anwarulnajaf.com

حج کا بیان ۔ مختصر تاریخِ کعبہ

 حج کا بیان

مختصر تاریخِ
کعبہ

تفسیر صافی میں
بروایت فقیہ و عیاشی حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ جب خداوند
کریم نے زمین کو خلق فرمانے کا ارادہ کیا تو ہواؤں کو پانی میں موج پیدا کرنے کا
حکم دیا، چنانچہ اس کی موجوں سے جھاگ پیدا ہوئی۔ پس وہ بیت اللہ کے مقام پر یکجا
ہوئی اور ایک جھاگ کا پہاڑ بن گیا۔ پھر خدا نے اس کے نیچے سے زمین کو بچھا دیا۔
بروایت فقیہ کعبہ کی زمین کا ٹکڑا تمام زمینوں سے پہلے پیدا کیا گیا اور اسی سے
باقی زمین کو بڑھایا گیا۔ (اقول: مکہ کو ام القریٰ کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی
ہے)

مجمع البیان
میں ہے کہ کعبہ کی زمین کا ٹکڑا باقی زمین سے دو ہزار سال قبل خلق ہوا اور یہ پانی
کے اوپر ایک سفید جھاگ کی مانند تھا اور بروایتِ کافی امام جعفر صادق علیہ السلام
سے منقول ہے کہ مقامِ کعبہ باقی زمین سے بلند تھا اور چاند و سورج کی طرح چمکتا
تھا۔ پس جب حضرت آدمؑ کو اتارا گیا اور اطراف کی تمام زمین کو بلند کرکے اس کو
دکھایا گیا اور ارشاد قدرت ہوا کہ یہ سب زمین تیری ملکیت ہے تو حضرت آدم نے عرض
کی: اے پروردگار! یہ سفید و چمک دار زمین کون سی ہے تو ارشاد ہوا کہ یہ میری زمین
میں میرا حرم ہے اور تیرے اوپر روز مرہ اس کے سات سو طواف واجب ہیں، پس جب ہابیل
کو قابیل نے قتل کیا تو اس سے وہ نورانیت ختم ہوگئی اور اس کی سفیدی کی جگہ سیاہی
نے لے لی اور نیز آپ سے مروی ہے کہ حضرت آدمؑ کے لئے خدا نے سفید موتی کی شکل میں
کعبہ کو جنت سے اتارا تھا۔ اس کے بعد اس کو اٹھا لیا گیا، چنانچہ اس کی بنیاد باقی
رہ گئی اور وہ اس کعبہ کی سیدھ میں ہے، جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے
ہیں۔ پس حضرت ابراہیم و اسمٰعیل کو انہی بنیادوں پر کعبہ کی تعمیر کا حکم ہوا۔

جب تعمیر کعبہ
کا حکم ہوا تو حضرت ابراہیمؑ حیران تھے کہ کس جگہ اس کی بنیاد رکھی جائے، پس بحکم
پروردگار ایک تیز ہوا چلی، جس نے اوپر سے مٹی کو اڑا کر ہر چہار طرف سے کعبہ کی
اصل بنیاد کو ظاہر کردیا۔ جس پر طوفانِ نوحؑ سے پہلے وہ بنا ہوا تھا اور بعض کہتے
ہیں کہ خدا نے ایک بادل کو بھیج دیا جو کعبہ کی اصل بنیاد کے سیدھ میں رُک گیا او
ربقدرت خداوندی اس نے کلام کیا کہ میرے برابر زمین پر کعبہ کی بنیاد رکھیے۔ پس
حضرت ابراہیمؑ نے اسی مقام پر تعمیر کعبہ کی۔ (انوار النجف، سورہ حج رکوع ۱۱)

اس وقت وہاں
صرف حضرت اسمٰعیل اور یمن کا ایک قبیلہ جرہم اطراف میں آباد تھا اور حضرت ابراہیمؑ
کی تعمیر کے بعد بنی جرہم اور عمالقہ نے یکے بعد دیگرے اس کی از سر نو تعمیر کی،
جب کعبہ کی تولیت حضرت رسالت مآب ﷺ کے جد اعلیٰ قصی بن کلاب کے سپرد ہوئی تو انہوں
نے گرا کر دوبارہ اس کی پختہ تعمیر کی اور عمدہ لکڑی سے اس کو مسقّف کیا اور اس کے
پہلو میں دارالندوہ تعمیر کر دیا، جس میں وہ مقدمات کے فیصلے کرتے تھے اور وہی ان
کا اسمبلی ہال بھی تھا اور قریش کے باقی قبیلوں پر جہات کعبہ کو تقسیم کردیا،
چنانچہ قریشیوں نے کعبہ کے اردگرد گھر بنوا لئے اور اس کے دروازے کعبہ کی طرف کئے۔
(میزان)

