anwarulnajaf.com

نماز پنجگانہ کی تفصیل

 

نماز پنجگانہ کی
تفصیل:
نماز پنجگانہ واجب
کل سترہ رکعت ہے 2 صبح  4 ظہر  ، 4 عصر ، 3 مغرب اور 4 عشاء اور کے علاوہ
یومیہ نفلہ کی تعداد بنا بر مشہور 34 رکعت ہے 2 صبح ، 8 ظہر ، 8 عصر  ، 4مغرب ، اعشا، 11 نماز تہجد  یہ کل 51 رکعت نماز ہے جو بعض روایات  میں شیعہ کی علامت بتائی گئی ہے ۔ تفسیر ہذا
جلد 5 233 نماز صبح طلوعِ فجر صادق سے طلوع آفتاب تک اس کا کل وقت ہے لیکن ابتدا ء
میں مشرقی سُرخی کے ظاہر ہونے سے پیشتر فضیلت کا وقت ہے اور بعد میں صرف ادا کا
وقت ہے اور نافلہ صبح واجب سے پہلے پڑھی جاتی ہے جبکہ وقت فضیلت میں ادا کی جا رہی
ہو نماز صبح کی قرات میں صرف مردوں پر چہر واجب ہے۔

            نماز ظہر و عصر زوال آفتا ب سے غروب
آفتاب تک ان دونوں نمازوں کا وقت ہے البتہ زوال سے متصل بقدر ادا ئے ظہر کا
مختص  وقت ہے اور غروب سے پہلے  بقدر ادا ئے نماز عصر نماز عصر کا مختص وقت
ہےباقی درمیانی حصہ وقت مشترکہ ہےلیکن ظہر عصر سے مقدّم رہے گی۔

مسئلہ:۔ اوّل زوال سے
لے کر سایہ کے برابر ہونے تک ظہر کا وقت فضیلت ہے اور بعد میں وقت ادا اور وقت
فضیلت میں ظہر ادا کر لینے کے بعد سے سایہ کے دوگناہونے تک عصر کاوقت فضیلت ہے اور
بعد میں صرف ادا ۔

مسئلہ:۔ بعض علماء نے
ظہر  کی فضیلت کا وقت اوّل زوال سے لے کر
سایہ کے 7/2 بڑھ جانے تک قرار دیا ہے اور ظہر کی ادائیگی کے بعد 7/4 تک عصر کی
فضیلت کا وقت بیان کیا ہے اس صورت میں نوافل کی ادائیگی بھی اسی پانندی سے ہوگی ۔
یعنی نوافل ظہر ایسے وقت میں پڑھے جائیں کہ نماز ظہر بھی سایہ کے 7/2 ہونے سےپہلے
پڑھی جاسکے اور عصر کے نوافل ایسے وقت میں پڑھے کہ نماز عصر سایہ کے 7/4 ہونے سے
پہلے پڑھی جا سکے اور اسی کو روایت میں دو قدم اور چار قدم کے لفظوں سے تعبیر کیا
گیا ہے۔ چونکہ بالعموم ہر انسان کا قد اپنے سات قدموں  کے برابر ہوتا ہے اسی  لئے سمجھانے کےلئے کہا گیا ہے کہ انسان اپنا
سایہ زوال کے بعد جب دو قدم کے برابر ہوگا تو ظہر کی ٖفضیلت کا وقت ختم ہوگا اور
اس کے چار قدم تک عصر کی فضیلت کا وقت رہے گا اسی طرح زمین پر عموماً کھڑی ہوئی ہر
شئی کو سات حصوں میں تقسیم کر کے مجاز اً ہر حصے پر قدم کا اطلاق کیا جاتا ہے اور
سایہ معلوم کرنے کے لئے جس چیز کو زمین پر عموداً کھڑا کیا جائے اس کو شاخص کہتے
ہیں۔

مسئلہ:۔ نماز ظہرین
کی قرات میں اخفات واجب ہے۔

نماز مغرب و
عشاء:
غروب آفتاب سےلے کر
نصف شب تک دونوں نمازوں کاوقت ہے البتہ غروب کے ساتھ بقدر اداءِ مغرب کا مختص وقت
ہے اور نصف شب سےپہلے بقد ر ادائے نماز عشاء کا وقت مختص ہے اور ان دونوں کے
درمیاں دونوں نمازوں کا وقت مشترک ہے لیکن بوقت ادا مغرب عشاء سے مقدم ہوگی۔

مسئلہ:۔ اوّل غروب سے
مغرب کی سُرخی کے زوال تک مغرب کا وات فضیلت 
ہے اور بعد میں وقت ادا  اور نماز
مغرب کے وقت فضیلت میں ادا کرلینے کے بعد سے شروع ہوکر ایک تہائی شب تک نامز عشاء
کی فضیلت کا وقت تک ہے۔

مسئلہ:۔ نافلہ عشاء
دورکعت کا بیٹھ کر پڑھنا بہتر ہے اور یہ دور کعت ایک رکعت کے شمار میں ہوتی ہیں
اور ان کو وتیرہ کہا جاتا ہے۔

مسئلہ:۔ نماز مغربین
کی قرات میں مردوں پر جہر واجب ہے۔

مسئلہ:۔ اگر بُھول کر
وقت مشترک میں کوئی شخص ظہر کی بجائے نماز عصر کی نیت کر لےتو یاد آجانے کے بعد
فوراً نیت کو ظہر کی طرف پھیر لے اسی طرح اگر عشاء کی نیت بُھول کر کرے اور مغرب
پڑھنی ہو تو یاد آنے پر فوراً مغرب  کی نیت
کرے بشر طیکہ چوتھی رکعت کے رکوع میں نہ پہنچ گیا ہو اور اگر نیت پھیر نے کا وقت
گزر جائے یا نماز ختم کرنے کے بعد یاد آئے تو وہ نماز صحیح ہوگی صرف پہلی نماز اس
کو پڑھنی ہوگی لیکن اگر پہلی نما ز کا وقت مختص ہو تو دوسری نماز باطل ہوگی جبکہ
پہلی نماز کی طرف نیت نہ پھر سکے۔


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *