anwarulnajaf.com

سورة البلد (90) — al-Balad — The City — البَلَدِ

سورة البلد
(90)  —  al-Balad  —  The City  —  البَلَدِ
بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ (1) وَأَنتَ حِلٌّ بِهَذَا
الْبَلَدِ (2) وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَ (3) لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي
كَبَدٍ (4) أَيَحْسَبُ أَن لَّن يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌ (5) يَقُولُ أَهْلَكْتُ مَالًا
لُّبَدًا (6) أَيَحْسَبُ أَن لَّمْ يَرَهُ أَحَدٌ (7) أَلَمْ نَجْعَل لَّهُ
عَيْنَيْنِ (8) وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ (9) وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ (10)
فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ (11) وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ (12) فَكُّ
رَقَبَةٍ (13) أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ (14) يَتِيمًا ذَا
مَقْرَبَةٍ (15) أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ (16) ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ
آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ (17) أُوْلَئِكَ
أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ (18) وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا هُمْ أَصْحَابُ
الْمَشْأَمَةِ (19) عَلَيْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ (20)
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے (شروع کرتا ہوں)
میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی (1) حالانکہ تو قیام پذیر ہے
اس شہر میں (2) اور والد کی قسم اور اس کی اولاد کی قسم (3) تحقیق ہم نے انسان کو
سختی میں پیدا کیا (4) کیا وہ سمجھتا ہے کہ اس پر کوئی بھی قادر نہ ہو گا؟ (5)
کہتا ہے کہ میں نے کافی مال خرچ کر دیا ہے (6) کیا وہ سمجھتا ہے کہ اس کو کسی نے
نہیں دیکھا؟ (7) کیا ہم نے نہیں بنائیں اس کی دو آنکھیں (8) اور زبان اور دو ہونٹ
(9) اور اس کو دوواضح راستوں کی ہدایت کی (10) پس اس نے نہیں عبور کیا (11) مشکل
راستہ کو اور تجھے کیا خبر کہ مشکل راستہ کیا ہے ؟ (12) گردن آزاد کرنا (13) یا
بھوک کے دن کھانا کھلانا (14) قرابت دار یتیم کو (15) یا مفلس کسین کو (16) پھر
(ان صفات کے علاوہ) وہ ہو ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور ایک دوسرے کو صبر اور
رحم کی وصیت کریں (17) ایسے لوگ وہ ہوں گے جن کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں ہوگا
(18) اور جو لوگ کافر ہیں ہماری آیات سے ان کا اعمالنامہ بائیں ہاتھ میں ہو گا
(19) ان کے اوپر بھڑکتی ہوئی آگ مسلط ہو گی (20)
سورہ البلد
·       یہ
سورہ مکیہ ہے ۔
·       اس
کی آیات بسم اللہ کو ملا کر اکیس (21) ہیں ۔ 
·       حدیث
نبوی میں ہے جو اس کی تلاوت کے گا قیامت کے روز کے غضب سے مامون ہو گا۔
·       حضرت
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا جو شخص نماز فریضہ میں اس سورہ کی تلاوت کرے
گا تو دنیا میں بھی نیک لوگوں میں شمار ہو گا اور قیامت کے دن بھی اس کا شمار ان
لوگوں میں ہو گا جن کی اللہ کے نزدیک بلند منزلت ہو گی اور انبیاء و شہدا و صالحین
کا رفیق ہو گا۔
·       حدیث
نبوی میں ہے جو شخص اس سورہ کو لکھ کر کسی بچے کی گردن میں یا کسی دوسرے پیدا ہونے
والے حیوان کے بچے کی گردن میں ڈال دے تو وہ بچہ بچوں کو عارض ہونیوالی بیماریوں
سے محفوظ رہے گا اور مروی ہے کہ وہ بچہ ہر آفت سے محفوظ رہے گا اور رونے کی بیماری
سے بھی بچ جائے گا اور ام الصبیان سے بھی محفوظ ہو گا۔ 
·       حضرت
امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جس بچہ کو یہ سورہ لکھ کر باندھا جائے
وہ نقص سے محفوظ ہو گا اور اس کو دھو کر اگر اس کا پانی بچے کے ناک میں کھینچا
جائے تو ناک کی بیماریوں سے محفوظ رہے گا اور اس کی تربیت نہایت اچھی ہو گی
۔(برہان)
رکوع نمبر 15 ۔ لا اقسم ۔ تمام مفسرین کا
اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ قسم مکہ معظمہ کی ہے اور اس کی عظمت کی وجہ یہ بتائی کہ
آپ کا مسکن ہے اور آپ اس میں قیام پذیر ہیں کیونکہ حل کا معنی ساکن ہے اور اس کے
علاوہ حل کے دو معنی اور بھی حلال اور محل پس اسی اعتبار سے اس کی تفسیر میں بھی
دو قول اور پائے جاتے ہیں (1) آپ اس شہر میں حلال سمجھے گئے ہیں یعنی وہ عرب جو اس
شہر میں کسی کو تکلیف دینا جائز نہیں سمجھتے تھے حتی کہ اپنے باپ کے قاتل سے بھی
مکہ کی حدود میں انتقال نہ لیتے تھے لیکن انہوں نے حضورؐ کو اسی مکہ میں ستایا اور
قسم و قسم کی اذیتیں  دیں حتی کہ حضور کو شہر بدر کر دیا یعنی کسی چیز کو اس
شہر میں حل نہ سمجھا گیا لیکن حجور کو حل سمجھا گیا (2) مکہ میں آپ کو فتح مکہ کے
سال محل قرار دیا گیا کہ آپ پر کفار قریش کا قتل حلال قرار دیا گیا
چنانچہ  بن اخطل  کو استار کعبہ کو پکڑے ہونے کے باوجود  قتل
کر دیا گیا اور اسی طرح بعض دیگر افراد کو بھی قتل کیا گیا اور آپ نے فرمایا کہ یہ
شہر نہ مجھ سے پہلے کبھی حلال ہوا اور نہ میرے بعد کبھی حلال ہو گا اور میرے لئے
بھی آج دن کے کچھ حصہ کے علاوہ کبھی حلال نہیں ہو گا 
ووالد وما ولد ۔ اللہ نے اس میں والد اور مولود کی قسم
کھائی ہے اور اس کی تعین میں اختلاف ہے (1) آدم ؑ اور اس کی پوری ذریت مراد ہے
کیونکہ باقی تمام مخلوق سے یہ ایک نرالی مخلوق ہے جس نے پوری روئے زمین کو آباد
کیا (2) آدمؐ اور اس کی وہ اولاد جو انبیاء و مرسلین تھے مراد لئے گئے ہیں (3)
حجرت ابراہیمؑ علیہ السلام اور اس کی اولاد مراد ہے کیونکہ انہوں نے ہی کعبہ کو
تعمیر کیا تھا (4) ہر باپ و بیٹے کی قسم کھائی گئی ہے (5) تفسیر برہان میں روایات
اہلبیت  میں ہے کہ والد سے مراد حضرت امیر المومنین  علیہ
السلام  اور اولاد سے مراد آئمہ طاہرین ہیں جو ان کی عترت طاہرہ  ہیں
اختصاف مفید سے منقول ہے کہ حضرت امیر المومنین  علیہ السلام نے فرمایا
کہ میں اور میری اولاد سے  اوصیاء آئمہ ہیں اور محدث ہیں پھر آپ نے نام
لیا حسن حسین اور علی ابن الحسین (جو اس وقت شیر خوارگی کے عالم میں تھے ) پھر یکے
بعد یگرے سب کے نام لئے اور فرمایا خداوند کریم نے ووالد وما ولد میں نے انہی کی
قسم کھائی ہے کہ والد سے مراد رسولؐ اللہ ہے اور اولاد سے مراد اوصیاء
طاہرین  ہیں سائل نے پوچھا کیا وہ امام بیک وقت ہو سکتے ہیں تو آپ نے فرمایا
کہ ایسی صورت میں ایک ناطق ہو گا اور دوسر ا صامت ہو گا اور ایک
روایت  ہے کہ حضرت علی علیہ السلام اور آئمہ طاہرین اور جناب فاطمہ یہ
سب کے سب محدث تھے ۔
لقد خلقنا۔ یہ جواب قسم ہے یعنی ہم نے انسان کو مشکل اور
سخت امور کی انجام دہی کے لئے پیدا کیا مثلاً سردیوں میں غسل جنابت اور صبح سویرے
بستروں کو چھوڑ کر عبادت کے لئے حاضری وغیرہ  سخت امور ہیں جن کو انسان نے
انجام دینا ہے اور باقی مخلوقات اس قسم کے فرائض سے سبکدوش ہے اور بعضوں نے کبد کا
معنی استقامت لیا ہے یعنی ہم نے انسان کو سیدھی قد و قامت میں پیدا کیا ہے ۔
لن یقدر ۔ ابوالاشد نامی ایک طاقتور عرب تھا جس نے
حضورؐ  کی مساعی جمیلہ کو مٹانے کے لئے کافی دولت خرچ کی تھی اور طاقتور اس
قدر تھا کہ اگر وہ حکاظی چمڑے پر بیٹھ جاتا اور دس آدمی چمڑے کو کھینچتے تو چمڑا
پھٹ جاتا تھا لیکن وہ شخص اپنی جگہ سے نہ ہلتا تھا پس اس کو تنبیہ کی گئی کہ اپنی
طاقت و دولت کے بھروسہ پر اسے یہ گمان نہ کرنا چاہیے کہ مجھے گرفتار عذاب کرنے پر
کوئی قادر نہ ہو گا۔ 
اھلکت مالاً کہتے ہیں حارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف نے
کوئی گناہ کیا تھا اور حضورؐ نے اس کو کفار ادا کرنے کا حکم دیا تھا ۔ پس وہ کہتا
پھرتا تھا کہ جب سے مسلمان ہوا ہوں میرا تو سارا مال کفارات و صدقات پر خرچ ہو گیا
ہے اور تفسیر برہان میں ہے یکہ بروزخندق جب عمرو بن عبدو کو حضرت علی علیہ السلام
نے اسلام کی دعوت دی تھی تو اس نے جواب دیا تھا کہ آج تک اسلام کے مٹانے کے لئے
میں نے اپنا سارا مال خرچ کر دیا ہے لہذا اب کس منہ سے اسلام قبول کرلوں اور حضرت
پیغمبرؐ  نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن زمین  سے کسی آدمی کے قدم
نہ ہل سکیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کا سوال کیا جائے گا  زندگی کو
کہاں خرچ کیا ، مال کو کہاں سے کھایا اور کہاں خرچ کیا ، علم پر کیا عمل کیا اور
چوتھا محبت آل محمدؐ  کے متعلق سوال کیا جائے گا۔
ایحسب ۔ یعنی جو شخص خرچ نہ کرے اور خرچ کرنے کا دعویٰ کرے
اس کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کو دیکھا کسی نے نہیں ہے ۔
الم نجعل ۔ خداوند کریم نے اپنی نعمات کا تذکرہ شروع کر دیا
تا کہ ہدایت کے قبول کرنے میں آسانی ہو کہ ہم نے اس کو دیکھنے کے لئے دو آنکھیں
دیں  اور بولنے  کے لئے زبان دی  اور
حضورؐ  سے مروی ہے کہ حدیث قدسی میں اللہ فرماتا ہے  اے اولاد
آدم اگر تم کو زبان نافرمانی کی طرف لے جانا چاہے یعنی بے ہودہ الفاظ بولنا چاہے
تو دو ہونٹ میں نے اس کی قید بنائے ہیں لہذا اس کو بند کر دو اور اگر تمہاری 
آنکھیں آوارگی اختیار کرنے لگیں تو دو پلکیں اس کی قید ہیں ان کو بند کر دو اسی
طرح اگر شرمگاہ میں آوارگی کی شوق پیدا ہو تو اس کو کنڑول میں رکھو ۔
النجدین ۔ نجد بلند جگہ کو کہا جاتا ہے اس جگہ نیکی و بدی
کے دو راستے مراد ہیں  اور چونکہ یہ دونوں راستے واضح اور ظاہر ہیں ۔ اور
بلند بھی چیز کو ظاہر کرنے کےلئے ہوتی ہے اسی مناسبت سے اچھی اچھائی اور برائی کے
دونو راستوں کو نجدین سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ 
فلا اقتحم ۔ اقتحام کا معنی ہے نہایت دشوار گزار راستہ کو
محنت و کاوش سے عبور کرنا ور عقبہ سخت مشکل اور بلند پہاڑی چوٹی کو کہا جاتا ہے اس
جگہ جہاد نفس کو اقتحام عقبہ سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی انسان اطاعت خداوندی میں
اپنے نفس کے ساتھ جہاد کیوں نہیں کرتا اور لائے نفی کے متعلق بھی تین اقوال ہیں
(1)  نفی کے معنی یعنی انسان نے اطاعت خداوند میں مشکل مراحل طے نہیں کئے (2)
دعائیہ فقرہ ہے کہ اس کو مشکل گھاٹیوں کا عبور کرنا نصیب نہ ہو گا (3) تنبیہ کے
