹- ج۲۱ ۱۸،۶۶۱-ج۳۱ ص۴۱)

٭      خندق کے موقعہ پر چند معجزات کا ظہور (ج۱۱ص
۵۶۱، ۶۷۱)

٭      معجزہ پیغمبر ابوجہل کے ہاتھ کا خشک ہو جانا
اور ولید کا اندھا ہو نا (ج۲۱ص ۸۹)

٭      امام حسن عسکری ؑ کے اعجاز سے ایک شیعہ و
محب کا حاکم وقت کی سزا سے محفوظ رہنا (ج۲۱ ص۸۴، ۹۴)

٭      حضرت ابراہیم ؑ کے اعجاز سے قطبی حکمران کا
ہاتھ خشک ہونا (ج۲۱ص ۴۵، ۵۵)

٭      حضرت ایوب ؑ کا معجزہ کہ کتے حملہ نہ کرسکے
(ج۲۱ص ۰۰۱)

٭      حضر ت ذوالکفل ؑ کا معجزہ (ج۲۱ص۳۰۱)

٭      حضرت علی ؑ کے فضائل کا ہم تک پہنچنا معجزہ
ہے (ج۵ص۸۸)

٭      حضور کے معجزہ سے دعوت ذوالعشیر ہ میں
تھوڑا کھانا بہت سے لوگوں پر کافی ہوا(ج۲۱ ص۰۷۱)

٭      حضرت علی ؑکی دعا سے سام بن نوحؑ کا زندہ
ہو کر حضرت علی ؑ کی ولایت کی گواہی دینا (ج۲۱ص ۳۰۲)

 معرفت: معرفت کا درس (ج۱ص ۵۸۱)

٭      مراتب معرفت (ج۵ص ۵۶۱)

معاویہ: نماز سے بسم اللہ کا حذف کرنا
معاویہ کی سنت ہے (ج۲ص۲۲)

٭      معاویہ پہلا شخص ہے جس نے مکہ میں گھر کا
دروازہ بنایا (ج۰۱ص ۱۲)

٭      معاویہ کا ”لاشئے“ کا معنی دریافت کرنے
کےلئے حضرت علی ؑ کی طرف گھوڑا بھیجنا جس کی قیمت ”لاشئے“ قرار دی، پس آپ ؑ نے
جنگل میں سراب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ لاشئے لے لو کیوںکہ سورہ نور کی آیت
میں سراب کو لاشئے کہا گیاہے(ج۰۱ص۶۴۱)

٭      معاویہ کو خال المومنین کہنا غلط ہے (ج۱۱ص
۹۵۱)

٭      شاہِ روم نے معاویہ اور حضرت علی ؑ کے
درمیان فیصلہ کرنے کے لیے نمائندے بھیجے اور انہیں طلب کیا پس معاویہ کی طرف سے
یزید اور حضرت علی ؑ کی جانب سے امام حسن مجتبیٰ ؑ پہنچے اور شاہِ روم نے مختلف
سوال کیے انبیا ء کی تصاویر دکھلائیں اور مسائل پوچھے جن کے جواب سے یزید عاجز رہا
اور امام حسن مجتبیٰ ؑ نے سب مسائل حل فرمائے اور جوابات سے شا ہِ روم کو مطمئن
کیا، پس شاہِ روم نے حضرت علی ؑ کے حق میں فی©صلہ کیا (ج۲۱ص ۳۰۲، ۵۰۲)

٭      قوم عمالقہ کے سردار کا نام بھی معاویہ تھا
جسکے باپ کا نام بکر تھا (ج۶ص۶۴)یہ لوگ مکہ میں آباد تھے۔

معاف کرنا: قاتل کو معاف کرنا اللہ کی جانب
سے تخفیف ہے (ج۲ص۱۲۲)

٭      امام علی زین العابدین ؑ کا اپنے گستاخ کو
معاف کرنا (ج۴ص ۰۵)

٭      اس طرح اپنی کنیز کو جس کے ہاتھ سے لوٹا گرا
اور آپ کے سر پر چوٹ آئی معاف کرنا(ج۴ص ۰۵)

٭      اسی طرح امام حسن ؑ کا اپنے غلام کو معاف
کرنا (ج۴ص ۱۵)

٭      حضرت رسالتمآب نے فرمایا خداوند کریم معاف
کرنے والے کی عزت بڑھاتاہے (ج۴ص ۱۵)

٭      معاف کر دینا گناہوں کی بخشش کا موجب ہے
(ج۵ص ۴۱۱-ج۲۱ص ۴۱۲)

٭      جن لوگوں نے دنیا میں لوگوں کو اپنے حقوق
معاف کر دئیے وہ بلا حساب جنتی ہیں (ج۲۱ص ۶۱۲)

٭      معاف کرنا ایمانِ کامل کی نشانی ہے (ج۲۱ص
۸۱۲)

مفہوم کی حجیت: مفہوم کی حجیت اور اس کی
اقسام (ج۰۱ص ۶۳)

مقطعات قرآنیہ: (ج۲ص ۸۴ تا ۰۵)

مقام محمود: (ج۹ ص ۰۶، ۱۶)

مقروض: تنگدست مقروض کو مہلت دینا چاہیے
(ج۲ص ۲۱۲- ج۳ص ۷۵۱)

مکہ: مکہ میں داخلہ کےلئے غسل مستحب ہے (ج۳
ص۷۱)

٭      مکہ کی وجہ تسمیہ (ج۴ ۷)

٭      زمین مکہ کے خصوصیات (ج۴ص ۵۱)

٭      معراج کے متعلق اہل مکہ کارد عمل (ج۸ ص ۸۵۲)

٭      حضرت ابراہیم ؑ نے حضرت اسمٰعیل ؑ وحضرت
ہاجرہ مکہ میں چھوڑا اور واپس چلے گئے (ج۲ ص ۵۷۱)

٭      حضرت خدیجہ ؑ و حضرت ابوطالب ؑ کی وفات کے
بعد مکہ سے چلے جانے کا حکم ہوا کہ اس بستی سے چلے جاﺅ جس کے بسنے والے ظالم لوگ
ہیں (ج۷ ص۱۵)

٭      حرمت مکہ (ج۰۱ ص ۷۶۲)

٭      مکہ کی قسم کھائی اللہ نے لا اُقْسِمُ
بِھٰذَا الْبَلَد (ج۴۱ص ۱۲۲)

مکھی : شہد تیار کرنے والی مکھی (ج۸ ص۶۲۲ تا
۸۲۲)

٭      مکھی کا زندہ ہونا (ج۲ص ۹)

مکڑی: مکڑی کا عذاب فرعونیوں پر (ج۶ ص۸۷، ۲۸
-ج ۹ص ۵۷)

٭      مکڑی (ج۱۱ص ۳۸- ج۲۱ ص۸۴۱، ۱۴۲)

٭      غار ثور پر مکڑی کا جالا (ج۷ ص۰۵)

ملت : ملت ابراہیمی (ج۲ص ۱۸۱)

٭      قوم حضرت شعیبؑ کہتی تھی ہماری ملت میں پلٹ
آﺅ (ج۶ص ۱۶)

٭      ملت ابراہیمی کی اتباع کا حکم (ج۸ ص ۱۵۲-
ج۰۱ص ۹۴)

مالدار: حضرت سارہؑ مالدار عورت اور صاحب
جائیداد تھی جب حضرت ابراہیم ؑ پر بت شکنی کا مقدمہ چلایا گیا اور آخر سزائے موت
ہوئی پھر آگ گلزار بنی تو نمرود نے حضرت ابراہیم ؑ کی تمام املاک منقولہ و غیر
منقولہ بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کر دیا (ج۲۱ص ۴۵)

٭      حضرت ایوبؑ بہت بڑے مالدار تھے، ایوب بن موص
بن رعویل بن عیص بن اسحق ان کی شادی جناب رحمہ ؑ سے ہوئی، رحمہ بنت افرائیم ؑ بن
یوسف ؑبن یعقوب ؑبن اسحٰقؑ (ج۲۱ص ۸۹)

٭      رحمہ ؑ خاتون کا باپ افرائیم ؑ تھا جس کی
ماں زلیخا تھی (ج۲۱ص ۸۹)

٭      ایک اور روایت کے مطابق افرائیم ؑ اور رحمہ
ؑ بہن بھائی دونوں زلیخا کی اولاد تھے (ج۸ ص ۳۹)

مالک الملک : (ج۳ص ۰۱۲)

٭      آیةُ الملک: قُلِ اللّٰھُمَّ مَالِکَ
الْمُلْکِ تُوْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَائُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَائُ
وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَائُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَائُ بِیَدِکَ الْخَیْرِ اِنَّکَ
عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر تُوْلِجُ اللَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَتُوْلِجُ
النَّھَارَ فِی اللَّیْلِ وَتُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَتُخْرِجُ
الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَائُ بِغَیْرِ حِسَاب

٭      لِمَنِ الْمُلْک الْیَوْم (ج۲۱ص ۵۳۱، ۶۴۱)

 مُلک اور مِلک میں فرق (ج۳ص ۲۱۲)

