یہ ایسا مسئلہ ہے کہ
خازنان علوم وحی و ترجمانان کتاب کون معصومین علہیم السلام نے اس مسئلہ میں زیادہ
گھسنےسے منع فرمایا ہے چنانچہ جب حضرت امیر علیہ السلام سے مسئلہ قدر کے متعلق
دریافت کیا گیا تو آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا طریق مظلم فال تسلکوہ یعنی یہ
تاریک و پر خطر راستہ ہے اس پر نہ چلو جب دوسری دفعہ سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا
بحر عمیق فلا تلجوہ یہ گہر ا سمندر ہے اس میں داخل ہونے سے بچو اور پھر تیسری
مرتبہ سوال ہوا تو جوابا ارشاد فرمایا سراللہ فلا تتکلفوہ یہ اللہ کاراز ہے اس میں
نہ پڑو بروایت تفسیر صدرا حضرت رسالت مآب سےمنقول ہے کہ قدر یہ اس امت کے مجوسی میں ایک دوسری روایت میں
فرمایا لعن اللہ القدر یتہ علی لسان سبعین نبیا قیل ومن
القدریتہ یا رسول اللہ قال قوم یزعمون ان اللہ قدر علیھم المعاصی یعنی ستر نبیوں
کی زبانی خدا نے فرقہ قدریہ پر لعنت بھیجی ہے جب آپ سے سوال کیا گیا کہ قدریہ کون لوگ ہیں توآپ نے فرمایا
وہ قوم جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا نے ہمارے لئے گناہ مقدر کر دئیے ہیں جابر بن
عبدللہ سے مروی ہے کہ حضور نے فرمایا ایک قوم پیدا ہو گی جو گناہ کرنے کے بعد کہے
گی کہ خدا کی تقدیر یسی تھی پس ان کی تردید کرنا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے
افضل ہے اس میں شک نہیں کہ خدا وند کریم نے عالم ظاہری میں اشیا کواسباب سے وابستہ
کردیا ہے اور اشیا کے صحیح و غلط استعمال
کا انسان کوپورا پورا اختیار دے رکھا ہے نیک اعمال کو سبب نجات اور بداعمال کوسبب
عذاب قرار دیا ہے ادھر علم ازلی میں یہ ثابت ہے کہ فلاں شخص نیک اعمال کرکے ناجی
ہوگا اور فلاں شخص بد اعمالیوں کی بدولت
جہنمی ہوگا توجس شخص کی نیکی کے متعلق خدا کا علم ازلی ثابت ہے تو دنیا میں اس سے
نیکی ہی ہو گی اور علم ازلی الہی میں جس کا بد اعمال ہونا ثابت ہے تووہ بد اعمال
ہی ہو گا او ر مستحق سزا ہو گا لیکن دوسری
طرف یہ ارشاد اس نے خود فرمایا ہے ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیر وا مابانفسھم
کہ خدا وند کریم کسی قوم کی حالت کو نہیں
بدلتا جب تک وہ اپنے میں خود نہ تبدیلی پیدا کریں پس اس کاصاف و صریح مقصد یہ ہے
کہ خدا کا علم ازلی انسان کے اختیار میں روکاوٹ کا باعث نہیں ہے اورفرمایا
واذاراداللہ بقوم سوءفلا مردلہ یعنی جب اپنے اختیارات سے انسان اپنی غلطیوں سے باز
نہ آئے اور عذاب حتمی کا سزاوار ہو جائے تو خدا اس پر عذاب بھیجتا ہے اوراس کو
کوئی ٹال نہیں سکتا ۔
اس میں شک نہیں کہ قضا کا
اعتقادہ رکھنا بھی درست ہے چنانچہ حدیث قدسی میں وارد ہے من لم یرضی یقضائی ولم
یصبر علی بلائی فلیعبد ربا سواری الیخرج من ارضی وسمائی جو میری قضا پرراضی نہ ہو
اور میرے بھیجے ہوئے مصائب پر صبرنہ کرے تو پھر میرے علاوہ کوئی اوررب تلاش کرکے
اس کی عبادت کرے اور میرے زمین و آسمان سے سکونت منتقل کر کے کہیں اور جا کر
آباد ہو لیکن یہ بھی یقین کرنا چاہیے کہ قضا کی دو قسمیں ہیں ایک مبرم و محتوم
دوسری قضائے غیر محتوم و غیر مبرم محتوم وہ ہے جس کا ہونا ضروری ہو اور غیر مبرم
وہ ہے جس میں انسان کے اختیار کو دخل ہو پس انسان کا اپنے اختیار سے گناہوں پر ڈٹا
رہنا اور فعل بد سے توبہ نہ کرنا اور کفر ہی کفر کی حالت میں مرنا اس کےلئے جہنم کو حتمی بنا دیتاہے لیکن جب ابتدا ءمیں
کافر ہوتو اس کےلئے یہ قضا حتمی نہیں کیونکہ اگر توبہ کر لے تو اس کا جہنمی ہونا
جنتی ہونے سے تبدیل ہو سکتا ہے اسی طرح انسان کےتمام اختیار ی افعال میں قضا و قدر
حتمی و مبرم نہیں ہوا کرتی بلکہ بندے کے اپنے اختیارات سے اس کی تقدیر بدل سکتی ہے
جیسا کہ آیت مجیدہ کا مضمون تھا حجاج بن یوسف نے جب علما ءسے قضا و قدر کے متعلق
دریافت کیاتو عامر شعبی نے لکھا کہ اس مسئلہ میں حضرت امیر علیہ السلام کےفیصلہ سے
بہتر کوئی فیصلہ نہیں ہے آپ نے فرمایا ہے کلما استغفرت منہ فھو منک وکلما حمدت
اللہ علیہ فھو منہ یعنی ہر وہ فعل جس سے تو معافی مانگے تو سمجھ لے کہ وہ تجھ سے
اختیار صادرہواہے اور ہر وہ فعل جس کے متعلق تواللہ کی حمد کرےتو سمجھ لے کہ وہ
فعل تیر ا نہیں بلکہ اللہ کی جانب سے ہے امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک
شخص نے مسئلہ قضا و قدر کے متعلق دریافت
کیا تو آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا ہر وہ فعل جس کے کرنے پر انسان کو ملامت کی
جا سکے وہ عبد کا فعل ہے اور وہ ہر فعل جس پر عبد کو ملامت نہ کی جا سکے و ہ اللہ کا فعل ہے مثلا کہاجاتا
ہے تونے شراب کیوں پیا تو نے زنا کیوں کیا
تو نہ بندے کے فعل ہے اور یہ نہیں کہا
جا سکتا کہ تو خوبصورت کیوں ہوا تو
چھوٹا کیوں ہوا پس سمجھ لو کہ یہ اللہ کا فعل ہے والحمد للہ رب العالمین تفسیر
انوارالنجف کی دوسری جلد میں اس مسئلہ کی مزیدتوضیح ملاحظہ فرمائیے۔
Leave a Reply