{
“@context”: “https://schema.org/”,
“@type”: “WebSite”,
“name”: “surah taghabun read online translation transliteration | سورة التغابن”,
“url”: “https://www.anwarulnajaf.com/2020/01/surah-taghabun-read-online-sura-at-taghabun-pdf-at-taghabun-sharif-arabic-english-urdu.html”
}
Surah Taghabun PDF Download or Read Online Sura At Taghabun PDF At Taghabun Sharif Arabic English Urdu | سورة التغابن
Are you interested in reading Surah Taghabun from the Quran, which was revealed in Madina? Surah Taghabun, a chapter from the Holy Quran, consists of 18 verses. You can easily download Surah Taghabun in PDF format with translation. Explore the profound teachings of Surah Taghabun by downloading the full PDF. Whether you’re looking for Surah Taghabun PDF downloads or want to learn more about this chapter, we have the resources you need.
بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (1) هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (2) خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ (3) يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (4) أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَبْلُ فَذَاقُوا وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (5) ذَلِكَ بِأَنَّهُ كَانَت تَّأْتِيهِمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالُوا أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا فَكَفَرُوا وَتَوَلَّوا وَّاسْتَغْنَى اللَّهُ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَمِيدٌ (6) زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا قُلْ بَلَى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ (7) فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِي أَنزَلْنَا وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (8) يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذَلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (9) وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ خَالِدِينَ فِيهَا وَبِئْسَ الْمَصِيرُ (10) مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (11) وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَإِنَّمَا عَلَى رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ (12) اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ (13) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ وَإِن تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (14) إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَاللَّهُ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ (15) فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَأَنفِقُوا خَيْرًا لِّأَنفُسِكُمْ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (16) إِن تُقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعِفْهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ (17) عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (18)
Surah Taghabun – Urdu Text
اللہ کے نام سے جو رحمٰن و رحیم ہے (شروع کرتا ہوں)
اللہ کی تسبیح کرتا ہے ہر وہ جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے ملک صرف اسی کا ہے اور حمد صرف اسی کے لئے ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے ﴿١﴾وہ وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا پس بعض تم میں سے انکاری ہیں اور بعض ماننے والے ہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ دیکھنے والا ہے ﴿٢﴾اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور تم کو شکل دی اور نہایت اچھی شکل میں بنایا اور اسی کی طرف بازگشت ہے ﴿٣﴾وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو اور اللہ دل کی باتوں کو جاننے والا ہے ﴿٤﴾کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو پہلے کفر کر گزرے تو انہوں نے اپنے کئے کا مزہ چکھ لیا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے ﴿٥﴾یہ اس لئے کہ ان کے پاس آتے تھے رسول واضح دلیلوں کے ساتھ تو کہتے تھے کہ کیا یہ انسان ہمیں ہدایت کرتے ہیں پس انکار کرتے اور منہ پھیر لیتے تھے اور اللہ بے نیاز ہے اور اللہ غنی اور لائق تعریف ہے ﴿٦﴾کافروں کا خیال ہے کہ انہیں اٹھایا نہیں جائے گا کہہ دیجئے ہاں خدا کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے ساتھ اپنے عمل کے اور یہ بات اللہ پر آسان ہے ﴿٧﴾پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے اتارا اور اللہ تمہارے عمل سے خبردار ہے ﴿٨﴾جس دن تم کو جمع کرے گا جمع کے دن کے لئے وہ تغابن کا دن ہوگا اور جو شخص اللہ پر ایمان رکھے اور نیک عمل بجا لائے اس سے اس کی لغزشیں دُور کرے گا اور اس کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے یہ بڑی کامیابی ہے ﴿٩﴾اور جو لوگ کافر ہیں اور جھٹلایا انہوں نے ہماری آیات کو ایسے لوگ دوزخ کے مستحق ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گےاور وہ بُرا ٹھکانا ہے ﴿١٠﴾جو بھی تکلیف پہنچے وہ اللہ کے علم میں ہے اور جو شخص اللہ پر ایمان رکھے۔ اللہ اس کے دل کو سکون بخشتا ہے اور اللہ ہر شے کا جاننے والا ہے ﴿١١﴾اور اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی پس اگر روگردانی کرو گے تو نہیں ہے ہمارے رسول پر مگر واضح طور پر پہنچا دینا ﴿١٢﴾اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ پر ہی مومنوں کو توکل کرنا چاہیے ﴿١٣﴾اے وہ لوگ جو ایمان لائے جو تحقیق تمہاری بیویوں اور اولادوں میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں ان سے بچو اور اگر تم معاف کردو اور درگزر کرو اور بخش دو تو تحقیق اللہ بخشنے والا مہربان ہے ﴿١٤﴾سوائے اس کے نہیں تمہارے مال اور اولادیں آزمائش ہیں اور اللہ کے نزدیک بڑا اجر ہے ﴿١٥﴾پس اللہ سے ڈرو جس قدر تمہاری طاقت ہو اور سُنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو (اور قصد کرو) نیکی کا اپنے لئے اور جو نفس کے بخل سے بچایا جائے پس ایسے لوگ ہی چھٹکارا پانے والے ہیں ﴿١٦﴾اگر تم اللہ کو قرض حسن دو تو اس کو تمہارے لئے دوگنا کردے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ شکر کی جزا دینے والا حلیم ہے ﴿١٧﴾غیب اور شہادت کے جاننے والا غالب دانا ہے ﴿١٨﴾
Surah Taghabun – Urdu Transliteration
خواص ، سورہ تغابن
- یہ سورہ مدینہ ہے اور اس کی آیات بسم اللہ کوملا کر انیس بنتی ہیں۔
- جنا ب رسالتمآبﷺ سے مروی ہے کہ جو شخص سورہ تغابن کی تلاوت کر یگا ناگہانی موت سے محفوظ رہے گا۔
- اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جوشخص اس سورہ کوفریضہ میں پڑھے گا اس کے لئے یہ سور ہ مجیدہ قیامت کے روز شفیع ہو گی اور اس سے جدا نہ ہو گی یہانتک کہ جنت میں داخل ہو گا۔
- تفسیر برہان میں خواص القرآن سےمنقول ہے کہ اس کی تلاوت کر سے والا ناگہانی موت سے محفوظ ہوگا اور اگر سلطان جابر کے سامنےپیش ہو جس کی گرفت کاخطرہ لاحق ہوتو اس کے شر سے بھی محفوظ رہے گا دوسری روایت میں ہے جس کسی سے کچھ خوف ہو اگریہ سورہ پڑھ لے تو اس کے شر سے محفوظ رہے گا باذن خدا (نبوی)۔
- اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ جو شخص مسبحات (وہ سورتیں جن کی ابتداء تسبیح سے ہے) کو سونے سے پہلے پڑھے تو مرنے سے قبل قائم آل محمد کی زیارت کرے گا اور مرنے کے بعد رسول اللہ کے سایہ میں رہے گا (فوائد القرآن )۔
- لہ الملک ولہ الحمد ملک اورحمد پرالف و لام استٖغراق کے لئے ہیں یعنی تمام ملک اسی ایک خدا کا ہے جس میں اس کا کوئی شریک و حصہ دار نہیں ہے لہذا تمام مخلوق کی حمد و ثناء کا مستحق بھی وہی ایک خدا ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔
ھوا لذی خلقکم یعنی اللہ نے تم سب کو پیدا کیا اور صحیح فطر ت پر آزادی طبع کے ساتھ پیدا کیا اس کے بعد کوئی کافر ہوا تو اپنی مرضی سے اور کوئی مسلمان ہواتو اپنے اختیار سے پس بعضوں نے اپنی صحیح فطرت پر قائم رہ کر ایمان کو قبول کر لیا اور ما ن لیا کہ میرا خالق خدا ہے اور بعضوں نے اپنی صحیح فطرت کے تقاضوں سے ہٹ کر وجود خالق کا انکار کردیا چنانچہ حدیث میں وارد ہے کہ ہر بچہ فطرت صحیحہ پر پیدا ہوتاہے لیکن بعدکی تربیت اسے یہودی یا نصرانی بنا دیا کرتی ہے۔
فاحسن صورکم یعنی اللہ نے انسانوں کو تمام موجودات میں سے حسین ترین صورت و شکل پر پیدا کیا ہے اور پوری کائنات میں اس سے زیادہ حسین کوئی مخلوق نہیں ہے اور ظاہری حسن و صورت کے علاوہ انسان کوجو زیور عقل سے آراستہ کیاہے اس کا کوئی جواب نہیں پس عقل کے مقتضاد کے ماتحت اگر انسان پست کردار کو چھوڑ کر اعلی کردار کو اپنالے تو اس کی حسن صورت پر حسن سیرت کا سنگار اس کو ملائکہ کے لئے باعث رشک بنا دیتا ہے۔
فقالو اابشر یعنی گذشتہ امتوں نے رسولوں کی بات کو صرف اس لئے ٹھکرا دیا کہ ان کے نزدیک بشریت اور رسالت میں منافات تھی کہ جو رسول ہوتا ہے وہ بشر نہیں ہوتا پس وہ کہتے تھے کہ تم بشر ہو کر ہمارے ہادی کس طرح بن سکتے ہو بلکہ ہادی وہ ہونا چاہئیے جو بشر نہ ہو آج کل بھی بشریت اور نبوت میں منافات کے قائل ان سابق کافروں کا اگلا ہو ا لقمہ چبا رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے خدا وند کریم ان کو حق سمجھتے اورقبول کر نے کی توفیق بخشے۔
آئمہ نور ہیں
والنور الذی انزلنا تفسیر برہان میں ابو خالد کابلی سے مروی ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام نےفرمایا اس جگہ نور سے مراد آئمہ آل محمد ہیں یہی وہ اللہ کا نور ہیں جن کو اللہ نے نازل کیا اور یہی آسمانوں اور زمین کا نور ہیں اے ابو خالد نور امام مومنوں کے دلو ں میں سورج سے زیادہ روشنی دیتاہے ان کے ذریعے سے مومنوں کےدل منور ہوتےہیں اور جن دلوں میں اللہ کانور نہیں و ہ تاریک ہوتے ہیں اے ابو خالد ہم سے وہی محبت کریگا جس کادل طاہر ہوگا اور دل اسی کا طاہر ہو سکتاہے جوہمارے احکام کو تسلیم کر لے اور ہمارے سامنے جھکنے والا ہو پس ایسے شخص کو خدا قیامت کے دن گھبراہٹ سے محفوظ رکھے گا۔
بروایت محمد بن فضیل امام موسی کاظم علیہ السلام سے منقول ہے کہ یریدون لیطفئو ا نور اللہ میں نور سے مراد حضرت امیر علیہ السلام کی ولایت ہے اور واللہ متم نورہ میں بھی نور سے مراد امامت ہے اور اس جگہ نور سے مراد امام ہے تفسیر مجمع البیان میں نور سے مراد قرآن مجید لیا گیاہے اور امام و قرآ ن چونکہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے لہذا دونو ں توجہیں درست ہیں۔
التغابن غبن سے ہے جس کا معنی ہے نفع اگر تجارت میں کسی کو نفع پہنچے تو اس کو غابن کہتے ہیں او ر اگر نقصان پہنچے تو اس کو مغبون کہتے ہیں پس قیامت کے روز مومن اپنی دنیاوی قربانیوں کی وجہ سے نعمات جنت حاصل کرے گا تو وہ غابن ٹھہرے گا اور اس کے برعکس جو شخص اپنی دنیاوی لذتوں میں کھو کر جنت سے دست کشی کرنے پر مجبور ہو گا اور جہنم کا مستحق ہوگا تو وہ مغبون ہوگا اسی مناسبت سےقیامت کو یوم التغابین کہاگیاہے کہ وہ دن غابن اور مغبون کے نتیجے کا دن ہے اور منقول ہے کہ ہرشخص کے لئے جنت اور جہنم میں ٹھکانے موجود ہیں پس جنتی کو اس کا جہنمی ٹھکانا بھی دکھایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اگر تیرا ایمان وعمل نہ ہوتا تو تجھے وہ ٹھکانا نصیب ہوتا پس اس کی خوشی میں اضافہ ہوگا اور اللہ کا شکر کرے گا اور کافر کوجنت کا ٹھکانا دکھایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اگر تونے نیک اعمال کئے ہوتے تو تجھے یہ ٹھکانا ملتا پس اس کی حسرتوں میں اضافہ ہوگا۔
رکوع نمبر 16باذن اللہ چونکہ اللہ نے کسی کو مجبور نہیں کیا اس لئے جو تکلیفیں بندوں کو بندوں کی جانب سے ظلم کےطور پر پہنچتی ہیں وہ اس لئے ہیں کہ اللہ کی طرف سے انسان نیکی اور بدی میں مختار ہے مجبور نہیں پس یہاں اذن کامعنی رضا نہیں بلکہ اس کو اختیار دینا مراد ہے اور بعضوں نے اذن کا معنی علم کیاہے یعنی خداوند کریم سے کسی کی تکلیف پوشیدہ نہیں پس وہ ظالم کو سزا دے گا اور مظلوم کو جزا دےگا البتہ وہ مصائب اور تکالیف جو اللہ کی طرف پہنچتی ہیں مثلا بیماری دنیاوی نقصان بچو ں کی موت اور عزیزوں کےدکھ درد وغیرہ توایسے مقامات میں اذن سےمراد اس کی مشیت ہوگی۔
ان من ازواجکم یہاں من تبعیضیہ ہے یعنی عورتوں میں سے اورا ولاد میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جو دینی لحاظ سے انسان کے دشمن ہوتےہیں اور بعض دنیاوی لحاظ سے بھی دشمن ہوتے ہیں بعض عورتیں شوہروں کی موت کی خواہشمند ہوا کرتی ہیں تاکہ اس سے گلو خلاصی کے بعد دوسری شادی کریں اسی طرح بعض اولاد بھی باپ کی موت چاہتی ہے تاکہ اس کی حکومت کاجوا گردوں سےنکلے اور اس کے وارث ہو کر ہم مطلق العنان بن جائیں اسی طرح بعض اولاد باپ کو اپنے مفاد کے لئے حرام خوری اور غلط کاری پرآمادہ کرتی ہے اور بعض بیویاں بھی اسی قسم کی ہوا کرتی ہیں پس اس قسم کی اولاد اور بیویوں کی دشمنی سے خدا نے متنبہ فرمایا ہے کہ ایسی اولاد اور بیویو ں کی ہر معاملہ میں اطاعت نہ کیا کرو بلکہ مفاد دینی و دنیاوی کو ملحوظ خاطر رکھ کر قدم اٹھایا کرو اور پھر یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اگر ان سے تمہارے حق میں کوئی لغزش ہو جائے تو ان سے انتقام لینے کے بجائے درگذر کرنا معاف کر نا اور بخش دینا تمہارے لئے زیادہ موزوں ہے تاکہ گھریلو زندگی ناخوشگوار اور تلخ نہ ہو جائے چنانچہ مکہ سے جب مسلمانوں کو ہجرت کا حکم ہواتھا تو بعض لوگوں نے ہجرت کاارادہ کیا لیکن اس کی بیوی اور بچے اس کو چمٹ گئے اور اس کے سامنے رونے لگ گئے کہ ہائے تیرے بعد ہم کہاں جائیں گے پس ان کی محبت میں گرفتار ہو کر سعادت ہجرت سے وہ لوگ محروم ہو گئے پس ایسے لوگوں کو خدا نے تنبیہیہ فرمائی اور بعض اپنے ارادوں میں پختہ تھے کہ جب بیوی اور بچوں نے شور مچا یا تو ان کوصاف کہہ دیا کہ اگر تم میری جدائی کو برداشت نہیں کر سکتے تو میرے ساتھ ہجرت کرو پس وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔
اس میں شک نہیں کہ مال اور اولاد انسان کے لئے بہت بڑی آزمائش کامقام ہیں کیونکہ ان کی بدولت انسان دنیاوی امور میں مبتلا ہو کر آخرت سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اوربعض اوقات ان کی وجہ سے ناقابل عفو گناہوں میں پھنس جاتاہے پس دعا ہے کہ خداوند کریم ہمیں مال و اولاد کے ساتھ استقامت بخشے اور خدا مال ایسا دےجو راہ خدا میں خرچ ہو اور اولاد ایسی دے جو اطاعت پروردگار میں ممدو معاون ثابت ہوں کیونکہ جس طرح بد اولاد والدین کے لئے بعض اوقات جنت سے روکاوٹ کاباعث بنتی ہے اسی طرح نیک اولاد اپنے ماں باپ کے لئے دوزخ سے بچانے کا ذریعہ بن جایا کرتی ہیں۔
پس اللہ سے ڈرو جس قدر تمہاری طاقت ہو او سنو اور اطاعت کرو او ر خرچ کرو (اور قصد کرو) نیکی کا اپنے لئےاور جونفس کے بخل سے بچایا جائے پس ایسے لوگ ہی چھٹکارا پانے والے ہیں۔
فاتقواللہ یعنی جس قدر تمہاری ہمت ہو خوف خدا کرو اور اس کی دوسری جگہ وضاحت اس طرح ہےفاتقوا اللہ حق تقاتہ یعنی تقوی اس طرح اختیار کرو جس طرح تقوی کا حق ہے اور راہ خدا میں خرچ کرنا بھی اگرچہ اطاعت کا فر د تھا لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کو الگ ذکر فرمایا کیونکہ نماز پڑھنے میں کچھ خرچ نہیں لیکن زکوۃ دینے میں کچھ خرچ کرنا پڑتا ہے حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ فاتقوااللہ حق تقاتہ پر اہل بیت کے سوا کسی نے عمل نہیں کیا ہم نے اس کا اس طرح ذکر کیا کہ اس کو کبھی ہم سے اس کی نافرمانی سرزد نہیں جب یہ آیت مجیدہ اتری تو صحابہ نے معذرت پیش کی پس اس کے بعد یہ دوسری آیت اتری کہ اتنا تقوی کرو جس قدر تمہاری طاقت ہو۔
فاتقو اللہ یعنی جس قدر تمہاری ہمت ہو خوف خدا کرو اور اس کی دوسری جگہ وضاحت اس طرح ہے فاتقوااللہ حق تقاتہ یعنی تقوی اس طرح اختیار کرو جس طرح تقوی کا حق ہے اور ر اہ خدا میں خرچ کرنا بھی اگرچہ اطاعت کافرد تھا لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کو الگ ذکر فرمایا کیونکہ نماز پڑھنے میں کچھ خرچ نہیں لیکن زکوۃ دینے میں کچھ خرچ کرنا پڑتا ہے حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ فاتقواللہ حق تقاتہ پر اہل بیت کے سوا کسی نے عمل نہیں کیا ہم نے اس کااس طرح ذکر کیا کہ اس کو کبھی بھلایا نہیں اور ہم نے اس کا اس طرح شکر کیاکہ کبھی کفر کا ارتکاب نہیں کیا اور ہم نے اس کی اس طرح اطاعت کی کہ کبھی ہم سے اس کی نافرمانی سرزد نہیں جب یہ آیت مجیدہ اتری تو صحابہ نے معذرت پیش کی پس اس کے بعد یہ دوسری آیت اتری کہ اتنا تقوی کرو جس قدر تمہاری طاقت ہو۔
بخل اور شح کا بیان
ومن یوق شح نفسہ یعنی جو بخل کی بیماری سے بچ جائے وہ کامیاب ہو ا فضل بن ابو مرہ کہتا ہے کہ رات بھر میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو دعا مانگتے دیکھا آپ یہی دعا مانگ رہےتھے اے اللہ مجھے نفس کے بخل سے محفوظ رکھ تو میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا اس بیماری سے بدترین بیماری اور کونسی ہو سکتی ہے کہ خدا فرماتا ہے جو اس بیماری سے بچ گیا وہ کامیاب ہو ا حضرت امیرا لمومنین علیہ السلام نے فرمایا بخیل آدمی ظالم سے بدتر ہے کیونکہ ظالم کے متعلق توقع ہو سکتی ہے کہ اپنے ظلم سے توبہ کر لے اور لوگوں کے حقوق غصب کردہ واپس دیدے لیکن بخیل آدمی سے یہ امید نہیں ہوسکتی کیونکہ بخیل آدمی زکوۃ صدقہ صلہ رحمی مہمان نوازی خیرات اور جملہ نیک مصارف سے محروم ہو گا اور جنت بخیل طبقہ پر حرام ہے ایک روایت میں آپ نےفرمایا کہ جب خدا کسی آدمی پر ناراض ہوتاہے تو اس کو بخیل طبقہ پر حرام ہے ایک روایت میں آپ نے فرمایا کہ جب آپ نے فرمایا کہ جب خدا کسی آدمی پر ناراض ہو تاہے تو اس کی بخل کی مرض میں مبتلا کر دیتاہے۔
امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا کہ بخیل وہ ہے جو واجبات کی ادائیگی سے پہلو تہی کرے۔
امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے حضرت نبی کریم نے فرمایا جو شخص زکوۃ مفروضہ ادا کرے اور قومی سطح پر خرچ کر ے وہ بخیل نہیں ہے بخیل وہ ہے جو زکوۃ واجبہ بھی ادا نہ کرے اور قوم کی ضروریات پر بھی خرچ نہ کرے لیکن اس کے علاوہ فضول کاموں پر خرچ کرے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ شحیح بخیل سے بھی بدتر ہے کیونکہ بخیل وہ ہے جو اپنے پیسے میں بخل کرے اور شحیح وہ ہے جو لوگوں کے جیب میں پیسہ نہ دیکھ سکے بلکہ حلا ل یا حرام طریقہ سےاس کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
امام حسن مجتبی علیہ السلام نے فرمایا شحیح وہ ہے جو پیسہ کو شرف سمجھے اور خرچ کرنے کو تاوان سمجھے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نےفرمایا شحیح وہ ہے جو جائز خرچ سے گریز کرے اور ناجائز خرچ میں دریا دلی کا مظاہرہ کرے۔
جناب رسالتمآبﷺ سے منقول ہے بخیل وہ ہے جو میرا نام سن کر درود شریف نہ پڑھے اللھم صل علی محمد وآل محمد اور بعضوں نے کہا ہے کہ بخیل وہ ہے جو خود کھائے اور دوسروں پر بخل کرے او رشحیح وہ ہے جو دوسرے خرچ کرنیوالوں کے خرچ کرنے کو بھی ناپسند کرے اور ان دونوں سے بدتر لئیم جو کمایا ہو ا مال نہ خود کھائے اور نہ دوسروں کو کھانے دے۔
صدقات جاریہ اور مدارس دینیہ
بخیل اور شحیح کے مقابلہ میں سخی اور کریم ہوا کرتے ہیں چنانچہ سخی وہ ہوتا ہے جو اپنے کمائے ہوئے حلال رزق سے خود بھی کھائے اور دوسروں کو بھی کھلائے اور کریم وہ ہوتاہے جس کا مال صرف اپنی ضروریات کے مطابق ہی ہو لیکن وہ اپنے مصارف میں کمی کر کے دوسروں کی حاجات کو پورا کرنے کی سعادت حاصل کرے یعنی خود نہ کھائے اور دوسروں کوکھلائے اور ا ن دونو میں سے بہترین انسان وہ ہے جو اپنے واجب و مستحب صدقات سے فارغ البال ہونے کے بعد خوشنودئ خدا کے لئے اپنے تمام بچت مال سے محتاجو ں اور بے کسوں و بے نواؤں کی خبر گیری کرے اور زائد از ضرورت اشیاء و رقوم کو ذخیرہ و خزانہ کرنے سے گریز کرے اور سب سے زیادہ نیک بخت وہ انسان ہوتاہے جواپنے زائد از ضرورت اموال کوصدقہ جاریہ قرار دے دے مثلا کوئی مسجد یا امام باڑہ یا مدرسہ دینیہ تعمیر کرا لے یا کوئی دوسرا ایسا کام کر ے جس سے بنی نوع انسا ن کافی دیر تک استفادہ کرتے رہیں اور دور حاضر میں جب کہ اسلام مغربیت کی گرفت میں آ کر زندگی کی آخر ی سسکیاں لے رہا ہے او راس کی مظلومیت اور کس مپرسی کا یہ عالم ہے کہ مسلمان کہلانے والے بھی اسلام کا تمسخر اڑانے میں اپنی روشن خیالی محسوس کرتے ہیں حتاکہ خود مسلمان اپنے علماء کا مذاق اڑاتے ہیں اور انہیں حقارت کی نگاہوں سےدیکھتے ہیں پس اپنے اموال سے زیادہ سے زیادہ رقو م مدارس دینیہ پر لگانا سب سے زیادہ موجب ثواب ہے جہاں قوم کے نونہال دینی و اسلامی علوم حاصل کر کے کفر و زندقہ کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں لہذا صدقہ جاریہ کے طور پر مدارس دینیہ پر زمینیں یا جائدادیں وقف کرنا بہت بڑی نیک بختی ہے میں نے اپنی ذاتی کاوش و محنت سے اپنے پس ماندہ علاقہ جاڑا ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک دینی درسگاہ قائم کی ہے جس سے کافی افاضل استفادہ کر کے قوم کے لئے فریضہ ہدایت اور سلسلہ تعلیم و تعلیم میں مشغول ہیں مدرسہ کا نام باب النجف جاڑا ہے اور یہ زیر نظر تفسیر انوارالنجف اسی دینی ادارہ کی علمی خدمات کے سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے پس تمام قارئین سے ادار ہ مذکورہ کی اعانت کی اپیل ہے وما علینا الالبلاغ۔
میرے والد ماجد جو اس دینی درس گاہ کے حقیقی بانی تھے اسی سال 14 ماہ مبارک رمضان 397 کو وفات پاگئے قارئین کرام سے ان کے لیے سورہ فاتحہ کی استدعا ہے۔

.jpg)
Leave a Reply