ذاکری
اس مقام کا بیان کرنا اگرچہ بہت سخت ہے اور دور حاضر کی ذاکری روش نے اس کو افسوس ناک حالت تک جاپہنچایا ہے لیکن اپنی ذمہ داری کے احساس کے ماتحت عرض کرنا بھی
ضروری ہے خداکرے اس کی استفادہ کی نیت سے
دیکھاجائے نہ کہ نکتہ چینی کی نظر سے اس میں شک نہیں کہ آل مؐحمد کی ذاکری
ایک بہت مقدس کام ہے اور ذاکری کے
ذریعہ سے آل مؐحمد کے پیغامات کی نشر واشاعت اور ان کی مظلومیت کی داستان سنا کر ظالموں سے نفرت انگیزی ایک بہت بڑی عبادت ہے
لیکن جب سے یہ ذاکریکسب سفاش اوور جلب
دولت کا وسیلہ بنی ہے اس میں خلوص مفقود ہوتاجارہاہے
حتاکہ جائزوناجائز کے فرق سے بھی
ناآشناہوتی جارہی ہے خوش المانی سے ذکری کرنا ممنوع نہیں
لیکن بعض اوقات گانے والوں کی نقال
کرن اذاکری کو داغدار کرتاہے اور ایسی فضاپیداکردی گئی ہے کہ مصائب کے الفاظ خواہ
کس قدر ہی پردرد ہوں رونا نہیں آتا لیکن جو
نہی میٹھی اور دل پسند سروں کا
استعمال ہو قورا طبعتیں رونے کی طرف
مائل ہوجاتی ہیں اس رجحان کے بدلنے
کے لئے غیر معمولی حوصلہ چائیے اور اس سے
زیادہ ذاکری کے میدان میں جو افسوسناک پہلو اختیاری کیاگیاہے وہ ہے روایت سازی
اوریہ ایک نہایت خطر ناک جسارت ہے ہر مجلس پڑھنے والا اپنی کامیابی کی خاطر اپنے بیان میں نمک مسالہ لگانا اپناحق سمجھتاہے اور روائیں نئی
نئی تیار کرکے مورخ کہلانااپنے کمال سمجھتاہے
جہاں کتابوں میں ایک روایت کانام ونشان تک نہیں ہوتا یاصرف ایک اشارہ مل جاتاہے
وہاں اسٹیج پر ہم پورے گھنٹے کا مضمون سنتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کہ اس قدر روایت
کہاں سے آگئی
تعجب بالائے تعجب
اس امر پر ہوتاہے کہ خدا ورسول وآئمہ پر جھوٹ منسوب کرنے کی ذرہ بھر جھجک نہیں
ہوتی اور چونکہ ماہ رمضان کاروزہ خدا ورسوؐل
وآئمہ کی طرف جھوٹ منسوب کرنے سے باطل ہوتاہے اگر کوئی مولوی یہ مسئلہ بتادے
تو فورا اس کو دشمن اہلبیت کہہ کر خاموش کرادیاجاتاہے پھر ایسے خطر ناک مقام پر
کھڑا ہونے والا عالم ایسے دور ہے پر اپنے آپ کو محسوس کرتاہے کہجدھر قدم اٹھالے
تاریکی ہی تاریکی ہے اگر خاموشی اختیار
کرے تو اپنے فرئض سے کوتاہی اور امر بالمعروف اورنہی عن المنکر سے
روگردانی پر بارگاہ خدا میں جوابدہی کا ڈر ہے اور اگرکہے کہ ایساکرن احرام ہے تو
عوام کالانعام کی گمراہی کا ڈر ہے کاش ہماری قوم اس نزاکت کو محسوس کرتی اورذاکرین
میں اتنی ہوش ہوتی کہ کتب مصائب کا مطالعہ کرکے مزید فرضی واقعات کو بالکل نظر
انداز کردئیے
بعض اوقات ایسے واقعات پڑھے جاتے ہیں جن سے آل محمدکی توہین
لازم آتی ہے لیکن روکنے کی جسارت کوئی بھی
نہیں کرسکتا البتہ جہاں جہاں مناسب حال ہوتو اس کومناسب حال کہہ کر جھوٹ سے گلو خلاصی ہوسکتی ہے لیکن
پھر بھی کتب مصائب کے بھر پور مطالعہ کی ضررت ہے
پھر افسوسناک پہلو یہ بھی سامنے آتا ہے کہ درسوں سے فارغ
ہونے والے مولوی صاحبان جب اسٹیج پر قدم رکھتے ہیں تو وہ بھی تاریغ سے
بالکل بے بہرہ ہوتے ہیں اور ذاکروں کی ہی نقالی پر اکتفاکرتے ہیں اور ان سے سننے
والے بڑے طمطراق سے کہہ دیتے ہیں کہ فلاں
عالم سے ہم نے سنا تھا حالانکہ اس روایت کا اصل مدرک ذاکر ہی ہوتاہے ان کمزوریوں پرجسقدر رویا جائے کم ہے
خداوندکریم اسٹیج پر آنے والوں کو
صحیح مطالعہ کرنے اور جھوٹ سے بچنے کی
توفیق عطافرمائے
Leave a Reply