٭      مالک کی تشریح (ج۲ص ۵۱، ۶۱)

ممتحنہ: سورہ ممتحنہ کے فضائل (ج۳۱ص ۳۶۲)

منبر: منبر پالان پر یوم غدیر ۱۱ بجے دن
حضور کی عظیم الشان تقریر (ج۵ص ۲۳، ۰۴۱)

منات: ایک بت کا نام ہے (ج۳۱ص ۶۵۱)

منیٰ: (ج۳ص ۰۲، ۲۲)

٭      قربانی کا مقام منیٰ ہے احرام حج میں (ج۵ص
۸۶۱)

منافق: سورہ منافقون (ج۴۱ص ۸۲)

٭      منافق کی وجہ تسمیہ (ج۲ص ۴۵)

٭      منافقین کا ذکر (ج۲ص ۵۶ تا ۹۶)

٭      جنگ احد میں منافقوں کر کردار (ج۴ص ۹۵)

٭      منافقوں کی عادت (ج۴ص ۲۷، ۴۹-ج۵ص۴۲۲-ج ۶ص
۱۸،۳۸-ج۷ ص۰۷،۱۹-ج۳۱ص ۵۵۲)

٭      رسول اللہ کے قتل کی سازش کرنے والے منافق
آدمی بارہ تھے (ج۵ص ۵۴۱)

٭      آذان سن کر مسجد سے نکل جانے والا منافق ہے
(ج۷ص ۸۲)

٭      منافقوں کی نشانیاں (ج۷ص ۳۹، ۱۲۱)

٭      منافقوں کے ساتھ جہاد کا حکم (ج۷ ص ۶۹، ۵۲۱-
ج۳۱ص ۱۵)

٭      منافقوں کےلئے رسول اللہ بھی دعا کریں تو
فائدہ نہ ہوگا(ج۷ص ۰۰۱)

٭      دو منافقوں کی سزا (ج۲۱ص ۷۸۱)

٭      منافق کا جنازہ (ج۷ص ۲۰۱)

٭      منافقوں نے مسجد ضرار بنالی (ج۷ ص۸۲۱)

٭      قارون حضرت موسیٰؑ کی قوم میں منافق تھا
(ج۱۱ص ۱۵)

٭      حضرت لوطؑ کی بیوی منافقہ تھی (ج۱۱ص ۹۷)

٭      تکلف کرنے والے کا ظہر رواداری اور باطن
منافقت ہوتا ہے (ج۲۱ص ۹۰۱)

٭      مُدھنون کا معنی منافقون (ج۳۱ص ۶۰۲)

مناظرہ: مناظرہ کا طریقہ (ج۱۱ص ۱۹)

٭      مناظرہ نمرود با حضرت ابراہیم ؑ (ج۳ ص۲۴۱)

٭      امام محمد تقی علیہ السلام کا یحییٰ بن
اکثم سے مناظرہ (ج۵ص ۹۶۱)

٭      ہشام بن حکم کا ابن ابی العوجا ء سے مناظرہ
(ج۴ص ۱۱۱)

٭      جعفر طیار ؑ کی نجاشی کے دربار میں گفتگو
(ج۸ص ۶۵۱)

٭      حسنین ؑ کے اولادِ رسول ثابت کرنے پر مناظرہ
(ج۵ص ۶۳۲)

٭      جزیہ پر مناظرہ (ج۷ ص ۹۳)

٭      ابن زبعری کا حضور سے مناظرہ (ج۹ص ۴۵۲)

٭      ہمارا ایک جاہل سے مناظرہ (ج۰۱ص ۴۷)

٭      ملک فیض محمد مکھیالوی کا سنی مولوی سے
مناظرہ (ج۱۱ص۷۱۲- ج۵ص ۴۴)

٭      قریشیوں کا حضور سے مناظرہ (ج۲۱ص ۱۳۲)

من و سلویٰ : (ج۲ص ۲۱۱)

 منکر و نکیر: (ج۸ ص۶۵۱- ج۲ص ۶۱۲)

موسم : سردی،گرمی، بہار اور خزاں کی تبدیلی
اللہ کا انسانوں پر بلکہ روئے زمین پر بسنے والی جملہ مخلوق پر احسان عظیم ہے (ج۷ص
۲۶۱- ج۸ص ۲۷۱- ج۲۱ص ۸۱۱، ۶۷۱)

موسیٰؑ: حضرت موسیٰؑ کی قوم میں مسخ (ج۲
ص۴۴)

