ہروقت ہرآن ہر حیثیت سے
حاوی و محیط ذات پروردگارہے اوراس میں اس کا کوئی شریک نہیں اور ہر شئیی کو کلی و
جزوی طور پر کماحقہ دہی جانتا ہے پس اس طرح حاظر و ناظر صرف اللہ سبحانہ ہے اور اس سے کوئی شئیی غائب نہیںہاں محمدوآل محمد علہیم السلام کی ولا ءہر جگہ
حاضر ان کی محبت تمام مومنوں کے دلوں میں حاضر ان کا دین حاضر اور ان کی مہر
بانیاں جو ہم پر انہوں نے کی ہیں وہ حاضر ہیں کیونکہ وہ محسن غائب نہیں جس کی
تعلیمات ہروقت چراغ راہ سعادت بنی ہوئی ہوں اس انداز سے بیشک وہ حاضر ہیں اور ان
کو اس رنگ میں حاضر ماننا ایمان ہے اور اس کا انکار ظلم ہے باقی رہییہ بات کہ اگر ہم ان کو بلائیں تو وہ آ سکتے
ہیں یا نہیں اس کا جواب یہ ہے کہ اگر خدا چاہے تو ان کو جسم کے ساتھ ہماری مدد کے
لئے بھیج دے اور چاہے تو ا ن کے غلاموں کو بھیج دے جو فرشتے ہیں اور چاہے تو کسی
اور ذریعہ سے ہماری مشکل کشائی کر دے یہ خدا کی اپنی مشیت ہے وہ اپنے کامون میں
مختار کل ہے وہ کسی کا پابند ہے نہ محتاج وہ روحانی طور پرہر وقت ہمارے ساتھہیں اور اپنے ہر موالی و محب کے ساتھ ہیں اگر ہم اطاعت کرنے والے ہوں تو ہم سے خوش
ہوتے ہیں اور اگر نافرمانی کر رہے ہوں تو و ہ روحانی طور پر ہمیں دیکھ کر ناراض ہوتےہیں اور بیزار ہوتے ہیں اور ان کی
روحانی نصرت ہر وقت رہتی ہے جو نصرت کے قابل ہو دیکھئے ہر منبر پر جانے والا بڑے
بڑے دعووں سے کہتا ہے کہ مجلس میں ارواح معصومین علہیم السلام آتے ہیں میں نے عرض
کیا ہے کہ و ہ روحانی طور پر ہمارے ساتھ ہیں البتہ وہ جس مجلس میں حاضر ہوں گے اسی
مجلس کی حیثیتسے حاضر ہو ں گے پس اگر
مجلس حینینوں کی ہو جن میں حسینی کردار کی جھلک ہو تو وہ حسینی دربار سمجھ کر
جائیں گے لیکن اگر مجلس میں یزیدی کردار کا مظاہرہ ہو عورتیں بے پردہ ہوں منبر کی
طرف آنے والے کا حلیہ یزیدی ہو ان کا بیان توہین مذہب پر مبنی ہو وہ نماز کا واقف
نہ ہو وضو صحیح نہ ہو ڈاڑھی منڈی ہو زنا
کرنے سے بچتا نہ ہو ہرقسم کی آوارگی اس سے عیاں ہو جس کو دیکھ کر شرافت پناہ
مانگے دیانتشرم محسوسکرے اور حیاسر چھپانے لگے اورعلاوہ ازیں
نہ اسے امام حسین کی تاریخکا علم ہو نہ
واقعاتشہادت سے کوئی اطلاع ہو
توایسیمجالس میں ارواح آئمہکی تشریف آوری محض خوش فہمیہے اور اگر
حاضر و ناظرکا یہ معنی ہے کہ چشم زدن میں
بمشیتپر وردگار عرش سے فرش تکاور فرش سے عرش تک یا شمال سے جنوب تکاور جنو ب سے شما ل تک اسی طرحمشرق سے مغرب تک
اور مغرب سے مشرق تک پہنچ سکتے ہیں تو اس میں کسی کے لئے مجال انکار نہیں خدا کی
قسم شرافت اپنا منہ پیٹلیتی ہے شرم کا
شرم سے سر جھک جاتا ہےاور حیاکی پیشانی پر جیا کے بارے پسینہ آجاتا ہے میں
نے کسی رسالہ میں پڑھا تھا کہ مسلمانوں میں دوفرقےہیں جن میں گانا دین ہے ایک شیعہ اوردوسرے بعض گذیوں والے اور یہ مصیبت ناقابل برداشتاور انتہائیجان لیوا ہے کہ اپنے اٹھ کر امام مظلوم کے اس
مشنکو برباد کریں جس کو امام نےاپنا سب
کچھ قربان کر کے بچایا تھا لہذا ذاکرینکی
خدمتمیں گزارش ہے کہ میرے ان سخت
الفاظپر ناراض ہونے کے بجائےاپنے کردار کا جائزہ لیں اور اس کی اصلاح کریں
اوربانیانمجلس اور مومنینکرام پر ضروری ہے کہ
آداب مجلس کو پورا پورا خیال کریں تاکہ ارواح معصومینعلہیم السلام کی تشریفآوری یقینیہو اور مجلس کی مقبولیتحتمی ہو میر ا دل نہیں
چاہتا کہ ایسی باتیں زبان قلم اسے نکلیں کیونکہ دلو ں پر ٹھیس لگنے کا ڈر ہے اور
لوگوں کی غلط فہمیوں کااندیشہ ہے تاہم
ایک مسلسل درد کی داستان ہے جو ذہن میں آتی ہے اور قلم مجبور ا اپنے دہانے سے صفحہ قرطاس پر اگلتی جاتی ہے خدا کرے آپ
میرے بیان کو انصاف کے آئینہ میں دیکھیں اور عدل کے میزان پر رکھیں۔
Leave a Reply