بعثت سے پانچ
برس پہلے جبکہ آپ کی عمر پینتیس برس کی تھی، کعبہ کا مکان سیل کی وجہ سے منہدم
ہوگیا، پس قریش قبائل نے اس کی تعمیر کے پروگرام کو آپس میں تقسیم کرکے کام شروع
کیا۔ کلینی سے بسند صحیح حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ قریش نے
خانہ کعبہ کی توسیع کا ارادہ کیا تو ایک زلزلۂ عظیم بپا ہوا اور تاریکی چھا گئی۔
چنانچہ انہوں نے وہ ارادہ ملتوی کردیا اور حضرت ابراہیم کی بنیادوں پر اس کی تعمیر
کی تجویز پاس کی۔ جب حجر اسود رکھنے کا وقت آیا تو قبائل قریش میں نزاع پیدا ہوئی
اور ہر شخص اس میں سبقت کا خواہاں تھا، پس تجویز یہ ہوئی کہ باب الشیبہ کی طرف سے
جو شخص پہلے اندر آئے، اسی کا فیصلہ سب کو مان لینا چاہیے تو سب سے پہلے حضرت
رسالت مآب ﷺ اس دروازہ سے داخل ہوئے، پس انہوں نے نزاع کی تفصیل آپ کے سامنے بیان
کی۔ آپ نے اپنی ردائے مبارک کو بچھا کر حجرِ اسود کو اس کے اوپر رکھا اور فرمایا
کہ قریش کے ہر قبیلہ کا ایک ایک آدمی اس کے کنارے سے پکڑ کر اٹھائے اور مقامِ معین
تک اس طریقہ سے اسے لے جایا جائے، پس وہاں پہنچ کر حضرت نے خود بنفسِ نفیس اس کو عبا
مبارک سے اتھا کر اپنے اصلی مقام پر رکھ دیا۔

اسی زمانہ میں
بادشاہ روم نے حبشہ میں ایک گرجا کی تعمیر کے لئے کافی لکڑی و دیگر عمارتی سامان
بذریعہ کشتی روانہ کیا تھا اور ہوا نے بقدرتِ خدا کشتی کو ساحل عرب کی طرف دھکیل
دیا اور یہاں کشتی قریبِ ساحل کیچڑ میں دھنس گئی، کشتی بانوں نے ہر چند کوشش کی،
لیکن بے سود۔ جب قریش کو اطلاع ہوئی تو ان کو چونکہ تعمیر کعبہ کے لئے لکڑی کی
ضرورت تھی، فوراً وہاں پہنچے اور وہ لکڑی خرید لائے اور کعبہ کی چھت مکمل ہوئی۔
(حیات القلوب)

اور بعض روایات
میں ہے کہ قریش نے مصارف کی کمی کی وجہ سے حجر اسود کی طرف سے کچھ حصہ چھوڑ کر
دیوارِ بیت اللہ اندر کی طرف کر دی اور حجرِ اسود کا حصہ بیت اللہ سے خارج رہ گیا،
چنانچہ علامہ کے تذکرہ سے بھی یہی روایت منقول ہے۔ (حاشیہ لمعہ) لیکن دوسری صحیح
روایات اس کی تائید نہیں کرتیں۔ بہرکیف طواف کے وقت حجر اسود کو داخلِ طواف کرنا
ضروری ہوا کرتا ہے کیونکہ عمل صاحبِ شریعت اسی طرح ثابت ہے۔

جب حجاز پر
عبداللہ بن زبیر کا تسلط ہوا اور حصین نے یزید کی طرف سے فوجی سپہ سالار کی حیثیت
سے مکہ پر چڑھائی کی تو کعبہ کو بھی منہدم کردیا اور اس کا غلاف اور کچھ لکڑی کا
سامان بھی جلا دیا گیا لیکن یزید کی موت کی خبر پہنچے پر جب یہ لشکر وہاں سے دفع
ہوا تو ابن زبیر نے کعبہ کو از سر نو تعمیر کرایا اور حجر اسود کو بیت اللہ کے
اندر داخل کیا اور اس کو پہلے کی نسبیت بلند بھی کردیا اور یہ تعمیر ۱۷ رجب ۶۴ ھ
کو ختم ہوئی۔ پھر جب عبدالملک بن مروان تخت نشین ہوا تو اس نے حجاج بن یوسف کو ابن
زبیر کی سرکوبی کے لئے مکہ روانہ کیا، چنانچہ ابن زبیر مارا گیا اور حجاج نے
عبدالملک کو کعبہ کی تعمیر میں ابن زبیر کی تجدید کی اطلاع بھیجی تو اس نے کعبہ کو
اپنی اصلی پہلی شکل پر لانے کا حکم نافذ کیا، پس حجاج نے شمالی طرف تقریباً چھ ذراع
کی مقدار گرا کر اندر کی طرف قریش کی بنیادوں پر کعبہ کی تعمیر کو مکمل کیا۔ پھر
سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں معمولی تغیرات اس میں رونما ہوتے رہے، یہاں تک کہ ۱۳۹ھ
میں سیل کی وجہ سے اس کی دیواریں پھر گر گئیں تو عثمانی حکومت کے چوتھے تاجدار شاہ
مراد نے اس کی ترمیم کی اور آج تک پھر اسی حالت پر باقی ہے۔


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *