Surah Fatiha | Tarjama wa Tafseer Read Online PDF | سورة الفاتحة (1) — al-Fatihah — The Opening — الفَاتِحَۃَ
Surah Fatiha | Tarjama wa Tafseer Read Online PDF | سورة الفاتحة (1) — al-Fatihah — The Opening — الفَاتِحَۃَ
Surah Al-Fatiha, also known as “The Opening” (الفَاتِحَۃَ), holds a special place in the Quran as the first chapter. It is recited in every unit of the Muslim prayer, serving as a fundamental component of daily worship. On this page, you can read Surah Al-Fatiha with its Tarjama (translation) and Tafseer (exegesis) in PDF format. Dive into the meaning and significance of this beautiful Surah, which encapsulates the essence of seeking guidance and mercy from Allah.
Opening — الفَاتِحَۃَ
الْعَالَمِينَ (2) الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ (3) مَلِكِ
يَوْمِ الدِّينِ (4) إِيَّاكَ نَعْبُدُ
وإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (5) اهدِنَا الصِّرَاطَ
المُستَقِيمَ (6) صِرَاطَ الَّذِينَ أَنعَمتَ
عَلَيهِمْ غَيرِ المَغضُوبِ عَلَيهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ (7)
(Urdu)Surah Fatiha Transliteration | سورة الفاتحة (1) تفسیر اردو
اس سورہ کو
بعض مکی کہتے ہیں اور بعض مدنی کہتے ہیں اور بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سورہ
مبارکہ دو دفعہ نازل ہوا ایک دفعہ مکہ میں اور ایک دفعہ مدینہ میں، لہذا مکی بھی
ہے اور مدنی بھی، اس سورہ کی کل آیات سات ہیں جن میں بسم
اللہ الرحمن الرحیم بھی شامل ہے-
سورہ فاتحہ کے خواص
بیمار پر چالیس مرتبہ
پڑھنے سے باذن اللہ تعالیٰ تندرست ہو گا-
حضرت امام جعفر
صادقفرماتے ہیں کہ اگر مردہ پر ستر دفعہ سورہ فاتحہ پڑھی
جائے اور وہ زندہ ہو جائے تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں–
پانی کے
پیالہ پر چالیس مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھ کر مریض پر چھڑکا جائے تو اس کو شفا ہو گی-
درد کے مقام
پر سترّ مرتبہ پڑھی جائے تو درد ختم ہو
جائے گا-
الرَّجِیْم
الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّآ لِّيْنَ (7)
سے جو رحمن و رحیم ہے (شروع کرتا ہوں) (1) حمد صرف اللہ کیلئے ہی ہے جو
عالمین کا پروردگار (2) رحمن و رحیم (3) (اور) مالک روزِ جزا ہے (4) (میرے اللہ) صرف تیری ہم عبادت
کرتے ہیں اور صرف تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں (5) ثابت قدم رکھ
ہم کو سیدھے رستے پر (6) (یعنی) ان لوگوں کارستہ جن پر تو
نے انعام کیا نہ کہ جن پر غضب ہوا اور نہ گمراہوں کا (7)
سورہ فاتحہ کے فضائل
کو پڑھے اس کو دو تہائی قرآن پڑھنے کا ثواب ملے گا اور تمام مومنین و مومنات پر صدقہ
کرنے کا اجر اس کو عطا ہوگا-[1]
روایت میں ہے کہ سورہ فاتحہ کے پڑھنے کا ثواب پورے ختم قرآن کے ثواب کے برابر ہے[2] (یعنی جو
شخص قرآن پڑھا ہوا نہ ہو تو اس کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے
بلکہ سورہ فاتحہ کی تلاوت کرے خداوند متعال اس کو پورے قرآن کے پڑھنے کا اجر دے
گا)-
کعب سے مروی ہے کہ میں نے حضرت رسالتمآبﷺ کے حضور سورہ فاتحہ پڑھی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے قسم ہے
اس ذات کی جس کے ید ِقدرت میں میری جان ہے خدا وند کریم نے تورات، انجیل، زبور،
بلکہ خود قرآن بھی اس کی مثل نازل نہیں کیا، یہ امّ الکتاب ہے اور یہی سبع مثانی
ہے اور یہ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان تقسیم شدہ ہے اور ہر اس بندے کےلئے ہے
جو بھی سوال کرے-[3]
عبداللہ انصاری کو حضورﷺ نے فرمایا کیا میں تجھے ایک ایسی
سورہ کی تعلیم دوں جس سے بہتر خداوند کریم نے کوئی سورہ قرآن میں نازل نہ فرمایا
ہو؟ جابر نے عرض کیا جی ہاں میرے ماں باپ آپﷺپر فدا ہوں یا رسول اللہ، پس آپﷺ نے اس کو سورہ حمد تعلیم فرمائی،
پھر آپ ﷺنے فرمایا اے
جابر! اس کے متعلق میں تجھے کچھ اور بتاوٴں؟جابر نے عرض کیا جی ہاں
میرے ماں باپ آپﷺپر فدا ہوں،آپ ﷺ نے فرمایا یہ موت کے سوا ہر مرض
کےلئے شفاہے-[4]
جعفر سے منقول ہے کہ جو سورہ حمد سے تندرست نہیں ہوتا اس کو کوئی چیز
تندرست نہیں کر سکتی-[5]
ہوا ہے لَقَد اٰتَینَاکَ سَبعًا مِّنَ المَثَانِی وَالقُرآنَ العَظِیم
ہم نے تجھے سبع مثانی اور قرآن عظیم عطا کیا-[6]
تعالیٰ نے مجھے فاتحہ کا احسان الگ جتلایا اور پورے قرآن کے مقابلہ میں اس کو ذکر
فرمایا، اور تحقیق عرش کے تمام خزانوں میں سے فاتحہ زیادہ وزنی و قیمتی جوہر ہے
اور اللہ تعالیٰ نے محمدمصطفی ﷺکو اس کے ساتھ مختص فرمایا اور کسی
نبی کو اس نعمت میں شریک نہیں کیا سوائے حضرت سلیمان کے کہ انہیں اس کی ایک آیت عطا کی، چنانچہ ملکہ بلقیس کے قول کو
بیان فرماتا ہے اِنِّیْ اُلقِیَ اِلَیَّ کِتَابٌ کَرِیمٌ اِنَّہُ مِن سُلَیْمَانَ وَ اِنَّہُ بِسمِ
اللَّہِ الرَّحمَنِ الرَّحِیمِ–[7]
محمد و آلِ محمد ﷺکی
وِلا کا اعتقاد رکھتے ہوئے اور اس کے امر کی اطاعت کرتے ہوئے نیز اس کے ظاہر وباطن
پر ایمان لاتے ہوئے اس کو پڑھے گا خداوندکریم ہرہر حرف کے بدلہ میں اس کو ایسی
نیکی (نعمت) عطافرمائے گا جو دنیا اور اس کی تمام نعمتوں سے افضل ہو گی اور جو شخص
سورہ فاتحہ کو کسی اور سے سُنے گاتو جس قدر پڑھنے والے کو ثواب ملے گا اس کا ایک
تہائی ثواب سُننے والے کو عطا ہو گا، پس ہر ایک کویہ آسان نیکی زیادہ سے زیادہ
حاصل کرنی چاہیے کیونکہ یہ غنیمت ہے ایسا نہ ہو کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے اور
تمہارے دِلوں میں حسرت باقی ہو-
میں ہے کہ اگر سورہ فاتحہ کسی درد کے مقام پر سترّ مرتبہ پڑھی جائے تو وہ درد ختم
ہو جائے گا، ایک روایت میں ہے کہ پانی کے پیالہ پر چالیس مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھ کر
مریض پر چھڑکا جائے تو اس کو شفا ہو گی-
و سنّی ہر دوفریق کی کتابوں میں بہت زیادہ منقول ہیں گویا یہ سورہ مجید ہ روحانی و
جسمانی ہر دوبیماریوں کے لئے شفا بخش ہے بشرطیکہ نیت صاف ہو-
علی اکبر نہاوندی vنے
کتاب ”جامع النورین“ سے نقل فرمایا ہے کہ حضرت امیر المومنین کے کسی صحابی کا ہاتھ ایک جنگ میں کٹ گیا پس وہ حضرت کی خدمت میں
پہنچا تو آپ ؑ نے اس کا کٹا ہوا ہاتھ اپنے مقام پر جوڑ کر آہستہ سے کچھ پڑھاپس وہ
تندرست ہو گیا اور خوشی سے چلا گیا، پھر دوسرے دن حضرت علیکی خدمت میں پہنچا اور عرض کیا حضور میرے دست بریدہ
پر آپ ؑ نے کیا پڑھا تھا کہ وہ تندرست ہوگیا؟ آپ ؑ نے فرمایا میں نے سورہ فاتحہ
پڑھا تھا، تو اس شخص نے حقارت آمیز لہجہ میں کہا اچھا آپ ؑ نے سورہ فاتحہ پڑھا
تھا؟ بس یہ کہنا تھا کہ اس کا وہی ہاتھ اسی مقام سے دوبارہ جدا ہو کر گرِ گیا اور
مرتے دم تک ویسے کا ویسا رہا-[8]
یہ برکت ہے کہ بیماری تو بجائے خود مردہ بھی اس سے زندہ ہو سکتا ہے جیسا کہ ایک
مقام پرخداوند متعال ارشاد فرماتا ہے کہ اس کے ذریعہ سے پہاڑ چلائے جاسکتے ہیں
زمینوں کی مسافتیں طے کی جاسکتی ہیں اور مرُدوں سے کلام کیا جاسکتا ہے-[9]
سورہ فاتحہ میں موجود ہے بلکہ گزشتہ روایت میں بھی موجود ہے کہ سورہ فاتحہ باقی
تمام سورتوں سے افضل ہے اور خداوندکریم نے بھی اس کو پورے قرآن کے مقابلہ میں ذکر
فرمایا ہے، تو سورہ فاتحہ کے پڑھنے سے بیمار کی تندرستی تو درکنار اگر مردہ میں
روح پلٹ آئے تو یہ بھی بعید نہیں-
جائے اور خداوند اس میں روح
کو پلٹا دے تو تعجب کی بات نہیں- [10]
لطیفہ :
نہاوندی vنے محدث نوری vکی
کتاب” دارالسلام “نے نقل فرمایا ہے کہ سید محمد موسوی نجفیv ذکر کرتے ہیں میں بچپنے کے زمانہ میں
بلید(کندذہن) تھا لیکن نوافل و تعقیبات کا دلدادہ تھا-
کفعمی کا مطالعہ کیا تو اس میں حدیث نظر سے گزری جس کا مضمون یہ ہے کہ اگر میت پر
چالیس مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھی جائے تواس کے زندہ ہو جانے میں کوئی تعجب نہیں!میں نے
دل میں کہا کہ لوگوں پر تعجب ہے کہ اس بات کے ہوتے ہوئے اپنے مرُدوں کو دفن کردیتے
ہیں اور سورہ فاتحہ پڑھ کر ان کوزندہ نہیں کرلیتے؟
اورعصر تک اسے ڈبوئے رکھا جب مجھے اُس کی موت کا یقین ہوگیا تو اس کو پانی سے باہر
نکال کر خشک مقام پررکھا اوراس کے دوبارہ زندہ کرنے کی نیت سے اس پر سورہ فاتحہ
پڑھنا شروع کیا اور اس پر دم کرتاگیا جب تیس مرتبہ پڑھ چکا تو اس کے بعد میں نے
دیکھا کہ ا س مکھی نے اپنے پاوٴں کو حرکت دی اور اپنے پروں کو مس کیا اور ابھی
چالیس مرتبہ تک نہ پہنچنے پایا تھا کہ مکھی پروازکرکے چلی گئی، میں نے دل میں خیال
کیا کہ یہ مکھی شاید پہلے سے زندہ ہو؟ اوراس پر موت واقع نہ ہوئی ہو؟اور مجھے اس
کی موت کا اشتباہ ہواہو؟
سے لے کر ظہر تک برابر پانی میں ڈبوئے رکھا اورپھر نکال کرعصر تک زمین پر اسے ڈال
دیا اس میں کوئی حس وحرکت نہ تھی جس سے مجھے یقین ہوگیا کہ وہ مر چکی ہے پس میں نے
سورہ فاتحہ پڑھنا شروع کردیا اور اس مرتبہ بھی چالیس تک نہ پہنچا تھا کہ مکھی
باذنِ خدازندہ ہوکر ہوامیں پروازکرگئی-
سورہ فاتحہ کے مقدّم ہونے کی وجہ
نقل فرمایا ہے کہ آپ ؑ نے فرمایا کہ تمام آسمانی کتابوں کا علم قرآن مجید میں ہے
اورتمام قرآن کا علم سورہ فاتحہ میں موجود ہے اورجو کچھ سورہ فاتحہ میں موجود ہے
وہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم میں
ہے اور جوکچھ بسم اللہ میں ہے وہ بائے بسم اللہ میں ہے اور جو کچھ بائے بسم اللہ
میں ہے وہ اس نقطہ میں ہے جوبا کے نیچے ہے اورمیں وہی نقطہ ہوں-[11]
سورہ فاتحہ کے باقی قرآنی سورتوں پرمقدم ہونے کی یہ بھی ایک وجہ ہے کہ سورہ فاتحہ
کوباقی قرآن کے ساتھ اجمال وتفصیل کی نسبت حاصل ہے یعنی قرآن میں جو کچھ تفصیل کے
ساتھ درج ہے وہ سورہ فاتحہ میں اجمالاً موجودہے-
خداوند کریم کی تمجید ،تحمید، تسبیح ،تقدیس، تہلیل، تکبیر، شکر و رضا ، جس قدر
تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں لفظ ”اَلْحَمْدُ“ ان کا اجمالی خاکہ ہے-
بیان ہوئے ہیں لفظ ”لِلّٰہِ“ ان سب کا اجمال ہے-
میں جہاں جہاں ربوبیت کا تفصیلی ذکر ہے لفظ ”رَبّ“ میں وہ سب کچھ موجودہے-
آسمانوں، زمینوں، جنوں، انسانوں، وحوش، طیور، انبیا ، اولیا ، نیکوں اوربروں بلکہ
جمیع مصنوعات کی جس قدر تفصیل ہے وہ لفظ ”اَلعَالَمِین“ میں بندہے –
قدر رزق، انعام، احسان و اکرام وغیرہ مذکورہیں لفظ ”اَلرَّحْمٰن“ ان سب پر مشتمل ہے –
ِرحمت اورگناہوں کی مغفرت کا ذکرہے لفظ ”اَلرَّحِیْم“ سب کو شامل ہے –
قدرت وعظمت، اس کی بقا وسرمدیت اوراس کا بے مثل وبے مثال اور لاشریک ہونایہ سب کچھ
لفظ”مَالِک“ میں جمع ہیں –
حساب، نعمات وجملہ احوال بہشت و درکات وخطرات جہنم، میزان وصراط وغیرہ کے تفصیلی
تذکرے ہیں وہ لفظ ”یَوْمِ الدِّیْن“ میں سمائے ہوئے ہیں-
عبادات جن کا قرآن میں ذکر ہے ”اِیَّاکَ نَعْبُدُ“ کے اندرموجودہیں-
مدد جہاں بھی مذکور ہے وہ ”اِیَّاکَ نَسْتَعِیْن“ میں مندرج ہیں –
جہاں ذکرہے ”اِھْدِنَا“ اس کا جامع ہے –
اَوامرونواہی اِسی اجمال کی تفصیل ہیں –
جس قدر نیک لوگوں کے حالات، ان کے طریقے، ان کی سنتیں اور سیرتیں، ان کا سبب نجات
اور بلندی درجات وغیرہ کی تفصیل اِن الفاظ میں مختصر ہے –
کے حالات وقصص، کفرانِ نعمت، تکذیب وقتل انبیا ،اِن گناہوں پر اصراراور اُن پر غضب
خداوعذاب کا نزول قرآن میں جتنی تفصیل سے مذکور ہے وہ ”غَیرِالمَغضُوبِ عَلَیھِم “ میں سمایا ہوا ہے-
مشرکوں اور گمراہوں کی قرآنی تفصیل کا یہ اجمالی عنوان ہے-
سورہ فاتحہ کو تمام قرآنی سورتو ں پر مقدم کیا گیا ہے کیونکہ یہ قرآن کا اجمال ہے
اور اجمال تفصیل سے پہلے ہوا کرتا ہے –
اقول
فاتحہ پورے کلامُ اللہ کا اجمال ہے اسی طرح آیہ کریمہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پورے
سورہ فاتحہ کی اجمالی تصویر ہے-
جامع جمیع صفات ِکمال ہے لہذا اس لفظ میں جملہ صفات جلال و کمال اور تمام صفات
ثبوتیہ وسلبیہ اجمالاً درج ہیں پس تمجیدوتسبیح وتہلیل وعبادت واستعانت وغیرہ کا
سزاوار ہونااسی سے سمجھاجاسکتاہے –
بیان اسی مختصرسے لفظ میں سمویا ہواہے-
ہے جوقیامت کے روزمومنین پرکئے جائیں گے اور دشمنانِ خدا ان سے محروم ہوں گے لہذا
قیامت کے حالات، اُخروی انعامات اورکفارکی بری بازگشت وغیرہ کےلئے لفظ ”اَلرَّحِیم“ کو جامع کیا جاسکتاہے-
میں بیان ہوچکا ہے کہ ذاتِ ربُّ العزت نے جناب رسالتمآب ﷺپر قرآن مجید کے ساتھ سورہ فاتحہ
کا بالخصوص امتنان فرمایا وَ لَقَد اٰتَینَاکَ سَبعًا مِّنَ المَثَانِی وَالقُراٰنَ
العَظِیم ہم نے تجھے سبع
مثانی (فاتحہ) اور قرآن عظیم عطاکیا-[12]
کرنا بھی غالباً اسی امر کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن مجید میں جوکچھ تفصیل سے بیان
ہواہے سورہ فاتحہ میں وہ اجمالاً درج ہے-
امامت ،قیامت)
کے بیان کوجس طرح متضمن ہے اسی طرح جملہ فروع دین (نماز، روزہ، حج، زکواة ،خمس،
جہاد، تولّی، تبرّی، امر بالمعروف، نہی عن المنکر)کو اجمالاً اپنے دامن میں لئے
ہوئے ہے، گویا اس سورہ کے ہرہرلفظ میں علوم قرآنیہ ومطالب شرعیہ کے دفترپنہاں ہیں
جن کوکما حقہ سوائے راسخون فی العلم کے اورکوئی نہیں پاسکتا-
مولائے کائنات حلّالِ مشکلات حضرت امیرالمومنین نے ابن عباس کے سامنے تفسیر بائے بسم اللہ بیان کرنا
شروع کی حتی کہ صبح نمودار ہوگئی-[13]
بیان کرتا جاوٴں تواس سے ستر اونٹ بارہوسکتے ہیں –[14]
جناب رسالتمآب ﷺکے تمام صحابہ کا علم حضرت علی کے علم کے مقابلہ میں اس طرح ہے جس طرح ایک قطرہ آب سات سمندروں
کے مقابلہ میں-
حدیث اور اس باب کی اکثراحادیث بمعہ حوالہ جاتِ کتب اِسی تفسیر کی پہلی جلد یعنی
مقدمہ تفسیر میں اصل عبارتوں کے ساتھ مختلف عناوین کے تحت بیان کردی ہیں –[15]
سمجھ بیٹھتاہے کہ سورہ فاتحہ کی آیات آپس میں بالکل بے جوڑہیں لہذا اس سے ایک
مسلسل مضمون حاصل نہیں ہوسکتا، حالانکہ چشم بصیرت سے لمحاتِ حقیقت پر نظر ڈالنے سے
یہ اَمر روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتاہے کہ جو لطافت ِبیان سورہ مجیدہ فاتحہ میں
پائی جاتی ہے اورجس حسنِ انداز سے علوم قرآنیہ کواس مختصرسورہ میں سمو دیا گیا ہے
وہ صرف اسی کلام پاک کا حصہ ہے جو اس کی اعجازی حیثیت کی واضح دلیل ہے، گویا پورے
قرآن مجید کے تفصیلی بیان کے لیے سورہ فاتحہ ایک موضوع کی حیثیت رکھتاہے اورسورہ
فاتحہ کے لئے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم موضوعِ
بیان ہے، تو پس آیت بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پورے
قرآن مجید کا موضوع ٹھہری اورسورہ فاتحہ اس کا ایک سرسری ترجمہ ہے اور ا ل م سے
لے کر والنّاس تک پورا کلام پاک اِنہی مطالب کا تفصیلی
بیان ہے-
بالکل درست اورقرین عقل ہے کہ کتب سماویہ کے تمام علوم قرآن میں ہیں اورقرآن کے
تمام علوم سورہ فاتحہ میں ہیں اورسورہ فاتحہ کے تمام علوم بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم میں
ہیں اب رہایہ کہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کے
جمیع علوم بائے بسم اللہ اوربائے بسم اللہ کے جملہ علوم اُسی نقطہ میں ہیں جوبائے
بسم اللہ کے نیچے ہے تواس میں اشکال تب ہوسکتاہے کہ با سے مراد یہی حرف لیا جائے
جوحروفِ تہجی میں دوسرے نمبر لکھا جاتاہے؟ اورنقظہ سے مراد وہی ظاہری نقطہ لیا
جائے جو حرف با کے ساتھ لازم کی حیثیت رکھتاہے؟ لیکن حضرت امیر المومنین نے اپنے بیان کے اخیرمیں اس خیال کی تردیدفرمادی ہے کہ نقطہ سے
مرادمیں ہوں، تواس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ با سے مراد باطناً وجودِ ذیجود جناب
رسالتمآبﷺ ہے کیونکہ
یہ دونوں ایک حقیقت نوری کے دوحصے ہیں (اَنَاوَعَلِیٌّ مِّنْ نُّورٍوَّاحِدٍ[16]) اب مطلب
صاف ہے کہ وہ تمام علوم جوبسم اللہ میں ہیں وہ جناب رسالتمآبﷺ کے پاس ہیں اوروہ تمام علوم جوجناب رسالتمآبﷺ کے پاس تھے وہ حضرت علی کے پاس ہیں، چنانچہ خود رسالتمآبﷺ کا ارشادہے اَنَامَدِیْنَةُ العِلْمِ وَعَلِیٌّ باَبُھَا [17] ، عَلِیٌّ خَازِنُ عِلْمِی[18] ، عَلِیٌّ وِعَاءُ عِلْمِیْ [19]
باختلافِ عبارات بمعہ حوالہ جات کتب اسی تفسیر کی پہلی جلد میں بیان کی جاچکی ہیں-[20]
سورہ فاتحہ کے اسمااوروجہ تسمیہ
سورہ کو ”فَاتِحَہ“ اس لئے کہتے ہیں کہ تمام قرآنی سورتوں
سے یہ پہلے ہے اوراس کی تفصیل بیان کی جاچکی ہے –
فاتحہ کا نا م ” اُ مُّ الکِتَاب“ ہونا بھی اسی بات کی دلیل ہے
کہ قرآن کے جملہ مضامین کی یہ اصل ہے کیونکہ اُمّ کا معنی ماں ہے اورماں اولاد کے لئے اصل
اوراولاد اس کی فرع ہوتی ہے اوراصل کا فرع سے مقدم ہونا ضروری ہے-
سورہ کا نام ”الاسَاس“ بھی گزشتہ بیان کا مویّد ہے کیونکہ
اساس کا معنی بنیاد ہوتاہے گویاسورہ فاتحہ بنیاد ہے پورے قرآن کی، لہذا اس کا مقدم
ہونا لازمی ہے اورترتیب آیات سورہ فاتحہ کے عنوان میں اس بیان کی مزیدوضاحت آئے گی-
مذکورہ کے فضائل کے بیا ن سے وجہ تسمیہ ”شِفا“ صاف ظاہر ہے –
چونکہ اس سورہ کی کل آیات سات ہیں اور’’سَبْع“ بھی سات
کوکہتے ہیں –
کیونکہ اس میں پروردگارِعالم کی حمد بیان کی گئی ہے-
سنت ہو اس سورہ کا پورا پڑھنا ضروری ہے،”وافِیَہ“ کا معنی ہے پوری-
اسلئے کہ یہ سورہ نمازِمستحب میں تنہا کا فی ہے اورواجب نمازمیں بھی بعض مقامات پر
تنہا کا فی ہوسکتی ہے اور دوسرا کوئی سورہ نماز میں تنہا کا فی نہیں ہے –
اسلئے کہ نماز میں اس سورہ کا پڑھنا ضروری ہے، چنانچہ مشہور حدیث ہے لَا صَلٰوةَ اِلَّا بِفَاتِحَةِ الکِتٰب یعنی
کوئی نماز بغیر سورہ فاتحہ کے درست نہیں-[21]
نا م کے متعددوجوہ بیان کئے گئے ہیں:
فرض ہویا سنت اسے دودفعہ پڑھنا ضروری ہے اسلئے اس کو”مثانی“ کہتے ہیں-
مکہ میں اوردوسری دفعہ مدینہ میں اسلئے اس کو ”مثانی“ کہا گیا-
منقسم ہے ثنائے خالق اورسوالِ مخلوق جیسا کہ بعض احادیث میں مذکور ہوا ہے-
رکھتی ہے:
ہیں ایک اس کی عظمت وقدرت پردلالت کرتے ہیں اوردوسرے اس کی رحمت اورمہربانی کو
ظاہر کرتے ہیں اور” بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم“ میں
دونوں پائے جاتے ہیں-
انعامات پر اور” اَلحَمدُ لِلّٰہ “میں دونوں شکر کی قسمیں موجود
ہیں –
ہے”مَالِکِ یَومِ الدِّین “میں دونوں آتے ہیں-
بُری چیز کو روکنے کے لئے اور” اِیَّاکَ نَستَعِین“ دونوں معنوں کو شامل ہے-
اہل کتاب کی اور دوسری مشرکین وغیرہ کی اور آخر ِسورہ میں دونوں کا بیان ہے-
کا ذکر غیر ضروری ہے-
ترتیب ِآیاتِ سورہ فاتحہ
میں پہلا مرتبہ علم کا ہے اس کے بعد عمل
اور پھر نتیجہ، ذاتِ احدیت نے جنوں اور
انسانوں کے مقصد خلقت کے متعلق ارشاد فرمایا مَا خَلَقتُ الجِنَّ وَالاِنسَ اِلَّا لِیَعبُدُوْن
میں نے جنوں اور انسانوں کو نہیں خلق کیا مگر عبادت کے لئے[22]، عبادت
معرفت اور جزا دونوں کے درمیان واقع ہے، معرفت عبادت سے پہلے ہے اورعبادت جزاسے
مقدم ہے، پس خداوندکریم نے انسان کوپہلے پہل معرفت کا درس دیا اور کلامِ مجید کو
لفظ بِسْمِ اللّٰہ سے شروع فرمایا اوربندے کو تعلیم
دی کہ ہر کام سے پہلے اللہ تعالیٰ کا نام لینا ضروری ہے اورچونکہ ذاتُ اللہ کا
تصور حقیقی بندہ کے لئے نا ممکن تھا اس لئے اس کے بعد الرَّحْمٰن الرَّحِیْم کا اضافہ کردیا تاکہ یہ
سمجھ میں آجائے کہ تمام نعمات چھوٹی یابڑی کا فیضان جس ذات کی طرف سے ہے وہ ہے
اللہ تعالیٰ-
خود بخود معلوم ہوجائے گا کہ چونکہ تمام نعمات میں اہم نعمت وجودِ ممکنات ہے اور
اللہ تعالیٰ ہی اس کا منعم ہے تو اس کی ذات قدیم ہے اوروجودِ ممکنات حادث ہے اور
وجودِ ممکنات کا حسن نظام سے برقرار رہنا اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا صانع حقیقی
قادر بھی ہے اور علیم وحکیم بھی اور چونکہ ممکنات تغیر سے خالی نہیں تو ماننا پڑے
گا کہ ان کا موجد باقی وغیر فانی ہے، اس میں تغیر آہی نہیں سکتا اور نیز اس کا
مرید ومدرک ہونا بھی ضرروری ہے-
آیت میں غوروفکر کرنے سے اللہ تعالیٰ کی جملہ صفاتِ ثبوتیہ وسلبیہ کی معرفت ہوجائے
گی اور پتہ چل جائے گا کہ اللہ اس ذات کا نا م ہے جو تمام صفاتِ کمال کی جامع ہے
اور ان میں اس کا کوئی شریک نہیں ورنہ نظام کا درہم برہم ہوجانا ضروری ہے چنانچہ
خود فرماتاہے لَوکَانَ فِیھِمَا اٰلِھَة اِلاَّ اللَّہ لَفَسَدَتا
اگر آسمان وزمین میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ
کوئی اور خدا بھی ہوتے تو ان کا نظام فاسد ہوجاتا [23] یعنی نظام
کا ئنات کی بقا اس کے باقی اور لاشریک ہونے کی ظاہرو واضح دلیل ہے-
کے ذہن میں خداکی معرفت آگئی اور یہ سمجھ لیا کہ میرا بلکہ کل کا ئنات کا وجود اور
دنیا کی تمام نعمات اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہیں تو عقل انسان کو خود پکارکر کہے
گی کہ اس منعم حقیقی کا شکراداکیاجائے جو عالمین کا ربّ ہے-
وجود سمجھ لینے کے بعد اس کی طرف سے آتے ہوئے تمام اوامرونواہی کو معلوم کرکے ان
پر عمل کی کوشش کرے گا اور اس کے بھیجے ہوئے رسولوں کے دروازہ پردستک دئیے بغیر
چونکہ یہ مرحلہ طے کرنا مشکل ہے لہذا معرفت خدا کے بعد عمل وعبادت کے لئے معرفت
نبی وامام کی ضرورت ہے جیسا کہ اسی تفسیر کی جلد اوّل میں توحید وضرورت نبی وضرورت امام
کے عناوین
میں تفصیل سے روشنی ڈالی جا چکی ہے-[24]
بعد عبادت کی منزل کو ظاہر کرتی ہے، منعم حقیقی کا شکراداکرنے کے لئے جب نبی یا
امام سے احکا م شرعیہ کی تعلیم پالی تو مقتضائے بشریت کے لحاظ سے اس میں بھول چوک
کا ہونا ضروری تھا اور یہ اندیشہ تھا کہ مبادا انسان اپنی کوتاہیوں کے پیش نظر اس
کی رحمت سے مایوس ہوجائے؟ لہذا بعد میں پھر اَلرَّحمٰنِ الرَّحِیم کا اعادہ فرمادیا جس میں
لطیف اشارہ ہے اس طرف کہ اے انسان مقام اطاعت و ادائیگی شکر میں اگر تجھ سے کچھ
کوتاہی ہوبھی جائے تو مایوس نہ ہوکیو نکہ میں رَحمٰنِ الرَّحِیم ہوں جس طرح وجودِ کائنا ت اور
اس میں تمام ظاہری انعامات میری طرف سے ہیں اسی طرح آخرت کے انعامات ومہربانیاں
بھی میری ہی طرف سے ہوں گی اورجس طرح میں رَبُّ العَالَمِین ہو ں اسی طرح رَحمٰنِ الرَّحِیم بھی ہوں، خطا سرزد ہو جانے کے
بعد تو اگر توبہ کرے گا تو میں اپنے رحم وکرم سے تجھے معافی دے دوں گا-
بعد فرمایا مَالِکِ یَومِ الدِّین یعنی قیا مت کا معا ملہ
میر ی ذات سے ہی وابستہ ہے کیو نکہ اس دن اور کسی کی کوئی ملکیت نہ ہو گی، نیز اس
آیت سے متنبہ کر دیا کہ اے انسان! اپنے نتیجہ سے غافل نہ ہو جس طرح میں ایجادِ خلق
میں منفرد ہوں اور میں نے اپنے ارادہ سے ہی تمام کا ئنا ت کو وجود بخشا ہے اور
تجھے مقام اطاعت پر لا کھڑا کیا ہے اسی طرح تجھے اپنی کا رکردگی کا بدلہ دینے کے
لئے بھی صرف میں ہی ہوں جس طرح ایجاد میری قدرت سے ہے اسی طرح اعادہ بھی میری قدرت
سے ہوگا، مجھ سے بھاگ کوئی نہیں سکتا، تجھے شکر گزاری کی جزا ضرور دوں گا اور اگر
احسان فراموشی کرکے سرکشی کرے گاتو اس کی سزا بھی ضروردوں گا-
پہنچ کر انسان نے مقام دنیا میں اپنے پیش وپس کو یعنی مبداو معاد کو سمجھ لیا، یا
یہ کہہ دیجئے کہ مِن اَینَ وَ فِی اَینَ وَاِلٰی اَینَ یعنی کہا
ں سے آیا اور کہاں آیا اورکہاں جانا ہے[25]؟ تینو ں منازل کا تصور سامنے آگیاکہ اللہ تعالیٰ
نے بھیجا اور مقام اطاعت وعبادت وشکر میں بھیجا اورمقام جزا وسزا(قیامت) میں حاضر
ہونا ہے، جب انسان اس منزل معرفت تک پہنچ چکا اور جان لیا کہ میرے ماضی ،حال،
مستقبل سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، مبداومعاد کا مالک صرف وہی ہے تو پس اس کی
عظمت، قدرت، ہیبت، جلالت آنکھوں کے سامنے آگئی اورغیب سے خطاب کی طرف پلٹ گیا جیسا
کہ کہا جاتا ہے اَلْمَعْرِ فَةُ بَذْرُالمُشَاھِدَةِ وَالرُّوْیَةُ ثَمْرَةُ
الیَقِیْن یعنی معرفت
مشاہدہ کا بیج ہے اوررُویت یقین کا پھل ہے یعنی کسی چیز کی معرفت جب کا مل ہوتی ہے
تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ سامنے ہے اور گو یا میں اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ
رہاہوں، اسی طرح جب کسی شئے کے وجود کا یقین کا مل ہوجاتا ہے تو وہ شئے اگرچہ
ظاہراً آنکھو ں سے اوجھل ہو پھر بھی ایسا
معلوم ہوتا ہے کہ وہ آنکھو ں کے سامنے ہے-
منقول ہے کہ حضرت امیر المومنین سے دریافت کیا گیا کہ آپ ؑنے کبھی اپنے خدا کو دیکھا ہے؟ آپ ؑ نے
فرمایا کہ میں نے اَن دیکھے خدا کی عبادت کبھی نہیں کی، سائل نے عرض کیا وہ کیسے؟
آپ ؑ نے فرمایا کہ آنکھیں اس کو بصارتِ ظاہر یہ سے نہیں دیکھ سکتیں بلکہ دل بصیرتِ
ایمانیہ سے اس کا مشاہد کرتے ہیں-[26]
بعد زبان پر یہ کلمات جاری ہوئے اِیَّاکَ نَعبُدُ اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت
کرتے ہیں اس مقام پر نَعبُدُکَ نہیں کہا اور اِیَّاکَ کو مقدم کیا تاکہ انسان مقام اطاعت
وعبادت میں بھی پہلے معبود کا تصور کرے اور پھر عبادت کوسامنے لائے، یعنی عبادت کو
معرفت کے پیچھے قرار دے اور چونکہ مقام عبادت میں حق عبادت کا ادا کرنا انسان کے
اپنے بس سے باہر ہے تو فوراً دوسرا جملہ انسان کی تعلیم کےلئے ارشاد فرما دیا کہ
انسان یہ کہے وَاِیَّاکَ نَستَعِین اے اللہ! ہم اس مرحلہ
عبادت میں بھی تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں کیونکہ اگر تیری توفیق شامل حال نہ ہو تو
ہماری کوتاہیاں ہمیں منزل مقصود تک پہنچنے سے مانع رہیں گی، نیز یہ بھی احتمال ہو سکتا تھا کہ مقام عبادت
میں مبادایہ خیال پیدا ہو کہ میں عابد ہوں اور حق واجب شکر ادا
کررہا ہوں پس میں اپنے کمال پر پہنچ گیا؟ اس تکبر کے شائبہ کو رفع کرنے کےلئے اس
طرف متوجہ کیا گیا کہ توفیق عبادت بھی بغیر اسی ذات کی عنایت وامداد کے نہیں
ہوسکتی یعنی انسان کا عبادت گزار ہو نا بھی اس کی ایک جدا نعمت ہے اسی کا فیض ہے
اس پر بھی شکر گزار ہونا چاہیے-
میں کھڑے ہو کر یہ خیال کرنا چونکہ ضروری ہے کہ آیا جس کو میں عبادت واطاعت سمجھ
رہا ہوں یہی عباد ت اطاعت ہے بھی سہی؟ کیونکہ اپنی عقل تعیین عبادت میں کو تاہ ہے
(جیسا کہ ہم نے کتاب کی جلد اوّل ضرورت نبی کے باب میں اس کو کا فی تفصیل سے بیا ن
کیا ہے[27]) پس ضرورت محسوس
ہو ئی کہ مقام اطاعت ومعصومیت کے سمجھانے کے لیے خود خدا نے جن برگزیدہ افرادکو
نامزد فر مایا ہے اور ان کو اپنی طرف سے بندوں کی طرف عہدہ سفارت عطا فرما کر رسول،
نبی وامام کے لقب سے ملقب فرمایا ہے یہ طریقے انہی سے حاصل کیے جا ئیں اور یہ
مرحلہ بھی چونکہ اس کی توفیق و تا ئیدکے بغیر طے ہونا مشکل تھااس لیے ہماری تعلیم
کیے لیے ارشادفرمایا اے انسان! راہِ ہدایت اور ہادی کی تلا ش میں بھی مجھ سے توفیق
طلب کراور پھر راہِ حق پرثابت قدم رہنے کے لیے بھی مجھ سے توفیق کی دعا مانگ اور
کہہ اِھدِنَاالصِّرَاطَ المُستَقِیمَ اے اللہ! سیدھے رستہ پر گامزن ہو نے کی اوراس پر
ثابت قدم رہنے کی مجھے توفیق دے صِرَاطَ الَّذِینَ اَنعَمتَ عَلَیھِم غَیرِ المَغضُوبِ
عَلَیھِم وَلَا الضَّآلِّین یعنی
ان لوگو ں کا رستہ جن پر تونے انعام نازل فرمایانہ ان لوگوں کا رستہ جو مقام اطاعت
میں اپنے من گھڑت طریقوں پر چلنے کی وجہ سے تیرے غضب کے نیچے آگئے اور گمراہ ہو
گئے-
کروں کہ انسان مرکب ہے دو اہم چیزوں سے ایک روح اور دوسرا جسم، روح جزوِ اشرف و
اعلیٰ ہے اور جسم جزوِ اَخس و اَدنیٰ ہے، روح راکب ہے اور جسم اس کا مرکب ہے، روح
محل معرفت ہے اور جسم محل عمل ہے، پس خدا وند کریم نے تعلیم معرفت سے ابتدا فرمائی
جس کا اہل روح ہے، پھر جملہ صفاتِ ثبوتیہ و سلبیہ کی طرف اس کو متوجہ فرمایا اور
اپنی ربوبیت و اُلوہیت کا اعتراف لیا اور اپنے مبدا و معاد میں مالک کل ہونے کا
درس دیا، جب روح نے مَالِکِ یَومِ الدِّین
تک پہنچ کر منا زلِ معرفت طے کر لیں تو
جسم چونکہ روح کے تابع اور مرکب کی حیثیت سے ہے لہذ ا اس کے اعضا بول اٹھے اوراپنے
راکب وروح کے ارادہ سے متاثر ہوکر خالق کا ئنات کی عظمت وجلال کو مد نظر رکھتے
ہوئے پکار اٹھے اِیَّاکَ نَعبُدُ وَاِیَّاکَ نَستَعِین اوراپنی خطا کے امکا ن کو محسوس کرکے دعا مانگ
لی کہ میرے مالک تومجھے اس مقام پر ثابت قدم رکھ کہ انعام پانے والوں کے رستہ سے
ہمارے قدم ڈگمگا نہ جائیں تاکہ مستحقین غضب اور گمراہوں کی طرح ہمارا حشرنہ ہو؟
اور جمع کی ضمیریں ذکر کی گئیں جس سے لطیف اشارہ کیا گیا ہے کہ بندوں کے لئے لازم
ہے کہ مل جل کر بارگاہِ پروردگار میں کھڑے ہوکر یہ آیات اپنی زبانوں سے جاری کریں
تاکہ بارگاہِ ایزدی میں شرفِ قبولیت کو پہنچیں، گویا ضمنی طور پر یہ آیات نمازِ جماعت
کی تاکید پردلالت کررہی ہیں-
تفصیلی بیا ن سے سورہ فاتحہ کا علوم قرآنیہ کے لئے جامع ہونا مدلل طور پر معلوم
ہوگیا اورباقی سُوَرِ قرآنیہ پر اس کی تقدیم کی زیادہ وضاحت ہوگئی کیو نکہ علوم کل
تین ہیں:
کو ”علم الوسیط“ کے نام سے موسوم کیاگیا ہے کیونکہ یہ مبدا ومعاد کے وسط (درمیان)
میں ہے-
قرآن مجید میں ان ہر سہ علوم کی ابحاث ہیں اور انہی کے بیا نات وبراہین وتو ضیحات
ہیں اورسورہ فاتحہ میں یہ تینو ں علوم اجمالی طور پر بیا ن کردئیے گئے ہیں، پس یہ
” اُ مُّ الکتاب“ بھی ہے اور ”اَلْاَسَاسْ“ بھی اورپورے قرآنی بیانات کے لئے
بحیثیت موضوع بھی ہے لہذا تمام قرآنی سورتوں پر مقدم ہے، اس بیان کی ایک اور توجیہ
مستقل طورپر آیاتِ فاتحہ کی معنوی توجیہ کے عنوان میں بیان ہوگی-
سے مکا لمہ کی حیثیت رکھتی ہے لہذا شروع سے پہلے تمام ان علائق خارجیہ سے جو
فیضانِ انوارِ قدسیہ سے حرمان یا بُعد کا موجب ہوں اپنے دل ودماغ کو پاک وصاف کر
لینا ضروری ہے اور وساوسِ شیطانیہ کے جال سے طائر خیا ل کو آزاد کرکے تلاوت کرنا
تاکہ فیوضِ قدسیہ الٰہیہ سے زیادہ سے زیادہ بہر ہ ور ہوسکے لہذا تلاوت سے قبل اَعُوذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیم پڑھے یعنی اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس شیطان سرکش
سے جو راندہ درگاہِ خدا او ر لعنت کا نشانہ ہے، خود ذا تِ احدیت کا ارشاد ہے کہ فَاِذَا قَرَاْتَ القُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ مِنَ
الشَّیطَانِ الرَّجِیْم یعنی
جب قرآ ن پڑھو تو شیطانِ رجیم سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو[28] اور اسی کو
”استعاذہ“ کہتے ہیں، سورہ فاتحہ پڑھنے سے پہلے بھی اس کا پڑھنا مستحب ہے اور اسی
وجہ سے گو فاتحہ بلکہ قرآن کے کسی سورہ کا یہ جزو نہیں لیکن سورہ فاتحہ سے پہلے اس
کو لکھا جاتا ہے تاکہ پڑھنے والا جب بھی ابتدا سے تلاوت کرے تو پہلے استعاذہ کر
لیا کرے اور پھر قرآن پڑھے، اسی طرح نماز میں بھی سورہ فاتحہ سے پہلے آہستہ سے
استعاذہ پڑھنا مستحب ہے-
منازلِ معرفت کی سیر کرتا ہے اور پھر مقام اطاعت میں اپنے آپ کو پاکر اپنے مالک
حقیقی سے مکالمہ کا شرف حاصل کرتا ہے اور اس سے راہِ حق پر ثبات قدمی کی دعا
مانگتا ہے تو اس وقت گویا تمام علائق و موانع خارجیہ سے منقطع ہو کر اپنی ذات کو
اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ ا قدس میں پاکر قربت خداندی کی لذتوں سے بہرہ اندوزہوتا ہے
اور یہ سمجھتا ہے کہ خدا کے غضب کردہ اور راہِ راست سے بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے
میرا شمار نہیں لہذا اختتام سورہ فاتحہ میں اگر نماز باجماعت ہو تو پیش نماز جب کہے
وَلا الضَّآلِّین آہستہ سے مقتدی کہیں اَلحَمدُ لِلّٰہِ رَبِّ العَالَمِین گویا معنوی
طور پر پیش نماز کی قراٴت اپنے اور مقتدیوں کے راہِ حق پر گامزن ہونے اور نماز کے
مقبول ہو نے کی بشارت ہوتی ہے لہذا مقتدیوں کےلئے بطورِ شکر آہستہ سے اَلحَمدُ لِلّٰہِ رَبِّ العَالَمِین پڑھنا مستحب
ہے ہمارے نزدیک آمین کہنا اس مقام پر بے جا ہے اور اگر نماز میں عمداً کہے گا تو
نماز باطل ہو گی-
فضائل بِسْمِ
اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
میں جناب رسالتمآبﷺسے مروی ہے کہ جو شخص بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھے
خداوند کریم اس کےلئے جنت میں ستر ہزار محل یاقوتِ سرخ کے بناتا ہے کہ ہر محل میں
ستر ہزار گھر سفید موتی کے اور ہر گھر میں ستر ہزار تخت زبر جدسبز کے اور ہر تخت
پر ستر ہزارفرش سندس و استبرق کے اور ہر فرش پر ایک ایک حورالعین اور ہر ہر حور کے
ستر ہزارگیسو جو موتیوں اور یا قو توں سے آراستہ ہوں گے اور ان کے دائیں رخسا ر پر
محمد رسول اللہﷺ اور بائیں رخسا ر پر علی ولی اللہ
اور پیشا نی پرحسن اور ٹھڈی پر حسین اور دونوں ہونٹوں پرلکھا ہوگا بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم راوی
نے دریا فت کیا کہ حضور! یہ انعام کس شخص کو ملے گا؟ تو آپﷺ نے فرمایاکہ جو حرمت و تعظیم سے
پڑھے گا بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم روایت
کی طرزبتلاتی ہے کہ یہ انعام آلِ محمدکے
موالیان و محبان ہی کے لیے مختص ہے-
نبوی میں ہے کہ مو من پل صراط سے عبور کرے گا اور بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کو
زبان پرجاری کرے گاتو جہنم کے شعلے خاموش ہو جا ئیں گے اور جہنم کہے گی گزر جا اے
مومن کیوں کہ تیرانور میرے شعلوں کو بجھا رہاہے-[29]
میں ہے کہ جب معلّم کسی بچے کو بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کی
تعلیم دیتا ہے تو خدا وند کریم اس بچے اور اس کے والدین اور معلم کے لیے آتش جہنم
سے آزادی فرض کر دیتا ہے-[30]
میں ہے جس کو تفسیرعمدة البیان میں بھی ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ایک قبر سے گزرے کہ قبر والے پر ملائکہ عذاب نازل ہو رہے تھے چپکے
سے گزر گئے جب واپسی پروہاں سے گزر ہوا تو اس قبر پر ملائکہ رحمت کا نزول دیکھ کر
متعجب ہوئے، عرض کیا یا اللہ یہ کیا ماجرا ہے؟ تو وحی نازل ہوئی اے عیسیٰیہ بندہ بہت
گنہگا ر تھالیکن جب مرا تو اس کی زوجہ حاملہ تھی اس کا بچہ پیدا ہوا تو اس کو
تعلیم کےلئے معلم کے سپرد کیا گیامعلم نے اس کو بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کا
درس دیا پس مجھے شرم آتی ہے کہ میں اس بندہ کو قبر میں عذاب کروں جس کا بچہ میرا
نام لے رہا ہے-
میں ہے کہ جب ہما راشیعہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کو
ترک کر دیتا ہے تو خدااس پر کو ئی آزما ئش نازل کر دیتا ہے اور اس کو اپنے شکر کی
طرف متوجہ فرماتا ہے پھر اس کی وہ کوتاہی معاف کردیتا ہے-[31]
عمدةالبیان میں ہے جناب رسالتمآب ﷺفرماتے ہیں کہ شب معراج میں نے
پانی دودھ شہداور شراب کی چار نہریں دیکھیں جبرائیل سے دریافت کیا تو جبرائیل نے
عرض کیا کہ مجھے حکم ہے کہ آپﷺ کو ان نہروں کے منبع کی سیر کراوٴں
پس ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک قبہ ہے جس کا دروازہ مقفل ہے، جبرائیل نے کہا کہ
آپﷺ انگلی کا
اشارہ اس قفل کی طرف کریں تاکہ قفل کھل جائے؟ چنانچہ آپﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے انگلی کا
اشارہ کیا وہ قفل کھل کرگرگیا میں اس قبہ میں داخل ہوا اور اس قبہ کے اندر ایک
ستون دیکھا جس پر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم لکھا ہوا
تھا میں نے دیکھا پانی کی نہر ”بِسْم“ کے میم کےحلقہ سے جاری
ہے اور دودھ کی نہر لفظ ”اَللّٰہ“ کے ہا کے حلقہ سے جاری ہے اور شہد کی
نہر ”اَلرَّحْمٰن“ کے میم کے حصہ سے اور شراب کی نہر
”اَلرَّحِیْم“ کے میم کے حلقہ سے جاری ہے اور
بائے ”بِسْمِ اللّٰہ“ پر لکھا ہوا دیکھا کہ جو کوئی
دنیا میں بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھے
گا یہ قبہ اور چار نہریں اس کو عطا کروں گا-
میں ہے کہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کا
جہر سے پڑھنا مستحب ہے، روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جس کام سے پہلے بسم اللہ نہ
پڑھی جائے اس میں شیطان شریک ہوتا ہے، اپنی عورت سے ہم بستری کرنے سے پہلے
بسم اللہ پڑھے کھانا کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھے بلکہ دستر خوان پر جتنے کھانے
ہوں ہر ایک کے شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھے پانی پینے سے قبل بسم اللہ پڑھے،
غرضیکہ ہر امر خیر کو بسم اللہ سے شروع کرے-
اللہ کے شروع کیا جائے وہ ناقص و ناتمام ہوتا ہے، جب کوئی ذبیحہ اللہ کے نا م لئے
بغیر حلال نہیں رہ سکتا حالانکہ ان کی اصل حلال ہے تو انسان کو ایسا ہی سمجھنا
چاہیے کہ تمام حلال ہیں لیکن شکر منعم کے طور پر عظمت خدا کو یاد کرنا اور اس کے
ذکر کے بعد حلال خداوندی میں تصر ف کرنا امور ضروریہ میں سے ہے، گو اس حکم کو شرعی
وجوب سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا تا ہم مستحب موکد ضرور ہے کیونکہ معصوم نے جہر بسم
اللہ کو علائم شیعہ سے قرار دیا ہے –
”بِسْمِ اللّٰہ“ کا جزو سورہ ہونا
ہب اما میہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم سوائے
سورہ برائت کے قرآن کی تمام سورتوں کا جزو ہے اور کتب شیعہ وسنی میں اس آیت کریمہ
کے فضائل حدِّ احصا سے زیادہ ہیں،بایں ہمہ مقام عمل میں سوائے شیعہ کے باقی مذاہب
کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں، حتی کہ نماز جیسی اہم عبادت میں بھی دوسرا سورہ
شروع کرتے ہوئے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کو
بالائے طاق رکھ دیا جا تا ہے حالانکہ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ قرآن مجید کے اندر
جوکچھ مرقوم ہے اس میں نہ کمی ہے نہ زیاد تی اور قرآن مجید میں کوئی فقرہ ایسا نہیں
جو غیر قرآن ہو،لاکھوں کی تعداد میں حفّاظ موجود ہیں اور ہر سورہ کے پہلے بسم اللہ
شریف کا ہونا تسلیم کرتے ہیں لیکن جب بارگا ہِ خدامیں عبادت کے عنوان سے کھڑے ہوتے
ہیں تو سوائے فاتحہ کے اور کسی سورہ کوبسم اللہ سے شروع نہیں کرتے اور سورہ فاتحہ
میں بھی جزو سورہ بنا کر نہیں بلکہ تبرکاً پڑھتے ہیں، اب سمجھ سے یہ بات بالا ہے
کہ کتا بوں میں بسم اللہ کے فضا ئل کی اس قدر بھرمار کہ دفتر پُر ہو جائیں اور
مقام عمل میں اس قدر پہلوتہی آخر کیوں ہے؟
یہ ہو کہ چونکہ حضرت امیر المومنین نے ایک مقام پر ارشاد فرمایا تھا کہ تمام علوم کا
جامع قرآن ہے اور علوم قرآنیہ کی جامع سورہ فاتحہ ہے اور سورہ فاتحہ کے علوم بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم میں
ہیں اور بسم اللہ کے جمیع علمی خزائن بائے بسم اللہ میں ہیں اور بائے بسم اللہ کے
علمی ذخائر نقطہ با میں موجود ہیں اور وہ نقطہ میں ہوں، پس یہ سنتے ہی بغض علی کے متوالوں نے فضائل بسم اللہ کے تمام فرامین نبویہ
پر قلم نسخ پھیرتے ہوئے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کی
قرآنیت کا سرے سے انکار کردیا اور کہہ دیا کہ یہ آیت مجیدہ جن سورتوں کی ابتدا میں
واقع ہے سب تبرک و تیمّن کے طور پر ہے اور کسی سورہ کی جزو نہیں سوائے سورہ نمل کے
جہاں وسط سورہ میں واقع ہے کیونکہ وہ جزو سورہ ہے-
حقیقت میں آنکھوں سے تعصب کی عینک اتار کر عقلی و نقلی ادلّہ پر نظر ڈالی جائے تو
عقل سلیم کےلئے یہ فیصلہ نہایت آسان ہے کہ بسم اللہ کوجزو سورہ نہ ماننا اور اس کے
محض تبرکاً ہونے کا قائل ہونا وقارو عظمت ِبسم اللہ کے خلاف مفت کی ہنگامہ آرائی
اور مصداق نقطہ بائے بسم اللہ کی علمی جلالت و وجاہت کے خلاف فضول و بے معانی کی
صدائے صحرائی ہے کیونکہ سورج کے مقابلہ میں گرد اُڑانے سے سورج کی روشنی میں کمی
نہیں ہو جایا کرتی بلکہ دھول اُڑانے والوں کی اپنی آنکھیں گرد آلود ہو جاتی ہیں
اور ان کو داد دینے والوں کا بھی وہی حشر ہوتا ہے اور ان کے سامنے دنیا تاریک
ہوجاتی ہے حالانکہ حقیقت میں تاریک نہیں ہوتی-
ادلّہ عقلیہ
سورہ کی جزو نہ ہوتی تو صرف تبرک کے لئے اوّل قرآن میں اس کا لکھا جانا کافی تھا،
جس طرح استعاذہ(اَعُوْذُ بِاللّہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم)کسی سورہ کا جزونہیں
لہذادوری شیطان کےلئے صرف پہلے ایک دفعہ لکھنا کافی سمجھاگیا ہے –
قرآن سے علیحدہ رکھنا اور اس اشتباہ کاسد باب کرنا ابتدائے اسلام سے تا ایں زماں
انتہائی اہتمام سے کیا گیا ہے اور قرآن پاک میں کسی ایسے جملہ کو رہنے نہیں دیا
گیاجو جزو قرآن نہ ہو اور جمیع فرق اسلامیہ کے نزدیک موجودہ قرآن میں کوئی زیادتی
نہیں اگر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم سُوَرِ
قرآنیہ کی جزو نہ ہوتی تو قطعاً اس زیادتی کو برداشت نہ کیا جاتا اور ہر سورہ کے
شروع میں لکھے جانے پر کسی نہ کسی دور میں ضرور اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند
ہوتی، پس نزول قرآن سے لے کر دور حاضر تک اس کا ہر سورہ کے ابتدا میں مرقوم ہونا
اور اس کے خلاف احتجاج نہ ہونا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ یہ جن سُوَر کے اوّل میں
ہے ان کی جزوہے –
تو قرآن ہونے کی حیثیت سے سورہ برائت کو اس تیمّن سے محروم نہ رکھا جاتا –
برائت اگرچہ قرآن ہے لیکن چونکہ اس میں مشرکین سے برائت اور ان پر غضب خدا کے نزول
کا ذکر ہے اور بسم اللہ میں خدا وند کریم کی رحمت کا تذکرہ ہے لہذا سورہ برائت کے
پہلے اس کو نہیں لکھا گیا؟
سورہ برائت کو تبرک بسم اللہ سے اس لئے محروم کیا گیا ہے کہ اس میں مشرکین سے برائت
اور ان پر غضب خدا کا ذکر ہے تو اس لحاظ سے سورہ لہب(تبَّت یَدَا اَبِی لَھَبٍ الخ)سورہ ماعون(وَیل لِّلمُصَلِّینَ الخ) سورہ جحد(قُل یَا اَیُّھَا الکَافِرُونَ الخ) اور اسی طرح
ا ٓخری دو سورتیں معوذتین اور سورہ ھُمَزہ(وَیل لِّکُلِّ ھُمَزَةٍ لُمَزَہٍ الخ)جن میں
عذاب ویل برائت اور استعاذہ کے علاوہ دوسرا کوئی مضمون ہی نہیں ہے ان کے پہلے بھی
بسم اللہ کو ذکر نہیں کرنا چاہیے تھا پس معلوم ہوا کہ یہ تو قیفی چیز ہے اور جن
سورتوں کے پہلے بسم اللہ ہے وہ ان کی جزو ہے –
کے طبع شدہ قرآنوں میں اگر بسم اللہ جزو سورہ فاتحہ نہ ہو تو اس کی سات آیتیں پوری
ہو ہی نہیں سکتیں-
ادلّہ نقلیہ
مولانا امیر الدین صاحب قبلہ v کی تحقیقات پر اکتفا کرتے ہوئے ”فلک
النجات“ کے بعض اقتبا سات پیش کر کے اس بحث کو ختم کرتا ہوں:
مِنْھَا فَتَجِبُ وَ کَذٰلِکَ الْقَوْلُ فِی الْجَھْرِ بِھَا
واحمد کے مذہب میں بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم سورہ
فاتحہ کی آیات سے ہے اسلئے اس کا پڑھنا واجب ہے اور اسی طرح فاتحہ کے ساتھ اس کا
جہر بھی واجب ہے-[32]
الشَّوْکَانِی فِیْ شَرْحِ الْمُنْتَقٰی (فِی التَّسْمِیَةِ) مَا لَاْ یَحْتَاجُ
النَّاظِرُ فِیْہِ اِلٰی غَیْرِہِ اَلْحَاصِلُ اَنَّ الْحَقَّ ثَبُوْتُ قِرْاَتِھَا
(اَیِ الْبَسْمَلَةِ) فَاِنَّھَا اٰیَةٌ مِنْ کُلِّ سُوْرَةٍ
ہمارے شیخ علامہ شو کانی نے شرح منتقیٰ میں بسم اللہ کے بارے میں اس قدر کافی
مضمون لکھا ہے کہ جو اس کو دیکھے پھر دوسری کتاب دیکھنے کی اس کو حاجت نہیں رہتی
الحاصل حق یہ ہے کہ بسم اللہ کا پڑھنا ثابت ہے اور وہ ہر سورہ کی آیت ہے-[33]
بِبِسْمِ اللّٰہِ فِی السُّوْرَتَیْنِ جَمِیْعًا کَذَا رَوَاہُ الدَّارْ قُطْنِیْ
فِی سُنَنِہِ
اللہ کو بآواز بلند پڑھتے تھےاسی طرح دارقطنی نے اپنے سنن میں روایت کی ہے-[34]
اٰیَة مِنْ اَوّلِ کُلِّ سُوْرَةٍ سِوَی الْبَرَاَةِ فِیْہِ حَدِیْثُ اٰنَسٍ
نے شرح مسلم میں باب اس شخص کی دلیل میں جس نے کہا ہے کہ سوائے سورہ برائت کے ہر
سورہ کے اوّل میں بسم اللہ آیت ہے (اسی سورہ کی جس کے اوّل میں ہے) اس میں انس کی
حدیث ہے-[35]
خَلْفَ النَّبِیِّ وَ اَبِیْ بَکْرٍ وَ عُمَرَ وَ عُثْمَانَ وَ عَلِیٍّ فَکَانُوْا
یُجْھَرُوْنَ بِبِسْمِ اللّٰہِ
علامہ موصوف نے اس موضوع پربکثرت روایات جمع فرمائی ہیں جن میں اکابر صحابہ کا جہر
سے بسم اللہ کا پڑھناکتب معتبرہ سے نقل فرمایا اور اکابر علمائے اسلام اور آئمہ
فقہ مثل امام شافعی و امام احمد کے نزدیک جزو ہر سورہ ہونے کا قول بھی نقل فرمایا
اور جناب رسا لتمآبﷺ کا جہر بسم اللہ سے نماز پڑھنا
بھی تواتر سے ثابت فرمایا-
بتلاتی ہیں کہ ابتدائے اسلام میں بسم اللہ کے جزو سورہ ہونے اور نماز میں اس کے
بالجہر پڑھنے میں کسی کو کوئی اختلاف نہ تھا لیکن جب معا ویہ کا دَورِ حکومت آیا
تو بسم اللہ کے چھپانے میں اس نے پہل کی، چنا نچہ اس نے نماز میں بسم اللہ کو ترک
کیا جس پر مہاجروانصار پکار اٹھے: یَا مُعَا وِیَة اَسَرَقتَ الصَّلٰوةَ اَم نَسِیتَ اَینَ
بِسمِ اللّٰہ اے معاویہ!
