اشتراکیت اور سرمایہ داری |ishtarakiyat aur sarmayadari | communism and capitalism
انسان کے مدنی الطبع ہونے
کے پیش نظر اجتماعی زندگی کے اصول کی
تشکیل میں نظریات ہمیشہ سے متصادم رہے ہیں اور ہر دور کے عقلاءانسانی تمدن
میں اصلاح و فلاح کے لیے قوانین مرتب کر
کے اجتماعی نظام کی بھالئی کا اعلان کرتے چلے آئے ہیں لیکن روز اوال سے قیامت تک
کے لیے اسلام نے اجماعی زندگی کا جو نظام پیش کیا ہے وہ تمام عقلائی تدابیر اور
امکانی مصالح پر حاوی ہے
جب انسان کے لیے اختلاف و
انتشار کی وادی میں پڑنا جذب ودفع کے فطری تقاضوں کے ماتحت ایک ناگیزر امر تھا تو
ازراہ لطف خدا نے رسولوں کو شرعیت و کتاب دے کر بھیجا جو ان کے لیے ضابطہ زندگی
اور شاہراہ امن و سکون ہو لیکن اکثریتی طبقہ ہمیشہ رسولوں اور اسلام کے اصولوں سے
بر سر پیکار رہے
کیونکہ اسلام میں جذبات و خواہشات کو کھلی چھٹی نہیں دی جاتی بلکہ جذبات کو رام کر کے انہیں عقل و خرد کے
زیر پا رکھنے کی تلقین ہوتی ہے تو طاقت
ورا ور سربرآوردہ ہو شیار لوگ اس کے مخالف ہو گئے اور انہوں نے
جذباتی نعروں سے عوام کو مسحور کر کے انبیا
کی تعلیمات کے سامنے ایک بہت بڑی کفر و انکار کی دیوار کھڑی کر کر دی اب بڑے بڑوں
کی خواہشات اور عیش پر ستیوں کا دروازہ کھلا ہو گیا اور عوام میں بغاوت کی روح
بیدار ہونے لگی پس انہوں نے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور ان کی آوازوں
کو بانے کے لیے مل جل کر اپنی عیاشیوں و آوارہ گیوں کی بقاءو حفاظت کے لیے قوانین
وضع کر لیے جنہیں تحفظ عامہ کے
قوانین کا نام دیا گیا حالانکہ اس خوش نما
لیبل کے اندر سب کچھ وہی ہو تا ہے جو بر سر اقتدار طبقہ کی منشا ہو اور قانونی
مواخذہ بڑوں کی شہوات رانیوں ہوس پرستیوں اور بے راہ رویوں کی حفاظت کی خاطر اور
نچلے طبقہ کی نحیف آواز کو بناے اور انہیں پوری طرح کچلنے کے لیے عمل میں لایا
جاتا ہے
اس کی حسی اور واضح مثال یوں
سمجھئے جس طرح ایک قاضلہ کسی منزل کی طرف
کسی مقصدکے ماتحت روانہ ہو زادراہ لوازم
سفر حیثیت کے موافق ہر فرد کے پاس موجودں
پس اثنائے را ہ میں ان کے درمیان اختلافات رونما ہو جانے سے باہمی ہتک عزت ماڑدھاڑ
لوٹ گھسوٹ اور قتل و غارت تک نوبت پہچ جائے اور ان روح فرساحالات سے متاثر ہو کر
ان کے ارباب حل و عقد اکھٹے ہو کر امن و سلامتی کی بحالی کی لئے کوئی لائحہ عمل
تشکیل دینا چاہیں تو اس میں جذبات و خواہشات کے ماتحت جو فیصلہ ہو گا وہ دو نظریوں پر منقسم ہو گا
ایک نظریہ یہ ہو گا کہ
سارے قافلہ میں اختلاف و انتشار کی جڑ کو کاٹ دیا جائے وہ اس طرح کہ منفعت کی شئی سے ھق ملکیت اور حق انفرادیت کو
اڑا جائے اور قانون یہ ہو کہ ہر استعمال کی
شیءکو استعمال کرنے کا حق ہر ایک کو حاصل ہے پس نہ شخصی ملکیت ہو اور
نہ انفرادی تخصیص ہو اور اس کے نتیجے میں
نہ جھگڑا رہے نہ فساد سفر کا وقت امن و اطمینان سے گذر جائے گا اور بعد میں ان
چیزوں کی ضرورت ہی نہ رہے گی اور اس کا
نام ہے
اشتراکیت
غالباً اس آواز کے لیے اس طبقہ
کو آلہ کار بنایا جائے گا جو اسباب زندگی میں مفلوک الحلا ہوں اور ان کی سانس
دوسروں کے رحم و کرم پر ہو پس ان کی تان ملکیت پر ہی ٹوٹے گی تاکہ تخصیصات ختم
ہونے کے بعد ہمیں ضروریات زندگی میں سے
شاید کچھ حصہ ملتا ہو لیکن اس نتیجہ کی خبر نہیں کہ اگر ان کی یہ رائے پاس ہو بھی جائے تو جو اس نظریئے کے
قوانین بنیں گے ان میں کس کی خواہشات و جذبات کا احترام ہو گا اور قانون بناے والے
کون ہوں گے اور پھر قانون کا محافظ و مروج کا نسا طبقہ ہو گا ظاہر ہے کہ یہ مفلوک
الحال عوام طبقہ اس نظریہ پر عمل در آمد ہونے کے بعد اور زیادہ ظلم کے شکنجہ میں جکڑ دیا جائے گا اور
اب تو اسے تشدد کی چکی بڑی آسانی سے پیس
سکے گی اور ان کی آواز کو دبنا اب بڑا سہل ہو گا کیونکہ اس قانون کے مقنن سربراہ
اور محافظ یقینا بڑے طبقہ کےہی لوگ ہوں گے جن کے پاس عوام کی رائے کو ہموار کرنے
کے طرق موجود ہوں لہذا اب ان کی دھاندلی پہلے سے کہیں زیادہ ہوگی پس قانون کا
ہتھوڑہ صرف نچکے طبقہ کا پھوڑنے کے لیے ہی استمال ہو گادوسرا نظریہ یہ ہو گا کہ
ملکیت باقی رہے اور اختصاص بھی باقی رہے
لیکن قانون اس انداز سے ہو کہ بڑوں کی برائی بھی محفوظ رہے اور چھوڑا طبقہ
بھی پر امن ہوا و ر کسی کو کسی پرتشدد
کرنے کاموقعہ نہ دیا جائے اور نہ کوئی دوسر ے کی مملوک چیز کی طرف نظر اٹھا
سکے اورا سی کا نام ہے
سرمایہ دارانہ نظام
یہ آواز یقینا اس طبقہ سے اٹھے
گی جو جائز و ناجائز طور پر اسباب زندگی اور اس کی ہر ممکن سہولتیں اپنے پاس رکھتے
ہوں اور عیش و عشرت صر ف اپنا ہی حق سمجھتے ہوں اور عوام کو حیوانوں کی طرح اپنا
مستقل غلام رکھنے کی فکر میں ہوں کہ نہ وہ ترقی کرکے آگے بڑھ سکیں اور نہ ہماری
غلامی سے سرتابی کر سکیں پس وہ قانون کے ذریعے سےاپنا الو سیدھا کرنے کی فکر میں ہوں گے اگر یہ لوگ کامیاب
ہوجائیں تو عوام کے لئے ظلم و تشدد کے آہنی شکنجوں سے بچنا مشکل ہوتاہے کیونکہ
اولا تو قانون بنانے والے وہی ہوتے ہیں جو عوام کو حیوانی زندگی میں دیکھنا چاہتے
ہیں ثانیا قانون کے محافظ بھی انہی میں سے ہوتے ہیں پس عوام کا جو حشر ہوتاہے وہ
ہر ایک کی آنکھون دیکھا ہے۔
وجہ اشتباہ
یہ دونونظرئیے صرف دنیا وی لمحات
تک محدود زندگی کی راہیں ہموار کرنے کے لئے ہیں اس کے بعد نہ کسی دوسری زندگی کا
تصور ہوتاہے اور نہ اس کی رعایت و ہ پاسداری کا لحاظ اور اسی نا عاقبت اندیشی
نےانسان کے عدل و انصاف اور عقل و خرد کی آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے ورنہ اگر
یہ یقین ہو کہ اس فانی دنیا کے بعد ہمیں ایک لافانی منزل تک پہنچتا ہے اور یہ چند
روزہ زندگی منز ل سفر ہے نہ کہ مقصود راہ تو یقینا انسان کی غیر فطری چالیں اور
انسانیت سوز حرکتیں بہت جلد ختم ہو کر رہ
جائیں گی اور امن واقعی انسانیت کو پھیلنے اور پھلنے کا اچھا خوشگوار موقعہ دے نہ
انسانیت کا دامن بہمیت و درندگی کے بد نما دھبوں سے و اغدار ہو اور نہ امن و سکون
کی راہ میں کوئی روڑہ اٹک سکے اور یہ
پیغام سوائے دین فطرت یعنی اسلام کے اور کون لا سکتاہے بالفرض ہردو نظرئیے خلوص سے
ہی معرض وجو دمیں آئے ہوں لیکن میں یقین سے کہتا ہوں کہ حرص و ہوس جذبات شہویہ
اور ہیجانات نفسیہ کسی ضابطہ عدل یا قانون انصاف کو جور و اعتساب اور ظلم و
استبداد کی ناخوشگوار فضا سے ہر گز نکلنے کی اجازت دیں گے اور یہ یاد رکھئیے کہ
کمزور طبقہ کو کچلا جا سکتاہے لیکن ان کی محبت و خیر خواہی زور سے حاصل نہیں کی
جاسکتی اور قانونی شکنجہ یا اقتدار کا ڈنڈان کی آواز اورداد باطنی کی فریاد کو
دبا سکتاہے لیکن ان کی درد بھری آہ کو ختم نہیں کرسکتا اور یہی حالات کبھی بڑے
بڑے انقلابات کا پیش بن جایا کرتے ہیں اور یہ خاموش آہیں اور ہلکی ہلکی فریادیں
ایک نہ ایک دن اکٹھی ہو کر طوفانی دھما کہ بن کر نمودار ہو سکتی ہیں بہر کیف
انسانیت سے بہت پیچھے ہٹ کر حیوانی ماحول اور ان کی طرز زندگی کو معمول بنا کر
اشتراکیت کا جھنڈا بلند کیا جائے یا سرمایہ دارانہ نظام کواپنا لیاجائے یاان دونو کے علاوہ کسی اور جمہوری
یااستبدادی طریقہ پرانسانیت دیانت و شرافت کو باریک پیسنے والی مشین تیار کی جائے
تمدنی قوانین کا نقطہ نظر اور محطط فکر عوام کے خون کے گارے سے انہی کی لاشوں
کےاوپر اقتدار کے ذریعے عیش و عشرت اور آوارگی کا محل تیار کر نا ہوتاہے اور اسی
بنا پررائے عامہ کو ہموار کیا جاتاہے اورقانون چونکہ بڑوں کے جذبات کےاحترام کی
خاطر بنتاہے پس اس کا لازمی نتیجہ سامنے ہے کہ وہ نت نئے جنم لیا کرتاہے اور ہر
روز نیا روپ دھار لینے کا عادی بن جاتاہے پس قانون سازی کی مشین ہر روز اس کے نئے
پرزے تیار کر نے میں مصروف رہتی ہے ایسی صورت میں انسانیت کو سکون کا سانس کیوں
نصیب ہو جب کہ ضروریات زندگی میں سے ہر اچھی چیز ہر سہولت اور اچھے مشروبات نفیس
کھانے آرام دہ سواریاں اور قیمتی سامان سب انہی کے لئے ہوں اور لوازم زندگی میں
سے ردی و ناقص اشیا عوام کے لئے مخصوص رہیں ایسے حالات قطعا جذبات میں سکون نہیں
لا سکتے بلکہ انسانی دماغ اس قسم کے تشدد و ظلم سے آزادی کی راہیں ڈھونڈنا اپنا
فرض سمجھتاہے اور امیر و غریب سلطان و گدا کے درمیان یہ امتیاز ان دونو طبقوں میں
الفت و انس قطعا پیدا نہیں ہونے دیتا یہی وجہ ہے کہ بر سراقتدار طبقہ عوام کےسامنے
آنےسے کتراتا ہے اور عوام کو ان پر اعتماد نہیں ہوتا پس ظاہری تشدد سے حاصل کردہ
امن اندرونی لاوہ کرختم نہیں کرسکتا جوایک نہ ایک دن پھٹ کر خشک و تر کے لئے تباہی
کاباعث بن جایا کرتا ہے

Leave a Reply