لالچ: مَا نَنْسَخْ مِنْ آی©َةٍ اَوْ
نُنْسِھَا کی تفسیر میں ہے کہ منسوخ آیات میں سے ایک آیت ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ
اولاد حضرت آدم ؑ کو اگر مال کی دو وادیاں مل جائیں تو وہ تیسری کی خواہش بھی کرے
گا اور اولاد حضرت آدم ؑ کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی پُر کرے گی۔
٭ لوٹ کھسوٹ کے لا لچ نے ہی صحابہ کو میدان
احد میں جیتی ہوئی جنگ ہارنے پر مجبور کر دیا تھا ورنہ اگر پچاس آدمی اپنی ڈیوٹی
پر ڈٹے رہتے اور لوٹ کے لالچ میں نہ آتے اور درہ کو نہ چھوڑتے تو خالد بن ولید کا
لشکر پیچھے سے حملہ آور نہ ہو سکتا اور مسلمانوں کو پہاڑوں کی چوٹیوں کی طر ف بھاگ
جانے کی تکلیف اور شکست کی شرمندگی نہ اٹھانی پڑتی (ج۴ ص۴)
٭ اور حدیث میں لالچ کو اصول کفر میں سے شمار
کیا گیا ہے (ج۶ ۲۱)
٭ لالچ ایک نشہ ہے کہ کسی ناصح کی نصیحت اس
پر اثر ہی نہیں کرتی (ج۶ ص ۰۶)
٭ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا ہمارا شیعہ وہ ہے
جو کتے کی طرح بھونکے نہیں اور کوے کی طرح لالچی نہ ہو (ج۶ ص ۷۶۱)
لباس: امام جعفر صادقؑ کے قیمتی لباس پر
سفیان ثوری کا اعتراض اور امام کی طرف سے اس کا منہ توڑ جواب اسی طرح عباد بن صامت
کا طعن اور اس کا مثبت جواب (ج۶ ص ۷۲)
٭ حضرت یوسف ؑ کا تخت مصر پر شاہی لباس (ج۶ ص
۸۲)
٭ سفید لباس کو لباس تقوی کہا گیا ہے (ج۶
ص۲۲)
٭ جمعہ و عیدین میں سفید لباس پہننا مستحب ہے
(ج۶ ص ۴۲)
لعان : لعان کا بیان (ج۰۱ ص ۸۱۱ تا ۰۲۱)
لعنت: حضرت پیغمبر نے فرمایا جس مال سے زکوة
ادا نہ ہو اس پر لعنت ہے (ج ۲ص ۲۰۱)
٭ حضرت پیغمبر سے ایک حدیث میں منقول ہے
یہودیوں کے وہ اسلاف جنہوں نے حضرت ذکریاؑ و حضرت یحییٰؑ کو قتل کیا ان پر لعنت
اور ان کے فعل پر راضی ہونے والی ان کی اولادوں پر بھی لعنت ہے اسی طرح امام حسین
ؑ اور ان کے محبوں اور مددگاروں کے قاتلوں پر بھی اللہ کی لعنت ہے اور جوشخص تقیہ
کے بغیر ان پر لعنت نہ کرے اس پر بھی لعنت ہے (ج۲ ص۸۳۱)
٭ جس طرح حضرت موسیٰؑ کے قائم مقام انبیا ء کے
قاتل مستحق لعنت تھے اسی طرح حضرت محمد مصطفی کے اوصیا ء کے قاتل بھی مستحق لعنت
ہیں (ج۲ص ۹۶۱)
٭ حق کو چھپانے والوں پر لعنت (ج۲ص ۳۰۲)
٭ حق کا انکار کرنے والوں پر لعنت (ج۲ ص ۴۰۲)
٭ حضرت امام جعفر صادقؑ نے قدریہ خوارج اور
مرحبہ پرلعنت کی اور فرمایا جو لوگ ہمارے قاتولوں کو مومن کہتے ہیں تا قیامت ان کے
لباس ہمارے خون سے رنگین رہیں گے یعنی ان کے فعل پر راضی ہونے والاانہی میں سے
شمار ہو گا (ج۴ص ۲۹)
٭ لعنت کا معنی ہے رحمت خدا سے دوری اللہ
