anwarulnajaf.com

سورة الأعلى (87) — al-A`la — The Most High

سورة الأعلى (87)
al-A`la  —  The Most High  —  الأَعۡلٰی
بِسْمِ اللّهِ
الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ
الْأَعْلَى (1) الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى (2) وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى (3)
وَالَّذِي أَخْرَجَ الْمَرْعَى (4) فَجَعَلَهُ غُثَاء أَحْوَى (5) سَنُقْرِؤُكَ
فَلَا تَنسَى (6) إِلَّا مَا شَاء اللَّهُ إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَمَا
يَخْفَى (7) وَنُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرَى (8) فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ الذِّكْرَى (9)
سَيَذَّكَّرُ مَن يَخْشَى (10) وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى (11) الَّذِي يَصْلَى
النَّارَ الْكُبْرَى (12) ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَى (13) قَدْ
أَفْلَحَ مَن تَزَكَّى (14) وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى (15)بَلْ تُؤْثِرُونَ
الْحَيَاةَ الدُّنْيَا (16) وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى (17) إِنَّ هَذَا لَفِي
الصُّحُفِ الْأُولَى (18) صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى (19)
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے (شروع کرتا ہے )
اپنے بلند رب کے نام کی تسبیح کر (1) جس نے پیدا کیا اور
درست بنایا (2) اور جس نے مقدر کیا پس ہدایت(3) اور جس نے گھاس کو (زمین سے) نکالا
(4) پھر اس کو سیاہی مائل  تنکوں میں بدل
دیا (5) ہم تجھے پڑھائیں گے کہ تمہیں نسیان نہ ہو گا (6) مگر وہ جو اللہ چاہے
تحقیق وہ ظاہر و مخفی کو جانتا ہے (7) اور ہم آسانی پیدا کر دیں گے تیرے لئے (8)
جنت کے لئے پس نصحیحت کرو اگر نصیحت فائدہ مند ہو (9) عنقریب وہ نصیحت لے گا جس کو
ڈر گا (10) اور اس سے بدبخت آدمی گریز کرے گا (11) جو بڑی آگ میں جلے گا (12)  پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ زندہ ہو گا (13)
تحقیق کامیاب ہوا وہ جس نے زکوۃ دی (14) اور اپنے رب کا نام یاد کیا اور نماز پڑھی
(15) بلکہ تم لوگ زندگی دنیا کو ترجیح دیتے ہو (16) حالانکہ آخترت بہتر اور باقی
رہنے والی ہے (17) تحقیق یہ پہلے صحفیوں میں بھی ہے (18) ابراہیم اور موسٰی کے
صحیفوں میں (19)
سورہ
الاعلٰی
·      
یہ سورہ مکیہ ہے۔
·      
اور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کو ملا
کر اس کی آیات کی تعداد بیس (20) ہے۔
·      
حدیث نبوی میں ہے جو شخص اس سورہ کو
پڑھے گا حضرت محمدؐ مصطفٰی حضرت ابراہیمؑ اور حضرت موسیٰؑ پر اترنے والی کتب کے
تمام حروف سے دس گنا زیادہ نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں درج ہوں گی۔
·      
حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے
منقول ہے کہ حضرت رسالتمابؐ اس سورہ کو بہت دوست رکھتے تھے اور ابن عباس سے مروی
ہے کہ آپ جب بھی سبح اسم ربک الاعلی پڑھتے تھے فوراً کہتے تھے سبحان ربی الاعلٰی۔
·      
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے
فرمایا جو شخص اس سورہ کو فریضہ یا نافلہ میں پڑھے گا قیامت کے دن اس کو حکم ہو گا
کہ جنت کے جس دروازہ سے چاہے داخل ہو جا اور منقول ہے کہ حضرت امیر المومنین علیہ
عموماً اس سورہ کو فریضہ نماز میں پڑھا کرتے تھے ۔
·      
اور مروی ہے کہ جب فسبح باسم ربک
العظیم اتری تو رسالتمابؐ نے فرمایا یہ تسبیح نماز کے رکوع میں پڑھا کرو اور جب
سبح اسم ربک الاعلی  اتری تو آپ نے اس کو
سجدہ میں پڑھنے کا حکم دیدیا۔
·      
خواص القرآن سے منقول ہے حضورؐ نے
فرمایا درد کرنے والے کان پر اس سورہ کا پڑھنا درد کو ختم کرتا ہے اور بواسیر پر
اگر پڑھی جائے تو بواسیر سے آرام ہو گا اور بواسیر کے لئے اس کا تعویذ لکھ کر اپنے
پاس رکھنا مفید ہے اسی طرح گردن کے درد کے لئے 
اس کو پڑھ کر د کرنے سے دردکو آرام ہو گا۔ نیز ہر متورم حصہ پر اس کو پڑھنا
فائدہ مند ہے۔ (برہان)
رکوع نمبر 12 ۔ سبح
اسم ربک ۔ تسبیح کا معنی تنزیہ ہے یعنی اپنے پروردگار کی ان تمام چیزوں سے تنزیہ
بیان کرو جو اس کی ذات  کو زیبا نہیں ہیں
اور اسم کی تنزیہ سے مراد مسمی کی تنزیہ ہے اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام
سے مروی ہے ۔ آپ نے فرمایا جب یہ آیت پڑھو تو بعد میں کہا کرو سبحان ربی الاعلی ۔
فسوی ۔ یعنی پیدا کیا
اور درست پیدا کیا یا یہ کہ سیدھی قامت والا پیدا کیا اور حیوانوں کی طرح نہیں
بنایا۔
قدر فھدی ۔ یعنی اس
نے اپنی تقدیر و مشیت کے ماتحت پیدا کیا اور اس کے بعد ہر ذی حیات کے لئے اسباب
رزق مقرر کئے اور ہر ایک کو اس کی تلاش کی ہدایت بخشی ۔ چنانچہ بچوں کو ماں کا
پستان جوس کر غذا حاصل کرنا بتایا اور پرندوں کے بچوں کو اپنے ماں باپ کے منہ سے
غذا حاصل کرنے کی ہدایت فرمائی و علی ہذا القیاس اس طرح ہر جنس کے جوڑے کو تعلقات
جنسیہ کے قائم کرنے کی ہدایت بخشی تا کہ نسلوں کی بقا سے زمین کی آبادی قائم رہے
اور یہ سب اس کی حسن تدبیر کے نتائج ہیں ۔
غثاء احویٰ : یعنی
حیوانوں کی خوراک کے لئے اس نے گھاس اگایا جو خشک ہو کر تنکوں میں تبدیل ہو جایا
کرتا ہے ۔
فلا تنسیٰ ۔ اللہ نے
اس آیت میں حضرت پیغمبر سے وعدہ کیا ہے آپ کو نسیان طاری نہ ہو گا اور ساتھ اپنی
مشیت کا استثناء کر دیا یعنی آپ کو نسیان نہ ہو گا  مگر اللہ کی انساء پر قدرت ہے اگر چاہے تو
انساء کر سکتا ہے  اور علمائے امامیہ کے
نزدیک حضرت رسالتمابؐ کا سہو و نسیان باطل ہے کیونکہ اگر آپ کو نسیان لاحق ہو تو
مسائل شرعیہ اور تبلیغ احکام الٰہیہ میں بھی نسیان کا احتمال باقی ہو گا لہذا ان
کی کسی بات پر اعتماد نہ ہو سکے گا بلکہ شک رہے گا کہ شاید آپ کو نسیان ہوا ہو اور
عصمت کا تقاضا بھی یہی  ہے کہ آپ کو نسیان
نہ ہو کیونکہ نسیان کی صورت میں خطاء اور غلط کا امکان پیدا ہو جاتا ہے اور وہ
منافی عصمت ہے ۔
من تزکٰی ۔ اس جگہ
زکوۃ سے مراد فطرہ ہے اور بعد میں صلواۃ سے مراد نماز عید ہے  لیکن اس پر اعتراض  وارد ہوتا ہے کہ یہ سورہ مکیہ ہے اور نماز عید
اور زکوۃ فطرہ کا وجوب مدینہ میں نازل ہوا تو علامہ طبرسی نے اس کا جواب  یہ دیا ہے کہ یہ ہو سکتا ہے کہ ابتدائی  آیات مکہ میں اتری ہوں اور اسکی تکمیل مدینہ
میں ہوئی ہو اور بعض مفسرین  نے کہا ہے کہ
تزکیہ سے مراد شرک و کفر سے پاک ہونا ہے ۔
ذکرااسم ربہ: یعنی
اللہ کا ذکر کر کے صلواۃ میں داخل ہو پس اس ذکر سے بعض مفسرین نے تکبیرۃالاحرام
مراد لی ہے اور ممکن ہے یہ مراد ہو کہ حالت نماز میں خشوع و خضوع قائم رہنا چاہیے
اور اللہ کی یاد دل میں ہونی چاہیے ۔
فی الصحف الاولٰی :
یعنی  نماز پڑھنے والے اور زکواۃ ادا کرنے
والے کتب سابقہ میں ممدوح ہیں۔
صحف ابراہیم: یہودیوں
کا خیال تھا کہ حضرت موسیٰ سے پہلے کوئی کتاب اللہ نے نہیں بھیجی لیکن اس آیت
مجیدہ  میں اس خیال  کی تردید کی گئی ہے  حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ میں حضرت رسول اکرمؐ
سے دریافت کیا کہ کل نبی کتنے مبعوث ہوئے تو آپ نے فرمایا اللہ نے ایک لاکھ چوبیس
ہزار انبیاء بھیجے  پھر میں نے عرض کی کہ
ان میں سے رسول کتنے تھے تو آپ نے فرمیا کہ تین سو تیرہ رسولؐ تھے اور باقی صرف
انبیاء تھے میں نے عرض کی کہ کیا حضرت آدمؑ بھی نبی تھے تو آپ نے فرمایا ہاں اس کے
بعد آپ نے فرمایا اے ابوذر ! چار نبی عرب تھے ہود، صالح، شعیب اور میں پھر ابوذر
کہتا ہے میں نے دریافت کیا اللہ نے کل کس قدر کتابیں نازل فرمائیں تو آپ نے جواب
دیا  کہ اللہ نے ایک سو چار (104) کتابیں
اور صحیفے نازل فرمائے  حضرت آدم ؑ پر دس
صحیفے حضرت شیث پر پچاس صحیفے اور حضرت اخنوخ (ادریس)  پر تیس صحیفے اور یہ پہلا شخص ہے جس نے لکھنا
ایجاد کیا اور حضرت ابراہیم پر دس صحیفے نازل ہوئے (یہ کل ایک سو صحیفہ ہے) اور
چار کتابیں ہیں تورات، انجیل ، زبور اور قرآن اور مروی ہے کہ حضرت ابراہیم  علیہ السلام 
کے صحیفے میں درج تھا۔ عقلمند انسان کو چاہیے کہ اپنی زبان پر کنٹرول رکھے
، اپنے زمانہ سے باخبر ہو اور اپنے فرائض کی بجآوری میں مگن رہے  اور مروی ہے کہ  خدا کی جانب سے اترنے  والی کتابیں 
سب کی سب ماہ مبارک رمضان میں نازل ہوئیں (مجمع)
تفسیر برہان میں یہ
رویات مفصل ہے کہ ابوذر نے حضورؐ سے متعدد سوال کئے اور آپ نے ان کے جوابات مرحمت
فرمائے ،
ابوذر نے پوچھا، تحیہ
مسجد کیا چیز ہے ، آپ نے فرمایا اچھا موضوع ہے کوئی تھوڑی پڑھے یا بہت پڑھے۔
کونسا عمل افضل ہے ؟    فرمایا اللہ پر ایمان رکھان اور جہاد کرنا
رات کا کونسا حصہ
افضل ہے؟ فرمایا پچھلی رات کا حصہ
صدقہ کونسا افضل ہے ؟
  فرمایا کم از کم جس قدر دے سکے مستحق کو
پوشیدہ کر کے دیدے
روزہ کیا ہے؟ فرمایا ایسا فرض ہے جس کا اجر اللہ کے نزدیک بہت
زیادہ ہے۔
کونسا غلام آزاد کرنا
افضل ہے ؟        فرمایا جس کی قیمت زیادہ
ہو اور اہل خانہ کو عزیز تر ہو۔
کونسا جہاد افضل ہے؟   فرمایا جس میں اس کو سواری بھی کام آجائے اور
اس کا خون بھی گرایا جائے۔
آپ پر سب سے عظیم تر
آیت کونسی اتری ہے ؟ فرمایا آیۃ الکرسی اس کے بعد آپ نے فرمایا اے ابوذر تمام
آسمان کرسی کے اندر اس طرح ہیں جس طرح ایک وسیع جنگل میں ہاتھ کا چھلا پڑا ہو اور
عرش کی کرسی سے وہی نسبت ہے ؟ جو باقی آسمانوں کو کرسی سے ہے؟
اس روایت میں ہے کہ
صحف ابراہیم  میں یہ بات بھی ہے کہ عقلمند
انسان کو وقت تقسیم کرنا چاہیے ایک گھنٹہ اس کا للہ کی عبادت کے لئے ضروری ہے ایک
گھنٹہ اللہ کی نعمات و مصنوعات میں غور و فکر کرے اور ایک گھنٹہ وہ اللہ کی حلال
کردہ نعمات سے لذت اندوز ہو اور اس کا یہ گھنٹہ جو ہے وہ سابق پروگرام کا بھی
معاون ثابت ہو گا۔
عقلمند آدمی کو تین
چیزوں کی طلب چاہیے ، معاش کی اصلاح ، قیامت کے لئے زاد راہ اور حلال سے لذت اندوز
ہونا اور صحف موسٰی علیہ میں عبرتیں موجود ہیں تعجب ہے انسان کےلئے جس کو موت کا
یقین بھی ہو اور پھر وہ خوش رہے اور تعجبت ہے انسان پر جس کو حساب کا یقین ہو اور
ہنسے تعجب ہے  اس انسان پر جو دنیا کی بے
وفائی  اور اس کے انقلابات دیکھتا ہو اور
پھر بھی اسی پر مطمئن رہے آگے چل کر منقول ہے کہ ابوذر نے عرض کی حضور مجھے نصیحت
فرمائیے تو آپ نے فرمایا تقوٰی اختیار کرو یہ سب سے بہتر ہے ابوذر نے عرض کی کچھ
اور تو فرمایا بہت ہنسنا چھوڑ دو کیونکہ اس سے دل مردہ ہوتا ہے ابوذر نے کہا کچھ
اور تو آپ نے فرمایا مساکین سے محبت کیا کرو اور ان کی صحبت اختیار کرو ابوذر نے
کہا کچھ اور تو آپ نے فرمایا حق بات کہو اگرچہ تلخ ہو ابوذر نے عرض کی کچھ اور تو
آپ نے فرمایا حق بات کہو اور اللہ کے معاملہ میں کسی کی ملامت سے خوف نہ کرو ۔الحدیث


اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے ( شروع کرتا ہوں)
آسمان اور طارق کی قسم (1) تمہیں کیا خبر کہ طارق کیا ہے
(2)وہ بلند و روشن ستارہ ہے (3) تحقیق ہر نفس کے اوپر نگہبان موجود ہے (4)
سورہ الطارق
یہ سورہ مکیہ ہے۔
اس کی آیات بسم اللہ الرحمن الرحیم کو ملا کر اٹھارہ (18)
ہیں۔
حدیث نبوی میں ہے 
جو شخص  سورہ الطارق کی تلاوت کرے
گا ستار گان سما سے دس (10) گنا نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں درج ہوں گی
اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے جو شخص
نماز فریضہ میں اس سورہ  کو پڑھے بروز
قیامت اللہ کے نزدیک اس کی منزل بلند ہو گی اور انبیاء کا ساتھ اس کو نصیب ہو گا۔
خواص القرآن سے مروی ہے 
حضرت رسالتمابؐ نے فرمایا اگر اس سورہ کو کسی پاک برتن میں لکھا جائے اور
پانی سے دھو دیا جائے تو اس پانی سے جس زخم کو دھو دیا جائے گا وہ زخم خراب نہ ہو
گا اور اگر کسی دوسری شیئ پر اس کو پڑھا جائے تو وہ محفوظ ہو گی اور اس کا مالک اس
سے مامون ہو گا۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ اس کے پانی
سے زخم دھویا جائے تو درست ہو جائے گا اور اس میں پیپ پیدا نہ ہو گی اور اگر کسی
دوائی پر اس کو پڑھ کر پیا جائے تو اس میں شفا ہو گی (برہان)
رکوع نمبر 11
والطارق۔ طرق کا معنی ہے کھٹکھٹانا اور کوٹنا اس لئے لوہے
کے ہتھوڑے کو مطرقہ کہا جاتا ہے اور دروازہ کھٹکھٹانے والے کو طارق کہتے ہیں اور
اسی مناسبت سے ہر رات کے آنے والے مہمان کو بھی طارق کہا جاتا ہے کیونکہ یہ کنڈی
کھٹکٹھاتا ہے اور اسی مناسبت سے رات کے وقت طلوع کرنے والے ستارے کو بھی طارق کہا
گیا ہے ۔
الثاقب ۔ اس کا معنی روشن بھی ہے اور اس کا معنی نہایت بلند
بھی کیا جاتا ہے اور اس جگہ دونوں صحیح ہیں۔
ان کل نفس۔ اگر لما کو تشدید سے پڑھا جائے تو یہ الا کے
معنی میں ہو گا اور ان نافیہ ہو گا اور جملہ جواب قسم ہوگا اور اگر لما کو تشدید
کے بغیر پڑھا جائے تو ان ان کا مخفف ہو گا اور لما کا لام اس بات کی نشانی ہے کہ
ان مخففہ ہے نافیہ نہیں ہے اور لام کے بعد ما اس طرح جس طرح فبما رحمۃ میں باء
جارہ کے بعد ما واقع ہے اور اس صورت میں معنی وہی ہے جو تحت اللفظ ذکر کیا گیا ہے
اور لما کو تشدید کے ساتھ پڑھنے کی صورت میں معنی یہ ہو گا کہ کوئی نفس نہیں مگر
یہ کہ اس کے اوپر حافظ موجود ہے یعنی ایسا فرشتہ جو اس کے اعمال اور افعال کو نوٹ
کر تا ہے ۔
فلینظر الانسان ۔ اس جگہ انسان سے مراد کافر ہے یعنی وہ
انسان جو مرنے کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرتا ہے اس کو چاہیے کہ اپنی پیدائش میں
غور کرے کہ ٹپکنے والے پانی سے اس کو کس طرح پیدا کیا گیا ہے پس جو خدا شکم مادر
میں اس کی تدریجی ارتقاء کی منازل سے گذار کر پانی انسان بنا سکتا ہے وہی خدا اس
کو مرنے کے بعد دوبارہ پلٹانے پر بھی قادر ہے۔
الصلب الترائب۔ بعض کہتے ہیں کہ مرد کی منی صلب سے عورت کی
منی ترائب سے نکلتی ہے اور ترائب تربیۃ کی جمع ہے۔ سینے سے اوپر ہنسلی کی ہڈیوں کو
ترائب کہا جاتا ہے ۔
السرائر اللہ اور بندے کے درمیان جو فرائض پوشیدہ ہیں اور
راز کی حیثیت رکھتے ہیں حضرت پیغمبر سے منقول ہے وہ چار ہیں نماز ، روزہ،
زکوٰۃ  اور غسل جنابت کیونکہ دوسرے آدمیوں
کو پتہ نہیں چل سکتا کہ اس نے نماز پڑھی ہے اور یا  نہیں اسی طرح روزہ رکھا ہے یا نہیں اور غسل کیا
ہے یا نہیں صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ اس نےفرائض ادا کئے ہیں یا نہ؟ پس قیامت وہ دن
ہے جس دن انسان کے مخفی فرائض کا اختیار کیا جائے گا اور منظر عام پر ان کو لایا
جائے گا۔
فمالہ من قوۃ : یعنی اس دن بد کردار لوگوں کے پاس اللہ کے
عذاب سے بچانے والی نہ کوئی طاقت ہو گی اور نہ کوئی اس کا مدد گار ہو گا
ذات الرجع ۔ الرجع کا معنی رجوع سے ہے اور آب کثیر کو الرجع
کہا جاتا ہے جس کو ہوا کے تپھیڑے متحرک کریں۔
ذات الصدع ۔ صدع کا معنی شگاف ہے اور زمین کو پیدا ہونے
والی انگوریاں شگاف کرکے باہر نکلتی ہیں۔
انہ القول۔ یہ جواب قسم ہے کہ مجھے آسمان و زمین کی قسم
قیامت کا وعدہ فیصلہ شدہ ہے  اور پکی بات
ہے کہ کفار کو اس دن عذاب بھگتنا پڑے گا اور یہ مسخری اور ہنسی کی بات نہیں ہے اس
کے بعد حضورؐ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ان کفار کو بے شک مہلت دیدیں میں قیامت کے
روز ان کی سر کیشیوں کی ان کو سزا دے دوں گا۔ آپ کو مزید غمزدہ ہونے کی ضرورت نہیں
ہے اور اس خطاب میں تمام مبلغین امت اور ہادیان دین کو تسلی  دی گئی ہے کہ تبلیغ کے راستہ میں پیش آنے والے
مصائب کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا جائے اور کفار و منکرین کی ایذا رسانیوں سے
گبھراہٹ نہیں کرنی چاہیے قیامت کے دن جو نتیجہ نکلے گا وہ اس کے لئے مژدہ جانفزا
ہو گا۔

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *