میں یہ اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ترجمہ میں ،میں نے
امکانی طور پر کوشش کی ہے کہ لفظی کے بجائے حلی ترجمہ ہو۔ انتہائی ذمہ داری کے
ساتھ! کہوں گا کہ میں نے حضرت خمینیئ اعظم کے مطالب سے سر موانحراف نہیں کیا ۔ ہاں
بعض مقامات پر جہاں آیۃ اللہ نے اپنی قوم ایران یا ایرانی نوجوانوں کو مخاطب کیا
ہے وہاں میں نے ملت پاکستان اور پاکستانی جیالوں کو خطاب کیا ہے۔ اس تصرف کے علاوہ
جہاں کہیں بھی ترجمہ میں کوئی تصرف نظر آئے میں اپنے لئے وہی سزا مقرر کرتا ہوں جو
ایک چور کی سزا ہوتی ہے۔
کیونکہ میں ان دین آشنا حضرات سے بخوبی واقف ہوں جب ان سے
اور کچھ نہ بن پڑیگا ۔ اور ان کے ماننے والے ان کے سامنے نائب امام خمینئی اعظم کے
دلائل پیش کریں گے تو جواب میں یہی کہیں گے کہ ۔
یہ تو
اثیر جاڑوی کا ترجمہ ہے۔ خدا معلوم اس نے کیا کیا ہے لہذا ایسے افراد
سے گزارش ہے کہ کشف ، الاسرار کو سامنے رکھ کر اس کا اندازہ لگائیں ۔ اب زیادہ
حائل ہونے کی بجائے لیجئے اور پڑھیئے ۔ حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ کیا فرماتے ہیں۔
ویسے اگر ان کی نگاہ تقدس میں یہ ترجمہ غلط ہے۔ اور درد دین بھی ہے تو آگے بڑھیں
اور صحیح ترجمہ کرکے شائع کرادیں ۔ تا کہ ان کے فتوےٰ میرے غلط ترجمہ کو اور ان کے
صحیح کو ترجمہ کو باہم ملا کر پڑھیں اور پھر خود فیصلہ کریں کہ ان کی دیانت کتنے
ٹن ہے اور میری امانت کتنے ماشہ ؟ کیا کوئی بھی باحمیت موجود نہیں ؟
احقر جاڑوی
Leave a Reply