قبول توبہ حضرت آدم
تفسیر عیاشی سے بروایت حضرت امام محمدباقر جناب رسالتمآبﷺ سے منقول ہے کہ دعاکے کلمات یہ تھے لَاْ اِلٰہَ
اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ اِنَّکَ
اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْم
محمد باقر سے منقول ہے کہ کلمات یہ تھے سُبْحَانَکَ
اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ رَبِّ اِنِّیْ عَمِلْتُ سُوْءًﺅ وَ ظَلَمْتُ
نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْم
ہیں لیکن مقصد سب میں حمدوثنائے باری تعالیٰ اوراس کے بعد اپنے قصور کا اعتراف اورطلب معافی ہے، چنانچہ خود قرآن مجید ان کی دعاکے کلمات یہ بیان
فرماتا ہے رَبَّنَا
ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّا
مِنَ الْخَاسِرِیْنَ [1]
قرآن مجید کے الفاظ سے روایات کے الفاظ مختلف یاکم وبیش کیوں ہیں، کیونکہ قرآن
مجید میں اکثر وبیشتر مطالب ایسے ہیں جو اجمالاًبیان ہوئے ہیں اورروایات میں ان کی
تفصیل موجود ہے لہذا اس صورت میں قرآن مجید اورالفاظِ روایات میں منافات نہیں بلکہ
اجمال وتفصیل کا فرق ہے-
کے الفاظ کا اختلاف بھی کوئی باہمی منافات نہیں رکھتا کیونکہ ممکن ہے کہ راویانِ حدیث میں سے کسی نے کلام کو پورا ضبط کرلیا تو پورے
الفاظ آگے چل کر نقل کردئیے اورکسی کو پوری روایت یاد نہ رہی تو اس نے اس کا معنی
نقل کردیا، اسی وجہ سے ایک ہی روایت متعدد راویوں سے مختلف الفاظ میں نقل ہو جاتی
ہے، یہ یاد رہے کہ حضرت آدم نے جب توبہ کی تو اس توبہ کا طریقہ
بھی خداوند کریم نے خود تعلیم فرمایا جس طرح کہ قرآن مجید میں موجود ہے فَتَلَقّٰی
آدَمُ مِنْ رَّبِّہِ کَلِمَاتٍ یعنی حضرت آدم نے اپنے ربّ سے کلمات سیکھے اورمتواتر
روایات آئمہ طاہرین میں ہے کہ خمسہ نجبا یعنی حضرت
محمد مصطفےﷺ، حضرت علی، جناب فاطمہ، حضرت امام حسن،اورحضرت
امام حسین کو واسطہ دے کر دعا کی، چنانچہ شیخ
کلینیv اورشیخ صدوقv سے مروی ہے جیساکہ تفسیر برہان میں
مذکور ہے-
آنحضوؐر نے ارشاد فرمایااے یہودی کیا چاہتا ہے؟ اس نے جواب میں عرض کیا حضوؐر مجھے
فرمائیے کہ آپؐ افضل ہیں یا حضرت موسی بن عمران جن سے خدانے کلام فرمائی، تورات
وعصاکو نازل کیا، دریا کو شق کیا، بادل کا سایہ کیا؟ حضوؐر نے فرمایا انسان کے لئے
اچھا نہیں کہ اپنی تعریف کرے لیکن میں اتنا کہتا ہوں کہ جب حضرت آدم سے خطاسرزد
ہوئی تو ان کی توبہ کے الفاظ یہ تھے اَللّٰھُمَّ
اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ لِمَا غَفَرْتَ
پس خدانے ان کو معاف کردیا- [2]
خطرہ لا حق ہوا تو یہ کلمات کہے اَللّٰھُمَّ
اِنِّیّ اَسّئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ لِمَانَجَّیْتَنِیْ مِنَ
الْغَرْقِ
یعنی میرے اللہ میں تجھ سے بحق محمد وآل محمد سوال کرتاہوں کہ مجھے غرق سے نجات دے پس اللہ نے ان کو نجات دی- [3]
میں پھینکا گیا تو انہوں نے وہی الفاظ دہرائے یعنی میرے اللہ میں تجھ سے محمد وآل
محمد کے واسطہ سے سوال کرتاہوں کہ مجھے اس سے نجات دے پس اللہ
نے آگ کو ٹھنڈ ا اور موجب سلامتی کردیا-
بحق محمد وآل محمد سوال کرتا ہوں کہ مجھے بچا، پس
ارشادِ قدرت ہوا لَاْ تَخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی–
اورمیری نبوت پر ایمان نہ لاتے تو اس کو اپنا ایمان اور اپنی نبوت کچھ فائدہ نہ
دیتی اے یہودی میری ذرّیت سے مہدی ہو گا کہ جب وہ ظاہر ہوگا اس کی مدد
کےلئے عیسی بن مریم اُتریں گے اوراس کو آگے کھڑا کرکے
خود اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے-[4]
خصائص نطنزی ابن عباس سے مروی ہے کہ حضرت آدم نے خمسہ نجباکے وسیلہ سے دعامانگی
اورالفاظ یہ کہے یَا رَبِّ
اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَّعَلِیٍّ وَّ فَاطِمَہَ وَ الْحَسَنِ وَ
الْحُسَیْنِ لِمَا غَفَرْتَ لِیْ
