anwarulnajaf.com

امام محمد تقی کا سیحیٰ بن کے ساتھ نماظرہ

 امام محمد تقی کا سیحیٰ بن کے ساتھ نماظرہ :- امام محمد تقی علیہ السلام کے ساتھ ماموں نے جب اپنی لڑکی ام الفضل کا عقد کرنا چاہا تو اس کے تمام رشتہ داروں نے اس کو روکا اور غدر پیش کیا کہ امام محمد تقی علیہ السلام ابھیخور وسال بچّہ  ہے اور فقہ اسلامی سے بے خبر ہے اور وہ حق و باطل کی تمیز کر سکتا ہے اور وقت آپ کی عمر شریف دس گیارہ برس تھی ۔ ماموں نے جواب دیا کہ بخدا وہ تم سب خدا رسول  کی معرفت اور فرائض وسنن کے علم میں بہتر و برتر ہے نیز حکام خداوندی میں افقہ قراءت اور حکم اور  تمشا ب خاص و عام ، ناسخ و منسوخ اور تنزیل و تاویل میں تم سے اعلم ہے بے شک تم ان کا امتحان لے لو۔ اگر تماری بات سچّی ہوگی تو میں اس کے ساتھ رشتہ نہ کروں گا ۔ ورنہ تمہیں روکنے کا کوئی حق نہ ہوگا چناچہ انہوں نے اس مرحلہ میں کامیبابی حاصل کرنے کے لئے یحیٰ بن اکثم کو منگوایا اور کافی ہدایا و انعامات کا لالچ دیکر کہ کسی طرح ماموں کے بھرے دربار میں  امام محمد تقی کو کسی مسئلہ شرعیہ میں لاجواب کر دے۔

جب رسم نکاح خوانی کےل ئے ماموں کے پاس لوگ اکٹھے ہوئے تو یحیٰ بن اکثم بھی پہنچ گیا۔ پس عباسیوں نے ماموں سے درخواست کی کہ اگر اجاز ت ہو تو یحیٰ بن اکثم امام محمد تقی علیہ السّلام سے کوئی مسئلہ دریافت کرے ماموں نے اجاز ت دے دی تو یحیٰ نے سوال کیا۔ آپ کیا کیا فرماتے ہیں اگر حالتِ احرام کوئی شکار کرے (یعنی اس کا کفارہ کیا ہوگا؟ امام نے فرمایا (تونی مجمل سوال کیا ہے یہ واضع کرو کہ) (1)               شکار حل میں کیا یا حرام میں؟

(2) عالم تھا یا جاہل؟ (3)   جان بوجھ کر کیا یا غلطی سے؟  (4)     غلام تھا یا آزاد  (5)     نابالغ تھا یا بالغ ؟  (6)  پہلی دفعہ کیا یا دوبارہ؟ (7) پرندوں سے تھا یا زمین پر چلنے والوں میں سے تھا؟ (8) اپنے فعل پر وہ ڈٹا ہوا ہے یا پشیمان ہے؟ (9)  رات کے وقت ا سکی قیا م گاہ میں اس کو پکڑ کر یا دن میں گرفتار کیا؟ (10)  احرام حج تھا یا عمرہ کا؟

سوال کی شقیں سُن کر یحٰی بن اکثم اپنے مقام  پر سُن ہوگیا اور اہِل مجلس بھی یحیٰ کی بے بضاعتی کو جان گئے اور حضرت امام محمد تقی علیہ السّلام کی علمی و سعت  پے نہایت متا ثر ہُوئے اُن کے نکاح کی تقریب انجام پذیر ہوئی اور عام لوگوں کے چلے جانے کے بعد ماموں نے عرض کی حضور  اس مسئلہ کی تمام شقوں کو خد حل مائیے تو آپ نے فرمایا:۔

(1)        اگر محرم حل میں پرندے کو شکار کرے تو کفّارہ بکری کا بچہ ہوگا اور اگر یہی شکار حرم میں کرے تو  کفّارہ دوگنا ہوگا۔ اور اگر پرندے کے بچے کو حل میں شار کرے تو کفارہ بکری کا بچہ ہوگا اور اگر یہی شکار حرم میں کرے گا تو بکری کا بچہ بھی اور اس کی قیمت بھی دینی ہوگی  یعنی کفارہ دوگنا ہوگا۔

(2)         اگر محرم  و خوش کا شکار حل میں کرے تو حماد وحشی اور شتر مرغ کا کفّارہ ہے ایک اونٹ اگر یہ ممکن ہوتو ساٹھ میکنوں کو کھانا اور یہ نہ ممکن ہوتو اٹھارہ روزے رکعے اور گائے و حشی کا شکار کیا تو کفارہ ایک گائے اور بصورت عجز تیس مساکین کا کھانا او ر بصورت عجز نو روزے رکھے اور اگر ہرن کو شکار کرے تو کفّارہ ایک بکری اور بصورت عدم امکان دس مسکینوں کا کھانا اور یہ بھی نہ کر سکے تو تین روزے رکھے۔ اور اگر یہی شکار حرم کے حدود کے اندر کرے گا تو کفارہ دُگنا ہوگا۔ یعنی اگر عمرہ کا احرام ہے تو قربانی  مذکور مکّہ  میں کرےاور اس کی قیمت  صدقہ بھی کرے اور اگر حج کا احرام ہوتو قربانی منیٰ  میں کرے اور حیوانوں کی قیمت کا صدقہ بھی دے تاکہ کفارہ دُگنا ہو جائے اسی طرح خرگوش کا کفّارہ بھی ایک بکری  ہے اور کبوتر کا کفّارہ ایک درہم صدقہ کرے یا س کی گندم  خرید کر حرم کے کبوتروں کو ڈالے اگر کبوتر کا انڈا توڑ دے تو چوتھائی درہم صدقہ دے۔

(3)        (4) حالت ِ احرام میں محرم  شخص جہالت کی وجہ سے کوئی ناجائز کام کر بیٹھے تو اس کی گرفت نہ ہوگی ، سوائے شکار کے کیونکہ شکار کا کفّارہ بہر کیف ادا کرنا پڑے گا خواہ عالم ہر یا جاہل نیز جان بوجھ کر ہو یا غلطی سے آزاد ہو تو کفارہ خود ادا کرے گا اور اگر غلام ہوتو اس کا کفارہ واس کے آقا پر واجب الادا ہوگا اور وہی کفّارہ خود ادا کرے گا اور اگر غلام ہوتو اس کا کفارہ اس کے آقا پر واجب الادا ہوگا  وہی کفارہ ہوگا جو آزاد کے لئے ہوا کرتا ہے۔

(1)        اگر محرم نابالغ بچہ ہو تو ا س پر کوئی کفّارہ نہ ہوگا۔

(2)         اگر عمداً دوبارہ شکا ر کرے گا تو اس کا کفّارہ نہ ہوگا ۔ بلکہ خود خدا بروز قیامت ا سے سے انتقام لے گا اور اگر شکار کی طرف  کسی کی رہری کرے اور وہ شکار مارا جائے تو تب بھی اس پر کفارہ ہوگا۔

(3)        اگر اپنے کئے  پر پشیمان  ہوگا تو یہ کفارہ اس کا بدلہ ہوجائے گا اور قیامت کے عذاب سے بچ جائے گا لیکن اگر پشیمان  نہ ہوگا تو کفارہ بھی دے گا۔ اور آخرت کے عذاب میں بھی گرفتار ہوگا۔

(4)         رات کے وقت عمدی شکار کا کفارہ ہوگا لیکن غلطی سے کوئی جانور اس کی وجہ سے مر جائے تو کفّارہ نہ ہوگا۔ اور دن کو کفارہ ہوگا خواہ  غلطی سے ہو یا جان بوجھ کر کرے۔

(5)        حج کا کفّارہ منیٰ  میں ادا ہوگا اور عمرہ کا کفارہ مکّہ  میں ادا ہوگا۔

امام محمد تقی علہ السّلام کے ان جوابات کو سن کو مجمع  پر سکتہ طاری ہوگیا اور تمام لوگ امام عالی مقام کے فضل و کمال  کے معرف ہوگئے پھر امام نے یحیٰ  سے بھی ایک مسئلہ دریافت کیا کہ اس مسئلہ میں تم کیا کہتے ہو کہ ایک عورت ایک شخص پر صبح کو حرام تھی پھر دین چڑھے حلال ہوگئی پھر دوپہر کے وقت حرام ہوئے اور ظہر کو حلال ہوگئی پھر عصر کے وقت حرام اور مغرب کے وقت حلال  ہوگئی پھر نصف  شب کو حرام اور صبح کو حرام تھی پھر دن چڑھے حرام اور دوپہر کو حلال ہوگئی امام کا یہ سوال سُن کر یحیٰ بن اکثم اور تمام درباری فقہا ششدر رہ گئے کسی کو جواب کی جراءت نہ ہوئی ۔ پس ماموں نے درخواست کی کہ حضور خود ہی بیان فرمائیں  تو آپ نے فرمایا ۔

(1)        ایک شخص نے ایک کنیز غیر کو صبح کے وقت دیکھا وہ اس وقت اس پر حرام تھی بعد میں خرید لیا حلال ہوگئی۔

(2)         پھر دوپھر کے وقت اس کو آزاد کردیا تو وہ حرام ہوگئی اور ظہر کو نکا ح کر لیا پس حلال ہوگئی ۔

(3)        پھر عصر کے وقت سے ظہار کر لیا وہ حرام ہوگئی اور مغرب کو ظہار کا کفّارہ ادا کر دیا تو حلال ہوگئی۔

(4)         نصف شب کو اسے طلاق دے دی تو وہ حرام ہوگئی اور اطلاق سے صبح کو رُجوع کر لیا تو حلال ہوگئی۔

(5)        دن چڑھے مرتد ہوگیا توعورت اس پر حرام ہوگئی اور دوپہر کو تائب ہوگیا تو عورت حلال ہوگئی۔ تفسیر انوار ا لنجف  پ نقلاً از بحارالانوارج۔

مسئلہ:۔ حالتِ احرام میں صرف بری شکار حرام ہوتا ہے اور وہ جانور ہےجو انڈے یا بچے خشکی  میں دیتا ہو اور بحری شکار کا کھانا محرم پر حرام نہیں ہے اور اس سے مراد وہ جانور ہے جو انڈے بچے پانی میں دتا ہو۔ نیز مروی ہے کہ حالت ِ احرام میں آبی پرندوں کا گوشت نہیں کھانا چاہئے۔

مسئلہ:۔ بحری شکار گھر رہنے والوں اور سفر اختیار کرنے والوں دونوں کے لئے حلال ہے پس متیم و مسافر اسی طرح محرم و محل  یا شہری  و دیہاتی سب اس کو کھاسکتے ہیں۔


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *