شکارکا کفارہ :- مسئلہ : جس جانور کا شکار کرے گا اسی کی مشل جانور کفار میں دینا ہوگا۔
مسئلہ:- حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا حالت احترام میں اگر کسی قربانی کا وجوب عائد ہوجائے تو جہان چاہے ذبح کر سکتا ہے لیکن شکار کا فدیہ کعبہ میں ہی پہنچانا ہوگا۔ نیزآپ سے مروی ہے اگر احرام عمرہ میں ہوتو قربانی کعبہ کے سامنے ذبح ہےنحر کرے گا ۔اور اگر احرام حج میں ہو تو قربانی معنیٰ میں ذبح یا نحرکرےگا۔
مسئلہ:- شکاری کی مشل جانور اگر دستیاب نہ ہوتا ہو تو اس کی قیمت لگاکر اس کی گندم لی جائے گی اور دردو مدایک مسکین کودیئے جائیں گے اور اگر یہ نہ ہوسکے تو اس کے برابر پھر روزے واجب ہوں گے جس کی تفصیل یہ ہے۔
(1) اگر شتر مرغ کو مارا ہو تو ایک اونٹ نجرجرے اور اگر اونٹ سے عاجز ہو تو اس کی قیمت ( جو عادل کی مقرر کردہ ہو)کی گندم خرید کرے اور دردو مد ایک ایک مسکین کو دیتا جائے ۔یعنی کہ ساٹھ سیکنڈوں جو دے اگر گندم بچ جائے تو زیادہ جردینا ضروری نہیں اور اگر گندم کم یوتو ساٹھ کا پوراکرنا بھی ضروری نہیں اور اگر اس سے عاجز ہوتو ساٹھ روزے رکھتے اور یہ بھی نہ کر سکے تو اٹھارہ روزے رکھئے۔
(2) اگر شترمُرغ کا بچہ مارے تو صحیحہ ابان میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مردی ہے کہ اس کا کفار وہی ہے جو شترمُرزع کے مارنے کاہے اور دوسری روایت میں ہے کہ ہر بچہ کے بدلے میں اونٹ کا بچہ دے۔
(3) اگر گورخریانیل گائے وغیرہ کو قتل کرے تو اس کا کفارہ گائے کی قربانی ہے اگر یہ نہ کرسکے تو اس کی گندم سے گندم خرید کرکے تیس مسکینوں کو دو دومدفی مسکین تقسیم کرے اور عجزکی صورت میں تیس روزے رکھئے اور اگر اس سے بھی عاجز ہوتو صرف نوروزے رکھ دے۔
(4) ْاگر ہرن جو قتل جرے تو اس جا کفارہ ہے اگر عاجز ہو تو اس کی قیمت سے حب سابق دس مسکینوں پر گندم تقسیم کرے اور عجز کی صورت میں دس روزے رکھئے اور اگر اس سے بھی عاجز ہو تو روزے رکھئے۔
(5) اگر شترمرزع کے ایسے انڈے توڑدے جن میں بچہ حرکت کرچکا ہو تو ہر انڈے کے بدلے میں ایک جوان اونٹ قربان کرے۔
(6) اگر شترمرزع کے انڈے توڑے جن میں بچہ ابھی تک حرکت نہ کرنے لگا ہو تو انڈوں کی تعداد کے برابر اونٹ مادہ پر بٹھائے اور جس قدر اُن سے بچے پیدا ہوں وہ قربان کرے چنانچہ تہذیب سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے حالت احرام میں شترمرغ کے انڈےتوڑنے کا کفارہ دریافت کیا تو آپ نے فرمایا جاکر میرے فرزند حضرت حسن سے پوچھوچناچہ وہ بھی قریب ہی تشریف فرماتھے پس سائل نے اُس سے دریافت کیا توآپ نے فرمایا کہ ٹوٹےہوئے انڈوں کی مقدارمیں نر اونٹ مادہ پر بٹھاؤ اور جس قدر بچے پیدا ہوں وہ بیت اللہ کی قربانی ہوگے یہ سُن کر حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ اے فرزند ! یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔
حالانکہ بعض اوقات نر سے ملنے کے بعد اونٹنی حاطہ نہیں کرتی تو حضرت امام حسن نے عرض کی، اے بابا جان ! اگر بعض اوقات اونٹھنیاں نہیں ہوتیں تو اسی طرح بعض اوقات انڈے بھی توردی ہوا کرتے ہیں یہ سُن کر حضرت امیرعلیہ السلام ہنس پڑے اور بیٹے کو شاباش دے کر آیت قرآن تلاوت فرمائی ذُرّ یَّت بعضھا من بعض واللہ سمیع علیم ُ ۔ پس اگر شخص اس سے عاجز ہو تو انڈے کے بدلہ میں علی الترتیب ایک بکری یا دیں مسکینوں کو کھانا یا تین روزے رکھے۔
مسئلہ:- کفارہ مذکورہ میں روزے رکھے تو کیا ان کو پے رکھنا ضروری ہے یا نہیں تو اس میں اختلاف ہے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے ایک صحیح روایت میں منقول ہے کہ آپ سے قضائے ماہ رمضان کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایاان کو پے درپے رکھنا واجب نہیں ہے اور جو روزے پے درپے رکھنے واجب ہیں وہ صرف ظہار کا کفارہ قتل کا کفارہ اور قسم کا کفارہ ہے اس روایت کے حصر سے پتہ چلتا ہے کہ کفارہ صیداحرام کے روزوں میں پے درپے رکھنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اکثر علماء شملاشیخ مفید وسید مرتضیٰ وغیرہ اس کو واجب قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ کفارہ ہے اور کفارہ میں تتابع کا اعتبار ہوتا ہے بہرصورت احتیاط پے درپے رکھنے میں ہی ہے۔
مسئلہ:- تہذیب سے منقول ہے امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ غلطی سے شکارکو مارے تو کفارہ دے گا اگر دوبارہ یہی غلطی کرے گا تو دوبارہ کفارہ دے گا اسی طرح جتنی بار اس سے غلطی واقع ہوگی کفارہ دیتا رہے گا لیکن اگر جان بوجھ کر شکارکو ماردے تو صرف پہلی مرتبہ اس پر کفارہ واجب ہوگا لیکن اگر دوبارہ جان بوجھ کر ایسا کرے گا تو اس پر کفارہ نہیں ہوگا بلکہ اس کی سزا قیامت پر موقوف ہوگی اور خدا خود ہی اس سے انتقام لے گا.
Leave a Reply