anwarulnajaf.com

نفاس کا بیان

یہ عورت کا وہ خون ہے جو بچے کی ولادت کے ساتھ یا اس
کے بعد آیا کرتا ہے اس کے لئے کم از کم کی کوئی حد مقرر نہیں ہے اور زیادہ سے
زیادہ حیض کی عادت کے برابر ہوا کرتا ہے اور اگر عورت صاحب عادت نہ ہو تو خون کی
آخری حد دس دن تک ہے۔

مسئلہ: چالیس دن تک نفاس سمجھتا اور عورت کا غسل نہ
کرنا ابو حنیفہ کا قول ہے نہ کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ۔ اس لئے شیعہ
عورت پر واجب ہے کہ جب اس کا خون نفاس ختم ہو تو غسل نفاس کر کے اعمال واجبہ کی
بجا آوری میں کوتاہی نہ کرے۔

مسئلہ: غسل نفاس کا طریقہ مثل غسل حیض کے ہے۔

مسئلہ: غسل جنابت کے علاوہ جس قدر غسل ہیں وہ نماز
کےلئے کافی نہیں ہیں بلکہ نماز کےلئے غسل سے پہلے یا بعد وضو کرنا ضروری ہوا کرتا
ہے اور پہلے کر لینا بہتر ہے ۔

مسئلہ: نفاس والی عورت پر بھی وہی چیزیں حرام ہوتی
ہیں جو حیض والی عورت پر حرام ہیں۔

مسئلہ:
اگر کسی عورت کو بچے کی پیدائش کے ساتھ یا بعد میں خون نہ آئے تو اس عورت کے لئے
نفاس نہ ہو گا اور نہ اس پر غسل نفاس واجب ہو گا۔
 


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *