نماز وصیت
یہ نماز مغرب
اور عشاء کے درمیان دو رکعت ہے۔ پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ اذا زلزلت
تیرہ دفعہ اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ قل پندرہ مرتبہ پڑھے۔
حضرت امام جعفر
صادق علیہ السلام نے جناب رسالت مآب ﷺ سے نقل فرمایا کہ آپ نے فرمایا: نماز مغرب و
عشاء کے درمیان تمہیں دو رکعت نماز کی وصیت کرتا ہوں، جو شخص اس کو ہر ماہ میں ایک
مرتبہ پڑھے وہ محسنین سے ہوگا اور جو اس کو ہر شب جمعہ پڑھے وہ مخلصین سے ہوگا اور
جو اس کو ہر رات میں پڑھے وہ جنت میں میرے ساتھ داخل ہوگا اور اس کا ثواب اللہ کے
علاوہ کوئی شمار ہی نہیں کرسکتا۔
نماز یومِ غدیر
یومِ غدیر وہ
دن ہے جس دن حضرت پیغمبر نے بقام خم غدیر حضرت امیر المؤمنین علی بن ابی طالب علیہ
السلام کا بازو پکڑ کر ایک لاکھ بیس ہزار حاجیوں کے مجمع میں اپنی آخری حج سے
واپسی کے موقعہ پر حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کا اعلان فرمایا تھا۔ یہ دن
شیطان علی بن ابی طالب علیہ السلام کے لئے عید کا دن ہے۔
کتاب العروۃ
الوثقیٰ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جو شخص غدیر کے دن
زوال آفتاب سے نصف گھنٹہ پہلے غسل کرکے دو رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ ہر دو رکعت
میں سورہ الحمد کے بعد دس مرتبہ سورۃ قل اور دس مرتبہ آیۃ الکرسی اور دس مرتبہ
سورۃ انا انزلنا پڑھے تو اس کا ثواب ایک لاکھ حج اور ایک لاکھ عمرہ کے برابر ہوگا
اور اس نماز کے بعد دنیا و آخرت کے حوائج میں سے جو بھی حاجت طلب کرے گا۔ خدا اس
کی دعا کو مستجاب کرے گا اور اس کے سوال کو رد نہ فرمائے گا۔
Leave a Reply