حجرِ اسود
مروی ہے کہ یہ
جوہر تھا جو خدا نے حضرت آدمؑ کے ساتھ زمین پر اتارا تھا۔ اس کو بنی آدم کے عہد و
پیمان ودیعت کئے گئے ہیں۔ بروزِ محشر ان لوگوں کے حق میں بزبان فصیح گواہی دے گا،
جنہوں نے اس کی زیارت کی اور اپنے عہد کی وفا کی اور اس کی گویائی روایات میں حضرت
سجاد علیہ السلام کی امامت کی گواہی کے موقعہ پر بھی ثابت ہے جبکہ حضرت محمد بن
حنفیہ کے ساتھ نزاع ہوئی تھی اور اس کا واضح اور غیر مبہم اعجازی پہلو یہ بھی ہے
کہ کبھی غیر معصوم اس کو اپنی جگہ پر نصب نہ کرسکے (صافی)
حطیم
یہ وہ مقام ہے
جہاں حضرت آدمؑ کی توبہ مقبول ہوئی تھی اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے
مروی ہے کہ اگر کر سکو کہ نمازیں خواہ واجب ہوں، خواہ سنتی، اسی مقام حطیم میں ادا
کرو تو ہر گز اس سے گریز نہ کرو، کیونکہ تمام زمین سے یہ بقعہ اشرف و افضل ہے اور
اس کے اور حجرِ اسود کے پاس نماز پڑھنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ ابو حمزہ ثمالی سے
مروی ہے کہ حضرت امام علی زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا کہ بتاؤ زمین کے
ٹکڑوں میں سے کونسا ٹکڑا افضل ہے، ہم نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول ﷺ اور اولادِ
رسول اس کو بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ رکن اور مقام کی درمیانی جگہ، پس اگر
کوئی شخص حضرت نوحؑ کی سی عمر پائے اور زندگی بھر اس مقام پر دن کو روزہ سے اور
رات کو عبادتِ خدا میں مصروف رہ کر ہماری ولایت کے بغیر دربارِ خداوندی میں پیش ہو
تو اس کو اپنے اعمال ذرہ بھر فائدہ نہ دیں گے۔
اسی طرح آیاتِ
بیّنات میں سے زمزم ہے، جس کا پانی شفا ہے۔ اس مقام پر اہلی جانور وحشی درندوں سے
نہیں ڈرتے، اس کا طواف کبھی ختم نہیں ہوا، کوئی پرندہ بیت اللہ کی چھت سے نہیں گزر
دسکتا، اس کے جانور انسانوں سے خوف نہیں کھاتے، ہر سال سنگریزے مارنے کے باوجود جب
دوسرے سال اس مقام کو دیکھا جائے تو وہ زمین پہلے کی طرح ہوتی ہے۔ ورنہ قاعدہ کے
مطابق تو اسے ایک پہاڑ ہوجانا چاہیے تھا اور انہی آیات میں سے قصہ اصحابِ فیل بھی
ہے، جن کو ابابیل نے تباہ و برباد کردیا تھا اور صافی میں بروایتِ کتبِ معتبرہ
امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ خدا نے ہر نوع سے کسی ایک کو انتخاب
فرمایا ہے اور زمینوں میں سے اس نے کعبہ کی زمین کو منتخب فرمایا ہے۔
Leave a Reply