کیا تو نے نماز میں چوری کی ہے یا تو بھول گیا ہے؟ بسم اللہ کہاں گئی؟ [37]
مولانا موصوف نے مسند شافعی اور دیگر کتب معتبرہ اہل سنت سے نقل فرمایا ہے-
یہی ہوسکتی ہے کہ چونکہ حضرت امیرالمومنین علی اتباع رسول کرتے ہوئے جہر بسم اللہ پر زور دیتے تھے
معاویہ کو حضرت علی کے ساتھ چونکہ دشمنی تھی لہٰذا ان کی خصوصیات مٹانے
کے لیے بسم اللہ پر اپنی بھڑاس نکالی اور شاید یہ وجہ بھی ہو کہ حضرت علی چونکہ فرماتے
تھے اَنَا النُّقطَةُ
تَحتَ البَاء میں بائے بسم اللہ کے نیچے والا نقطہ ہوں[38] تو اس نے حضرت علی کی اس منقبت
پر پردہ ڈالنے کے لیے بسم اللہ پر ہی ہاتھ صاف کر لیا-
فخرالدین رازی کی تفسیر کبیر سے اس کی تائید موجود ہے جس کا مولانا موصوف نے اصل
عبارت عربی کے ساتھ نقل فرمایا ہے اور ہم طول سے بچتے ہوئے صرف اُردو ترجمہ پر
اکتفا کرتے ہیں، امام فخر رازی نے اپنی تفسیر کبیر میں کہا ہے کہ”نیز اس میں یعنی
روایت بسم اللہ کے اخفات پڑھنے میں جو انس سے بالا ضطراب مروی ہے دوسری تہمت اور
عیب آہستہ بسم اللہ پڑھنے والے پر وارد ہے وہ یہ ہے کہ بتحقیق علی جہر بسم اللہ میں مبالغہ کرتے تھے اور جب حکومت اور ریاست بنی
امیہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے منع جہر تسمیہ میں مبالغہ کیا اس واسطے کہ حضرت علی
کے آثار کو مٹانا چاہتے تھے پس شاید انس بنی امیہ سے ڈر گیا ہو
اور یہی وجہ ہے کہ جہر بسم اللہ کے بارے میں اس کے اقوال میں اضطراب و اختلاف
موجود ہے ورنہ خود انس جہر کا قائل تھا“[39]
تفسیر کبیر میں ہے ساتویں وجہ یہ ہے کہ دلائل عقلیہ ہمارے موافق ہیں اور علی بن
ابیطالب کا عمل بھی ہمارے ساتھ ہے اور جس نے علی کو اپنے دین کا امام بنایا اس نے محکم دستاویز سے تمسک کیا-[40]
میں ہے کہ حضرت علی کا یہ مذہب تھا کہ آپ ؑ بسم اللہ کو تمام نمازوں میں
خواہ سری ہوں خواہ جہری بآواز بلند پڑھتے تھے-[41]
اور میری عقل مضبوط ہے بایں حد کہ ہرگز مخالفین کے کلمات سے زائل نہیں ہو سکتی- اوربیہقی نے
سنن کبری میں ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نماز میں بسم اللہ جہر سے
پڑھتے تھے پھر شیخ بیہقی نے عمر بن خطاب وابن عباس و ابن عمر اورابن زبیر سے جہر
کی روایات لکھی ہیں اوربتحقیق علی بن ابیطالب بسم
اللہ کو بآواز بلند پڑھتے تھے اورجس نے اپنے دین میں علی بن ابیطالبکی
اقتداکی اس نے ہدایت پائی اور راہِ راست پالیا اوراس پرنبی کا قول دلیل ہے کہ
یااللہ حق کو اس طرف پھیر دے جس طرف علی پھرے انتھٰی[42]
طبائع خود بخود اس نتیجہ پر پہنچ سکتی ہیں کہ اہل بیت ِرسول کی عداوت نے لوگوں کو کہاں تک
پہنچا دیا؟ جس طرح نماز میں بسم اللہ کا جہر سے ترک کرنا اسی عداوت کا نتیجہ ہے
اسی طرح جزئیت قرآن کا انکاربھی اسی عداوت کی پیداوار ہے کیونکہ روایت سابقہ میں
یہ نہیں کہ معاویہ نے بسم اللہ کو اخفات سے پڑھا اور صحابہ
نے اعتراض کیا بلکہ روایت کے صریح لفظ یہ
ہیں کہ اِنَّ مُعَاوِیَةَ صَلّٰی
بِالمَدِینَةِ فَلَم یَقرَء بِسمِ اللّٰہ معاویہ نے
مدینہ میں نماز عشاپڑھائی اورنمازمیں بسم اللہ کو نہ پڑھا نہ اخفات سے نہ جہر سے(الخبر) یہی وجہ ہے کہ مہاجر وانصار نے
پکا ر کر کہا تو نے چوری کی یا بھول گیا
ہے؟ ورنہ اخفات سے پڑھا ہوتاتو چوری یا بھول کا سوال غلط تھا؟ [43]
توجیہ سابق سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاویہ کے ڈر سے لوگ دین حق کو چھپا نے میں
اورمذہب اہل بیتپرپردہ
ڈالنے میں ذرّہ باک نہیں سمجھتے تھے جیسا کہ انس صحا بی رسول کے متعلق رازی نے خود
ذکر کیا ہے اوراسی تشددکی بنا پر شریعت رسول کے حقیقی احکام اَلنَّاسُ عَلٰی دِینِ مُلُوکِھِم (لوگ بادشاہوں
کا دین اختیار کر لیا کرتے ہیں) کی نذرہوگئے، پس صاف ظاہر ہے کہ بسم اللہ کے جہر
سے پڑھنے تک محدود نہیں بلکہ جزئیت بسم اللہ بھی اسی تشددکا شکار ہوگئی، حالانکہ
مولانا امیر الدین نے تفسیر کبیر کی عبارت نقل کرنے کے بعد علامہ زرقانی سے یہ
عبارت نقل فرمائی ہے قَالَ السُّھَیلُ نَزَلَتِ البَسمَلَةُ مَعَ کُلِّ سُورَةٍ
بَعدَ اِقرَا سہیل نے کہاہر سورہ کے ساتھ سورہ اقرا کے بعد بسم اللہ
اُتری ہے یعنی ہر سورہ کی جز ہے بسم اللہ-[44]
حضرت امام جعفر صادقمقام تعجب میں ارشاد فرماتے ہیں کہ خداان لوگوں کو
رسوا کرے جنہوں نے بسم اللہ کو چھوڑ دیا، ان لوگو ں کو کیا ہوگیا ہے کہ قرآن مجید
کی عظیم ترین آیت کے متعلق انہوں نے یہ خیال کرلیاکہ اس کا ظاہر کرنا بدعت ہے؟
کے لئے اس مقام پر دواعتراضوں کا جواب دینا ضروری ہے:
: اگر بسم اللہ کو جزو قرآن تسلیم کیا جائے تو بسم اللہ قرآن
ہوجائے گی اورحکم ہے کہ قرآن کی تلاوت کے وقت پہلے بسم اللہ پڑھی جائے لہذا بسم
اللہ سے پہلے ایک اور بسم اللہ کا پڑھنا لا زم ہوگا اور پھر یہ سلسلہ آگے چلاجائے
گا؟
طرح تو حمد کے متعلق بھی ایک مشہور حدیث موجود ہے کہ جو کا م اللہ تعالیٰ کی حمد
کے بغیر شروع کیا جائے وہ ناقص ہے لہذا اَلحَمدُ لِلّٰہِ رَبِّ العَالَمِین کو جزئیت سے
خارج ہونا چاہیے؟ پس جو جواب اس اشکال کا ہو گا اُس کا بھی وہی ہے، کیونکہ آیت
الحمد کو اگر قرآن مانیں تو اس سے پہلے ایک اور الحمد پڑھنی چاہیے اور یہ سلسلہ
پھر آگے چلا جائے گا –
سورہ ہے اور یہ کہ ہر امر خیر کوبسم اللہ سے شروع کرنا ضروری ہے خودبسم اللہ کو
شامل نہیں جس طرح مثلاً کہا جاتا ہے کہ حضرت آدم ابو البشر ہیں یعنی تمام انسانوں کے باپ ہیں حالانکہ خود بھی
بشر اور انسان ہیں اور ابو البشر کہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ معاذ اللہ اپنے
بھی باپ ہیں بلکہ وہ خود اس سے مستثنیٰ ہیں، نیز کہا جا تا ہے بدن انسانی میں سر
تمام اعضا سے بلند ہے حالانکہ خود بھی عضو ہے پس مقصد یہ ہوتا ہے کہ اپنی ذات کو
چھوڑ کر با قیوں سے بلند ہے، اسی طرح حضرت محمد مصطفی ﷺتمام نبیوں کے سردار ہیں حالانکہ
خود بھی نبی ہیں یعنی اپنی ذات کے علا وہ تمام نبیوں کے سردار ہیں وعلی ھٰذالقیاس
پربھی یہی کہا جائے گاکہ بسم اللہ کے پہلے پڑھنے کا حکم اس کے ماسوا با قی قر آن
کے لیے ہے-
سورہ فا تحہ کی جز وقرار دیا جائے تو آیت اَلحَمدُ لِلّٰہِ رَبِّ العَالَمِین کے بعد اَلرَّحمٰنِ الرَّحِیم کا دوبارہ تکرار خالی از
فا ئدہ ہو گا؟
امر کی طرف اشا رہ ہے کہ جو ذات دنیا و عقبیٰ کی نعمات کے عطا کر نے والی ہے انسان
کے لیے سزا وار ہے کہ اس کی نعما ت میں سے ہر نعمت کے تصر ف میں لانے سے پہلے اس
کا ذکر زبان پر جاری کرے اور حمد کے بعد پھر ان دونوں صفتوں کا لانا اس امر کی طرف
اشارہ ہے کہ ہر نعمت الہیہ کے تصرف کے بعد اس کے منعم حقیقی ہونے کا لحا ظ رکھتے
ہوئے کلمہ حمد زبان پر جاری کرے یعنی اس کی رحمانیت اور رحیمیت جس طرح ہر کام کی
ابتدا میں اس کے ذکر کو واجب کرتی ہیں اسی طرح اس کی رحمانیت و رحیمیت ہر کار خیر
کے انجام پر اس کے شکر کو ضروری قرار دیتی ہیں، گویا آیت بسم اللہ میں یہ دونوں
صفتیں اس کے و جو ب ذکر کی علت ہیں اور آیت حمد کے بعدیہ دونوں صفتیں اس کے وجوب
شکر کی مقتضی ہیں پس ان کا تکرار بے فائدہ نہیں بلکہ ان کے بغیر دعوائے حمد بلا
دلیل ہوکرافا دیت کی منزل سے ہٹ جاتا ہے-
جواب ہے جس کو ترتیب ِآیاتِ فاتحہ کے عنوان میں بیان کیا جا چکا ہے کہ پہلی آیت
میں پہلے پہل معرفت توحید کا درس دینا مطلوب تھااور چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا
تصور کنہ حقیقت سے محا ل ہے پس یہ صفتیں لائی گئیں تاکہ ان صفا ت سے اس کی معرفت
ہو جائے اور انسان اس کی نعمت کا شکر ادا کرنے میں آگے بڑھے اور اس کے بعد الرَّحمٰنِ الرَّحِیم کے ذکر سے ایک طرف توشکر
بجا لانے کے لیے اُخروی بشارت ہے کیونکہ رحیم کا معنی کیا گیا ہے اُخروی نعما ت کے
عطا کرنے والا اور دوسری طرف ادائیگی حمد میں کوتاہی ہو جانے کے بعد رحما نیت و رحیمیت
انسان کو مایوس وناامید ہونے سے بچاتی ہیں اورتوبہ کی طرف مائل کرتی ہیں پس پہلی
آیت میں یہ دونوں صفتیں موجب معر فت ہیں اور حمد کے بعد باعث شکر ،داعی توبہ اور
مژدہ جنت بھی ہیں –
عا لمین کی ربو بیت ذاتُ اللہ کے لیے ثا بت ہے اور ربوبیت کو صفت قرار دیا گیا تھا
اور نیز صفات چونکہ اس کی عین ذات ہیں لہذا اس صفت ربو بیت کے تصور سے یہ خیال
پیدا ہونا ممکن تھا کہ یہ صفت بھی عین ذات ہوگی پس اللہ تعالیٰ فاعل موجب ہوگایعنی
یہ صفت اس سے جداہو سکتی ہی نہیں پس وہ مجبور ہے اس امر پر کہ فرائض ربوبیت انجام
دے کیونکہ ربوبیت اس کی عین ذات ہے اگر ربوبیت نہ رہے گی تو وہ نہ ہوگا جس طرح
سورج کی ذات سے روشنی جدا نہیں ہے اور وہ مجبور ہے کہ روشنی پھیلائے اگر روشنی اس
سے جدا ہو جائے تو سورج نہ رہے گا اور یہ بھی مسلمات میں سے ہے کہ فاعل موجب یعنی
جو اپنے فعل میں مجبور ہو حمد کا سزا وار نہیں ہوتا کیونکہ حمد کا سزاوار وہ ہوتا
ہے جو اپنے اختیار سے کوئی احسان کرے، پس اس احتمال وخدشہ کو دور کرنے کے لیے رَبِّ العَالَمِین کی لفظ کے بعد فوراً اَلرَّحمٰنِ الرَّحِیم کا اضافہ فرما دیا کہ صفت ربو بیت میں میں مجبور
نہیں ہوں بلکہ یہ بھی میرے احسانات میں سے ہے اورمیں اس کا فاعل مختارہوں، پس صفت
ربوبیت اس کا اختیاری فعل ثابت ہوا اورمحسن کے اختیاری وارادی فعل پراس کی حمد
ضروری ہوا کرتی ہے اگر اَلرَّحمٰنِ الرَّحِیم کا اضافہ نہ ہوتاتواس شبہ
کا کوئی اورجواب نہ تھا، لہذا معلوم ہوا کہ اَلرَّحمٰنِ الرَّحِیم کا دوبارہ آیت حمد کے بعد
ذکر ہونا افادہ مطلب کے لئے ضروری ہے، یہ وجوہات میں نے نہ کسی کتاب سے ا خذ کی
ہیں اورنہ اس تفسیر کے لکھنے سے پہلے میرے ذہن میں تھیں بلکہ جب اس مقام پر پہنچا
تو ذاتِ احدیت نے دماغ میں القا کردیں-
العَالَمِین
نقطہ بائے بسم اللہ
نہاوندیv نے سید نعمت اللہ جزائر یv کی کتاب مقامات النجات سے نقل فرمایا
ہے کہ حضرت امیر المومنین نے فرمایا:
فِی القُرآنِ وَعِلمُ القُرآنِ کُلُّہُ فِی الفَاتِحَةِ وَعِلمُ الفَاتِحَةِ
کُلُّہُ فِی بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ وَعِلمُ البَسمَلَةِ کُلُّہُ فِی
بَائِھَا وَ اَنَا النُّقطَةُ تَحتَ البَاء
اورقرآن کا تمام علم سورہ فاتحہ میں ہے اور سورہ فاتحہ کا تمام علم بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم میں
ہے اوربسم اللہ کا تمام علم اس کی باءکے نقطے میں اور میں بائے بسم اللہ کا نیچے
والانقطہ ہوں-[45]
کے عنوان میں یہ روایت بیان کی جاچکی ہے لیکن ماکان ومایکون
کی بجائے اس میں کتب سماویہ کے الفاظ ہیں اورآخری الفاظ یہ ہیں کہ بائے بسم اللہ
میں جو کچھ ہے وہ نقطہ با میں موجود ہے اورمیں وہی نقطہ ہوں-
زمانہ میں قرآن مجید پر نقطے لگائے نہیں گئے تھے جب نقطے نہ تھے تو کیسے درست ہے
کہ حضرت علی نے کہا ہوگا میں بائے بسم اللہ کے نیچے والا نقطہ
ہوں، پس معلوم ہوا کہ یہ حدیث محل اعتبار سے ساقط ہے؟
درست ہے کہ نقطے بعد میں لگائے گئے لیکن نقطے کا بنانا اوربات ہے اورلگانا اورشئے
ہے، ایسا نہیں کہ نقطے بعد میں بنائے گئے، بلکہ تاریخ کہتی ہے کہ نقطے بعد میں
لگائے گئے کیو نکہ اگر نقطے پہلے سے نہ بنے ہوتے تو ب ت ث ج ح خ وغیرہ متشا بہ
حروف کی تمیز کیسے ہوسکتی؟ یہ اور بات ہے کہ مسلسل تحریر میں ماہر ین افراد مطلب
کو بغیر نقاط کے سمجھ سکتے ہیں اور پڑ ھ سکتے ہیں اور آج کل بھی شکستہ تحریروں میں
عموماً نقاط کا اعتبار نہیں کیا جاتا اور بایں ہمہ قرائن کے ملانے سے مکتوب الیہم
کو پڑھنے اورسمجھنے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ حروف
تہجی میں سے بھی نقاط اُڑادئیے جائیں، ورنہ ابتدائی تعلیم والوں کےلئے تعلیم کا
رستہ ہی بند ہو جائے گا پس اُس زمانہ میں بھی نقاط موجود تھے اور تعلیم و تعلّم
میں حروفِ تہجی کی باہمی شناخت کا دار و مدار نقطوں پر تھا لیکن عربی ان کی مادری
زبان تھی لہذا کاتب لکھتے وقت نقطوں کو نظر انداز کر دیتے تھے اور ان کے بغیر بلا
دقت پڑھ سمجھ لیا کرتے تھے بعد ازاں رفتہ رفتہ اسلام جب اطراف عالم میں پھیلنا
شروع ہوا اور اہل عجم نے قرآن مجید کو حاصل کرنا چاہا تو ان کی چونکہ مادری زبان
نہ تھی لہذا بغیر نقاط کے ان کےلئے پڑھنا مشکل تھا پس نقاط لگا دئیے گئے اور اہل
عجم کی یہ مشکل ختم ہو گئی-
طرح نقطے بعد میں لگوائے گئے تھے اسی طرح اعراب( زبر،
زیر ،پیش، جزم وغیرہ) بھی بعد میں لگوائے گئے، تو
کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ پہلے عربی زبان اورقرآن مجید میں اعراب نہ تھے اوربعد میں
ہوئے؟ معلوم ہوا کہ اعراب ونقاط بعد میں بنا ئے نہیں گئے صرف لگائے گئے ہیں، پہلے
اسلام چونکہ صرف عرب میں تھا پس ماہرین لسان کے لئے اپنی زبان کے لکھنے یا پڑھنے
میں اعراب لگانے کی ضرورت نہ تھی اورجب اسلام اہل عجم میں پھیلاتو دونوں چیزوں کی
ضرورت محسوس ہوئی اور اسے پورا کردیا گیا-
نقطے اوراعراب وغیرہ پہلے سے نہ ہوتے تو بعد میں ان کا اضافہ تحریف قرآن کا موجب
ہوتا اور چونکہ بعد میں ان کا لگنا تحریف کا موجب نہیں ہوا معلوم ہوا کہ یہ پہلے
سے داخل قرآن تھے، پس حضرت امیر المومنین کے
فرمان پر اس قسم کے اعتراضات چشم کوری اوربدباطنی ہی ہے-
فاتحہ میں تمام علوم کا ہونا تو مسلّم ہے جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے لیکن
تمام کا بائے بسم اللہ میں ہونا ہو یا بائے بسم اللہ کے نقطہ میں ہونا سمجھ میں
نہیں آسکتا، بلکہ ظاہراً حروف مفرد میں یا نقطہ میں علوم قرآنیہ کا سمانا محالات
میں سے ہے؟
کی توجیہ علامہ نہا وندی vنے اس
طرح فرمائی ہے کہ حروف تہجی میں الف تمام حروف سے پہلے بھی ہے اورمجرد بھی ہے سید
ھا بھی ہے اوربلند بھی ہے پس عالم حروف میں اس کی حیثیت ایسی ہے جس طرح عالم
موجودات میں ذات ربُّ العزت کا وجود، کہ وہ سب سے پہلے بھی ہے مجرد بھی ہے بلند
ومتعالی بھی ہے اورالف کے بعد عالم حروف میں باءحرفِ اوّل ہے جس طرح وجود ذیجود
جناب رسالتمآب ﷺعالم موجودات میں موجود اوّل ہیں،
ہم شکل حروف کا باہمی امتیاز نقاط سے کرتے ہیں لہذابا کو عالم حروف میں اپنے ہم
شکل حروف سے تحتانی نقطہ کے ذریعہ تمیز حاصل ہے اسی طرح عالم موجودات میں مخلوق
اوّل حضرت محمد مصطفیﷺ کے وجود ذیجود کو وجود علیکے ساتھ
اختصاص وتمیز عطا کی گئی اِنتَھٰی
وجود رکھتے ہیں، اسی طرح عالم موجودات یا وجود خلقی میں نور محمد ﷺونور علیایک ہی نور ہیں جیسا کہ ارشاد ہے اَنَا وَعَلِیٌّ مِّن نُّورٍ وَّاحِدٍ[46] میں اور علیایک ہی نورسے ہیں، تفسیر ہذا کی جلد اوّل میں حضرت
امیر المومنین کا فرمان ملاحظہ ہو، اور جناب رسالتمآب ﷺکی خلقت نوری کی تفصیلی روایات کتب
مفصل میں مذکورہیں اس مقام پران کا ذکرکرنا موضوع سے خارج ہے-
میں باقی تمام حروف سے باءکو الف سے انتہائی قرب حاصل ہے اسی طرح عالم موجودات میں
حضرت رسالتمآبﷺ کواللہ تعالیٰ سے جو قرب حا صل ہے
اورکسی کو حاصل نہیں، باءچونکہ الف سے وضعی طورپر قرب رکھتاہے یعنی حروف بنانے
والے نے باءکو الف کے قریب رکھ دیا ہے لہذا باءمیں قرب رکھ دیا ہے الف کی وجہ سے
کوئی ذاتی خصوصیت نہیں ہے اگر آج بھی دنیا والے حروف کی وضعی ترتیب کو بدل کر
باءکے قرب کو الف سے ہٹادیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں نہ پہلے سے اس میں کو ئی
خصوصیت تھی اورنہ بعد میں قرب الف حاصل ہونے کے اس میں کوئی خاص استحقاق کی وجہ
پید ا ہوئی ہے لیکن وجود ذیجود رسالتمآب ﷺکی پہلے کی خصوصیت ارادہ کا ملہ
ذات احدیت ہے جو خالی از مصلحت نہیں اور اس کا قرب حقیقی اسی مخلوق کے لئے
سزاوارہے جس کو اس نے اپنے اختیار و ارادہ کا ملہ سے تمام فضائل وکمالات ممکنہ سے
سرفراز فرمایا ہواوران کمالات میں باقی کسی کو اس کا شریک نہ کیا ہو ،پس اس نے اس
مخلوق اوّل کو تمام امکانی کمالات میں امتیاز کا مل عطافرمایا اورافضل موجودات
قرار دیا اور وہ تمام صفات حسنہ جو حدود امکان کے اندر کسی کو عطا ہوسکتی ہیں
آنحضورﷺ کو ان سے
مشرف فرماکر ارشاد فرمایا لَولاکَ لَمَا خَلَقتُ الاَفلاکَ[47]
چونکہ تمام کمالات میں سے اشرف کمال ہے لہذا حضورﷺ کو علوم ماکان ومایکون میں سے اس
قدر عطا فرمایاکہ نطاقِ امکان میں اس سے زیادہ کی گنجائش نہ تھی، پس معلوم ہوا کہ
حضرت امیر المومنین کے اس فرمان میں کہ جمیع علوم ماکا ن
ومایکون یا جمیع علوم کتب سماویہ بائے بسم اللہ میں ہیں اس باءسے مراد تاویلی طور
پر وجودِ حضرت خاتم الانبیا ﷺہے نہ کہ ظاہری حرف باءجو حروف
تہجی میں دوسرے نمبرپر ہے، چنانچہ حضرت امیر المومنین کا آخری فقرہ (کہ بائے بسم اللہ کا نقطہ میں علی ہوں) صاف طور پر اس امر کا کاشف ہے کہ باءسے مرادآنحضورﷺہی ہیں-
ہوا کہ تمام علوم قرآنیہ بائے بسم اللہ میں ہیں اوربسم اللہ کے تمام علوم نقطہ
بائے بسم اللہ میں ہیں جو باءکے نیچے ہے یعنی تمام علوم قرآنیہ کا خزانہ حضرت
رسالتمآبﷺ اورحضرت
رسالتمآبﷺ کے تمام
علوم کا خزانہ وجودِ علی ہے جو باقی کا ئنات سے افضل اورحضرت رسالتمآب ﷺکے ماتحت ہے-
رسالت کا وارث ہونا کتب آثار میں تواترسے ثابت ہے اسی تفسیر کی جلد اوّل میں
احادیث نقل کی گئی ہیں جن سے منصف طبائع اطمینان حاصل کر سکتی ہیں اورعلوم قرآنیہ
میں حضرت علی کی کمال وسعت کے مظاہرے کتب آثار میں اتنی کثرت سے
منقول ہیں کہ ان کے یکجاکرنے سے ضخیم کتابیں پُرہوسکتی ہیں جبھی تو ارشاد فرماتے
تھے: لَو ثُنِّیَت لِیَ الوَسَادَةَ لَذَکَرتُ فِی تَفسِیْرِ بِسْمِ
اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ حِمْلَ بَعِیْر
میرے لئے تکیہ لگایا جائے تو صرف بسم اللہ کی تفسیر اس قدر بیان کروں کہ اونٹ بار
ہوجائے –[48]
فِی لَیلَةٍ وَّاحِدَةٍ مِّن حِینَ اَقبَلَ ظِلامُھَا حَتّٰی صَبَاحِھَا فِی شَرحِ
البَاءِ مِن بِسمِ اللّٰہِ وَ لَم یَتَعَدَّ اِلٰی السِّینِ وَقَالَ لَوشِئتُ
لَاَوقَرتُ اَربَعِینَ بَعِیرًا مِّن شَرحِ بِسمِ اللّٰہِ
عباس سے مروی ہے کہ حضرت امیر المومنین نے میرے سامنے ایک رات ابتدائے تاریکی سے سفیدی صبح تک بائے بسم اللہ کی
شرح فرمائی اور سین تک نہ پہنچے اورفرمانے لگے کہ اگر میں چاہوں توبسم اللہ کی شرح
سے چالیس اونٹ بار کردوں-[49]
تعظیم ضرائح مقدسہ ”اِیَّاکَ نَعبُدُ“ کے منافی نہیں
کا معنی ہے انتہائی خضوع اور اِیَّاکَ کا مقدم ہونا دلالت کرتا ہے کہ خضوع
صرف اللہ کی ذات کے لئے ہی ہے لہذاکسی غیرُ اللہ کے سامنے انتہائی خضوع موجب شرک
ہے پس شیعوں کا آئمہ طاہرین کی
ضرائح مقدسہ کی زیارت اوران کی تعظیم اوران کو بوسہ دینا وغیرہ یہ سب عبادت
غیرُاللہ ہے اورشرک ہے اوراسی طرح ضرائح مقد سہ کی شبیہیں بنانا اور ان کی تعظیم کر نا بھی شرک ہے اور ان افعال کو بت
پرستی سے تعبیر کیا جاتا ہے؟
عبادت کا مفہوم بے شک غایت خضوع ہے لیکن غایت خضوع کا مطلب یہ نہیں کہ جس کو عبد
خضوع سمجھے وہ خضوع ہے اور جس کو عبد خضوع نہ سمجھے وہ خضوع نہیں ہے؟ آقا اپنے
غلام سے کہے کہ میرے آگے چل اورغلام کہے نہیں حضور اس میں گستاخی ہے میں تو آپ کے
پیچھے ہی چلوں گا اس کو خضوع نہیں کہتے بلکہ خضوع یہ ہے کہ غلام اپنے آقاومولا کے
ہر حکم کو بلاپس وپیش قبول کرے خواہ اس کی اپنی دانست میں اس حکم پر چلنا خضوع ہو
یا کہ خلافِ خضوع؟ کیونکہ آقا اپنے حکم کی مصلحت کو جس طرح خود سمجھ سکتاہے غلام
نہیں سمجھ سکتااوریہ بھی ضروری نہیں کہ وہ اپنے ہرحکم کی مصلحت کو اپنے غلام
پرواضح کردے-
اللہ، صفاومروہ وغیرہ ان سب کی تعظیم کا چونکہ اس نے امرفرمایا اورشعائر اللہ کی
تعظیم کو تقویٰ سے تعبیر فرمایا اب عبد جس نے فرائض عبدیت اداکرنے ہیں اس کویہ
دریافت کرنے کا حق نہیں کہ تونے یہ حکم کیوں دیا؟ ہم ان جمادات کی تعظیم کیوں کریں
جبکہ ہم اشرف المخلوقات ہیں؟ پس جب معلوم ہے کہ خداان کی تعظیم کو محبوب رکھتاہے
تو ان کی تعظیم کرناہی غایت خضوع ہے اگر چہ وہ غیرُ اللہ ہیں اور در حقیقت یہ
تعظیم ان چیزوں کی نہیں بلکہ اللہ کے حکم کی تعظیم ہے-
حجراسود کو بوسہ دینا گو مصلحت معلوم نہ ہوچونکہ ذاتِ خداکی فرمانبرداری ہے لہذا
واجب ہے اورعبادت ہے اگرچہ ظاہراًغیراللہ کی تعظیم ہے، ملائکہ کا حضرت آدمکے سامنے
سجدہ کرنا ملائکہ کی شانِ عبودیت کے منافی نہیں تھا بلکہ شیطان کا سجدہ نہ کرنا
منافی خضوع وعبودیت تھا، پس معلوم ہوا کہ اللہ کے حکم کی اطاعت کا نام ہے خضوع
اوراس کی اطاعت سے گریز کرنا ہے خلافِ خضوع-
حضرت ابراہیماورحضرت اسماعیلاورحضرت ہاجرہ کی سنت کو
زیادہ تردہرایا گیا ہے اوروہ مقامات جوان کی طرف منسوب ہیں ان کو مشاعر یا شعائر
اللہ سے موسوم کیا گیا ہے اوران کی حرمت وعزت واجب کر دی گئی ہے تاکہ اللہ کے
مخصوص بندوں کی راہِ حق میں قربانیا ں اورخوشنودی خالق کے لیے ان کی جانفشانیاں
یادگار رہ کر آنے والی نسلوں کو درسِ عبرت دیں اورقبولِ موعظہ میں مُمِد ثابت ہوں
اوروہ یہ مناظر ومنازل اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ اللہ کی اطاعت کرنے والے رضائے
خداکے لئے کونسی کٹھن منزلوں اور پر خطر وادیو ں اور ہوشربا مشقتوں سے دوچار ہوئے
لیکن پائے ثبات میں تزلزل نہ آیا اورمقام عبودیت میں لغزش نہ آئی-
رسالتمآبﷺ جو تمام
گزشتہ انبیا کے سیدوسردارتھے ان کے ساتھ
جن مقامات کو خصوصی نسبت وتعلق حاصل ہے جن کی یاد یقینا جناب رسالتمآب ﷺکے عہدکی یاد کوتازہ کرتی ہے جن کی
زیارت آنحضورﷺ کے ساتھ رشتہ محبت کے استوار کرنے
میں انتہائی مُمِدومعاون ہے خصوصا ًوہ ضریح پاک جس میں جسم اطہر صاحب ِلولاک زیر
خاک ہے، وہ خطیرہ قدس جو قدسیّین کے آقا کے جسد نوری کا گہوارہ ہے
وہ مقام مشرف جس کو مالک شرافت کے ابدی بیت الشرف ہونے کا شرف حاصل ہے اور وہ زمین
مطہر جس کی طاہر گود میں مالک تطہیر آرام فرما ہیں وہ کیونکر شعائر اللہ سے نہیں؟
اور اس کی عظمت کا برقرار رکھنا اور اس کے عہد کا تازہ کرنا کیوں ناجائز ہے؟ اور
اس کو بوسہ دینا کیوں شرک ہے؟ جبکہ حجر اسود کو بوسہ دینا عین عبادت ہے؟
ابراہیم و اسماعیلو ہاجرہ کی یادگاروں
کی تعظیم کا حکم چونکہ ثابت ہے لہذا عبادت ہے اور جناب رسالتمآب ﷺکے روضہ اقدس کی تعظیم اور اس کو
بوسہ دینا کسی حکم شرعی سے ثابت نہیں لہذا بدعت ہے؟
ایک عالم اپنے شاگرد کو کہے کہ فلاں شخص کی عزت کیا کرو وہ ایک عالم دین کی اولاد
اور اس کی نشانی ہے، اب یہ عالم اگر مر جائے تو کیا شاگرد یہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے
استاد نے اپنی اولاد کی عزت کرنے کا حکم تو نہیں دیا تھا لہذا میرے اوپر صرف اُسی
عالم کی اولاد کی تعظیم کرنا واجب ہے جس کے متعلق استاد نے حکم دیا تھا؟ ہرگز نہیں
بلکہ ایسے شاگرد کو احسان فراموش اور بد ترین انسان سمجھا جائے گا کیونکہ عقل
بتلاتی ہے کہ جب استاد نے ایک معیار بتلا دیا تھا تو افراد کی تطبیق اپنا فریضہ
تھا اور استاد کی اولاد اس معیار کی رو سے بہ نسبت بتلائے ہوئے عالم کی اولاد کے
زیادہ قابل تعظیم اور لائق عزت ہے-
کا مفہوم ہے کہ جس نے کسی کو ایک حرف پڑھا دیا گویا اس نے اس کو اپنا غلام بنا لیا
اس سے شاگرد یہ نتیجہ نہیں نکال سکتا کہ جس نے اس کو زیادہ تعلیم دی ہو وہ اس کلیہ
سے خارج ہے بلکہ زیادہ پڑھانے والے کی اسی قاعدہ کی رو سے بدرجہ اولیٰ زیادہ تعظیم
کرنا واجب ہو جاتی ہے اس قسم کی مثالیں بہت زیادہ ہیں-
ابراہیمکی یاد میں ان کی بعض سنتوں پر عمل کرنے کا ہم کو
حکم ہے اور وہ تا قیامت ہمارے لئے دستور العمل ہیں تو فخر ابراہیماور سید
الانبیا ﷺ جن کی پوری
زندگی کا ہر قول و فعل ہمارے لئے مشعل راہ اور اسوہ حسنہ ہے ان کے نشانات اور مقدس مقامات ہمارے
لئے کیوں نہ محل عزت و احترام ہوں؟ حضرت ابراہیم کی اولاد کی طرف منسوب چیزیں جن کی راہِ خدامیں
قربانی ایک محدود حیثیت کی حامل تھی شعائر اللہ ہوں اور حضرت سید الانبیاﷺ
کی عترتِ طاہرین کے عتباتِ عالیات جن کی راہِ حق میں قربانی پورے عالم میں
نظیرنہیں رکھتی کیوں نہ شعائر اللہ ہوں؟ اوران کی یاد کو تازہ کرنا کیوں نہ اعظم
قربات سے قراردیا جائے؟ جبکہ ان کی سیرت وکردار پرعمل کرنا جسد انسانیت کی روح
وجان اور عالمی تشتت و افتراق کےلئے دعوتِ اتحاد اورپیغام امان واطمینان ہے، پس ان
ضرائح مقدسہ کی زیارت اوران کے آستانِ قدس پر جبہ سائی اوران کی حرمت وعظمت کی
پاسبانی تاکہ ان کے واقعات کی یاد کو تازہ کرکے اپنے جسد ظلمانی کو روحِ ایمانی سے
زندہ کیا جاسکے یا حضیض حیوانیت سے اوجِ انسانیت کی طرف قدم بڑھایاجاسکے،
یقینامطلوب بارگاہِ ربُّ العزت ہے اورقربِ خداتک رسائی کا بہترین زینہ ہے-
دینا شرک فی العبادة ہے توگزارش ہے کہ کیا احترام کی غرض سے قرآن مجید کے حوف اور
وہ کاغذجن پرقرآن لکھاہے ان کو بوسہ دینا شرک نہیں ہے؟ محبت کی غرض سے اپنی اولاد
کو بوسہ دینابدعت وشرک نہیں؟ توپھر اظہارِ محبت یا مقام احترام کے پیش نظر مقاماتِ
مقدسہ کو بوسہ دینا کیوں بدعت وشرک ہے جبکہ مقصود صرف یہ ہوتاہے کہ یہ اللہ والوں
کی یاد گاریں ہیں جن کی یاد یادِ خداکا درس دیتی ہے اورجن کا ذکر ذکرِ خدا کا شوق
دلاتاہے؟
طاہرین کے
عتباتِ عالیات کی زیارت اس لئے کی جاتی ہے کہ طبیعت میں جذبہ عبادت پیدا ہو اس لئے
نہیں کہ وہ خود مقصودِ عبادت ہیں ورنہ ہمارے نزدیک ضرائح مقد سہ تو بجائے خود کعبہ
(بیت اللہ) کا سجدہ کرنا بھی ناجائز ہے جبکہ بیت اللہ کو معبود قرار دیا جائے،
یعنی شعائر اللہ کی تعظیم اس لئے ضروری ہے کہ ان سے درسِ عبادت حاصل ہو نہ اس لئے
کہ خود ان کو مقصود عبادت قرار دیا جائے، پس صفا،مروہ، مقام ابراہیم، حجرا سود،
کعبہ وغیرہ یہ سب چیزیں غیرُ اللہ ہیں اورخود ان کو معبود ماننا کفر وشرک ہے، پس
جب ہم کعبہ کو معبود نہیں جانتے تو کسی اور مقام کو کیوں معبود قرار دیں ؟
کہ ہمارے نزدیک آئمہ کی ضرائح مقدسہ کی زیارت پڑھنے کے بعد مستحب ہے کہ دورکعت
نماز زیارت سر کی جانب پڑھی جائے یعنی ضرائح کے سیدھا پیچھے ہو کر پڑھنے سے
بچاجائے تاکہ ضرائح مقدسہ کے سامنے آجانے کی صورت میں یہ شائبہ تک پیدا نہ ہو کہ
غیرُاللہ کو سجدہ ہو رہاہے ورنہ جب مقصودِ عبادت خود ربُّ العزت ہوتا ہے تو ضرائح کے پیچھے نماز ادا
کرنے میں کو ئی جرح نہیں ہوا کرتی؟ البتہ کوئی نااہل اپنی کو تاہ علمی کی بنا پر
ایسافعل کرے جس سے شرک وکفر لازم آجائے تو یہ تعلیم مذہب نہیں بلکہ اس کا ذمہ دار
وہ خود ہے –
مقدسہ کی شبیہات کا معاملہ جو ہمارے ملک میں مروّج ہے تو ان کی تعظیم کو بت پرستی
یا شرک سے تعبیر کرنا صرف چشم کوری اورعنادشعاری سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے کیونکہ
کسی ذی رو ح کی سایہ دار تصویر کو بت کہا جاسکتا ہے اورغیر ذی روح کی شبیہ قطعا
ًنہ بت ہے نہ بت پرستی ورنہ اگر کسی مکان کی غیر مستقل شبیہ ناجائز ہو تو پھر مکان
کی مستقل شبیہ یعنی ایک مکان جیسا دوسرا مستقل مکان بنانا تو بدرجہ اولیٰ بت پرستی
ہوگا بلکہ ہر وہ کام جس میں کسی دوسرے کی نقل اتاری جارہی ہو وہ بدعت وشرک سے
موسوم ہوگا حالانکہ ان چیزوں کو کوئی بھی شرک سے تعبیر نہیں کرتا اور صرف ایوانِ
امامت کی نقل کو بت اس لئے کہا جاتا ہے تاکہ امامت حقہ کی یاد لوگوں کے دلوں سے
اُتر جائے اور ان کی صداقت وحقانیت ومظلومیت کے قصے فراموش ہو جائیں اورمبادا
بنائی ہوئی امامت کی دکان کی شہرت مدہم پڑ جائے اورلوگ اس طرف سے کنارہ کش ہو کر
حق سے ہم آغوش ہوجائیں؟ بالجملہ نہ عتباتِ عالیات خود مقصودِ عبادت ہیں اورنہ ان
کی شبیہات مقصودِ عبادت ہیں اور قابل احترام اس لئے ہیں کہ ان کو خدا والوں سے
نسبت ہے ان کی زیارت اُن خدا والوں کی یاد تازہ کرتی ہے جن کی طرف یہ منسوب ہیں
اوران کی یاد خداکی یاد کا وسیلہ اورعبادت کا ذریعہ ہے ( مجسمہ سازی کے متعلق مفصل
بحث تفسیر ہذا کی جلد۱۱میں ملاحظہ ہو)
ہیں ہمارا اعتقاد بھی یہی ہے اور جو لوگ عمل شیعہ پر بے جا اعتراض کرتے ہیں وہ صرف
لفظ عبادت جانتے ہیں حقیقی معنی و مفہوم عبادت سے غافل ہیں ان کے پاس صرف ظاہر ہے
دامن حقیقت سے ان کے ہاتھ کو تاہ ہیں خلاصہ یہ کہ خوشنودی خدا کےلئے ہر واجب
التعظیم شئے کی تعظیم کرنا مفہوم عبادت کے منافی نہیں بلکہ عین عبادت ہے پس اِیَّاکَ نَعبُدُ کی آڑ لے کر کفر و شرک وبدعت و
بت پرستی وغیرہ کی ارزاں بلکہ مفت تقسیم!! اپنے ہاں ان جنسوں کی فراوانی و بہتات
کی دلیل ہے اورسچ ہے برتن سے وہی چیز برآمد ہوتی ہے جو اس میں ہو-
”اِیَّاکَ نَستَعِینُ“ اور شیعی عقیدہ
مقام پر یہ سوال عام طور پر کیا جاتا ہے کہ اِیَّاکَ نَستَعِین کا مطلب ہے اے اللہ! ہم صرف
تجھ سے مدد چاہتے ہیں لہذا آئمہ طاہرین سے
مدد طلب کرنا اور ان کو خطاب کرکے پکارنا اس آیت کے صریح منافی ہے لہذا ناجائز
بلکہ کفر ہے؟
ہیں:
قول: یعنی یہ کہ
خداوندکریم نے امر، خلق، رزق،موت، حیات وغیرہ کے تمام معاملات محمد وآلِ محمد کے سپرد کردیئے ہیں پس وہی پیدا
کرتے ہیں اور ما رتے ہیں اور وہی خلائق کو رزق دیتے ہیں اور خدا اپنے مقام میں بےکارسا
رہ گیا ہے-
قول:یہ کہ خداوندکریم نے ان ذواتِ مقدسہ کو چونکہ تمام کائنات
سے افضل اور کل مخلوق کا سردار بنایا پس یہ لوگ اللہ تک رسائی حاصل کرنے کا وسیلہ
ہیں جس طرح احکام خدا کے ہم تک پہنچانے کےلئے وہ مامور من اللہ ہیں اسی طرح ہماری
دعا و مناجات کی قبولیت کا بھی وہی وسیلہ ہیں-
قسم کا اعتقاد رکھا جائے تو اس سے کفر وشرک لازم آتا ہے اور آئمہ معصومینکی طرف سے اس عقیدہ فاسدہ کی پر
زور تردید کی گئی ہے جیسا کہ کتاب ہذاکی جلد اوّل یعنی مقدمہ تفسیر [50] میں عقلی و
نقلی طریقہ سے اس کو بالکل باطل کیا گیا ہے اور اگر حضرات محمد وآلِ محمد کو وسیلہ قرار دے کر ان کو پکارا
جائے اور مدد طلب کی جائے تو جائز اور موجب نصرتِ خدا ہے اور اس بارے میں اہل بیت
عصمت سے
جوآثار و روایات منقول ہیں حد تواتر سے زیادہ ہیں-
میں بروایت سلیم بن قیس ہلالی جناب رسالتمآب ﷺسے منقول ہے جس میں اہل بیت عصمت کے متعلق یہ الفاظ صراحت سے موجود
ہیں (وہ قرآن کے ساتھ ہوں گے اور قرآن ان کے ساتھ ہو گا قرآن ان کو نہ چھوڑے گا
اور وہ قرآن کو نہ چھوڑیں گے میری امت پر اللہ کی مدد انہی کے ذریعہ سے نازل ہوگی
انہی کے ذریعہ سے مینہ برسے گا اور انہی کے وسیلہ سے مصائب دور ہو گے اور انہی کے
واسطہ سے دعا مستجاب ہوگی) اس کے بعد حضورﷺ نے بارہ اماموں کی تعداد بیان
فرمائی اور نام بھی بتائے- [51]
بطور تبرک و تیمّن پیش کی ہے اب اس مقام پر ادعیہ ماثورہ کے چند اقتباسات پیش کرنا
چاہتا ہوں تاکہ یہ مطلب صاف ہوجائے اور تعلیم آئمہ کے پیش نظر نظریات اور اعتقادات میں سے صحیحہ و
فاسدہ کا جائزہ لیاجاسکے-
دُعائے توسُّل
دُعامفاتیح الجنان میں شیخ عباس قمی vنے
علامہ مجلسی vسے
روایت کی ہے اور انہوں نے محمد بن بابویہ vسے
اورانہوں نے آئمہ طاہرین سے
روایت کی ہے:
بِنَبِیِّکَ نَبِیّ الرَّحْمَةِ مُحَمَّدٍ صَلّٰی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَاٰلِهِ یَا
اَبَاالْقَاسِمِ یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ یَا اِمَامَ الرَّحْمَةِ یَا سَیِّدَنَاوَ
مَوْلانَا اِنَّا تَوَجَّهْنَا وَاسْتَشْفَعْنَا وَ تَوَسَّلْنَا بِکَ اِلٰی اللّٰهِ
وَ قَدَّمْنَاکَ بَیْنَ یَدَیْ حَاجَاتِنَا یَا وَجِیْهًا عِنْدَاللّٰهِ اِشْفَعْ لَنَا عِنْدَاللّٰه
بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ یَا حُجَّةَ اللّٰهِ عَلٰی خَلْقِهِ یَا سَیِّدَنَاوَ مَوْلانَا
اِنَّا تَوَجَّهْنَا وَاسْتَشْفَعْنَا وَ تَوَسَّلْنَا بِکَ اِلیٰ اللّٰهِ وَ
قَدَّمْنَاکَ بَیْنَ یَدَیْ حَاجَاتِنَا یَا وَجِیْهًا عِنْدَاللّٰهِ اِشْفَعْ لَنَا عِنْدَاللّٰه
عَینِ الرَّسوُلِ یا یا سَیِدَتَناوَ مَولاتَنا اِنا تَوَجَّهنا وَاستَشفَعنا وَ
تَوَسَّلنا بِکِ اِلیَ اللّهِ وَ قَدَّمناکِ بَینَ یَدَی حاجاتِنا یَا وَجِیْهَةً عِنْدَاللّٰهِ اِشْفَعِیْ لَنَا عِنْدَاللّٰه
یَابنَ رَسوُلِ اللّهِ یا حُجَّةَ اللّهِ عَلی خَلقِهِ یا سَیِدَناوَ مَولانا اِنا
تَوَجَّهنا وَاستَشفَعنا وَ تَوَسَّلنا بِکَ اِلیَ اللّهِ وَ قَدَّمناکَ بَینَ
یَدَی حاجاتِنا یَا وَجِیْهًا عِنْدَاللّٰهِ اِشْفَعْ لَنَا عِنْدَاللّٰه
الشَّهیدُیَابنَ رَسوُلِ اللّهِ یا حُجَّةَ اللّهِ عَلی خَلقِهِ یا سَیِدَناوَ
مَولانا اِنا تَوَجَّهنا وَاستَشفَعنا وَ تَوَسَّلنا بِکَ اِلیَ اللّهِ وَ
قَدَّمناکَ بَینَ یَدَی حاجاتِنا یَا وَجِیْهًا عِنْدَاللّٰهِ اِشْفَعْ لَنَا عِنْدَاللّٰه
العابِدینَ یَابنَ رَسوُلِ اللّهِ یا حُجَّةَ اللّهِ عَلی خَلقِهِ یا سَیِدَناوَ
مَولانا اِنا تَوَجَّهنا وَاستَشفَعنا وَ تَوَسَّلنا بِکَ اِلیَ اللّهِ وَ
قَدَّمناکَ بَینَ یَدَی حاجاتِنا یَا وَجِیْهًا عِنْدَاللّٰهِ اِشْفَعْ لَنَا عِنْدَاللّٰه
یَابنَ رَسوُلِ اللّهِ یا حُجَّةَ اللّهِ عَلی خَلقِهِ یا سَیِدَناوَ مَولانا اِنا
تَوَجَّهنا وَاستَشفَعنا وَ تَوَسَّلنا بِکَ اِلیَ اللّهِ وَ قَدَّمناکَ بَینَ
یَدَی حاجاتِنا یَا وَجِیْهًا عِنْدَاللّٰهِ اِشْفَعْ لَنَا عِنْدَاللّٰه
الصّادِق یَابنَ رَسوُلِ اللّهِ یا حُجَّةَ اللّهِ عَلی خَلقِهِ یا سَیِدَناوَ
مَولانا اِنا تَوَجَّهنا وَاستَشفَعنا وَ تَوَسَّلنا بِکَ اِلیَ اللّهِ وَ
قَدَّمناکَ بَینَ یَدَی حاجاتِنا یَا وَجِیْهًا عِنْدَاللّٰهِ اِشْفَعْ لَنَا عِنْدَاللّٰه
یَابنَ رَسوُلِ اللّهِ یا حُجَّةَ اللّهِ عَلی خَلقِهِ یا سَیِدَناوَ مَولانا اِنا
تَوَجَّهنا وَاستَشفَعنا وَ تَوَسَّلنا بِکَ اِلیَ اللّهِ وَ قَدَّمناکَ بَینَ
یَدَی حاجاتِنا یَا وَجِیْهًا عِنْدَاللّٰهِ اِشْفَعْ لَنَا عِنْدَاللّٰه
رَسوُلِ اللّهِ یا حُجَّةَ اللّهِ عَلی خَلقِهِ یا سَیِدَناوَ مَولانا اِنا
تَوَجَّهنا وَاستَشفَعنا وَ تَوَسَّلنا بِکَ اِلیَ اللّهِ وَ قَدَّمناکَ بَینَ
یَدَی حاجاتِنا یَا وَجِیْهًا عِنْدَاللّٰهِ اِشْفَعْ لَنَا عِنْدَاللّٰه
التَّقِیُّ الجَوادُ یَابنَ رَسوُلِ اللّهِ یا حُجَّةَ اللّهِ عَلی خَلقِهِ یا
سَیِدَناوَ مَولانا اِنا تَوَجَّهنا وَاستَشفَعنا وَ تَوَسَّلنا بِکَ اِلیَ اللّهِ
وَ قَدَّمناکَ بَینَ یَدَی حاجاتِنا یَا وَجِیْهًا عِنْدَاللّٰهِ اِشْفَعْ لَنَا عِنْدَاللّٰه
الهادیِ النِّقِیُّ یَابنَ رَسوُلِ اللّهِ یا حُجَّةَ اللّهِ عَلی خَلقِهِ یا
سَیِدَناوَ مَولانا اِنا تَوَجَّهنا وَاستَشفَعنا وَ تَوَسَّلنا بِکَ اِلیَ اللّهِ
وَ قَدَّمناکَ بَینَ یَدَی حاجاتِنا یَا وَجِیْهًا عِنْدَاللّٰهِ اِشْفَعْ لَنَا عِنْدَاللّٰه
العَسکَرِیُّ یَابنَ رَسوُلِ اللّهِ یا حُجَّةَ اللّهِ عَلی خَلقِهِ یا سَیِدَناوَ
مَولانا اِنا تَوَجَّهنا وَاستَشفَعنا وَ تَوَسَّلنا بِکَ اِلیَ اللّهِ وَ
قَدَّمناکَ بَینَ یَدَی حاجاتِنا یَا وَجِیْهًا عِنْدَاللّٰهِ اِشْفَعْ لَنَا عِنْدَاللّٰه
القائِمُ المُنتَظَرُ المَهدِیُّ یَابنَ رَسوُلِ اللّهِ یا حُجَّةَ اللّهِ عَلی
خَلقِهِ یا سَیِدَناوَ مَولانا اِنا تَوَجَّهنا وَاستَشفَعنا وَ تَوَسَّلنا بِکَ
اِلیَ اللّهِ وَ قَدَّمناکَ بَینَ یَدَی حاجاتِنا یَا وَجِیْهًا عِنْدَاللّٰهِ اِشْفَعْ لَنَا عِنْدَاللّٰه
کرے:
عُدَّتی لِیَومِ فَقری وَ حاجَتی اِلَی اللّهِ وَتَوَسَّلتُ بِکُم اِلیَ اللّهِ
وَاستَشفَعتُ بِکُم اِلَی اللّهِ فَاشفَعُوا لی عِندَاللّهِ وَاستَنقِذُنی مِن
ذُنُوبی عِنداللّهِ فَاِنَّکُم وَسیلِتی اِلَی اللّهِ وَ بِحُبِّکُم وَ بِقُربِکُم
اَرجوُ نَجاةً مِنَ اللّهِ فَکُونُوا عِندَاللّه رَجائی یا سادَتی یا اَولِیاءَ
اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْکُمْ اَجْمَعینَ وَ لَعَنَ اللّهُ اَعداءَ اللّهِ
ظالِمیهِم مِن الاَوَّلینَ وَالاخِرینَ اٰمینَ رَبَّ العالَمینَ
مصطفی ﷺسے لے کر
حضرت قائم آلِ محمد تک چہاردہ
معصومین کو
اپنے مخصوص نام اورمعروف لقب کے ساتھ خطاب کیا جاتا ہے اورکہاجاتا ہے کہ اے ہمارے
آقاومولا ہم اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہوئے اوراس کی بارگاہ میں آپ کو بطورِ شفیع
ووسیلہ ہم نے پیش کیا اور اس کی بارگاہ میں اپنی حاجات حاصل کرنے لئے آپ کو مقدم
کیا اے مقربِ بارگاہِ خدا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے-
رُوسے ابن بابویہv فرماتے ہیں کہ میں نے جس امر کے لئے
اس دعا کو پڑھا ہے اس کو مقبول پایا ہے میں نے اس دعا کو پورا اس مقام پر نقل
کردیا ہے حالانکہ اقتباس پیش کرنے کا وعدہ تھا تاکہ اس کتاب کا مطالعہ کرنے والااس
دعاکے لئے دوسری کتاب کی طرف رجوع کرنے کا محتاج نہ ہو اور اس دعاکی خیروبرکت سے خداوند کریم میری جملہ
حاجات صحیحہ برلائے اور خصوصاًاس تفسیر کی تکمیل پر مجھے موفق فرمائےآمین-
چنانچہ دعائے توسل دیگر کے الفاظ اس طرح ہیں:
وَّ عَلٰی اِبنَتِہ وَ عَلٰی اِبنَیھَا وَ اَسئَلُکَ بِھِم اَن تُعیِنَنِی عَلٰی
طَاعَتِکَ وَ رِضوَانِکَ وَ اَن تُبَلِّغَنِی بِھِم اَفضَلَ مَا بَلَغتَ اَحَدًا
مِّن اَولِیَائِکَ اِنَّکَ جَوَّاد کَرِیم (اِلٰی آخِرِ الدُّعَا)
اللہ! رحمت نازل فرمااوپر حضرت محمدﷺ اوراس کی شہزادی اوراس کے
دوفرزندوں کے اور انہی کے واسطہ سے میں سوال کرتا ہوں کہ مجھے اپنی اطاعت اور
رضامندپر میری مدد فرمااورانہی کے ذریعہ سے مجھے بہتر ین مقام پر فائز فرماجس پر
تو نے اپنے کسی ولی کو فائز فرمایا ہے کیونکہ تو جواد وکریم ہے –
بِالوَحدَانِیَّةِ الکُبریٰ وَ المُحَمَّدِیَّةِ البَیضَا وَ العَلَوِیَّةِ
العُلیَا وَ بِجَمِیعِ مَا احتَجَجتَ بِہ عَلٰی عِبَادِکَ وَ بِالاِسْمِ الَّذِی
حَجَبتَہُ عَن خَلقِکَ (اِلٰی آخِرِ الدُّعَا) [52]
اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں بواسطہ تیری وحدانیت کبریٰ کے اورمحمدیت ِبیضا کے
اور علویت ِعلیا کے اوربواسطہ تمام ان چیزوں کے جن کو تو نے اپنے بندوں پر حجت
قرار دیا اوربواسطہ اس اسم کے جس کو تو نے اپنی مخلوق سے پوشیدہ رکھا-
کر یہ دعا پڑھی جاتی ہے:
وَ بِحَقِّ مَن اَرسَلتَہُ بِہ وَ بِحَقِّ کُلِّ مُومِنٍ مَدَحتَہُ فِیہِ وَ
بِحَقِّکَ عَلَیھِم فَلا اَحَدَ اَعرَفُ بِحَقِّکَ مِنکَ بِکَ یَا اَللّٰہِ وَ
بِمُحَمَّدٍ وَّ بِعَلِیٍّ وَّ بِفَاطِمَةَ وَ بِالحَسَنِ وَ بِالحُسَینِ وَ
بِعَلِیِّ بنَ الحُسَینِ وَ بِمُحَمَّدِ بنَ عَلِیٍّ وَّ بِجَعفَرَ بنَ مُحَمَّدٍ
وَّ بِمُوسٰی بنَ جَعفَرٍ وَّ بِعَلِیِّ بنَ مُوسٰی وَ بِمُحَمَّدِ بنَ عَلِیٍّ
وَّ بِعَلِیِّ بنَ مُحَمَّدٍ وَّ بِالحَسَنِ بنَ عَلِیٍّ وَّ بِالحُجَّةِ [53]
اللہ! اس قرآن کے واسطہ سے اوراس ذات کے واسطے سے جس کو تو نے قرآن دے کر بھیجا
اورہر اس مومن کے واسطہ سے جس کی تو نے قرآن میں تعریف کی اورتیرے اس حق کا واسطہ
جو اُن پر واجب الادا ہے جس کو تو ہی بہتر جانتا ہے اورتجھے اپنی ذات کا واسطہ
اوراس کے بعد حضرت محمد ﷺسے لے کر حضرت حجت تک چہاردہ
معصومین کا
نام بنام واسطہ دے کر آخر میں اپنی حاجت کو طلب کیا جاتا ہے اور دس دس دفعہ ہر واسطہ
کو ذکر کیا جاتا ہے-
بعض الفاظ ملا حظہ ہوں چنانچہ زیارتِ مطلقہ حضرت امیر المومنین میں ہے:
اَتَوَسَّلُ اِلٰی رَبِّی فِی بُلُوغِ مَقصُودِی وَاَشھَدُاَنَّ المُتَوَسِّلَ
بِکَ غَیرُخَائِبٍ وَالطَّالِبُ بِکَ عَن مَّعرِفَةٍ غَیرُ مَردُودٍ اِلاَّ
بِقَضَاءِ حَوَائِجِہ فَکُن لِی شَفِیعًا اِلَی اللّٰہِ رَبِّکَ وَرَبِّی فِی
قَضَاءِ حَوَائِجِی وَتَیسِیرِ اُمُورِی وَکَشفِ ِشدَّتیِ وَغُفرَانِ ذَنبِی وَسَعَةِ
رِزقِی وَتَطوِیلِ عُمرِی وَاِعطَاءِ سُئولِی فِی اٰخِرَتِی وَ دُنیَایَ
میرے مولا! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں اوراپنے مقصود تک پہنچنے کے لئے میں
نے آپ ہی کو وسیلہ بنایا ہے اورمیں شہادت دیتا ہوں کہ آپکو وسیلہ
بنانے والااپنے مقصد میں ناکام نہیں ہوتا اورآپکی معرفت کے
ساتھ آپکے وسیلہ سے
کوئی چیز طلب کرنے والاقضائے حاجات کے بغیر نہیں پلٹایا جاتا، پس آپاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جو آپکا اورمیرا
ربّ ہے میرے قضائے حوائج، آسانی معاملات، سختی کے دور ہونے، گناہوں کی مغفرت، وسعت
رزق، زیادتی عمر اوردنیا وآخرت کے سوالات کی منظوری میں میرے شفیع ہوں-
اَمِینَ اللّٰہِ یَا وَلِیَّ اللّٰہِ اِنَّ بَینِی وَ بَینَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ
ذُنُوبًا قَد اَثقَلَت ظَھرِی وَ مَنَعَتنِی مِنَ الرُّقَادِ وَ ذِکرُھَا
یُقَلقِلُ اَحشَائِی وَ قَد ھَرَبَتُ اِلٰی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَ اِلَیکَ
فَبِحَقِّ مَنِ ائتَمَنَکَ عَلٰی سِرِّہ وَ استَرعَاکَ اَمرَ خَلقِہ وَ قَرنَ
طَاعَتِکَ بِطَاعَتِہ وَ مُوَالاتِکَ بِمُوَالاتِہ کُن لِی اِلٰی اللّٰہِ شَفِیعًا
وَ مِنَ النَّارِ مُجِیرًا
میرے آقا! اے اللہ کی حجت، اے اللہ کے امین، اے اللہ کے ولی، تحقیق اللہ کے سامنے
میرے پاس اتنے گناہ ہیں کہ انہوں نے میری پیٹھ جھکادی ہے اورمجھے نیند سے محروم
کردیا، ان کی یاد میرے دل کو تڑپا دیتی ہے اورمیں ان سے بھاگ کر اللہ کی طرف آیا
ہوں اورآپکی بارگاہ
میں حاضر ہوا ہوں، پس اس ذات کا واسطہ دیتا ہوں جس نے آپکو اپنے راز
کا امین اورمعاملاتِ خلق کا محافظ بنایا اورآپکی محبت
واطاعت کو اپنی محبت واطاعت کے ساتھ ملا دیا کہ آپاللہ کی
بارگاہ میں میرے شفیع اورآتش جہنم سے مجھے پناہ دلانے والے بنیں –
آئمہ کی
زیارات اوران کی بارگاہوں میں منقول دعاوٴں کے الفاظ اِسی نہج پر ہیں، اگر تمام کو
جمع کیا جائے تو کتاب موضوع سے خارج ہوجائے گی، پس ان سب دعاوٴں میں مقصود ذاتِ
ربّ العزت ہے اور حضرات طاہرین محمد وآلِ محمد کو اس کی بارگاہ تک رسائی کا وسیلہ قرار دیاگیا ہے
لہذا ثابت ہوا کہ طلب ِمدد اللہ سے کی جاتی ہے اورآلِ محمد واسطہ ہیں چونکہ ان کے وسیلہ قرار
دینے کے بغیر دعاوٴں کی استجابت مشکل ہے لہذا اس کی ذات تک پہنچنے کے لئے ان ذواتِ
طاہرہ کو
واسطہ قرار دینا ضروری امرہے-
مقام پر بعض لوگوں کو اشتباہ ہوتا ہے کہ بعض دعاوٴں کے الفاظ یہ بتلاتے ہیں کہ
حضرات آئمہ طاہرین
قضائے حاجات کے لئے خود کفیل ہیں اوروسیلہ نہیں، گویا مطلب یہ نکلتا ہے کہ صرف
انہی کو پکارا جائے اورانہی سے مدد وغیرہ طلب کی جائے اللہ تعالیٰ سے مانگنے
اورمدد طلب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں یعنی ان دعاوٴں سے تفویض کے مسلک کی درستی
ثابت ہوتی ہے چنانچہ دعائے فرج کے الفاظ یہ ہیں:
یَامُحَمَّدُ اِکفِیَانِی فَاِنَّکُمَا کَافِیَایَ وَ اُنصُرَانِی فَاِنَّکُمَا
نَاصِرَایَ یَا مَولانَا یَا صَاحِبَ الزَّمَانِ اَلغَوث اَلغَوث اَلغَوث
اَدرِکنِی اَدرِکنِی اَدرِکنِی اَلسَّاعَة اَلسَّاعَة اَلسَّاعَة اَلعَجَل
اَلعَجَل اَلعَجَل یَا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَّ آلِہ
الطَّاھِرِین [54]
محمدﷺ اے علی! آپ دونوں میری کفایت کریں کیونکہ آپ دونوں مجھے کافی ہیں اور
میری مدد کریں کیونکہ آپ میرے مددگارہیں، اے ہمارے مولاصاحبُ الزمان فریاد فریاد
فریاد میری مدد کو پہنچئے پہنچئے پہنچئے ابھی ابھی ابھی جلدی جلدی جلدی اے ارحم
الراحمین حضرت محمد مصطفےٰﷺ اوران کی آلِ طاہرہ کے صدقہ میں-
میں وسیلہ ہونے کا کوئی ذکر نہیں؟
اشتباہ: صرف تخریب ِعقائد کے لئے انہی جملوں کو پیش کرنا ناخدا
ترسی بلکہ تعلیماتِ آئمہ کے
خلاف اعلانِ جنگ کے مترادف ہے، اگر چشم بصیر ت سے ان کو ملاحظہ کیا جائے تو اس دعا
میں عقائد ِحقہ کے خلاف کوئی بات نہیں نکلتی بلکہ یہ دعا بھی پہلی دعاوٴں کے
اقتباساتِ گزشتہ کی تائید کرتی ہے کیونکہ انہی جملوں سے پہلے صاف طور پر یہ کلمات
ہیں:
وَّ آلِ مُحَمَّدٍ اُولِی الاَمرِ الَّذِینَ فَرَضتَ عَلَینَا طَاعَتَھُم وَ
عَرَّفتَنَا بِذٰلِکَ مَنزِلَتَھُم فَفَرِّج عَنَّا بِحَقِّھِم فَرَجًا عَاجِلًا
قَرِیبًا کَلَمحِ البَصَرِ اَو ھُوَ اَقرَبُ
امر ہیں جن کی تو نے ہم پر اطاعت فرض کی اور اسی سے تونے ہم کو ان کی منزلت کی
معرفت عطاکی، پس انہی کے حق کا واسطہ دے کر ہم عرض کرتے ہیں کہ ہمیں جملہ مصائب سے
فوری پلک جھپکنے یا اس سے بھی جلدی نجات عطافرما-
ببانگ دہل پکار رہے ہیں کہ مقصود بالذات ندا ذاتِ احدیت ہے اورمحمد وآلِ محمد وسیلہ و واسطہ ہیں، اب اس کے بعد
یامحمدﷺ اور یاعلی کہہ کر یہ
کہنا کہ تم ہی میری مدد کرو اورتم ہی میری کفایت کرو کیونکہ تم دونوں مدد گار
اورکافی ہو اورحضرت حجت کو ندا کرکے
ان سے فریاد کرنا وطالب دعا ہونا اس سب کا مطلب یہی ہے کہ تم وسیلہ وواسطہ بننے
میں میرے لئے کافی ہواوراس امر کےلئے مجھے کسی اورسے مددطلب کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ
سوائے تمہارے وسیلہ کے باقی ذرائع میری کفایت مہم کےلئے ناکافی ہیں اورنیز دعائے
مذکور کے آخری کلمات کہ یَا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَّ آلِہ
الطَّاھِرِین بھی اسی مطلب کی تائید کررہے ہیں کہ ان کو پکارنا
اوران سے فریاد کرنا صرف وسیلہ قرار دینے کی خاطر تھا ورنہ اللہ تعالیٰ کو خطاب
کرکے بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَّ آلِہ الطَّاھِرِین کہنا
بے معنی ہوجاتا ہے-
یاعلیؑ مدد
وقت، ہر مقام پر حاضروناظر ہونا خداوند کریم کی ذات سے مخصوص ہے اور اس میں کسی
اورکو شریک کرنا کفر وشرک ہے لہذا شیعوں کا یاعلیؑ مدد اور یاعباس ؑادرکنی کہنا
وغیرہ ناجائز وشرک ہے؟
سے جو صفت اختصاص رکھتی ہے ہمارا اعتقاد ہے کہ واقعی اس میں کسی کو شریک ماننا
ناجائز اورکفر ہے لیکن جہاں تک محمد وآلِ محمد کے علوم کا تعلق ہے جو خداوند نے ان کو عطا فرمائے
ہیں اورکائنات عالم میں جس حد تک اُن کی رسائی ہے جس کو شیعی عقیدہ درست قرار
دیتاہے آیا خداوند کا اختصاص انہی حدود سے ہے اور بس؟ تو یہ ناخدا شناسی ہے بلکہ
یہ عقیدہ دامنِ علم و قدرتِ خداوندی پر بدنما داغ ہے جس سے انسان حیطہ اسلام سے
کوسوں دور ہو جاتا ہے کیونکہ خدا واجب ہے اوراس کے علم اوراس کی قدرت کی کوئی حد
نہیں اورمحمد وآلِ محمد ممکن
ہیں ان کا علم وقدرت محدود ہے خواہ ہم اپنے ناقص دماغ سے ان کی حدود معین کرنے سے
قاصر ہیں لیکن ہمارے ان کی حدود معین نہ کرسکنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ واقعی طور
پر ان کے علم وقدرت کی کوئی حد نہیں-
جب عناصر کے شکنجہ میں پھنسا ہوا ہوتا ہے اس کے تصرفات کافی حد تک پابند عناصر
ہوتے ہیں لیکن جب قفس عنصری کی تاروں کو توڑکر آزادی کی وادی میں قدم رکھتا ہے تو
اس کے اختیارات میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے مثلاًنیند اورموت کسی حد تک ایک دوسرے سے
ملتی جلتی دوچیزیں ہیں عالم خواب میں روحِ انسانی کچھ تھوڑا سا آزاد
ہوجاتا ہے
اورموت (مرجانے) کے بعد بالکل آزاد ہوتا ہے، عالم خواب کی تھوڑی سی آزادی
حاصل ہوتے ہی اپنے بستر پر لپٹ کر گوظاہر ی جسمانی آنکھیں بند ہوتی ہیں لیکن روح
اسی جسم ظاہری جیسا ایک مثالی جسم لے کر بہت دوردراز کے سفر کرنے پر موفق ہوتا ہے،
اُس مثالی جسم کی آنکھیں یہ آنکھیں نہیں جو جسم ظاہری کی جزوہوکر بستر پر موجود
ہیں، اِسی طرح مثالی جسم کے ہاتھ پاوٴں اِس ظاہری جسم کے ہاتھ پاوٴںسے الگ الگ ہیں
حتی کہ مثالی جسم کے تمام اعضا اِس واقعی اورظاہری جسم کے تمام اعضا سے الگ ہوتے
ہیں کیونکہ یہ تو ایک جگہ موجودہیں اور وہ اُسی وقت مثالی جسم کی معیت میں اطراف
عالم کی سیر میں مصروف ہوتے ہیں لیکن اُن کا ہر فعل اِن کا فعل کہا جاتا ہے اوراُن
کی تمام سیروتفریح اِن کی طرف منسوب کی جاتی ہے مثلاً خواب میں دیکھنے والا بیدار
ہو کر خواب کی تعبیر حاصل کرنے کے لئے بیان کرتا ہے کہ میں خواب میں فلاں جگہ گیا
یہ دیکھا وہ دیکھا فلاں سے ملا اُس نے مجھے یہ کہا وہ کہا فلاں زیارت کی فلاں خوشی
دیکھی فلاں مصیبت میں مبتلا ہوا وغیرہ، اب یہ نہیں کہتا کہ میرے مثالی جسم نے یہ
مناظر دیکھے یا مصائب جھیلے بلکہ اِسی ظاہری جسم کی طرف وہ سب کچھ منسوب کرتا ہے
جو اُس کو عالم خواب میں مثالی جسم کے ساتھ پیش آیا اورسننے والاکوئی ہوش مند اِس
کو غلط بیانی سے بھی تعبیر نہیں کرتا اورکوئی موحد اس پر کفر وشرک کا فتوی بھی
نہیں لگاتاکہ حاضر ناظر ہونا تو اللہ کا خاصہ ہے تو کس طرح ہر جگہ حاضروناظر
ہوگیا؟ سویا یہاں تھا اورایک ہی وقت میں پہنچ وہاں گیا؟ اور طرہ یہ کہ فتویٰ لگانے
والے خود بھی انہی حالات سے دوچار ہوتے ہیں اور لطف یہ کہ ظاہری جسم کی آنکھیں بند
ہیں اورمثالی جسم کی آنکھیں کھلی ہیں اِس کے پاوٴں ساکن ہیں اوراُس کے متحرک ہیں
اِس کے ہاتھ ایک جگہ پڑے ہیں اور وہ ہل چل رہے ہیں وعلی ھٰذالقیاس
یہ بند آنکھیں کہتی ہیں کہ وہ کھلی ہوئی آنکھیں ہم تھیں، یہ خاموش زبان کہتی ہے کہ
اُس عین خاموشی کے وقت بول میں رہی تھی اوریہ سب ساکن اعضا کہتے ہیں کہ بعینہ اسی
سکون کے عالم میں وہاں متحرک ہم تھے تو گویا حاضر وناظر
ہونا تو بجائے خود اجتماعِ ضد ین کا ہر جگہ مسئلہ درپیش ہے اوراسے محال کوئی
نہیں کہتا؟نیز عالم خواب میں بعض اوقات مثالی جسم مصائب سے دوچار ہوتا ہے تو یہ
حقیقی جسم نیند کی حالت میں تڑپ جاتا ہے بلکہ زبان سے واویلا کرنا شروع کردیتا ہے
یاوہ مثالی جسم مناظر عجبیہ دیکھتا ہے تو یہ بستر پر سویا ہوا جسم مسکرا دیتا ہے
حالانکہ اس پر نیند طاری رہتی ہے، اب اگر سوال کیا جائے کہ تو ہنس کیوں رہاتھا یا
روکیوں رہاتھا تو جواب دیتا ہے کہ میں فلاں مقام پرکسی منظر عجیب کو دیکھ کو ہنسا
تھا یا فلاں مقام پرکسی مصیبت میں پھنس کررویا تھا-
ایک ہی روح ہے جو ایک ہی وقت میں دونوں جسموں سے تعلق رکھتی ہے ایک یہاں خاموش
سویاہوا ہے دوسرا وہاں سیر کررہاہے وہ عجیب منظر دیکھ کر وہاں ہنستا ہے تو یہ سویا
ہوا یہاں ہنستا ہے، مصیبت سے گھبرا کر ایک ہی وقت میں وہ وہاں روتا ہے تو یہ یہاں
واویلا کرتا ہے، اسی طرح باقی تمام افعال سمجھ لیجئے پس ایک ہی وقت میں یہاں بھی
حاضر وہاں بھی حاضر، زبان سے دونوں مقاموں پر بولتا ہے آنکھوں سے ہر دومقام پر
روتا ہے منہ سے دونوں مقاموں پر ہنستا ہے اوریہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے کہ کسی کو
مجالِ انکار نہیں اگر دونوں جگہ پر حاضر وناظر نہیں تو بتائیے نظار ہ تو وہاں تھا
یہ یہاں کیوں ہنساہے؟ مصیبت تو وہاں تھی یہ یہاں کیوں چلّایا ہے؟ ہم کلام تو وہاں
تھا یہ یہاں کیوں بولاہے؟ کیا اب یہاں فتویٰ لگانے کی جراٴت ہے کہ
جوشخص ایک انسان کے دومختلف مقامات یا زیادہ پر ایک ہی وقت میں حاضر وناظر ہونے کا
اعتقاد رکھے وہ مشرک ہے؟
کوئی کہے کہ وہ جسم مثالی ایک فرضی جسم ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں اور درحقیقت جسم
صرف یہی ایک ہے اور روح بھی صرف اسی ایک میں موجود ہے اوریہ ایک وقت میں صرف ایک
ہی مقام پر ہے؟
شک وہ ایک مثالی جسم ہے اوریہ جسم حقیقی ہے، لیکن بات تو یہ ہے کہ روح کا تعلق ایک
ہی وقت میں دونو ں سے ہے یا نہیں؟ اگر وہ فرضی ہے اور روح کا تعلق اُس سے نہیں تو
بتائیے کہ اُس کے اثرات اِس پر کیسے طاری ہوگئے؟ اُس کے رونے سے اُسی وقت اِس کی
زبان سے فریاد کیوں نکلی؟ اُس کے ہنسنے سے یہ کیسے ہنسا؟ اور اگر انکار ہی پر مصرّ
ہوں اورکہیں کہ اِس جسم پر اُس مثالی جسم کے کوئی اثرات نہیں، یہ نہ روتاہے نہ
ہنستاہے بلکہ یہ سب واقعات اُسی مثالی جسم سے تعلق رکھتے ہیں تو میں عرض کروں گا
کہ اگر حقیقت کچھ نہیں ہوتی تو بصورتِ وجوب غسل واقعہ کا تعلق تو اُس مثالی جسم سے
ہوتا ہے اورمنی کا خروج بھی اُسی سے ہوتا ہے فرمایئے اِس پر غسل کیوں واجب ہوگیا
اور اِس کے کپڑے کیوں نجس ہوگئے؟
مسلمان عالم خواب میں حضرت رسالتمآب ﷺکی زیارت کا شرف حاصل کررہا ہو اور
اُسی اثنا میں کوئی باہر سے آکر اِس جسم کو بیدار کردے تو وہ چونکہ اِس جسم ظاہر ی
کا مدبر ہے خواہ وہاں کتنا ہی پر لطف وقت گزر رہاہو اُسی آن میں وہ سب پر کیف
حالات چھوڑ کر فریضہ تدبیر سنبھالنے کےلئے یہاں آپہنچے گا اورفوراًہی جگانے والے
پر خفا ہوگا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اور اِسی ظاہری جسم کی زبان سے کہے گا کہ میں
نے اِنہی آنکھوں سے زیارت کی اِس زبان سے سلام عرض کیا وغیرہ اوربیدار ہونے پر اِس
کو اُس پر کیف منظر کے ترک کرنے کا افسوس حد سے زیادہ ہوگا حتی کہ اگر جگانے
والاکمزور ہوگا تو اُسے پیٹنے سے بھی گریز نہ کرے گا، اب اگر واقعات کا تعلق صرف
اُسی فرضی جسم سے ہے تو افسوس یا خوشی کیوں ہے؟
روح کی اُس تھوڑی سی آزادی کا نتیجہ ہے کہ ایک ہی وقت میں دومقاموں پر حاضر ہوتا
ہے نیز یہ حالات صرف مومن ومسلمان سے مختص نہیں بلکہ کافر ومشرک بھی اس قسم کے
حالات سے دوچار ہوتے رہتے ہیں، پس اگر کافرکی روح ایک وقت میں دومقاموں پر حاضر
ہوسکتی ہے اور اس کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا شرک نہیں تو کسی اور کے متعلق یہ عقیدہ
رکھنا شرک کیوں
ہوگا؟
کے متعلق احادیث میں وارد ہے کہ نبوت کے اجزا میں سے ایک جز ہے چنانچہ صحیح بخاری [55] میں ہے:
قَالَ الرُّویَا الحَسَنَةُ مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزء مِّن سِتَّةٍ وَّ
اَربَعِینَ جُزءً مِّنَ النُّبُوَّةِ
خواب نبوت کی چھیالیسویں جز ہوا کرتاہے-
قَالَ رُویَا المُومِنِ جُزء مِّن سِتَّةٍ وَّ اَربَعِینَ جُزءً مِّنَ
النُّبُوَّةِ
مومن کا خواب نبوت کی چھیالیسویں جز ہوتا ہے- [56]
قَالَ رُویَا المُومِنِ جُزء مِّن سِتَّةٍ وَّاَربَعِینَ جُزءً مِّنَ النُّبُوَّةِ
رَسُولَ اللّٰہِ یَقُولُ الرُّویَا الصَّالِحَةُ جُزء مِّن سِتَّةٍ وَّاَربَعِینَ
جُزءً مِّنَ النُّبُوَّةِ
رسالتمآب ﷺکو فرماتے
سنا کہ اچھا خواب نبوت کی جزوں میں چھیالیسویں جز ہے- [58]
چہار روایات کا مطلب واحد ہے یعنی ایک صالح مومن کی روح جب قید ِعناصر سے معمولی
آزاد ہو جس کی بدولت وہ بیک وقت دومقاموں پر حاضر ہوسکتی ہے اس سے روحِ نبوت
باوجودیکہ محبوسِ قید ِعناصرہو چھیالیس گنا زیادہ طاقت رکھتی ہے جب عام روحِ نبوت
کی یہ طاقت ہے تو پھر وہ نبوت جس کے زیر فرمان ایک لاکھ ایک کم چوبیس ہزار نبوتوں
کی دنیا آباد ہو اس کی طاقت کا کو ن اندازہ کرسکتا ہے؟
ہذا کی جلداوّل یعنی مقدمہ [59] میں اس امر
کی وضاحت کی ہے کہ گزشتہ انبیا سرکارِ رسالتمآب ﷺکے مقابلہ میں جزوی حیثیت رکھتے
تھے اوریہ ان کے مقابلہ میں کلی حیثیت کے حامل ہیں وہ محدود قوم اورمحدود علاقہ پر
مامور بہ نبوت تھے اوراِن کی نبوت عالمی نبوت ہے، تو اس سے یہ چیز خود بخود ثابت
ہو جاتی ہے کہ اُن کا صحیح جانشین گزشتہ نبیوں سے افضل ہوگا کیونکہ بادشاہ کا قائم
مقام اس کی تمام رعایا کا حاکم ہوا کرتا ہے یہ اوربات ہے کہ ہم اس کے صحیح جانشین
کے انتخاب میں خطاکر جائیں اورایسے شخص کو منتخب کربیٹھیں جو اُن صفات کا حامل نہ
ہو؟ پس صحیح بخاری کی روایات کی تطبیق سے معلوم ہوا کہ اگر مومن کی روح عالم خواب
میں دومقاموں پر پہنچ سکتی ہے تو نبی عالم بیداری میں چھیالیس جگہ حاضر ہوسکتا ہے
اور یہ عام نبی کی حالت ہے اورخاتم الانبیاﷺ کا ایک مختصر وقت میں متعدد
مقامات میں حاضر ہونا شب ِمعراج کی حقیقت سے واضح ہے اورپھر جو اُن کا صحیح قائم
مقام ہواس کے لئے
متعدد مقامات پر حاضر ہو سکنے کا اشکال ہی فضول ہے-
حاضر وناظر ہو نا خدا کے ساتھ مخصوص ہے تو یہ عقیدہ یقینا ناخدا شناسی ہے اوراگر
خدا کی ذات کو اس سے اَجل واَرفع قرار دے کر کہا جائے کہ خدا اتنی طاقت اپنی خاص
مخلوق کو بھی دے سکتا ہے تو یہ اس کی عظمت وقدرت کی دلیل ہے اوروہ خدا جو اپنے خاص
بندوں کو اس قدر طاقت دے سکتا ہے جس سے ہمارے ناقص عقول عاجز ہیں تو ہمارے وہم
وگمان کی رسائی اس کی اپنی ذات تک کیسے ہوسکتی ہے؟
مسمریزم کے عامل اپنے معمول کے ذریعہ سے عجیب وغریب باتیں ظاہر کرتے ہیں، ایک عامل
علم مسمریزم کی طاقت سے ایک نابالغ معمول کو بے ہوش کرکے سلادیتا ہے اورایسا معلوم
ہوتا ہے کہ اب اس میں کوئی حس وحرکت نہیں اب پوچھتاہے تو کون؟ وہ کہتا ہے میں
معمول، پھر پوچھتا ہے میں کون؟ وہ جواب دیتا ہے تو عامل، پھر عامل ایک شخص کے سرپر
ہاتھ رکھ کر معمول سے دریافت کرتا ہے تو معمول جس نے اِس سے پہلے نہ اُس شخص کو
دیکھا نہ سنا عامل کے سوال کے بعد اُس شخص کا نام بتلاتا ہے اُس کے باپ کا نام
لیتا ہے اُس کے شہر کا پتہ بیان کرتا ہے اوراس کا سوال بیان کرکے اُس کے نتیجہ کی
خبر بھی دے دیتا ہے اوریہ سب چیزیں عام طور پر درست بھی ہوا کرتی ہیں جیسا کہ عام
مشہور ہے، پھر عامل دوسرے شخص کے سرپر ہاتھ رکھتا ہے تو وہی معمول اُس شخص کے تفصیلی
حالات بیان کرتا ہے اورمجمع میں سے جس جس کے متعلق عامل سوال کرتا جائے وہ بیان
کرتا جاتا ہے حالانکہ یہ لوگ دور دور کے بسنے والے ہوتے ہیں جن سے معمول ظاہری طور
پر قطعا ًناآشناہوا کرتا ہے اب بتائیے کہ عامل معمول میں یہ طاقت بھر سکتا ہے تو کیاخالق
کائنات اپنے مخصوص بندوں کو اتنی یا اس سے زیادہ طاقت عطاکرنے سے عاجز ہے؟
معراجِ جسمانی مسلمانوں کا مسلمہ عقیدہ ہے جناب رسالتمآبﷺ رات کے ایک مختصر حصہ میں تمام
ملا اعلیٰ کی سیر کرکے واپس بھی آگئے اوراِس تھوڑے سے وقت میں آپ نے جو تفصیلی
مناظر ملاحظہ فرمائے اُن کی لمبی فہرست ہے، ملائکہ سے گفتگو ہوئی، بیت المعمور پر
نماز پڑھی، جنت کو دیکھا، دوزخ کو دیکھا، عرش کی سیر کی، حجاباتِ قدرت دیکھے، نا
معلوم کیا کیا دیکھا؟ اورپھر پلٹ بھی آئے، تو جو خداوندجسم عنصری کی پابندی کے
ساتھ اپنے رسول کو اتنی طاقت دے سکتا ہے تو کیا وہ خداوند اِس پابندی کے ہٹ جانے
کے بعد صرف روحِ رسالت کو اتنی طاقت نہیں دے سکتا کہ چشم زدن میں پورے عالم کا
معائنہ فرمالے؟
مرجانے کے بعد کسی کو پکارناعبث ہے کیونکہ وہ نہ سن سکتا ہے اور نہ کچھ کر سکتا
ہے؟
کے تشہد میں تمام مسلمان اَلسَّلامُ عَلَیکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَ رَحمَةُ اللّٰہِ وَ
بَرَکَاتُہ پڑھتے ہیں حالانکہ اُن کے رحلت فرماجانے کا علم ہے تو
کیا نماز کے وقت وہ حاضر وناظرہیں اورباقی حالات میں اُن کی یہ خصوصیت مفقود ہوتی
ہے؟
بھائی یافرزند مرجاتا ہے تو قبر پرجاکر قبر سے خطاب کیا جاتاہے کہ بھائی جان! میں
تیرے بعد تنہاہوں تیرے بچے یتیم ہیں یابیٹا ! تیرے بعد باپ کا کوئی سہارا نہیں میں
تیری قبر پر آیاہوں میرے ساتھ کلام کرو، حالانکہ علم ہوتا ہے کہ یہ جواب نہ دیں گے
اور اِن خطابات کو کوئی شخص شرک وکفر سے تعبیر نہیں کرتا کیونکہ یہ خطابات صرف
اظہارِ محبت کےلئے ہوتے ہیں، پس جب عام عزیزوں کی قبروں سے خطاب کیا جاسکتا ہے تو
اولیاءُاللہ کی قبروں کے سامنے اظہارِ عقیدت سے کیا مانع ہے کہ ان کو خطاب کر کے
اپنی مشکلات کا ذکر کیا جائے جبکہ مقصود اُن کو بارگاہِ خدامیں وسیلہ بناناہو؟
نکلا کہ نہ گھر میں اُن کو پکار نا ممنوع ہے اور نہ اُن کی قبروں پر جا کر اُن کو
خطاب کرنا عبث ہے کیونکہ مقصود ہر دو صورتوں میں اُن کو وسیلہ بنانا ہے اور اللہ
تعالیٰ سے ہی طلب ِحاجات کی جاتی ہے پس اِیَّاکَ نَستَعِین سے اِس فعل کی کوئی منافات
نہیں ہے-
آیاتِ فاتحہ ابوابِ جنت کی کنجیاں ہیں
کی سیر کرائی گئی تو جنت کی نعمات کو دیکھا اور جہنم کے عذاب کو بھی دیکھا جنت کے
آٹھ دروازے تھے کہ ہر دروازے پر چار ایسے کلمات مرقوم تھے کہ اُن کا ہر ایک کلمہ
جاننے اور عمل کرنے والے کے لیے دنیا و مافیہا سے بہتر ہے مجھے جبرائیل نے کہا کہ
پڑھو تو میں نے پڑھا:
پر لکھا تھا:
رَّسُولُ اللّٰہِ عَلِیّ وَّلِیُّ اللّٰہِ ہرشئے کے
لیے حیلہ ہوا کرتا ہے اور آرام کی زندگی کے چار حیلے ہیں: (۱) قناعت (۲) بجاخرچ (۳) کینے کا ترک کرنا (۴)
نیکوں کی صحبت
پر مرقوم تھا:
وَّلِیُّ اللّٰہِ ہر شئے کے لیے حیلہ ہوتا ہے اور آخرت کی خوشی کے
چار حیلے ہیں: (۱) یتیموں کے سر پر ہاتھ پھیرنا (۲) بیواوٴں پر رحم کرنا (۳)
مومنین کی حاجت برآوری میں کوشش کرنا (۴) فقرا اور مساکین کی خبر گیری کرنا
رَّسُولُ اللّٰہِ عَلِیّ وَّلِیُّ اللّٰہِ ہر شئے کے
لئے حیلہ ہوتا ہے اور دنیا کی تندرستی کے چار حیلے ہیں: (۱) کم بولنا (۲) کم سونا
(۳) کم چلنا (۴) کم کھانا
پر منقوش تھا:
رَّسُولُ اللّٰہِ عَلِیّ وَّلِیُّ اللّٰہِ (۱) جو شخص
اللہ اور قیامت پر یقین رکھتا ہو پس اس کو لازم ہے کہ مہمان کی عزت کرے (۲) جو شخص
اللہ اور یوم قیامت پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ اپنے ہمسایہ کی حرمت کا خیال
رکھے (۳) جو شخص اللہ اور یوم قیامت پر ایمان رکھتا ہو ضروری ہے کہ اپنے والدین کا
احترام کرے (۴) اور جو شخص اللہ اور یوم قیامت پر ایمان رکھتا ہو پس وہ نیکی کی
بات کہے ورنہ خاموشی اختیار کرے
دروازے پر مکتوب تھا:
رَّسُولُ اللّٰہِ عَلِیّ وَّلِیُّ اللّٰہِ (۱) جو شخص
اپنے اوپر ظلم برداشت نہ کرے تو وہ دوسرے پر ظلم سے اجتناب کرے (۲) جو شخص گالی
دیا جانا نہ پسند کرے اُسے چاہیے کہ خود بھی کسی کو گالی نہ دے (۳) جو شخص ذلیل
ہونا نہ چاہے وہ کسی دوسرے کو ذلیل نہ کرے (۴) اور جو دنیا و آخرت میں مضبوط تعلق
سے وابستگی چاہے پس اِس کلمہ کو پڑھے لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّد رَّسُولُ اللّٰہِ عَلِیّ
وَّلِیُّ اللّٰہِ
درج تھا:
رَّسُولُ اللّٰہِ عَلِیّ وَّلِیُّ اللّٰہِ (۱) جو شخص
قبر میں کشادگی کا تمنائی ہو اُسے چاہیے کہ مساجد کی بنا کرے (۲) جو شخص چاہے کہ
میں قبر میں بوسیدہ نہ ہوں پس (عبادتِ خدا کےلئے) مساجد میں سکونت کرے (۳) جو شخص
چاہے کہ زمین کے نیچے مجھے کیڑے مکوڑے نہ کھائیں پس وہ (یادِ خدا کےلئے)مساجد میں
بسیرا کرے
(۴) اور جوشخص جنت میں اپنا گھر دیکھنا چاہے (پس ذکر ِخدا کےلئے)مساجد میں رہے
دروازے پر ثبت تھا:
رَّسُولُ اللّٰہِ عَلِیّ وَّلِیُّ اللّٰہِ نورانیت چار
چیزوں میں ہے: (۱) بیمار پرسی (۲) تشییع جنازہ (۳) کفن کو خرید کر رکھنا (۴) قرض
کا ادا کرنا
دروازے پر رقم تھا:
رَّسُولُ اللّٰہِ عَلِیّ وَّلِیُّ اللّٰہِ جو شخص اِن
دروازہ ہائے جنت سے گزرنے کا متمنی ہو وہ اپنے اندر چار خصلتیں پیدا کرے: (۱)
سخاوت (۲) خوش خلقی (۳) صدقہ (۴) اللہ کے بندوں کو ایذا رسانی سے پرہیز (الخبر) [60]
الدین شیرازی vاپنی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں جس کا ماحصل یہ ہے
کہ نماز چونکہ بفرمانِ معصوم مومن کی معراج ہے پس اِس معراج کی تیاری
کےلئے پہلے پہل ظاہری نجاسات و کثافات کو بدن ولباس سے دور کرے تاکہ اس کی روح اِس
معراج پر فائز ہونے کے قابل ہو سکے پھر بار گاہِ ربُّ العزت میں حاضر ہو کر پورے
سکونِ قلب اورتوجہ خاطر کے ساتھ زبان سے اللہ اکبر کے کلمات جاری کرے، جلال و عظمت
خداوندی کے سامنے اپنے آپ کو جمیع ماسواءُ اللہ سے علیحدہ پائے، پس یہ دعائے تو جہ
جو مستحب ہے پڑھے وَجَّھتُ وَجھِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرض[61] اور یہ مقام حضرت ابراہیم خلیل الرحمن کا ہے کہ اُنہوں نے یہی کلمات ادا فرمائے تھے، جب روحانیت کے
منازل اس حد تک طے ہوگئے تو جنت کے دروازے
کھلنے شروع ہوتے ہیں جن کی ترتیب یہ ہے:
پڑھنے سے کھلتا ہے کیونکہ اس میں اغوائے شیطانی سے برائت کا اظہار ہے اور تکبر سے
یکسوئی ہے-
جاری کرنے سے کھلتا ہے-
سے کھل جاتا ہے –
اِیَّاکَ نَعبُدُ وَاِیَّاکَ نَستَعِین کے پڑھنے
سے باز ہوتا ہے –
جاری کرنے سے کھلتا ہے –
صِرَاطَ الَّذِینَ اَنعَمتَ عَلَیھِم غَیرِ المَغضُوبِ
عَلَیھِم وَ لاَ الضَّآلِّین کے
پڑھنے سے کھلتا ہے –
جنت ُالخلد کے آٹھ دروازے ہیں اسی طرح معارفِ ربانیہ کی جنت کے بھی آٹھ دروازے ہیں
اور یہ اُن کی روحانی کنجیاں ہیں اور نماز کا معراجِ روحانی یہی ہے زیادہ وضاحت
کےلئے میں نے ملا صدرا مرحومv کے بیان کو اپنے بیان سے مخلوط کردیا
ہے-
آیاتِ فاتحہ کی دوسری معنوی توجیہ
مومن کی معراج ہے اور روحانی معراج کا حصول جملہ روحانی بیماریوں سے تندرست ہونے
کی تعبیریں ہیں جس کی ترجمانی ملا صدراv نے جس رنگ میں کی ہے اس کا ماحصل یہ
ہے کہ انسان کی گمراہی کے تین رستے ہیں:
(۱) شہوت (۲) غضب (۳) خواہش نفس
بہیمیہ ہے، غضب قوتِ درنگی ہے، اور خواہش نفس شیطان ہے، شہوت بری بلا ہی ہے لیکن غضب اس زیادہ ہے اور
غضب آفت ِعظیمہ ہے لیکن خواہش نفس اس سے سخت ترین ہے-
نماز فحشا و منکر اور بغی
سے روکتی ہے-[62]
وجوہات کی بنا پرحضرت موسیٰ کی اُمت میں مسخ واقع ہوا، چنانچہ بندر، سور اور
عبد ِطاغوت ہوئے-
سے دوسروں پر ظلم کرتا ہے اور ھوائے نفس سے اپنے اللہ پر ظلم کرتا ہے –
پر جناب رسالتمآبﷺ کا ارشاد ہے کہ ظلم تین قسم کے
ہیں:
ظلم وہ ہے جو قابل بخشش نہیں ہے-
ظلم وہ ہے جو ترک نہ کیا جائے گا-
ظلم وہ ہے جس کو ممکن ہے کہ خدا معاف کر دے-
قابل مغفرت نہیں وہ شرک ہے جو ھوائے نفس کی پیداوار ہے، وہ
ظلم جس کو چھوڑا نہ جائے گا یعنی اس کا معاوضہ لیا جائے گا وہ بندوں پر ظلم کرنا
ہے جو غضب کی پیداوار ہے اور وہ ظلم جس کواگر خدا چاہے
تو معاف کر دے وہ اپنے نفس کا ظلم ہے جو قوتِ شہویہ کی پیداوار ہے-
خصلتوں میں سے ہر ایک کی دو فرعیں ہیں شہوت کی دو فرعیں حرص اور بخل ہیں، غضب کی
دو فرعیں خود پسند ی اور تکبر ہیں، ھوائے نفس کی دو فرعیں کفر وبدعت
ہیں، اِن کے جمع ہوجانے کا نتیجہ رحمت ِخدا سے دوری ہے-
کے اصول یعنی شہوت، غضب، ھوائے نفس سورہ فاتحہ کی پہلی آیت بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کی تلاوت
و معرفت سے ختم ہو جاتے ہیں اور باقی آیاتِ فاتحہ سے تفصیلی طور پر ان کی فرعیں
ختم ہو جاتی ہیں اور ان کا لازمی نیتجہ ہے قربِ خدا وندی جو مومن کی روحانی معراج
ہے، کیونکہ جب انسان بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھتا
ہے تو اللہ کی معرفت سے ھوائے نفس کا بھوت اس کے سر سے اُتر جاتا ہے کیونکہ خداوند
کریم ارشاد فرماتا ہے:
جانتا ہے[63]؟
یعنی ھوائے نفس اُلو ہیت سے برسرِ پیکار رہتی ہے-
موسیٰ کو خطاب ہواکہ میری مخلوق میں کوئی بھی سوائے ھوائے نفس کے میرے
ساتھ میرے ملک میں جھگڑا نہیں کرتا، پس انسان کو جب اللہ تعالی کی معرفت حاصل
ہوگئی اور اس کو خدا تسلیم کر لیا تو ھوائے نفس کے شکنجے سے آزاد ہو گیا اور جب الرحمن کا تصور کیا تو غضب چلا گیا کیونکہ غضب
بھی طلبِ بڑائی اور تحصیل ملک وجاہ کےلئے ہوتا ہے اور ملک وجاہ ذاتِ احدیت ہی
کےلئے ہے-
ہو گیا کہ ملک رحمن کےلئے تو طلب ملک وجاہ کےلئے غضب کی اتباع سے خود بخود کنارہ
کش ہوجائے گا اور الرحیم کے کہنے سے شہوت کا آہنی جال بوسیدہ ہو
کر خاکستر ہوجائے گا کیونکہ رحیمیت کا تصور بہیمانہ کردار کے قلع قمع کےلئے کافی
ہے، پس معلوم ہوا کہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کے
تینوں اسمائے طاہرہ ہرسہ صفاتِ بد(شہوت، غضب اور ھوائے نفس) کے دور کرنے کے کفیل
ہیں اور یہی روحانی امراض کی جڑیں ہیں اور تمام بد افعال انہی کی شاخیں اور نتیجہ
ہیں-
فاتحہ اِن روحانی امراض کا دفیعہ اس طرح کرتی ہیں:
زبان پر جاری ہوا تو گویا اعتراف کر لیا کہ خدا نے مجھے جو کچھ عطافرمایا میں اس
پر راضی ہوں اور اس کا شکر ادا کرتا ہوں پس شہوت کافور ہوگئی-
تو معلوم ہوا کہ عالمین کا رازق ومربّی اللہ ہے تو اپنی کفایت سے زیادہ کا حرص نہ
کرے گا اور اپنے پاس جمع شدہ بخل نہ کرے گا-
الدِّین کے پڑھنے سے اس کا غضب رفع ہوجائے گا کیونکہ معلوم ہو گیا
کہ ملک اور عظمت اسی کی ذات کےلئے ہی سزاوار ہے-
سے تکبر کا قلع قمع ہو گیا-
خود پسند ی ختم ہوگی کیونکہ معلوم ہوگیا کہ ہر امر کی انجام دہی کےلئے میں خود
ناکفیل ہوں اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے-
ھوائے نفس کا خاتمہ ہوگیا اپنے من بھائے راستے پر چلنے سے گریز کرکے اللہ تعالیٰ
سے صراطِ مستقیم پر رہنے کی دعا ہے-
پڑھنے سے کفر رفع ہو گیا-
بدعات کا طریقہ ختم ہوگیا-
بیماریوں کے اصول و فروع کا پوری طرح ازالہ ہوگیا تو ظلمانی حجابات دور ہوگئے اور
ہر طرف سے رحمت ِخدواندی نے گھیر لیا اور قربِ روحانی حاصل ہو گیا اور یہی ہے
معراجِ روحانی- [65]
مجید میں انہی بیماریوں سے بچنے کی تعلیمات ہیں جن کا اصولی طور پر سورہ فاتحہ نے
اجمالی رنگ میں ذکر کر دیا ہے لہذا یہ سورہ مبارکہ ”اُمّ القرآن“ اور ”الاسَاس“ ہے اور من جملہ تقدیمِ سورہ فاتحہ کی
وجوہات کے یہ بھی ایک وجہ ہے-
پہنچ کر گزشتہ روایت کا آخری حصہ ذکر کرنا نہایت موزوں ہے جس میں سرکارِ رسالتمآبﷺ نے ابوابِ جہنم کی تعداد سات
بتلائی ہے اور ہردروازہ پر جو کچھ لکھا تھا بیان فرمایا چنانچہ حضورﷺ ارشاد فرماتے ہیں:
پر تین کلمات لکھے ہوئے تھے:
اللہ سے ڈرنے والا بے خوف ہے (۳) اور ہلاک ہونے والا فریب خوردہ وہ ہے جو اللہ کے
غیر سے اُمید رکھے اور اس کے غیر سے خوفزدہ ہو
پر مرقوم تھا:
بھوکے لوگوں کو کھانا کھلائے (۲) جوروزِ قیامت برہنہ محشور ہونے سے بچنا چاہے وہ
دنیا میں برہنہ جسم لوگوں کو لباس پہنائے (۳) جو قیامت کی پیاس سے بچنا چاہیے وہ
پیاسوں کو پانی پلائے
پر تحریر تھا:
لعنت (۲) بخیلوں
پر ا اللہ کی لعنت (۳) ظالموں پر اللہ کی لعنت
پر مکتوب تھا:
ہے (۲) اہل بیتکی توہین کرنے والا اللہ کے نزدیک ذلیل
ہے (۳) ظالموں کی امداد کرنے والا اللہ کے نزدیک ذلیل ہے
دروازے پر منقوش تھا:
کی دشمن ہے (۲) بے محل کلام نہ کرو کیونکہ یہ اللہ کی رحمت سے دوری کی موجب ہے (۳)
ظالموں کی امداد نہ کرو
پر درج تھا:
والوں پر حرام ہوں (۳) میں روزہ دار پر حرام ہوں
دروازے پر ثبت تھا:
کرلو (۲) تنبیہ کئے جانے سے پہلے اپنے نفسوں کو تنبیہ کر لو (۳) اللہ کی بار گاہ
میں پیش ہونے سے قبل اس سے دعا کر لو [66]
تامل و تتبُّع سے معلوم ہو سکتا ہے کہ دروازہ ہائے جنت پر جو خصلتیں مرقوم تھیں وہ
آیاتِ سورہ فاتحہ کے منطوقی اصول اور ان کی فروعات ہیں لہذا آیاتِ فاتحہ کو کلید
جنت کہنا بالکل بجاہے اسی طرح وہ خصلتیں جن سے بچنے کےلئے دروازہ ہائے جہنم کی تحریر
صدا دے رہی ہے وہ آیاتِ سورہ فاتحہ کے مفہومِ مخالف کے اصولاًوفروعاً نتائج ہیں جن
کا نتیجہ جہنم ہے-
آئے گی
الوَکِیل اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّد
حوالہ جات:

