surah qariah read online sura al qaari’ah pdf al qaari’ah sharif arabic english urdu
سورة القارعة (101) — al-Qari`ah —The Terrible Calamity — القَارِعَۃِ
بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
الْقَارِعَةُ (1) مَا الْقَارِعَةُ (2) وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْقَارِعَةُ (3)
يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ (4) وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ
الْمَنفُوشِ (5) فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ (6) فَهُوَ فِي
عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ (7) وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ (8) فَأُمُّهُ
هَاوِيَةٌ (9) وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ (10) نَارٌ حَامِيَةٌ (11)
يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ (4) وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ
الْمَنفُوشِ (5) فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ (6) فَهُوَ فِي
عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ (7) وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ (8) فَأُمُّهُ
هَاوِيَةٌ (9) وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ (10) نَارٌ حَامِيَةٌ (11)
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے (شروع کرتا ہوں )
قارعہ (قیامت) (1) قارعہ کیا ہے (2) تمہیں کیا معلوم قارعہ
کیا ہے (3) جس دن لوگ پھیلے ہوئے پتنگوں کی طرح معلوم ہوں گے (4) اور پہاڑ دھنی
ہوئی کپاس کی طرح طرح ریزہ ریزہ نظرآ ئیں گے (5) پس جس کا میزان عمل بھاری ہو گا
(6) تو وہ خوش حال زندگی میں ہو گا (7) اور لیکن جس کا میزان عمل ہلکا ہو گا (8)
تو اس کی ماں (ٹھکانا) جہنم میں ہو گا (9) تجھے کیا خبر کہ وہ کیا ہے ؟ (10)
بھڑکتی ہوئی آگ ہے (11)
کیا ہے (3) جس دن لوگ پھیلے ہوئے پتنگوں کی طرح معلوم ہوں گے (4) اور پہاڑ دھنی
ہوئی کپاس کی طرح طرح ریزہ ریزہ نظرآ ئیں گے (5) پس جس کا میزان عمل بھاری ہو گا
(6) تو وہ خوش حال زندگی میں ہو گا (7) اور لیکن جس کا میزان عمل ہلکا ہو گا (8)
تو اس کی ماں (ٹھکانا) جہنم میں ہو گا (9) تجھے کیا خبر کہ وہ کیا ہے ؟ (10)
بھڑکتی ہوئی آگ ہے (11)
سورہ القارعہ
·
یہ سورہ مکیہ ہے
یہ سورہ مکیہ ہے
·
اس کی آیات کی تعداد
بسم اللہ کو ملا کر بارہ بنتی ہے ۔
اس کی آیات کی تعداد
بسم اللہ کو ملا کر بارہ بنتی ہے ۔
·
حضرت محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے جو شخص سورہ القارعہ کو ہر روز پڑھے اور زیادہ پڑھے تو خدا اس
کو فتنہ دجال سے محفوظ رکھے گا اور روز قیامت جہنم کی گرمی سے بھی اس کو بجائے گا
۔
حضرت محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے جو شخص سورہ القارعہ کو ہر روز پڑھے اور زیادہ پڑھے تو خدا اس
کو فتنہ دجال سے محفوظ رکھے گا اور روز قیامت جہنم کی گرمی سے بھی اس کو بجائے گا
۔
·
حدیث نبوی میں ہے کہ
شخص سورہ القارعہ کو پڑھے بروز محشر اس کا میزان وزنی ہو گا۔
حدیث نبوی میں ہے کہ
شخص سورہ القارعہ کو پڑھے بروز محشر اس کا میزان وزنی ہو گا۔
·
اگر کاروباری تنگدست
آدمی اس کو لکھ کر اپنے پاس رکھے تو خدا وند کریم اس پر رزق کے دروازے کھول دے
گا۔
اگر کاروباری تنگدست
آدمی اس کو لکھ کر اپنے پاس رکھے تو خدا وند کریم اس پر رزق کے دروازے کھول دے
گا۔
·
اور سعت رزق کے لئے
اسکا زیادہ پڑھنا نہایت مفید ہے اور اگر اس سورہ کو نوافل یا فرائض میں پڑھا جائے
تو خدا وند کریم اس کے رزق میں زیادتی فرمائے گا اور اس کی بدحالی خوشحال سے بدل
جائے گا ۔
اور سعت رزق کے لئے
اسکا زیادہ پڑھنا نہایت مفید ہے اور اگر اس سورہ کو نوافل یا فرائض میں پڑھا جائے
تو خدا وند کریم اس کے رزق میں زیادتی فرمائے گا اور اس کی بدحالی خوشحال سے بدل
جائے گا ۔
·
مصباح کفعمی سے منقول
ہے کہ اس سورہ کو طشت پر لکھا جائے اور عرق گلاب سے دھو کر اس کے پانی کو اس کے
مکان میں چھڑکا جائے جہاں حشرات الاض زیادہ ہوں تو باذن پروردگار حشرات الارض وہاں
سے نکل جائیں ۔ (فوائد)
مصباح کفعمی سے منقول
ہے کہ اس سورہ کو طشت پر لکھا جائے اور عرق گلاب سے دھو کر اس کے پانی کو اس کے
مکان میں چھڑکا جائے جہاں حشرات الاض زیادہ ہوں تو باذن پروردگار حشرات الارض وہاں
سے نکل جائیں ۔ (فوائد)
رکوع
نمبر 26۔ الفراش المبثوث ۔ دوسری جگہ الجراد المنتشر سے تعبیر کیا گیا ہے
یعنی اس دن کے ہول سے انسان پھیلی ہوئی ٹڈی یا مکڑی یا پتنگوں کی طرح نظر آئے گا
کہ عالم مدہوشی و بدحواسی میں اسے یہ نہ معلوم ہو سکے گا کہ میری منزل کس طرف ہے
۔
نمبر 26۔ الفراش المبثوث ۔ دوسری جگہ الجراد المنتشر سے تعبیر کیا گیا ہے
یعنی اس دن کے ہول سے انسان پھیلی ہوئی ٹڈی یا مکڑی یا پتنگوں کی طرح نظر آئے گا
کہ عالم مدہوشی و بدحواسی میں اسے یہ نہ معلوم ہو سکے گا کہ میری منزل کس طرف ہے
۔
فامہ
ھاویہ ۔ یعنی اس کا مسکن و ماوٰ جہنم ہوگا جس طرح بچے کےلئے ماں جائے سکون ہوا
کرتی ہے تفسیر برہان میں مروی ہے کہ ایک مرتبہ عیسی علیہ السلام دوران سفر میں ایک
اجڑی ہوئی بستی سے گذرے اور ادھر ادھر پھیلے ہوئے مردوں کو دیکھ کر فرمایا یہ لوگ
گرفتار عذاب ہو کر اس جہنم میں ڈال دیئے گئے جس کا نام ہاویہ ہے جہاں آگ کے سمندر
بھی ہیں اور آگ کے پہاڑ بھی ہیں آپ نے فرمایا اس کی وجہ کیا ہے؟ تو اس نے جواب دیا
دنیا کی محبت اور طواغیت کی اطاعت نے ہمارا یہ انجام کر دیا ہم دنیا کے اس طرح سے
محب تھے جس طرح بچہ ماں سے محبت کرتا ہے کہ آجائے تو خوش ہو تا ہےاور چلی جائے تو
روتا ہے اور خدا کے بجائے اپنے بڑے بڑوں (طواغیت) کی عبادت و اطاعت ہمارا دین ہے
میری باقی قول کو جہنم کی لگائی لگی ہیں کہ وہ بول نہیں سکتے اور میرا عذاب ان سے
کم ہے کیونکہ میں ان کے ساتھ شریک نہیں تھا لیکن ان کو روکتا بھی نہیں تھا پس ایک
بال سے جہنم میں لٹکا ہوا ہوں اور اس ڈر میں ہوں کہ کب اس میں گرایا جاؤں گا ۔ پس
حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا کہ جو کی خشک روٹی کھا کر مزبلہ پر سو جانا ۔
جبکہ دین میں سلاتی ہو اس شکم پری سے بہتر جس میں دین نہ ہو۔
ھاویہ ۔ یعنی اس کا مسکن و ماوٰ جہنم ہوگا جس طرح بچے کےلئے ماں جائے سکون ہوا
کرتی ہے تفسیر برہان میں مروی ہے کہ ایک مرتبہ عیسی علیہ السلام دوران سفر میں ایک
اجڑی ہوئی بستی سے گذرے اور ادھر ادھر پھیلے ہوئے مردوں کو دیکھ کر فرمایا یہ لوگ
گرفتار عذاب ہو کر اس جہنم میں ڈال دیئے گئے جس کا نام ہاویہ ہے جہاں آگ کے سمندر
بھی ہیں اور آگ کے پہاڑ بھی ہیں آپ نے فرمایا اس کی وجہ کیا ہے؟ تو اس نے جواب دیا
دنیا کی محبت اور طواغیت کی اطاعت نے ہمارا یہ انجام کر دیا ہم دنیا کے اس طرح سے
محب تھے جس طرح بچہ ماں سے محبت کرتا ہے کہ آجائے تو خوش ہو تا ہےاور چلی جائے تو
روتا ہے اور خدا کے بجائے اپنے بڑے بڑوں (طواغیت) کی عبادت و اطاعت ہمارا دین ہے
میری باقی قول کو جہنم کی لگائی لگی ہیں کہ وہ بول نہیں سکتے اور میرا عذاب ان سے
کم ہے کیونکہ میں ان کے ساتھ شریک نہیں تھا لیکن ان کو روکتا بھی نہیں تھا پس ایک
بال سے جہنم میں لٹکا ہوا ہوں اور اس ڈر میں ہوں کہ کب اس میں گرایا جاؤں گا ۔ پس
حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا کہ جو کی خشک روٹی کھا کر مزبلہ پر سو جانا ۔
جبکہ دین میں سلاتی ہو اس شکم پری سے بہتر جس میں دین نہ ہو۔
Normal
0
false
false
false
EN-US
X-NONE
AR-SA
/* Style Definitions */
table.MsoNormalTable
{mso-style-name:”Table Normal”;
mso-tstyle-rowband-size:0;
mso-tstyle-colband-size:0;
mso-style-noshow:yes;
mso-style-priority:99;
mso-style-parent:””;
mso-padding-alt:0in 5.4pt 0in 5.4pt;
mso-para-margin:0in;
mso-para-margin-bottom:.0001pt;
mso-pagination:widow-orphan;
font-size:10.0pt;
font-family:”Times New Roman”,”serif”;}

.jpg)
Leave a Reply