رجعت کا بیان

 رجعت
کا بیان 

 اُدْخُلُوْا
فِی السِّلْمِ: تفسیر برہان میں آئمہ اہل بیت ؑ کی طرف سے متعدد روایات منقول ہیں
جو غالباً حدِّ تواتر تک پہنچتی ہیں کہ سِلْمِ سے مراد اس آیت میں حضرت علی ؑ
اوران کی اولادِ طاہرین ؑ کی وِلاکا اقرار ہے اورخطواتِ شیطان سے مراد دشمنانِ اہل
بیت ؑ کی وِلا ہے (یہ تفسیر باطنی اعتبار سے ہے) 

ھَلْ یَنْظُرُوْنَ: تفسیر آئمہ اہل بیت ؑ میں ہے
کہ یہ آیت رجعت کے متعلق ہے چنانچہ ایک روایت میں حضرت جعفر صادقؑ ارشاد فرماتے
ہیں کہ یوم وقت معلوم میں ابلیس اپنے تمام مریدوں کو جمع کرے گا اوراس کے مقابلہ
میں حضرت امیر المومنین ؑ اپنے شیعوں میں تشریف لائیں گے ان دونوں لشکروں کی
ملاقات فرات کے کنارے کوفہ کے قریب مقام روحا پر ہوگی اورسخت ترین لڑائی واقع ہوگی
پس اس وقت خداکا امر بادلوں کے ٹکڑوں میں نمودار ہوگا ملائکہ عذاب اتریں گے
اورجناب رسالتمآب تشریف لائیں گے کہ ان کے ہاتھ مبارک میں ایک نورانی حربہ ہوگا جب
ابلیس یہ چیزیں ملاحظہ کرے گا تو فرار کرنے کی کوشش کرے گا اس کے پیروکار اس سے
بھاگنے کی وجہ پوچھیں گے توجواب میں کہے گا کہ مجھے وہ چیز نظر آرہی ہے جس کو تم
نہیں دیکھ رہے ہو، پس جناب رسالتمآب اس کو پیچھے سے دونوں کندھوں کے درمیان نیزہ
ماریں گے اوروہ واصل جہنم ہوگا اس کے بعد ایک طویل مدت تک حضرت علی ؑ حکومت کریں
گے جو چونتالیس ہزارسال ہوگی( الخبر)


سَلْ بَنِیٓ اِسْرَآئِیْلَ کَمْ اٰتَیْنٰھُمْ
مِّنْ اٰیَةٍم بَیِّنَةٍ وَمَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰہِ مِنْم بَعْدِ مَا
جَآئَتْہُ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(211) زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوا
الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَیَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاوقف لازم
وَالَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ
یَّشَآئُ بِغَیرِحِسَابٍ (212) کَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةًقف فَبَعَثَ
اللّٰہُ النَّبِیّنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ وَاَنْزَلَ مَعَھُمُ الْکِتٰبَ
بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ وَمَا
اخْتَلَفَ فِیْہِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْہُ مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَ تْھُمُ
الْبِیِّنٰتُ بَغْیًام بَیْنَھُمْ فَھَدَی اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا
اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِہ وَاللّٰہُ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ
اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (213)

ترجمہ:

 

دریافت کیجئے بنی اسرائیل سے کہ کس قدر دی ہیں ہم
نے ان کونشانیاں واضح اورجوشخص تبدیل کرے اللہ کی نعمت کو بعد اس کے کہ اس کے پاس
آجائے تو پس تحقیق اللہ سخت عذاب والاہے
o
زینت دی گئی کافروں کے لئے زندگانی دنیا اوروہ لوگ مسخری کرتے ہیں ان سے جو ایمان
لائے اوروہ لوگ جو متقی ہیں ان سے بلند مرتبہ ہوں گے بروزمحشر اورخدارزق دیتا ہے
جسے چاہے بغیر حساب کے
o
لوگ ایک جماعت تھے پس بھیجا خدانے نبیوں کو جوبشارت دینے والے اورڈرانے والے تھے
اوراتاری ان کے ساتھ کتاب ساتھ حق کے تاکہ حکم کرے لوگوں میں اس چیز کے متعلق جس
میں ان کواختلاف تھا اوراس میں نہیں اختلاف کیا مگر ان لوگوں نے جن کو وہ دی گئی
بعد اس کے کہ آئیں ان کے پاس واضح دلیلیں سرکشی کرتے ہوئے اپنے درمیان پس ہدایت
فرمائی اللہ نے ایمان والوں کی اس چیز جس میں ان کو اختلاف تھا حق سے ساتھ اپنے
اذن کے اورخدا ہدایت فرماتاہے جسے چاہے طرف راہِ راست کے
o

 

Similar Posts

  • مصلحت ِجہاد

    مصلحت ِجہاد  یہاں تک پہنچنے کے بعد یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکے گی کہ ایک طرف تو انسان کاقتل گناہِ عظیم ہے اوردوسری طرف خداکی طرف سے جہاد کا حکم وجوبی حیثیت رکھتا ہے جس میں انسانی موت کوفراوانی دی جاتی ہے تو مثال گزشتہ اس سوال کو حل کرنے کےلئے کافی ہے…

  • تفسیر رکوع 10 — ربط آیات

    تفسیر رکوع 10 ربط آیات اصول اسلام بیان کرنے کے بعد خداوند کریم نے یہ فروعی مسائل بیان فرمائے اورعمل کرنے والوں کے لئے وعدہ جنت اورنافرمانی کرنے والوں کے لئے وعید جہنم کاذ کرکیا اوربیان فرمایا کہ لوگوںکی تین قسمیں ہیں:  (1) مومن جو دنیا وآخرت کی بھلائی چاہتے ہوئے نیک اعمال بجالاتے ہیں …

  • تتمہ تمام اورکمال میں فرق

    تتمہ تمام اورکمال میں فرق   تمامیت: کسی مرکب کے بعض اجزاشروع ہو جانے کے بعد اس کے آخری جز تک انضمام کانام ہے۔ کمال: تمامیت کے بعد ایک وصف کے ساتھ اس کامتصف ہو نا جس پر اس شئے کے آثار کا ترتب موقوف ہو مثلاًانسان کے تمام اجزاکاپورے طور پر موجود ہونا یہ اس…

  • وجوہِ اختلاف و انتشار

    وجوہِ اختلاف و انتشار  نیز انسان میں اسی شعور وادراک کے آثار ونتائج میں مختلف قوتیں موجود ہیں جو باہمی طور پر بر سر پیکار بھی رہتی ہیں جذبات خود پسندیخود غرضی اور نفس کوشی کا مقتضا یہ ہے کہ ان کمالات میں کوئی دوسرا شریک نہ ہو اور انصاف وعدل کے تقاضے اپنی اپنی…

  • حکم جہاد

    حکم جہاد وَقَاتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ إِنَّ اللّهَ لاَ يُحِبِّ الْمُعْتَدِينَ {البقرة/190}وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلاَ تُقَاتِلُوهُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ فَإِن قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ كَذَلِكَ جَزَاء الْكَافِرِينَ {البقرة/191} اور لڑو اللہ کی راہ  میں  ان لوگوں سے  جو تم سے لڑیں  اور…

  • حقیقت انسان

    انسان کیا ہے؟  مادّہ وطبیعت کے پر ستار سادہ لوح طبائع انسانیہ کو موﺅ ف بلکہ مضمحل کرتے اوران کو لادینیت کے اُلجھاﺅ میں ڈالنے کے لئے کئی ایک بے تکیاں کستے ہیں اورمنجملہ ان کی خرافات کے ایک یہ بھی ہے کہ انسان کی ابتدابندر سے ہوئی یعنی انسان پہلے بندر تھا اورمرورِ زمانہ…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *