خمس ارباح مکاسب
:
مسئلہ :- اصل جائیداد
پر خمس نہ ہوگا بلکہ اس کی آمدنی پر ہوگا جو اس کے ضروری اخراجات سے زائد ہو۔
مسئلہ : – اگر کوئی
شخص اپنی آمدنی میں سے ضروری مصارف کے علاوہ کوئی ایسی چیز خرید کرے جو اس کی
ضروریات سے زائد ہو تو اس پر خمس واجب ہوگا۔
مسئلہ : اولاد کی
کفالت والد کے ذمہ ہے لہٰذا اولاد کے جائز تعلیمی اخراجات خمس سے مستثنیٰ ہوں گے
لیکن ایسے اخراجات جو غیر ضروری ہوں یا ایسی تعلیم جو شرعاً ناجائز ہو مثلاً برطانیہ اور امریکہ یا دیگر
ممالک میں اپنی اولاد کو تعلیم غیر شرعی کے لئے بھیجے تو اس کے اخراجات سفر پر بھی
خمس واجب ہو گا اور وہاں قیام کی صورت میں خانگی متوسط اخراجات سے جس قدر زائد
مقدار اس کو دی جائے گی اس پر بھی خمس واجب ہو گا۔
مسئلہ: – بعض ایسی
چیزیں جو آج کل ضروریات زندگی میں سمجھی گئی ہیں اور جو شرعاً محل اشکال میں مثلاً
ریڈیو تو ایسے مصارف کو ضروریات زندگی میں قرار نہیں دیا جائے گا بلکہ اس پر خمس
واجب ہو گا ( ان کی قیمت پر) اسی طرح ہر ناجائز خرچ پر خمس عائد ہوگا۔
مسئلہ: – اگر موجدہ
آمدنی بڑھانے کے لئے زمین خریدی جائے یا تجارت میں پیسہ لگایا جائے یا کرایہ کے
وصول کرنے کے لئے مکانات یا دکانیں بنوائی جائیں یا ٹیوب ویل لگائے جائیں یا کسی صنعت
و حرفت کے کارخانہ میں شمولیت کی جائے یا کوئی بس ٹرک خریدا جائے یا باغ لگایا
جائے۔ و علیٰ ہذا القیاس تو ایسی چیزون کو مصارف ضروریہ میں نہیں سمجھا جائے گا۔
بلکہ اس رقم پر خمس واجب ہو گا جو اس قسم کے کاموں پر رقم خرچ کی جائے گی۔
مسئلہ : – اگر خانگی
و ذاتی طور پر اخراجات میں اضافہ ہو جائے مثلاً پہلے ایک مکان تھا لیکن اب افراد
خانہ کی کثرت کے پیش ِ نظر دوسرے مکان کی ضرورت لاحق ہو گئی یا پہلے کچا مکان تھا
اور اب اپنی پوزیشن کے مطابق پختہ مکان کی ضرورت ہو گئی۔ اسی طرح مہمان خانہ کی
تعمیر کرنے کی ضرورت یا ایک نوکر کی بجائے دو تین کی ضرورت یا گھوڑے کی سواری کی
بجائے، رفتار زمانہ کے پیش ِ نظر کار کی ضرورت اسی طرح لیمپ کی بجائے بجلی وغیرہ
کی ضرورت لاحق ہو گئی تو اس قسم کے اخراجات ضروریات ِ زندگی سمجھے جائیں گے اور
خمس سے مستثنیٰ ہو گے۔
مسئلہ :- اگر ایک شخص
دیہات کا باشندہ ہے اور یہاں کی اس کی جرورت کے مکان موجود ہیں لیکن اکثر اوقات
کاروبار لین دین کی خاطر اس کو بڑے شہر میں جانا پڑتا ہے اور یہاں اپنے ذاتی مکان
کے بغیر اسے دقت درپیش ہوتی ہے تو آمدنی سے رقم بچا کر اگر شہر میں حسبِ ضرورت
مکان تعمیر کر لے تو وہ خمس سے مستثنیٰ ہوگا۔
مسئلہ: – اگر ضرورت
کو پورا کرنے کے لئے ایک مکان موجود ہو اور خواہ مخواہ اپنی امیری شان دکھانے کے
لئے دورا بنائے تو زائد پر خُمس واجب ہوگا۔
مسئلہ : – اگر شان کے
مطابق اچھا خاصا مکان پاس موجود ہو لیکن نئے نمونہ کا مکان بنانے کا شوق دامن گیر
ہو جائے تو زائد خرچ پر خُمس واجب ہوگا۔
مسئلہ : – گھر میں
ضروریات ِ زندگی کے لئے جو سامان خرید کر رکھا ہے ۔ اس میں خُمس نہیں ہوگا لیکن جو
سامان زائد از ضرورت صرف کمروں کی زینت کے لئے ہوگا اس سب پر خمس واجب ہوگا۔
صندوقیں، برتن بسترے ، چارپائیاں، زیورات غرضیکہ گھریلو چھوٹے بڑے سامان پر خمس کے
وجوب کا یہی دستور ہوگا پس جو بھی زائد از ضرورت خرید کر کے رکھے اس پر خمس واجب
ہوگا۔
مسئلہ: – ہر طبقہ کی ضرورت اپنی حیثیت کے مطابق ہو گی
اگر اپنی حیثیت کے مطابق اس کے پاس سامان اپنے متوسط گزارہ کے لئے کافی ہے جو اس
کے شایان ِ شان بھی ہے۔ تو قیمتی سامان گھر میں لارکھتنا جو اونچے طبقے کے لوگوں
سے مناسبت رکھتا ہو مثلاً عام بستروں میں وہ زندگی بسر کر سکتا ہے اور وہ اس کے
خلاف ِ شان بھی نہیں تو دریں صورت ریشمی لحاف بنوا کر رکھنا اس کے مصرف سے زائد
ہوگا۔ لہٰذا اس پر خمس واجب ہوگا اسی تمام خانگی اخراجات میں اپنی حیثیت کے ماتحت
متوسط رفتار سے زائد مقدار پر خمس واجب ہوگا۔
مسئلہ : – خمس صرف ایک دفعہ ہی نکالنا واجب ہے جس چیز کا
ایک فعہ خمس ادا ہو جائے اس پر دوبارہ خُمس واجب نہ ہوگا۔
مسئلہ : – عام طور پر
مشہور ہے کہ جو شخص پہلی دفعہ خمس نکالنا چاہے و اپنے تمام مال و اسباب کا خمس ادا
کرے اور آئندہ کے لئے سالانہ بچت کا حساب
لگائے۔ حالانکہ اس پر کوئی شرعی دلیل نہیں ہے بلکہ خمس نکالنے والا اپنی ضروریات
کی تمام اشیاء کا خود جائزہ لے لے کہ اپنی امدنی میں سے کون کون سی چیزیں ضرورت کے
ماتحت خریدی ہوئی ہیں اور کون کون سی زائد از ضرورت ہیں۔ بس زائد از ضرورت کا خمس
نکال دے خواہ وہ زائد از ضرورت چیز از قسم مکانات ہو یا از قسم سامان خانگی ہو۔
مسئلہ: – اگر سمجھتا
ہو کہ میں کئی سالوں سے زیر بار خمس ہوں لیکن صحیح مقدار معلوم نہ ہو سکے تو
اندازہ کر کے خمس گزشتہ نکال دے اور کچھ زیادہ مقدار دینے کی کوشش کرے۔ تاکہ یقنی
طور پر بری الذمہ ہو سکے۔
مسئلہ: زائد از ضرورت
اشیاء اپنی خرید کر وہ ہوں تو اپنی طرف سے خمس ادا کر گا اگر باپ کے متروکات میں
سے ہوں تو ان کی طرف سے خمس ادا کرے گا بشرطیکہ وہ ادا نہ کر گئے ہوں اگر وہ مذہب
شیعہ نہ رکھتے ہوں تو ان کی خرید کر وہ اشیاء کا خمس ان پر واجب نہ ہوگا۔
مسئلہ: – اگر آمدنی
سے پیسہ بچا کر زمین خرید کی ہو تو اس کا خمس خود ادا کرے گا اور اگر باپ کی خرید
کردہ ہو اور وہ خمس ادا نہ کر گئے ہوں تو اس کا خمس اس کی طرف سے یہ ادا کرگا لیکن
وہ اگر شیعہ نہ ہوں تو اس پر ان کا خمس عائد نہ گا۔
مسئلہ: – خانگی
حیوانات کے متعلق بھی یہی دستور ہے کہ جن کے بغیر گذارہ اپنی متوسط حیثیت کے ماتحت
نہیں ہو سکتا ان پر خمس نہ ہوگا لیکن جن کو زائد از ضرورت گھر میں رکھا ہوا ہے ان
پر خمس واجب ہوگا۔
مسئلہ: – گھر میں اگر
ایک دودھ دینے والی گائے یا بھینس یا بکری مثلاً کافی ہوتی ہے لیکن بیک وقت دو
گائے رکھے ایک دودھ دینےوالی اور دوسری خشک تاکہ جب دودھ والی کی دودھ کی مدت ختم
ہو تو دوسری دودھ دینے کے قابل ہو جائے تو اس صورت میں وہ خشک گائے زائد از ضرورت
نہ ہوگی بس اس پر خمس واجب نہ ہوگا۔ اسی
طرح اگر دو گائے کی ضرورت ہو لیکن حسبِ سابق دو دودھ والی اور دو خشک رکھے تو وہ
چار گائیں خُمس سے مستثنیٰ ہوں گی۔ وعلیٰ ہذا القیاس
مسئلہ: – گائے، بھینس، بکری کے بچوں کے متعلق کہا جاتا
ہے کہ سال کے بعد ان پر خمس واجب ہے لیکن مجھے اس پر کوئی دلیل نہیں مل سکی۔
غالباً ان بچوں کو زائد از ضرورت یا بچت تصور کیا گیا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے
بلکہ یہ بچے عام مال دار لوگوں کے نزدیک آمدنی شمار ہوتے ہیں لہٰذا ان کی قیمت کو
جب بھی و ہ فروخت ہوں آمدنی میں شمار کیا جائے گا اور پھر خمس کا تعلق حسبِ قاعدہ
ہوگا اور تمام حیونات کے بچوں کی یہی صورت ہے۔
مسئلہ : – اگر دو یا
چار بیل حل جوتنے یا کنواں چلانے یا دیگر
ضروریات کی پیش نظر رکھے جائیں تو ان پر خمس نہیں ہوگا لیکن اگر زائد از ضرورت صرف
مال بڑھانے کے لئے خرید کیلئے جائیں یا یہ کہ ان کو موٹا کر کے بیچا جائے گا تو
اصل زر خرید پر خمس ہوگا اور زائد منفعت آمدنی میں شمار ہوگی۔ اونٹ، گھوڑا، گدھا
اور خچر وغیرہ کا وجوب اسی طریقہ پر ہوگا ( بہر کیف بچت مال پر خمس کا وجوب ہوگا)
مسئلہ:- زمیں میں زائد از ضرورت درخت ذریعہ آمدنی ہوا
کرتے ہیں ان کی فروخت زر آمدنی شمار ہوگی اور پھر حسب ِ قاعدہ اس پر خمس واجب
ہوگا۔
مسئلہ : اسی طرح
درختوں کے پودے جات جو بطور ذخیرہ لگائے جائیں ان کو بچت نہیں کہا جا سکتا بلکہ
ذریعہ آمدنی ہوتے ہیں۔
مسئلہ: – ہر قسم کی
آمدنی میں سے اخراجات ضروریہ متوسط طور پر حسب ِ حیثیت نکال لینے کے بعد خمس واجب
ہوا کرتا ہے۔
مسئلہ : – عورت کو جو
چیز حق مہر میں حاصل ہو یا اپنے میکے کی طرف سے بطور عطیہ کے پہنچے اس پر خُمس
واجب نہ ہوگا لیکن اس کی منفعت پر خمس واجب ہوگا اور عورت کے مصارف چونکہ مرد کے
ذمہ ہوتے ہیں لہٰذا عورت کی تمام منفعت پر خمس ہوگا۔
مسئلہ : – اگر مرد کی
آمدنی خانگی اخراجات کی کفالت کے لئے ناکافی ہو تو عورت کے منافع سے اس کمی کو
پورا کیا جا سکتا ہے۔ بشرطیکہ عورت رضا مند ہو۔ لہٰذا مصرف سے جو کچھ زائد ہوگا اس
پر خمس واجب ہوگا۔
مسئلہ: – عورت کی
گھریلو صنعت اگر مرد کی امداد کے لئے خانگی اخراجات پُورے کرنے کے لئے ہوں تو اس
پر خمس نہ گا اور زائد پر خمس ہوگا۔
مسئلہ: – عورت کو اگر
جائیداد وغیرہ وراثت میں پہنچے تو اس کی پوری آمدنی پر خُمس واجب ہوگا اسی طرح اگر
عورت اپنی کفیل خود ہو تو خمس بچت اور زائد از ضرورت اشیاء پر ہوگا۔
مسئلہ: – عورت کو جو
چیزیں جہیز میں دی جاتی ہیں خواہ از قسم پارچات و زیورات ہوں یا دیگر اشیاء ہوں
اگرچہ زائد از ضرورت ہوں۔ ان پر خمس واجب نہیں ہوگا۔
مسئلہ : – اسی طرح
مرد کو بموقعہ شادی دی جانے والی چیزوں پر بھی خمس واجب نہیں ہوگا۔
مسئلہ: – جو کپڑے گھر
میں صرف عید و شادی کی تقریبات کے لئے مخصوص طور پر بنائے جاتے ہیں وہ بھی ظاہراً
داخل ِ مصرف ہیں لہٰذا ان پر بھی خمس واجب نہیں ہوگا۔
مسئلہ : – لوگ گھروں
میں لڑکیوں کے لئے جو جہیز تیار کرتے ہیں اس تمام پر خمس واجب ہوگا صرف وہ سامان
خمس سے مستثنیٰ ہوگا جو شادی کے موقع پر حسبِ حیثیت متوسط طریقے سے لڑکی کو دیا
جائے۔
مسئلہ: – اگر رہائشی
مکان کے لئے تھوڑا تھوڑا سامان چند سالوں میں پُورا کرے جبکہ اکٹھا خرید کرنے کی
استطاعت نہ ہو اور مکان کی ضرورت مند بھی ہو تو دریں صورت اس کے علی الترتیب حسبِ
حیثیت خرید کر وہ سامان پر خمس واجب نہ ہوگا۔
مسئلہ :- ضروریات ِ
زندگی حسبِ حیثیت مصارف میں داخل ہیں۔ بنا بریں مستحبات و مباحات کے لئے تھوڑی
تھوڑی بچت پر خمس واجب ہوگا۔ پس اگر زیارت کے قصد سے تھوڑا تھوڑا پیسہ جمع کرتا
رہے تو سابقہ آمدنی کی جملہ بچتوں پر خمس واجب ہوگا۔ سوائے اس بچت کے جس کے بعد وہ
فوراً عازم سفر زیارت ہو جائے۔
مسئلہ : – اپنے مصارف
کے علاوہ جو مال نقد یا غیر نقد کسی کے پاس امانت رکھے خواہ کسی فرد کے پاس رکھے
یا بنک میں رکھے دونوں صورتوں میں اس پر خمس واجب ہوگا۔
مسئلہ: – بنک سے جو
منافع حاصل ہوں گے اصل زر کے علاوہ ان پر بھی خُمس واجب ہوگا۔
مسئلہ: – وراثت، عطیہ
، ہبہ، ہدیہ اور حق مہر وغیرہ پر خمس واجب نہیں ہوا کرتا۔
مسئلہ: – ہبہ ، ہدیہ
وغیرہ سے اگر خانگی ضروری اخراجات پورے ہوجائیں تو پھر باقی آمدنی سے مقدار
اخراجات نہ نکالی جائے گی بلکہ سب پر خمس واجب ہوگا اسی طرح اگر اس سے نصف یا
چوتھائی وغیرہ مصارف کا بوجھ ہلکا ہو جائے تو باقی آمدنی سے اس کے علاوہ صرف باقی
ماندہ مصارف نکال کر خمس نکالا جائے گا۔ پس قاعدہ یہ ہے کہ جس مال پر خمس واجب
نہیں یا واجب تھا اور اس سے خمس ادا کیا جا چکا ہے تو مصارف ضروریہ کی جو مقدار اس
سے پوری ہوگی وہ واجب الخمس مال سے محسوب نہ ہوگی۔
مسئلہ: – غیر مخمس
رقم سے خرید کردہ ہر چیز سے خمس ادا کرنا واجب ہوگا خواہ زائد از ضرورت ہو یا نہ
ہو۔
Leave a Reply