anwarulnajaf.com

لوح وقلم کے متعلق عقیدہ

شیخ صدوق اعلی اللہ
مقامہ
  نے عقائد میں فرمایا ہے کہ
انھما
  ملکان  یہ دونو فرشتے 
ہین اور معافی الاخبار ہیں انہی سے ایک مضمون کی ایک روایت  بھی مروی ہے 
لیکن علمائے ملت کو اس معنی میں ان سے کافی  اختلاف ہے اور قرآن مجید کا فرمان بل ھو قرآن
مجید فی لوح محفوظ
 کہ یہ قرآن  مجید 
لوح  محفوظ میں ہے  آیت کا ظاہر 
مرحوم صدوق  کی تائید نہیں کرتا اور
مشہور یہی ہے کہ
  لوح ایک  نورانی تختی ہے جس پر تمام علوم منقوش ہیں خواہ
اس تختی کی جو بھی کیفیت
  ہے اور خواہ
تحریر کسی بھی کیفیت یاطریقہ سے ہو اور قلم کے متعلق بھی ایسا ہی وارد ہے کہ
 کو پیداکرنے 
کے بعد حکم دیا گیا کہ لوح پرلکھ تو اس نے کان ومایکون کے علوم لکھ
دیئے
    بہر کیف لوح وقلم کے متعلق  اجمالی اعتقاد رکھنا  ہی کافی ہے 
انکی تفصیل کو جاننا غیر ضروری ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *