آیاتِ فاتحہ کی دوسری معنوی توجیہ
آیاتِ فاتحہ کی دوسری معنوی توجیہ
اور روحانی معراج کا حصول جملہ روحانی بیماریوں سے تندرست ہونے کی تعبیریں ہیں جس
کی ترجمانی ملا صدراv نے جس رنگ میں کی ہے اس کا ماحصل یہ
ہے کہ انسان کی گمراہی کے تین رستے ہیں:
(۱) شہوت (۲) غضب (۳) خواہش نفس
غضب آفت ِعظیمہ ہے لیکن خواہش نفس اس سے سخت ترین ہے-
الصَّلٰوةَ تَنھٰی عَنِ الفَحشَآءِ وَالمُنکَرِ وَالبَغی نماز فحشا و منکر اور بغی سے
روکتی ہے-[1]
شہوت ہے ”مُنْکَر“
سے مراد غضب ہے اور ”بَغْی“
ھوائے نفس کی تعبیرہے اور انہی تین وجوہات کی بنا پرحضرت موسیٰ کی اُمت میں
مسخ واقع ہوا، چنانچہ بندر، سور اور عبد ِطاغوت ہوئے-
سے دوسروں پر ظلم کرتا ہے اور ھوائے نفس سے اپنے اللہ پر ظلم کرتا ہے –
رسالتمآبﷺ کا ارشاد ہے کہ ظلم تین قسم کے ہیں:
نہیں ہے-
کیا جائے گا-
دے-
نہیں وہ شرک ہے جو ھوائے نفس کی پیداوار ہے، وہ ظلم جس کو چھوڑا نہ جائے گا یعنی اس کا معاوضہ لیا جائے گا وہ
بندوں پر ظلم کرنا ہے جو غضب کی پیداوار ہے اور وہ ظلم جس کواگر خدا چاہے تو معاف کر دے وہ اپنے نفس کا ظلم ہے جو قوتِ
شہویہ کی پیداوار ہے-
ایک کی دو فرعیں ہیں شہوت کی دو فرعیں حرص اور بخل ہیں، غضب کی دو فرعیں خود پسند
ی اور تکبر ہیں، ھوائے نفس کی دو فرعیں کفر وبدعت ہیں، اِن کے جمع ہوجانے کا نتیجہ رحمت ِخدا سے دوری ہے-
شہوت، غضب، ھوائے نفس سورہ فاتحہ کی پہلی آیت بِسْمِ
اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کی تلاوت و معرفت سے ختم ہو جاتے
ہیں اور باقی آیاتِ فاتحہ سے تفصیلی طور پر ان کی فرعیں ختم ہو جاتی ہیں اور ان کا
لازمی نیتجہ ہے قربِ خدا وندی جو مومن کی روحانی معراج ہے، کیونکہ جب انسان بِسْمِ
اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھتا ہے تو اللہ کی معرفت
سے ھوائے نفس کا بھوت اس کے سر سے اُتر جاتا ہے کیونکہ خداوند کریم ارشاد فرماتا
ہے:
مَنِ اتَّخَدَ اِلٰھَہُ ھَوَاہ ترجمہ: کیا تو نے اس کو دیکھا جو اپنی خواہش نفس کو خدا
جانتا ہے[2]؟
یعنی ھوائے نفس اُلو ہیت سے برسرِ پیکار رہتی ہے-
ہواکہ میری مخلوق میں کوئی بھی سوائے ھوائے نفس کے میرے ساتھ میرے ملک میں جھگڑا
نہیں کرتا، پس انسان کو جب اللہ تعالی کی معرفت حاصل ہوگئی اور اس کو خدا تسلیم کر
لیا تو ھوائے نفس کے شکنجے سے آزاد ہو گیا اور جب الرحمن
کا تصور کیا تو غضب چلا گیا کیونکہ غضب بھی طلبِ بڑائی اور تحصیل ملک وجاہ کےلئے
ہوتا ہے اور ملک وجاہ ذاتِ احدیت ہی کےلئے ہے-
یَومَئِذٍ ا لحَقُّ لِلرَّحمٰنِ [3]
رحمن کےلئے تو طلب ملک وجاہ کےلئے غضب کی اتباع سے خود بخود کنارہ کش ہوجائے گا
اور الرحیم
کے کہنے سے شہوت کا آہنی جال بوسیدہ ہو کر خاکستر ہوجائے گا کیونکہ
رحیمیت کا تصور بہیمانہ کردار کے قلع قمع کےلئے کافی ہے، پس معلوم ہوا کہ بِسْمِ
اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کے تینوں اسمائے طاہرہ ہرسہ
صفاتِ بد(شہوت، غضب اور ھوائے نفس) کے دور کرنے کے کفیل ہیں اور یہی روحانی امراض
کی جڑیں ہیں اور تمام بد افعال انہی کی شاخیں اور نتیجہ ہیں-
امراض کا دفیعہ اس طرح کرتی ہیں:
جو کچھ عطافرمایا میں اس پر راضی ہوں اور اس کا شکر ادا کرتا ہوں پس شہوت کافور
ہوگئی-
العَالَمِینَ پڑھا تو معلوم ہوا کہ
عالمین کا رازق ومربّی اللہ ہے تو اپنی کفایت سے زیادہ کا حرص نہ کرے گا اور اپنے
پاس جمع شدہ بخل نہ کرے گا-
الرَّحِیمِ مَالِکِ یَومِ الدِّین کے
پڑھنے سے اس کا غضب رفع ہوجائے گا کیونکہ معلوم ہو گیا کہ ملک اور عظمت اسی کی ذات
کےلئے ہی سزاوار ہے-
نَعبُدُ کے پڑھنے سے تکبر کا قلع قمع ہو
گیا-
نَستَعِین سے خود پسند ی ختم ہوگی کیونکہ
معلوم ہوگیا کہ ہر امر کی انجام دہی کےلئے میں خود ناکفیل ہوں اور اللہ تعالیٰ کی
مدد کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے-
الصِّرَاطَ المُستَقِیم سے ھوائے نفس
کا خاتمہ ہوگیا اپنے من بھائے راستے پر چلنے سے گریز کرکے اللہ تعالیٰ سے صراطِ
مستقیم پر رہنے کی دعا ہے-
الَّذِینَ اَنعَمتَ عَلَیھِم کے پڑھنے سے
کفر رفع ہو گیا-
عَلَیھِم وَلَاالضَّآلِّین سے بدعات کا طریقہ ختم ہوگیا-
اصول و فروع کا پوری طرح ازالہ ہوگیا تو ظلمانی حجابات دور ہوگئے اور ہر طرف سے
رحمت ِخدواندی نے گھیر لیا اور قربِ روحانی حاصل ہو گیا اور یہی ہے معراجِ روحانی-
[4]
بیماریوں سے بچنے کی تعلیمات ہیں جن کا اصولی طور پر سورہ فاتحہ نے اجمالی رنگ میں
ذکر کر دیا ہے لہذا یہ سورہ مبارکہ ”اُمّ
القرآن“ اور ”الاسَاس“
ہے اور من جملہ تقدیمِ سورہ فاتحہ کی وجوہات کے یہ بھی ایک وجہ ہے-
روایت کا آخری حصہ ذکر کرنا نہایت موزوں ہے جس میں سرکارِ رسالتمآبﷺ نے ابوابِ جہنم کی تعداد سات بتلائی ہے اور ہردروازہ پر جو کچھ لکھا تھا بیان
فرمایا چنانچہ حضورﷺ ارشاد فرماتے ہیں:
لکھے ہوئے تھے:
اللہ سے ڈرنے والا بے خوف ہے (۳) اور ہلاک ہونے والا فریب خوردہ وہ ہے جو اللہ کے
غیر سے اُمید رکھے اور اس کے غیر سے خوفزدہ ہو
بھوکے لوگوں کو کھانا کھلائے (۲) جوروزِ قیامت برہنہ محشور ہونے سے بچنا چاہے وہ
دنیا میں برہنہ جسم لوگوں کو لباس پہنائے (۳) جو قیامت کی پیاس سے بچنا چاہیے وہ
پیاسوں کو پانی پلائے
ہے (۲) اہل بیتکی توہین کرنے والا اللہ کے نزدیک ذلیل ہے (۳) ظالموں کی امداد کرنے والا اللہ کے
نزدیک ذلیل ہے
تھا:
کی دشمن ہے (۲) بے محل کلام نہ کرو کیونکہ یہ اللہ کی رحمت سے دوری کی موجب ہے (۳)
ظالموں کی امداد نہ کرو
والوں پر حرام ہوں (۳) میں روزہ دار پر حرام ہوں
کرلو (۲) تنبیہ کئے جانے سے پہلے اپنے نفسوں کو تنبیہ کر لو (۳) اللہ کی بار گاہ
میں پیش ہونے سے قبل اس سے دعا کر لو [5]
معلوم ہو سکتا ہے کہ دروازہ ہائے جنت پر جو خصلتیں مرقوم تھیں وہ آیاتِ سورہ فاتحہ
کے منطوقی اصول اور ان کی فروعات ہیں لہذا آیاتِ فاتحہ کو کلید جنت کہنا بالکل
بجاہے اسی طرح وہ خصلتیں جن سے بچنے کےلئے دروازہ ہائے جہنم کی تحریر صدا دے رہی
ہے وہ آیاتِ سورہ فاتحہ کے مفہومِ مخالف کے اصولاًوفروعاً نتائج ہیں جن کا نتیجہ
جہنم ہے-
کرنا تھا پورا ہوگیا اس کے بعد سورہ بقرہ
کی تفسیر آئے گی
المُوَفِّقُ وَالمُعِینُ عَلَیہِ تَوَکَّلتُ وَھُوَحَسبِی وَنِعمَ الوَکِیل اَللّٰھُمَّ
صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّد
