مملکت ایران جو ایک عرصہ سے اختناقی کیفیت سے دوچار تھی جسے
نہ صرت ایران نے دیکھا ہے بلکہ پوری دنیا اسکی شاہد ہے۔ اس پورے عرصہ میں رضاخاں کے
سرتیر جفا کا پہلا نشانہ علماء ہی رہے ۔کیونکہ اسے یقین تھا اگر میں نے سختی سے
علماء کا گلا نہ دبایا ۔ علماء کی زبان پر پہرہ نہ بٹھایا ۔اور افکار علماء کو نہ
روکا تو اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکوں گا۔ اور علماء قدم قدم پر میرے سَر
خلاف اسلام اقدام کو طشت ازبام کرتے رہیں گے۔ ہر ایسے اقدام کو جو ملت ایران کے
خلاف ہوگا علماء اپنی بصیرت کی بدولت عوام کو آشنا کرتے رہیں گے۔ جبکہ علماء کے
علاوہ رضاخان کے ساتھ دو قسم کے لوگ تھے۔
۱۔ ایسے لوگ
جو رضاخان کے درباری وظیفہ خوار۔ اور بازاری بازی گر تھے۔ ان سے رضاخان کو کوئی
خطرہ نہ تھا۔
۲۔ ایسے لوگ جو
علمی ۔ فکری ۔مالی۔ یا قلبی لحاظ سے کمزور ناتواں تھے یہ قسم بھی رضا خان کے لئے
موجب اطمنیان تھی۔
علمائے اعلام میں سے رضاخان کو مرحوم مدرس کے ساتھ کچھ وقت
گزارنے کا موقعہ ملا تھا کہ یہ لوگ نہ پیسے کے لالچ میں اطاعت کریں گے اور نہ ہی
قید وبند کی تکلیف انہیں جھکا سکیں گے۔ چنانچہ رضاخان نے اپنے اولیائے نعمت کے
مشورہ سے علماء کی کردار کشی شروع کردی ۔ جائز ناجائز تنقید کے تیر برسائے جانے
لگے۔ باقائدہ کرایہ داروں سے ایک مہم شروع
کرئی گئی ۔ اگر چہ بعض مقامات پر بعض حوصلہ مند دیر اور شجاعت آشنا افراد ن ے
اصفہان ۔ تبریز اور مشہد وغیرہ میں اس کردار کشی کو روکنے کی کوشش کی لیکن عوامی
بیداری نے اس کو کوشش کو باآور نہ ہونے دیا۔علاوہ ازیں ذرائع ابلاغی بتما مھا رضا
خان کی جیب میں تھے اس لئے وہ اپنی مہم میں کامیاب ہوگیا اور علماء کو اس حد تک
بدنام کردیا گیا کہ عوام الناس علماء سے خوف کھانے لگے۔ نوبت بایں جارسید کہ اوّلا
تو کسی عالم کو بس میں ہمسوار ہی نہیں ہونے دیاجاتا تھا۔ اور اگر کہیں کوئی عالم
اپنے ذاتی اثر و رسوخ یا منت سماجت سے بس میں سوار ہوبھی جاتا۔ تو اگر سوئے اتفاق
سے راستہ میں کہیں بس کوکوئی حادثہ پیش
آجاتا ۔ تو اس حادثہ کی ساری ذمہ داری اس عالم پر ڈال دی جاتی۔ اساے منحوس کہا
جاتا۔ میرا اپنا چشم دید واقعہ ہے۔ کہیں سفر پر جا رہا تھا۔ بس میں صرف دو صاحب
عمامہ تھے۔ ایک میں تھا میرے سر پہ سید ہونے کی بدولت سیاہ عمامہ تھا۔ اور ایک اور
بزرگ منش غیر سید تھے جن کے سر پر سفید عمامہ تھا راستہ میں غیر متوقع طور پر بس
کا ڈیزل ختم
ہوگیا، ڈرائیور نے جونہی بس روکی اس کا پہلا حملہ تھا۔ از نحوست
این اخوند است . غیر سید بزرگ عالم دین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ۔ یہ ان مولانا کی نحوست
ہے اگر میرے سر پر بھی سادات کی علامت سیاہ عمامہ نہ ہوتا تو یقینا نحوست ور برابر
حصوں میں تقسیم ہو جا تی لیکن سادات سے ہونیکی بد دلت میری جانب انگلی نہ اٹھ سکی۔
یہ معمولی سا چشم دید واقعہ بطور مشتے نمونہ از خروارے پیش کیا گیا ہے ۔ اس سے اندازہ
لگایا جا سکتا ہے کہ جس معاشرہ میں عوام کی نگاہ میں مقام علماء اس حدتک گرا دیا جائے
اس معاشرہ میں میدان عمل ان عناصر کے ہاتھ رہ جاتا ہے جو دین نا آشنا ہوتے ہیں جس کا
منطقی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ علماء گوشہ نشین ہونے پر مجبور کر دیئے جاتےہیں۔ اور مادہ
پرست بازی گروں کے لیے میدان عمل کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔
مادہ پرستوں کے تسلط
ہی کا نتیجہ ہے جو آج ملت ایران کے سامنے ہے۔ تیرہ بختی کی گمبھیر سیاہ رات ہے جو ڈھلنے
کا نام نہیں لیتی ایرانی قومیت یورپی تمدن میں پانی کی طرح ملتی جارہی ہے ۔ ایرانی
ثقافت پر مغربی چھاپ لگ چکی ہے ۔ اور ایرانی تاریخ مسخ کی جارہی ہے ۔
یہ ہے نتیجہ مادہ پرستی کے غلبہ اور مراسم دینی سے دوری کا۔
رضاخان آنجھانی ہو گیا
خیال تھا کہ ملت ایرانی خواب خرگوش سے بیدار ہوکر اپنی متاع رفتہ کو حاصل کرنے کی کوشش
کرے گی لیکن میں سمجھتا ہوں ابھی ملت ایران کی آنکھیں خمار آلود ہیں۔ نیند کا نشہ ابھی
نہیں ٹوٹا ابھی تک بوجھل سر سے ایرانی قوم اپنے زخم چاٹنے میں مگن ہے ۔
جب ایرانی قوم نے رضاخان کے جانے کی فرصت سے فائدہ نہ اٹھایا
تو پھر وہی لوگ سامنے آگئے جو رضاخان کے زمانہ میں تھے۔ اور اب ان کی جرات پہلے سے
کہیں زیادہ بڑھی ہوئی ہے۔ رضاخان کے زمانہ میں انکاہدین تنقید علماء ہوتے تھے لیکن
اب براہ راست اسلام اور ارکان اسلام کو مطعون کیا جاتا ہے۔ اب قرآنی محکمات کو پائے
اغراض میں سےروندا جارہا ہے ۔ چونکہ یہ ایک الگ اور طویل موضوع ہے۔ اس لئے اب نجدی
اعتراضات کے جوابات لکھنے چلا ہوں تاکہ انکی در درغ باقی اور خیانت کاری کا حال ٹوٹ
سکے۔
Leave a Reply