٭      اللہ کا علم ازلی بندے کے اختیار کے منافی
نہیں چنانچہ حضرت موسیٰؑ کو فرعون کی طرف تبلیغ کےلئے بھیجا گیا حالانکہ اللہ کو
علم تھا کہ وہ ایمان نہ لائے گا (ج۲ص ۲۶)

٭      حضرت موسیٰؑ کو جملہ انبیا ء محمد وآل محمد
کا واسطہ دے کر دعا مانگتے تھے (ج۲ص ۷۹ – ج۵ص ۸۹)

٭      حضرت موسیٰؑ و حضرت ہارون ؑ کا انتقال
صحرائے سینا میں ہوا (ج۲ص ۳۱۱)

٭      حضرت موسیٰؑ کی امت سے امت محمدیہ کی
مشابہت(ج۲ص۶۶۱-ج۵ص۹۷ -ج۶ص۱۸، ۹۸،۸۹)

٭      حضرت موسیٰؑ کو شرف کلام زمین کربلا پر
نصیب ہوا (ج۴ ص ۴۱)

٭      حضرت موسیٰؑ کا ذکر (ج۶ص ۵۶)

٭      عصائے موسیٰؑ (ج۶ص۵۷۱، ۴۳۲-ج۹ص
۵۵۱،۲۷۱-ج۰۱ص۱۹۱تا۰۰۲-ج۲ص۴۲۲تا ۶۲۲)

٭      حضرت موسیٰؑ کا دین قبول کرنے والوں کی
گرفتاریاں (ج۶ص ۸۷)

٭      حضرت موسیٰؑ کا وعدہ طور (ج۶ ص۴۸)

٭      الواح حضرت موسیٰؑ (ج۶ص ۴۹-ج۹ص ۴۹۱)

٭      حضرت موسیٰؑ کا انتخاب ستر آدمیوں کو چنا
اور طور پر لے گئے (ج۶ص ۲۰۱)

٭      حضرت موسیٰؑ نے امت محمدیہ سے ہونے کی دعا
مانگی تھی (ج۶ص ۷۰۱)

٭      حضرت موسیٰؑ نے امت کے اکہتر /۱۷ فر قے ہوں
گے ایک جنتی باقی جہنمی (ج۶ص ۷۰۱)

٭      حضرت موسیٰؑ کی امت کے سروں پر کوہِ طور کو
بلند کیا گیا (ج۲ص ۹۹۱- ج۶ص ۲۱۱)

٭      حضرت موسیٰؑ کی ایک عابد سے ملاقات جو لوہار
تھا جس نے بادل کو حکم دے کر حضرت موسیٰؑ کو گھر پہنچایا (ج۷ ص۵۹۱)

٭      جو شخص حضرت موسیٰؑ کی نقالی کرتا تھا وہ
عذاب خداوندی (غرقابی) سے بچ گیا، پس ارشاد ہوا کہ وہ تیری نقل کرتے ہوئے تیری
شبیہ بنتا تھا تو میں نے تیری شبیہ کا احترام کرتے ہوئے اس کو غر ق ہونے سے بچالیا
ہے(خزائن نراقی ص ۰۳۴)

٭      حضرت موسیٰؑ و خضر ؑ کی ملاقات پرندہ کو
دریا کے کنارے دیکھا امام محمد باقرؑ نے فرمایا اگر وہاں میں ہوتا تو دونوں کو
عاجز کر دیتا (ج۸ ص۵۳۲) اور امام جعفر صادقؑ نے فرمایا اگر میں ہوتا تو ثابت کرتا
کہ میں ان دونوں سے اَعلم ہوں (ج۸ ص ۶۳۲)

٭      حضرت موسیٰؑ کے پاس اسم اعظم کے چار حرف
تھے (ج۰۱ص ۸۲۴)

٭      حضرت موسیٰؑ، حضرت خضر ؑ کا قصہ (ج۹ص ۶۰۱ تا
۸۱۱)

٭      حضرت موسیٰؑ کی ولادت (ج۹ص ۰۸۱)

٭      دیگر واقعات (ج۹ص ۲۹۱- ج۱۱ص ۸ تا ۰۱ – ج۲۱ص
۷۴۱ تا ۹۴۱)

٭      حضرت موسیٰؑ نے لذت کلام پروردگار میں ہر
شی سے کنارہ کشی کر لی (ج۱۱ص ۷۸، ۸۸)

٭      حضرت موسیٰؑ کا قد لمبا شکل گندمی اور بال
گھنگھریالے تھے (ج۱۱ص ۲۵۱)

٭      حضرت موسیٰؑ کو قوم نے بہت تکلیفیں پہنچائیں
(ج۱۱ص ۸۱۲)