فرماتا ہے یہودیوں کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت بھیجی ہے (ج۵ص ۶۷) پس
جس قوم نے حضرت موسیٰؑ کے عہد کو توڑا تو وہ مستحق لعنت ہوئے تو جن لوگوں نے سلطان
الانبیا ء حضرت محمد مصطفی کے عہد کو توڑا وہ کس طرح اللہ کی لعنت سے بچ سکتے ہیں؟
٭ میثاق انبیا ء کو توڑنے والے مستحق عذاب و
لعنت ہوتے ہیں (ج۵ ص ۸۷)
٭ جن لوگوں نے کہا کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے
ہیں ان پر لعنت ہے (ج۵ ص۷۳۱)
٭ حضرت رسالتمآب نے فرمایا جو شخص بغیر علم کے
فتویٰ دے اس پر آسمان اور زمین کے فرشتے لعنت بھیجتے ہیں (ج۶ ص ۰۳)
٭ شجرہ ملعونہ کی تشریح (ج۹ ص ۸۳ تا ۰۴)
٭ ناحق پیرو مرید بروز محشر ایک دوسرے پر لعنت
کریں گے (ج۲ص۷۰۲-ج۱۱ص ۸۵)
٭ جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور سے اپنا
نسب جوڑے اس پر اللہ کی لعنت ہے (ج۱۱ص۷۵)
٭ تفسیر آیت مباہلہ میں جھوٹوں پر اللہ کی
لعنت اور مباہلہ کا معنی ہے ایک دوسرے پر لعنت کی دعا (ج۳ص۸۴۲)
٭ ایک مرتبہ امام حسن ؑنے مروان سے فرمایا کہ
میں تجھے یا تیرے باپ کو سبّ نہیں کرتا لیکن خدا نے تجھ پر تیرے باپ پر اور تیرے
خاندان پر تیری اولاد پر اور تیرے باپ کی قیامت تک ہونے والی نسل پر اپنے نبی کی
زبانی لعنت بھیجی ہے شجرہ ملعونہ کی تفسیر (ج۹ص۹۳)
لَوْلا: حضرت عمر مسائل مشکلہ میں حضرت علی
ؑ کی طرف رجوع کرتے تھے یہ جملہ ان کی زبانی مشہور ہے لَوْلا عَلِیٌّ لَھَلَکَ
عُمَر اگر حضرت علی ؑ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا (ج۱ ص۳۳۱، ۲۸۱) بحوالہ مناقب
خوارزمی، ریاض النضرہ، مطالب السوﺅل (ج۳ ص۹۹- ج۳۱ص ۵۲)
٭ لَوْ لا کَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلاکَ (۹ص
۸۵۲)
لقمان ؑ : مروی ہے کہ حضرت لقمانؑ تنہائی کو
زیادہ پسند فرماتے تھے ایک دفعہ ان سے اس کی وجہ دریافت کی گئی تو انہوں نے فرمایا
کہ تنہائی فکر کے لئے مفید ہے اور فکر جنت کا راستہ ہے (فکر و توحید) (ج۴ ص۶۹)
٭ ایک دفعہ حضرت لقمانؑ حضرت داﺅد ؑ کو ملنے
آئے تو وہ زرّہ بنارہے تھے پس لقمانؑ خاموش بیٹھے دیکھتے رہے جب زرّہ بن چکی تو
حضرت داﺅد ؑ نے پہن کر فرمایا کہ جنگ کا یہ بہترین لباس ہے پس حضرت لقمانؑ نے
فرمایا خاموشی بہت اچھی چیز ہے لیکن اس پر عمل کرنے والے کم ہوں گے (ج۹ ص ۲۴۲)
٭ سورہ لقمان کے خواص و اثرات (ج۱۱ ص۸۲۱)
٭ حضرت لقمان ؑ کا تاریخی ذکر اور ان کے اقوال
(ج۱۱ ص۹۲۱ تا ۲۴۲)
٭ حضرت لقمان ؑ کے ارشادات (ج۱۱ ص ۰۳۱تا ۲۳۱)
٭ حضرت لقمان ؑ کی نصیحتیں(ج۱۱ ص۸۲۱)
٭ حضرت لقمان ؑ حضرت ایوب ؑ کے بھانجے یا
خالہ زاد تھے (ج۱۱ص ۱۳۱)
لواءُالحمد: حضور نے فرمایا حضرت آدم ؑ سے
لے کر حضرت عیسیٰؑ تک تمام نبی میرے لواءُ الحمد کے نیچے ہوں گے اور حضرت علی ؑ سے
فرمایا کہ تو اس لواء کا حامل ہوگا (ج۲۱ص ۸۴۲ – ج۳۱ ص ۶۷۱، ۷۱۲)
لوح محفوظ: حضرت امام جعفر صادقؑ سے سلسلہ
اولاد آدمؑ کے ذیل میں ایک حدیث طویل میں منقول ہے کہ خداوند کریم نے تخلیق آدم ؑ
سے دو ہزار سال پہلے لوح محفوظ میں قیامت تک ہونے والے واقعات کو ثبت کر دیا
چنانچہ قلم قدرت سے بھائی اور بہن کے نکاح کی حرمت بھی درج ہے (ج۴ص ۶۰۱)
٭ دو دفتر ہیں ایک کتاب محو اثبات اور دوسری
امّ الکتاب پہلی کو لوح محو اثبات کہا جاتا ہے اور دوسری کو لوح محفوظ کہا جاتا ہے
(ج۸ ص ۰۴۱)
٭ علامہ فیض کاشانی نے ذکر کیا ہے کہ لوح قضا
سے مراد لوح محفوظ ہے اور لوح قدر سے مراد لوح محو اثبات ہے (ج۸ص ۶۷۱)
٭ قیامت سے پہلے سب کا فنا ہونا لوح محفوظ میں
مسطور ہے (ج۹ص۸۳، ۶۸۱)
٭ ایک مقام پر امّ الکتاب سے مراد لوح محفوظ
لیا گیا ہے (ج۲۱ص ۳۲۲)
٭ شب قدرمیں نزول قرآن کا مطلب ہے کہ لوح
محفوظ سے آسمان اوّل کی طرف اُتارا گیا(ج۲۱ ص۶۵۲)
٭ لوح محفوظ کا ذکر (ج۳۱ ص ۱۱۱، ۷۲۱، ۵۳۱-
ج۴۱ص ۲۸)
لوطؑ: (ج۶ص ۴۵)
٭ حضرت لوطؑ کا واقعہ (ج۷ ص ۸۲۲-ج۸ ص ۲۸۱- ج۹
ص ۸۳۲-ج ۰۱ص ۶۵۲)
٭ قوم لوط کی ایک بستی تھی جس کا نام سدوم تھا
مشرکین مکہ شام کی طرف بغرض تجارت آتے جاتے وہاں سے گزرتے تھے اور وہ بستی گرفتار
عذاب ہوئی (ج۰۱ص ۸۷۱- ج۱۱ س۷۴)
٭ قوم لوط میں لواطہ کی بدعادت تھی (ج۰۱ ص
۰۱۲)
٭ حضرت لوط ؑ کا مفصل قصہ (ج۱۱ ص ۶۷ تا ۰۸ –
ج۳۱ص ۳۷۱)
٭ حضرت لوطؑ اور حضرت ابراہیم ؑ کی مائیں دو
سگی بہنیں تھیں اور ان کے باپ کا نام لاحج تھا جو عہدہ نبوت پر فائز تھا اور حضرت
سارہ ؑ بھی حضرت ابراہیم ؑ کی خالہ زاد تھی جو بہت بڑی جاگیردار تھی (ج۲۱ص ۴۵)
٭ حضرت سارہ ؑحضرت لوطؑ کی بہن تھی (ج۲۱ ص۵۵)
٭ حضرت لوط ؑکی قوم کی بد عادات بخل،لواطت اور
پاخانہ پھرنے کے بعد استنجا نہ کرنا اور غسل جنابت نہ کرنا (ج۳۱ص ۰۳۱)
٭ حضرت لوطؑ اور حضرت نوحؑ کی بیویوں سے بری
عورتوں کی مثال (ج۴۱ص ۸۶)
٭ قوم لوط کی ایک ایک بستی میں چار چار ہزار
جنگی جوان موجود تھے (ج۴۱ص ۳۸۱)
٭ حضرت لوطؑ کی بیٹی ربابحضرت اسحقؑ کی زوجہ
اور حضرت یعقوبؑ کی ماں تھی (ج۱۱ ص۸۷، ۹۷)
لواطہ : شاہ خدا بندہ کے دربار میں شافعی و
حنفی علماء کے مابین مناظرہ میں شافعی عالم کا ثابت کرنا کہ ابو حنیفہ کے نزدیک
لواطہ پر کوئی حد مقرر نہیں ہے (ج۲ ص۱۰۲)
٭ مغربی ملکوں میں لواطت کی حیثیت (ج۴ص ۳۱۱)
٭ لواطت کی ابتدا قوم لوط سے ہوئی (ج۶ ص۵۵-
ج۸ص۶۸۱)
٭ لواطہ کی سزا قتل ہے (ج۹ ص ۸۲)
لہجہ علی ؑ: شب معراج لہجہ حضرت علی ؑ میں
کلام خدا (ج۸ ص ۶۶۲)
لیلة القدر: (ج۴۱ص ۳۴۲)
Leave a Reply