ہیں جو حضرت آدم نے اپنے پروردگار سے حاصل کئے جس کے متعلق قرآن میں ہے فَتَلَقّٰی
آدَمُ مِنْ رَبِّہِ کَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ
محمدباقر سے مروی ہےکہ پیدائش سے قبضِ روح تک حضرت آدم کی کل عمر ۹۳۰برس تھی اوردفن مکہ میں ہوئے تھے، جس وقت حضرت آدم کے جسد خاکی
میں روح داخل کی گئی تو وہ جمعہ کا دن تھا اورزوال کے بعد روح ان کے جسم میں داخل
ہوئی، اس کے بعد ان کی زوجہ پیدا ہوئی اوراسی دن داخل جنت ہوئے کل چھ گھنٹے جنت
میں رہنے کے بعد ترکِ اَولیٰ کی وجہ سے غروبِ شمس کے بعد جنت سے باہر آگئے وہاں
ایک رات بھی نہیں رہے –
رہنے کا مطلب اورترکِ اَولیٰ کا واقعہ اورتوبہ وقبول تو بہ کا قصہ جس کو میں نے
تفصیل سے عرض کردیا، اس میں نہ حضرت آدم کا گناہ ثابت ہو تاہے نہ خلافِ عصمت ونبوت کوئی شئے لازم آتی ہے، نہ منافی عقل
ہے اورنہ مخالف نقل، تفسیر ہذا کی جلد اوّل[5]
مقدمہ تفسیر میں میں نے عصمت آدم کے متعلق ایک دوسرا عقلی طریقہ اختیار کیا تھا لیکن یہ بیان اس بیان سے زیادہ
واضح اورزیادہ موافق عقل ونقل ہے، اس میں معانی آیات کی بھی چنداں تاویل کی ضروت
نہیں رہتی اورمضامین روایات سے بھی اس کو کوئی تصادم نہیں بلکہ یہ بیان مضمون
روایات کے مطابق ہے وَاللّٰہُ اَعْلَمُ
انبیا کی عصمت میں کسی قسم کا شک وشبہ
کرنا حرام و ناجائز ہے اور انبیا کے متعلق گناہ کو منسوب کرنا خواہ گناہ صغیرہ ہو
خواہ کبیرہ، قبل از بعثت ہو یا بعد از بعثت، منافی ایمان ہے-
مجتبیٰ، اَخیار، مخلصین، منعم علیہ اور صالحین وغیرہ کے پاکیزہ خطابات سے نوازا ہے
اور جن کو خداوند ان جیسے مقدس الفاظ سے
ذکر فرمائے ان کی عصمت پر اس سے زیادہ نقلی برہان اور کیا ہوسکتا ہے ؟
خداوندکریم عہدہ نبوت کےلئے ایسے افراد کو انتخاب کرے جو خود گناہ سے اجتناب نہ
کرتے ہوں، کیونکہ خود گناہوں سے نہ بچ سکنے والا دوسروں کو گناہوں سے بچنے کی
تبلیغ نہیں کرسکتا، اسلئے کہ جس شخص کا قول اپنے فعل کے خلاف ہو اس کی بات سننے
والوں کے دلوں میں گھر کر سکتی ہی نہیں، پس ضرور ی ہے کہ خدا کی طرف سے عہدہ نبوت
پر فائز ہونے والا معصوم ہو-
الانوار فی عقاید الابرار “کے مطالعہ سے یہ مسئلہ بآسانی سمجھا جا سکتا ہے-
کی مصطفائی ومجتبائی کا کھلا اعلان موجود ہے جو ثبوتِ عصمت انبیا کےلئے کافی ہے
تو قرآن میں ایسے واقعات یا ایسے الفاظ جن سے انبیا کی عصمت کے خلاف اثر پڑتا ہے
ہو وہ واجب التاویل ہیں-
تاویل سے عاجز آکر اصل واقعہ کا انکار کرکے اس کو ایک تمثیل قرار دے دیں اور کہیں
کہ قرآن کی دوسری مثالوں کی طرح یہ بھی ایک مثال ہے اور دراصل واقعہ کچھ نہیں یا بعض
لوگ اس کو عقل و وہم کی تعبیریں قرار دے دیں یعنی آدم سے مرادعقل انسانی اور وہم سے مراد وہم انسانی ہے اور گویا قرآن پاک میں عقل و
وہم کی کشمکش کو حسی مثال سے واضح کیاگیا ہے لیکن یہ
صراحت قرآن وحدیث کے بالکل خلاف ہے –
قرآنی بیان کی صحیح تاویل تک دسترس نہ پانے کے باعث اصل واقعہ کا انکار اس طرح
کرتے ہیں کہ جملہ خطاباتِ قرآنیہ کا رُخ اولادِ آدم کی طرف ہے، جیسا کہ ”عصمت آدمؑ“ کے مصنّف نے کیا ہے، میرے خیال میں
اس قسم کے خیالات کا اظہار کوتاہ فہمی ہے
کیونکہ جب قرآن مجید کی تصریحات اور آئمہ معصومین کی روایات بحدِتواتر واقعہ کو حضرت آدم کی ذات سے مخصوص کرتی ہیں تو کسی
مسلمان کو اس کا انکار کس طرح زیبا ہے؟
الفاظ کی تاویل کرنا ضروری ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اصل واقعہ جو قرآن وحدیث
کی رو سے مسلم طور پر ثابت ہو اس کا سرے سے انکار کردیا جائے؟
عقیدہ ہے کہ واقعہ کا تعلق حضرت آدم
کی ذات سے ہے اور منافی عصمت بھی نہیں، اس بیان میں طول ہو گیا ہے لیکن امید ہے کہ
افادیت کے پیش باعث ملول نہ ہو گا-
مستدرك حاكم نيشاپوري ج۲ ص۶۱۵، دلائل النبوة بيہقي ج۵ ص۴۸۹، كنز العمال متقی ہندي ج۱۱ ص۴۵۵،در المنثورج۱ ص۵۹، روح المعانی ج۱ ص۲۱۷