لئے ھلا کے معنی میں ہے کہ انسان نے ان منازل کو طے کیوں نہیں کیا ؟ اور
مروی  ہے کہ حضورؐ نے فرمایا تمہارے آ گے جہنم میں ایک دشوار گذار عقبہ
ہے کہ اس گنہگار نہ گزر سکیں گے گویا اطاعت خداوندی سے اس کو سر کرنے کی کوشش کرو
۔
ما العقبہ ۔ یہ سوالیہ  ہے کہ وہ دشار گزار چوٹی کونسی
ہے جس کو عبور کرنے کی ہمت کرنی ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ غلام آزاد کرو اور
چونکہ غلام کا آزاد کرنا ہر شخص کے بس میں نہیں ہے ۔ لہذا سہولت کے پیش نظر اختیار
دیا گیا کہ اگر یہ نہیں تو پھر بھوکے لوگوں کو کھانا کھلاؤ ۔ 
ایک دفعہ اعرابی نے خدمت نبوی میں عرض کی کہ حضورؐ ! مجھے
کوئی ایسا عمل تعلیم فرمائیے جو جنت میں جانے کا موجب بن سکے تو آپؐ نے فرمایا تو
نے  بات تو تھوڑی کی ہے لیکن سوال بہت بڑا کیا ہے (لہذا جواب سنو کہ جنت میں
جانے کے لئے ) عتق نسمہ کرو اور فک رقبہ کرو سائل نے دریافت کیا کہ عتق نسمہ اور
فک رقبہ میں کیا فرق ہے تو آپ نے فرمایا عتق نسمہ ہے  غلام کا آزاد کرنا اور
فک رقبہ کا معنی ہے غلام کی آزادی میں پیسہ کی مدد کرنا اس کے علاوہ قرابت داروں
کے ساتھ ان کے ظلم کے باوجود صلہ رحمی کرو اور بھوکے کو کھانا کھلاؤ ، پیاسوں کو
پانی پلاؤ ، نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو اور یہ کام نہ کر سکو تو کم از کم
زبان کو اپنے کنڑول میں رکھو کہ بات کرو تو اچھی ورنہ خاموش رہو اور ایک حدیث میں
حضورؐ نے فرمایا جو شخص  کسی بھر کے مسلمان کو کھانا کھلائے خداوند کریم اس
کو جنت میں داخل کرے گا اور جابر سے مروی ہے حضورنے فرمایا بھوکے مسلمان کو کھلانا
اسباب مغفرت میں سے ہے ایک شخص نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے اپنے بیٹے کی
بیماری کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا کہ اس کو کہو اپنے ہاتھ سے روٹی کا صدقہ کرے
اور آیات مجیدہ میں قرابت دار یتیم کو فقیر و مسکین پر سبقت دی گئی ہے اور ان تمام
نیکیوں کے بعد آخر میں ایمان کی شرط بھی لگائی گئی ہے 
تفسیر مجمع البیان ہے کہ جہنم پر ایک پل بچھائی جائے گی جو
تلو کی دھار کی طرح تیز ہو گی اور اس کی ایک ہزار سال کی چڑھائی ایک ہزار سال کی
لمبائی ئاور ایک ہزار سال کی اترائی ہو گی اور اس کے ارد گرد کانٹے ہوں گے پس بعض
لوگ بجلی کی طرح گذریں گے بعض تیز ہوا کی طرح عبور کریں گے بعض تیز رو گھوڑے کی
طرح دوڑ کر جائیں گے بعض انسانوں کی طرح دوڑیں گے اور بعض چل کر جائیں گے بعض
گھٹنوں کے بل اور بعض گرتے پڑتے مشکل سے گذریں گے اور بعض اوندھے منہ  جہنم
میں گریں گے ۔
تفسیر اہل بیت میں ہے کہ عقبہ سے مراد حضرت امیر المومنین
علیہ السلام کی ولایت ہے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا تمام لوگ جہنم
کی قید و غلامی میں ہیں پس جو ہماری طاعت و ولایت میں داخل ہو گا وہ آتش جہنم سے
آزاد ہوگا اور عقبہ ہماری ولایت کا نام ہے اس میں شک نہیں کہ سب اعمال کی مقبولیت
کا دارو مدار ایمان پر ہے اور یامان صحیح نہیں ہو سکتا جب تک آل محمد کی ولایت
حاصل نہ ہو لہذا تفسیر باطنی کے اعتبار سے عقبہ سے مراد ولاء آل محمد درست ہے
خداوند کریم ہمیں محمد و آل محمد علیہم السلام  کی ولایت و محبت پر ثابت قدم
رکھے آمین اور روایات آل محمد میں ہے کہ اصحاب مشئمہ سے مراد دشمنان آل محمدؐ ہیں۔
 


Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *