surah takasur read online sura at takaathur pdf takasur sharif arabic english urdu
سورة التكاثر (102)
— at-Takathur — Worldly Gain — التَّکَاثُرِ
بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (1) حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ
(2) كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ (3) ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ (4) كَلَّا
لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ (5) لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ (6) ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا
عَيْنَ الْيَقِينِ (7) ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ (8)
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے (شروع کر تا ہوں)
تمہیں کثرت پر فخر کرنےنے غافل کر دیا (1) حتی کہ تم قبرستان
پہنچ گئے (2)آگاہ ہو عنقریب جان لوگے (3) پھر آگاہ ہو عنقریب جان لوگے (4) آگاہ ہو
کاش کہ تم حقیقت کو علم الیقین سے جانتے ہوتے (تو فخر نہ کرتے ) (5) ضرور دیکھو گے
جہنم کو (6) پھر ضرور دیکھو گے اس کو عین القین سے (7) پھر تمس ے اس دن نعمتوں کا
سوال کیا جائے (8)
سورہ التکاثر
·
یہ سورہ مکیہ ہے سورہ
الکوثر کے بعد نازل ہوا۔
·
اس کی آیات کی تعداد
بسم اللہ الرحمن الرحیم کو ملاکر نو بنتی ہے ۔
·
حدیث نبوی میں ہے جو
شخص سوتے وقت اس سورہ کو پڑھے عذاب قبر سے محفوظ ہو گا ۔
·
حضرت امام جعفر صادق
علیہ السلام نے فرمایا جو شخص اس سورہ کو نماز فریضہ میں پڑھے اس کو ایک سو
شہید کا ثواب ملے گا۔
·
حدیث نبوی میں ہے جو
شخص اس سورہ کی تلاوت کرے اس سے دنیا نعمات کا حساب نہ لیا جائے گا اور نماز عصر
کے وقت پڑھے تو دوسرے دن کے غروب شمس تک وہ اللہ کی امان میں رہے گا نیز مروی ہے ہ
اس کی تلاوت کرنے والے کو آسمانی مخلوق اللہ کا شکر ادا کرنے والا کہتی ہے
·
مصباح کفعمی سے منقول
ہے کہ درد سر پر اس کا پڑھنا درد کو ختم کرتا ہے ۔
·
میت کےلئے دفن کی رات
جو نماز ہدیہ میت پڑھی جاتی ہے اس کا ایک طریقہ تو وہ ہے جو سورہ انا انزلنا
کے بیان میں گزر چکا ہے
·
اور دوسرا طریقہ یہ ہے
کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد دو مرتبہ سورہ قل ہو اللہ احد پڑھا جائے اور
دوسری رکعت میں ابعثتو ا بھا الی قبر فلاں اور فلاں کی جگہ میت کا نام لے اور
البلدالامین سے تیسرا طریقہ یہ بھی منقول ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد آیۃ
الکرسی اور توحید دو مرتبہ اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ التکاثر دس
مرتبہ پڑھی جائے ۔
·
لوگوں کی محبت حاصل کر
نے کےلئے ہروز ایکس مرتبہ اس سورہ کا پڑھنا مفید ہے (اوراد)
رکوع
نمبر 27۔ الھاکم ۔ عرب لوگ زمان جاہلیت میں اپنی مال و اولاد کی کثرت پر اور قوم و
قبیلہ کی کثرت پر ناز کرتے تھے اور بھری محفلوں میں ایک دوسرے پر سبقت و برتری کا
معیار اسی کثرت کو قرار دیتے تھے حتی کہ بعض اوقات مرجانے والوں کو شمار کرنے لگ
جاتے تھے تو خداوند کریم ان کی سرزنش میں فرماتا ہے کہ کثر مال و افراد معیار
برتری نہیں بلکہ نیک اعمال معیار فوقیت ہیں اور اگر تم حقیقت کو سمجھتے ہوتے تو یہ
فخر نہ کرتے جب موت کے ساتھ ہم آغوش ہر کر قبر میں دفن ہو جانا ہے تو اس تفاخر کیا
فائدہ اور علم الیقین اس علم کو کہتے ہیں
جو شک و شبہ کے بعد حاصل ہو ۔ اس لئے اللہ کے علم کو یقین نہیں کہا جاتا اور عارف
لوگوں کے نزدیک علم الیقین دلیل کے بعد پیدا ہونے والے یقن کا نام ہے اور عین
الیقین کا درجہ بلند ہے کہ وہ دیکھ لینے کے بعد حاصل ہونے والے یقین کو کہا جاتا
ہے اور حق الیقین آخری مزل ہے کہ چکھ لینے کے بعد جو یقین حاصل ہو اس کو حق الیقین
کہا جاتا ہے ۔
لتسئلن
۔ یعنی قیامت کے روز ہر نعمت کا سوال ہو گا لیکن امام محمد باقر علیہ السلام نے
فرمایا تین چیزوں کے متعلق سوال نہ ہو گا (1) جسم ڈھانپنے کا کپڑا (2) پیت بھرنے
کے لئے روٹی کا ٹکڑا (3) سر چھپانے کے لئے حسب ضرور ت مکان ۔
روایات
اہلبیت میں تواتر سے منقول ہے کہ جس نعمت کا بروز محشر سوال ہو گا وہ ولائے علیؑ
ابن ابی طالب ہے اور بعض روایات میں ہے کہ توحید و نبوت و امامت کا سوال ہو گا ایک
روایت میں معصوم نے فرمایا کہ ہمان کو کھانا کھلانے کے بعد مہمان نواز کا مہمان سے
نوالوں کا حساب لینا۔ اس کی شان سے بعید ہے تو خدا وند کریم کس طرح روٹی کے نوالوں
کا حساب لے گا؟ البتہ ولائے آل محمدؐ کا ہی سوال ہو گا اور امام جعفر صادق علیہ
اسلام نے ابو حنیفہ سے نعم کا معنی پوچھا تو اس نے عام نعمتیں شمار کیں آپ نے
فرمایا کہ اس طرح تو وقف بہت لمبا ہو جائے
گا بس وہاں تو صرف ہماری ولاء کا ہی سوال
ہو گا۔
x
Normal
0
false
false
false
EN-US
X-NONE
AR-SA
/* Style Definitions */
table.MsoNormalTable
{mso-style-name:”Table Normal”;
mso-tstyle-rowband-size:0;
mso-tstyle-colband-size:0;
mso-style-noshow:yes;
mso-style-priority:99;
mso-style-parent:””;
mso-padding-alt:0in 5.4pt 0in 5.4pt;
mso-para-margin:0in;
mso-para-margin-bottom:.0001pt;
mso-pagination:widow-orphan;
font-size:10.0pt;
font-family:”Times New Roman”,”serif”;}


Leave a Reply