٭      حضرت موسیٰؑ کے ذکر و مصائب سے حضور کو تسلی
دی گئی (ج۲۱ص ۰۴۲- ج۳۱ص ۱۳۱-ج۴۱ص۷)

٭      حضرت نبی کریم ایک دفعہ گزرے تو عمر ایک
یہودی سے کچھ چیزیں نوٹ کر رہا تھا آپ نے غصہ سے فرمایا اے فلاں! اگر آج حضرت
موسیٰؑ خود بھی موجود ہوتے اور تو مجھے چھوڑ کر اس کے پاس جاتا تو کافر ہو جاتا
(ج۳۱ ص ۳۴۲)

موت: موت کے بعد رسومات (ج۱ص ۴۴)

٭      سورہ فاتحہ کے فضائل میں ہے کہ یہ باعث شفا
ہے بلکہ اگر اس کے پڑھنے سے مردہ زندہ ہو جائے تو تعجب نہ کیا جائے (ج۲ص ۹)

٭      موت آنے کے بعد گائے کے حصہ کو مارنے سے اس
کو زندہ کرنا (ج۲ص ۵۲۱)

٭      یہودیوں کو تنبیہ اگر سچے ہو تو موت کی
تمنا کرو (ج۲ص ۵۴)

٭      حضرت علی ؑ نے فرمایا موت میرے اوپر آئے یا
میں موت پر جاﺅں کوئی پرواہ نہیں ہے (ج۲ص ۵۴۱)

٭      شہادت کی موت زندگی ہے (ج۲ص ۷۹۱)

٭      موت و شہادت میں فرق (ج۵ص ۴۲)

٭      اے بنی آدم موت تیزی سے تیری طرف متوجہ ہے
(ج۳ص ۶۱۲)

٭      موت کے بعد زندگی حضرت عذیر ؑ کا واقعہ
(ج۳ص ۵۴۱)

٭      کفر کے بعد ایمان بھی موت کے بعد زندگی ہے
(ج۵ص ۱۵۲- ج۹ ص ۶۳)

٭      حضرت ابراہیم ؑ کا چار پرندوں کو زندہ ہوتے
دیکھا (ج۳س ۴۲)

٭      حضرت عیسیٰؑ کا مردہ کو زندہ کرنا (ج۳ص ۰۴۲
-ج۵ص ۳۸۱)

٭      رسول اللہ کا مردوں کو زندہ کرنا (ج۲۱ص
۷۳۱)

٭      اپنی موت مرنے والا جانور نجس اور حرام
ہوتا ہے (ج۵ص ۴۲)

٭      کافر پر موت کی تلخی (ج۵ص ۰۴۲-ج۸ ص۰۵۱- ج۲۱ص
۴۴۲)

٭      دوبارہ زندگی (ج۰۱ص ۲۱ – ج۰۱ص ۰۶۲ -ج۱۱ص
۸۰۱- ج۲۱ص ۰۳،۵۳)

٭      حضرت نوحؑ کی موت (ج۶ص ۴۴ – ج۱۱ص ۲۷)

٭      ذکر موت (ج۹ ص ۴۲۲- ج۲۱ص ۵۲)

٭      حضرت ہارونؑ کی موت (ج۶ص ۳۰۱)

٭      حضرت ہارونؑ کو حضرت موسیٰؑ نے پکارا تو اس
نے قبر سے جواب دے کر حضرت موسیٰؑ کی براءت کا اعلان کیا (ج۶ص ۳۰۱)

٭      بیج سے نبات اور نطفہ سے حیوان پید اکرنا یہ
بھی مردہ کو زندہ کرنا ہے (ج۶ص ۴-ج۷ص ۲۶۱)

٭      مرنے والے کے سرہانے علی ؑ آتے ہیں اور اسے
خوشخبری سناتے ہیں (ج۷ص ۱۷۱-ج۲۱ص ۷۸۱)

٭      مومن مرتا ہے تو شجرہ طیبہ سے ایک پتہ گر
جاتا ہے (ج۸ص،۵۵۱)

٭      مومن زندہ ہو کر قائم آل محمد کی بیعت کریں
گے (ج۸ص ۹۰۲- ج۰۱ ۴۶۲)

٭      ملک الموت سے پیغمبر کی شب معراج ملاقات
(ج۸ص ۰۶۲-ج۱۱ص۶۴۱)

٭      موت کے بعد مچھلی کا آب حیات کے کنارے زندہ
ہونا (ج۹ص ۸۰۱)

٭      جس کو موت کا یقین ہے وہ ہنستا کیوں ہے؟
(ج۹ص ۸۱۱)

٭      موت کا منظر (ج۰۱ص ۸)

٭      بروز محشر موت کو ذبح کر دیا جائے گا (ج۹ص
۱۵۱،۷۵۱)

٭      حضرت ایوب ؑ کی اولاد کو دوبارہ زندہ کیا
گیا (ج۹ص ۴۴۲)

٭      ملک الموت کی آمد (ج۱۱ص ۵۴۱)

٭      موت کی تلخیاں (ج۱۱ص ۷۴۱-ج۵ص ۶۲۲)

٭      حضرت سلیمان ؑ کی موت (ج۱۱ص ۷۳۲ تا ۹۳۲)

٭      مَنْ مَاتَ عَلٰی حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ
مَاتَ شَھِیْدًا (ج۱ص ۲۲۲،۳۲۲)

٭      موت عمومی نفخ صور و قیامت صغری (ج۲۱ص ۴۳۱
تا ۷۳۱- ج۴۱س ۹۶۱)

٭      موت کے بعد زندگی پھر موت (ج۲۱ص ۴۴۱، ۵۴۱،
۷۸۱- ج۴۱ص ۳۷۱)

٭      وفات و توفّی (ج۳ ص۳۴۲)

٭      حضرت عیسیٰؑ کے متعلق قادیانی کے مزعومہ کا
ردّ (ج۳ص ۲۴۲،۳۴۲)

٭      موت اور وفات میں فرق (ج۳ص ۴۴۲، ۵۴۲ -ج۵
ص۶۲۲)

مولا: مَنْ کُنْتُ مَوْلاہُ (ج۵ص ۹۲،۱۴۱-
ج۹ص ۴۱،۱۶، ۴۶، ۹۵۲-ج۲۱ص ۸۰۲ – ج۳۱ص ۸)

موتفکہ: (ج۳۱ص ۲۶۱) قوم حضرت لوط ؑ مراد ہے
یا اہل بصرہ مراد ہیں، چنانچہ جنگ جمل کے بعد حضرت علی ؑ نے ان کو اہل موتفکہ کہا
ہے (ج۳۱ص۲۶۱)

مواقف: (ج۴۱ص۹۱۲)

٭      قیامت کے مواقف (ج۵ص۸۹۱)

میقات: جس مقام سے احرام باندھ کر حاجی جاتے
ہیں اس کو میقات کہا جاتا ہے۔

٭      میقات کل چھ ہیں (ج۳ص ۵۱)

٭      وقت اور میقات میں فرق اور میقاتِ موسیٰؑ
(ج۶ص ۴۸،۵۸،۰۹)

٭      مواقیت ِقیامت (ج۵ص ۹۹۱- ج۰۱ص۹۳-ج۲۱ص ۶۳ –
ج۳۱ص ۵۸۱-ج۴۱ص ۱۰۱)

مومن: سورہ مومنون کے فضائل (ج۰۱ص ۱۵) (ج۲۱ص
۰۴۱)

٭      مومن کے حقوق کی نگہداشت (ج۲ص ۳۷)

٭      مومن موت سے نہیں ڈرتے بلکہ تمنا کرتے ہیں
(ج۲ص ۵۴۱)

٭      مومن حضرت قائم آل محمد کے ساتھ ہوں گے
(ج۲ص ۴۹۱)

٭      مومن کی مومن سے محبت کا ثواب (ج۵ص ۹۱۱)

٭      مومن شہید ہوتا ہے (ج۳۱ص ۰۲۲)

٭      مومن کی آزمائش ہوتی ہے جہاں بھی ہو (ج۵ص
۸۴۲)

٭      مومن کے علامات (ج۶ص ۰۶۱-ج۸ص ۶۱۱،۶۲۱،
۴۳۱-ج۲۱ص ۹۱۱)

٭      مومن کا انجام (ج۷ص ۷۹۱- ج۹ص ۹۵۱- ج۳۱ص
۸۱۲، ۳۲۲)

٭      مومن وہ جس کے دل میں خوف خدا اور امید بخشش
برابر ہوں (ج۸ ص ۶۷- ج۹ ص۸۴۲)

٭      صفات مومنین (ج۰۱ص ۲۵-ج۳۱ص۴۹۱)

٭      رسول کی بیویاں مومنین کی مائیں ہیں (ج۱۱ص
۹۵۱)

٭      مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں (ج۱۱ص ۰۶۱)

٭      مومن آل فرعون (ج۵ص ۶۷)

٭      مومن آل فرعون کا نام حزقیل تھا (ج۲۱ ص۸۱)

٭      مومن آل فرعون قائم آل محمد کے ہمراہ ہوگا
(ج۷ص ۷۰۱-ج ۷ص۷۷۱)

٭      مصریوں میں سے تین آدمی مومن ہوئے: آسیہ
مومن آل فرعون تیسری ایک مریم نامی عورت (ج۰۱ص ۹۹۱) غالباً یہ عورت فرعون کی زوجہ
کی مشاطہ تھی (ج۷ص ۷۷۱)

٭      مومن آل فرعون کا نام حبیب نجار تھا جو حضرت
عیسیٰؑ کے نمائندوں کا مددگار تھا (ج۲۱ص ۸۱)

 ٭     مومن
آل فرعون اور مومن آل یٰسین شیعہ آل محمد تھے (ج۲۱ص ۸۴)

٭      مومن آل فرعون فرعون کا چچازاد تھا جو موسیٰؑ
پر ایمان لایا (ج۲۱ ص۹۴۱) یہ شخص حکومت فرعونی میں وزیر خزانہ تھا اسی نے حضرت
موسیٰؑ کو اطلاع دی کہ یہ لوگ تیرے قتل کے درپے ہیں لہذا بھاگ جاﺅ (ص۹۴۱)

٭حضور
نے فرمایا صدّیق تین ہیں:

حبیب نجار مومن آل یٰسین ، حزقیل مومن آل
فرعون ، علی بن ابی طالب ؑ (ج۲۱ص ۹۴۱- ج۳۱ ۰۲۲)

٭      جب فرعون کو حزقیل یعنی مومن آل فرعون کے
ایمان کا پتہ چلا تو اس نے اس کی گرفتاری کےلئے سپاہی بھیجے جب وہ وہاں پہنچے تو
آپ نماز پڑھ رہے تھے اور جنگلی درندے اس کی حفاظت کر رہے تھے پس وہ ناکام واپس
پلٹے اور حضرت حزقیل اتمام حجت کے بعد حضرت موسیٰؑ کی قوم میں اعلانیہ شامل ہو گیا
(ج۲۱ ص۶۵۱)

٭      سابقین چار ہیں:

حضرت ہابیل ؑ ، مومن آل فرعون ، مومن آل
یٰسین ، حضرت علی ؑ (ج۳۱ ص۶۹۱، ۲۰۲)

٭      مومن کا غیر مومن سے رشتہ ناجائز ہے (ج۳ص
۱۵)

٭      مومن کی غیر مومن سے دوستی ناجائز ہے (ج۵ص
۳۵۱)

مہر نکاح: مہر نکاح (ج۳ص ۵۷)

مُہر نبوت: مہر نبوت پر حضرت علی ؑ کا قدم
(ج۳۱ص ۴۷، ۵۷)

مہمان نوازی: (کھانا کھلانا) جنت کے دوسرے
دروازہ پر مرقوم ہے کہ جو قیامت کی بھوک سے بچنا چاہے وہ بھوکے کو کھانا کھلائے
(ج۲)

٭      عید غدیر کے دن مومنین کو کھانا کھلانا بہت
ثواب ہے (ج۵ص ۸۳)

٭      مستحب روزہ بھی افطار کیا جاسکتا ہے اگر
مومن کھانے پر مدعو ّ کرے (ج۵ص ۸۳ص ۰۷۲)

٭      مومن کی علامت ہے مسکینوں کو کھانا کھلانا
(ج۶ص ۶۶۱-ج۲۱ص ۴۵۱)

٭      عقلمندوں کی علامتوں میں سے ہے مہمان نوازی
(کھانا کھلانا) (ج۶ص ۸۶۱-ج۳۱ص ۴۵۱)

٭حضرت
یعقوبؑ کے دروازہ سے سائل خالی واپس گیا تو وحی ہوئی کہ امتحان کےلئے تیار ہو جاﺅ
اور اُسی رات حضرت یوسف ؑ نے بھی خواب دیکھا اس کے بعد ہر روز روٹی کھانے والوں کو
صبح و شام دعوت دیا کرتے تھے کہ جس نے کھانا کھانا ہو یعقوبؑ کے دسترخوان پر کھائے
(ج۸ص ۲۱،۵۷)

٭      جو مومنوں کو کھانا کھلائے اللہ اس کو تین
جنتوں سے کھانا کھلائے گا (ج۸ص ۴۳۱)

٭      اہل انطاکیہ نے حضرت موسیٰؑ و حضرت خضر ؑ
کو کھانا نہ کھلایا (ج۹ص ۵۱۱)

٭      مل کر کھانا بہتر ہے تنہا کھانے سے
(ج۰۱س۹۵۱)

٭      حضرت شعیبؑ کا حضرت موسیٰؑ کو کھانے کی
دعوت دینا (ج۱۱ص ۱۳)

٭      حضرت ابراہیم ؑ کی مہمان نوازی (ج۱۱ص ۸۷)

٭      آل محمد کا مسکین، یتیم، اسیر کو کھانا
کھلانا اور نزولِ سورہء دہر (ج۴۱ص ۰۵۱)

موءذّن: موذن آذان دے گا کہ ظالموں پر خدا
کی لعنت اور وہ موءذن حضرت علی ؑ ہو گا (ج۶ص ۲۳)

مواخات: حضور نے مہاجرین وانصار کے درمیان
صیغہء مواخات جاری کیا تو حضرت علی ؑ کو اپنا بھائی قرار دیا اور فرمایا: اَنْتَ
مِنِّیْ بِمَنْزِلَ©ةِ ھَارُوْنَ مِنْ مُوْسیٰ (ج۰۱ص ۹۵۱)

٭      باہمی مواخات یعنی بھائی چارہ میں اگرچہ
محبت و پیار کے اعتبار سے تمام ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہیں لیکن یہ مواخات وراثت
کو ثابت نہیں کرتی، کیونکہ وراث وہ بھائی ہوتا ہے جو رحم کے اعتبار سے بھائی ہو
(ج۱۱ص ۱۶۱)

٭      پیغمبر نے صحابہ میں بھائی چارہ قائم کیا
اور صیغہ مواخات جاری فرمایا مثلاً ابو بکر و عمر، عثمان و عبدا لرحمن ایک دوسرے
کے بھائی بن گئے توحضرت علی ؑ کو اپنا بھائی قرار دیا (ج۳۱ص۰۰۱)

مینڈک: فرعونیوں پر مینڈک کا عذاب (ج۶ص ۰۸)

٭      مشرکین مکہ پر مینڈکوں کا عذاب (ج۶ص ۲۷-
ج۹ص ۵۷ -ج۲۱ص ۸۴۱،۱۴۲)

٭      مروی ہے کہ جب ابراہیم ؑ آگ میں تھے چھپکلی
اس کو ہوا دے رہی تھی اور مینڈک اس پر پانی ڈال کر اس کو ٹھنڈا کرنے میں مصروف تھا
(ج۹ص ۶۳۲)

میزان : بروز قیامت اعمال انسانی کےلئے
میزان کا ہونا (ج۶ص ۷-ج۷ص ۸۹۱)

٭      تفسیر اہل بیت ؑ میں ہے کہ میزان سے مراد
اپنے زمانہ کے نبی یا امام کی اطاعت ہے (ج۹ص ۸۸۲)

٭      ولایت علی ؑ میزان ہے کہ حکم ہوگا وَقِفُوْھُمْ
اِنَّھُمْ مَسْئُوْلُوْن ان کو ٹھہراﺅ ان سے پوچھنا ہے اور ولایت علی ؑ کا سوال ہو
گا (ج۲۱ص ۶۳)

٭      جوشخص قیامت کے دن اپنے میزان کو بھارا
دیکھنا چاہے اسے اختتامِ کلام پر سُبْحَانَ رَبِّکَ الخ پڑھنا چاہیے (ج۲۱ص ۷۷)

٭      میزان کی وضاحت (ج۳۱ص ۹۷۱)

٭      امت محمدیہ کےلئے بروز محشر میزانحضرت علی
ؑ ہوں گے (ج۲۱ص ۲۰۲-ج۳۱ص ۹۷۱،۶۲۲)

٭      جس کا میزان بھارا ہوگا وہ جنتی اور جس
کامیزان ہلکا وہ جہنمی ہو گا (ج۴۱ص ۶۵۲)

میوہ جات: میوہ جات کا بیان (ج۳۱ص ۰۸۱)

میثاق: وہ میثاق جو بنی اسرائیل سے لیا گیا
(ج۲ص ۷۳۱-ج۵ص ۱۷،۷۴۱-ج۶ص ۵۶)

٭      میثاق انبیا ء (ج۳ص ۹۶۲، ۰۷۲-ج۱۱ص۱۶۱)

٭      عہد روز میثاق کی حقیقت کہ تمام ارواح سے
کس طرح عہدلیا گیا (ج۶ص ۳۱۱)

٭      حضرت پیغمبر نے فرمایا کہ روز ازل سے خدا
نے اپنی ربوبیت اور میری رسالت اور حضرت علی ؑ کی ولایت کا اقرار لیا تھا (ج۳۱ص
۸۰۲،۹۰۲)

میمونہ: میمونہ بنت حارث سے حضور کا نکاح
ہوا، یہ عباس بن عبدالمطلب کی سالی تھی (ج۹ص۰۹)

 


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *