anwarulnajaf.com

surah quraish read online sura quraysh pdf quraysh sharif arabic english urdu

surah quraish read online sura quraysh pdf quraysh sharif arabic english urdu

surah quraish read online sura quraysh pdf quraysh sharif arabic english urdu

سورة قريش (106)         al-Quraish The Quraish         قُرَیْشٍ             

بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
لِإِيلَافِ
قُرَيْشٍ (1) إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاء وَالصَّيْفِ (2) فَلْيَعْبُدُوا
رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ (3) الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ
خَوْفٍ (4)
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے (شروع
کر تا ہوں)
قریش کی محبت کےلئے (1) کہ ان کی محبت
سردیوں اور گرمیوں کے سر پر موقف ہے (2) پس انہیں چاہیے کہ اس گھر کے رب کی عبادت
کریں (3) جس نے ان کو بھوک کے بعد کھانا دیا اور خوف سے امن میں رکھا(4)
سورہ لایلاف
۞   یہ سورہ مکیہ ہے اوروالتین کے بعد نازل ہوا ہے ۔
۞   اس کی آیات کی تعدادبسم اللہ کے علاوہ چار ہے ۔
۞   حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جو سورہ لایلاف کی زیادہ تلاوت کرے ۔ خدا وند کریم اسکو جنت کی سواری پر سوار کر کے محشور کرے گا اور نور کے دستر خوان پر اس کو جگہ ملے گا۔ 
۞   حدیث نبوی میں ہے جوشخص اس سورہ کو پڑھے کعبہ کے طواف و اعتکاف کرنیوالوں کی تعداد سے دس گنا نیکیاں اس کے نامہ اعمال لکھی جائیں گی۔ 
۞   سورہ فیل اور سورہ قریش دونوں ایک سورہ ہیں اور نماز میں جہاں ایک پڑھی جائے وہاں دوسری کا پڑنا بھی واجب ہے 
۞   حدیث نبوی میں ہے کہ اگر اس سورہ کو کھانے پر پڑھا جائے تو اس کے ضرر رساں اثرات ختم ہونگے اور وہ باعث شفا ہو گی 
۞   حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا اگر اس سورہ کو پانی پر پڑھ کر دل کے مریض پر وہ پانی چھڑکاجائے تو وہ تندرست ہو جائے گا 
۞   مصباح کفعمی سے منقول ہے کہ اگر بھوکا آدمی اس کو طلوع آفتاب سے پہلے پڑھے تو خداوند کریم اس کے لئےروزی کا پہنچنا آسان کر دے گا۔
رکوع نمبر31۔ لایلاف قریش ۔ ایلاف الفت سے ہے  اور جار کا متعلق فعل محذوف ہے جسکا ربط پہلی سورت سے ہے یعنی ہم نے ابرہہ کی فوج کو تباہ کر ڈالا قریش کی محبت کے لئے اور ان کی بیت اللہ کے ساتھ مانوسیت کو برقرار رکھنے کےلئے کیونکہ اگر ہم ان
کی مدد نہ کرتے اور ابرہہ کی فوج چھا جاتی تو قریش کو مکہ چھوڑنا پڑتا پس ہم نے ان
کے دشمن کو شکست دیدی تا کہ یہ لوگ باامن ہر کر کعبہ کی مجاورت میں زندگی گزاریں اور اس لئے کہ یہ مقام خاتم الانبیاء کی ولادت کا مقام ہے پس قریش کے لئے مکہ کی رہائش کو دشمن کی پس پائی سے زیادہ قابل قبول بنا دیا ۔
قرش کا معنی ہے کمایا چونکہ یہ لوگ تجارت پیشہ تھے نہ ان کے پاس زراعت تھی اور نہ مالداری بلکہ غیر ملکی تجارت کر کے بسر اوقات کرتے تھے اور یہ نضر بن کغانہ کی اولاد تھے اور نضر کی اولاد کو ہی قریش کہا جاتا ہے اور ھرم کعبہ کی زیارت اور حرم کعبہ کی مجادرت کی وجہ سے پوری عرب آبادی ان کا احترام کرتی تھی حتا کہ اگر کہین قافلہ
چورون اور ڈاکوؤں کی زد میں آجا تا تھا اور کوئی شخص کہتا تھا کہ میں حرم کعبہ کا
مجاور ہوں تو چور و ڈاکو اسی کو چھوڑ دیا کرتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ بڑے سے بڑا
دشمن بھی ان پر چڑھائی نہ کر سکتا تھا۔ پس خدا فرماتا ہے کہ ہم نے ابرہہ کی فوج کو
پرندوں سے مروایا تا کہ ان کی عقیدت میں اضافہ ہو اور ان کی کعبہس ے محبت برقرار
رہے پس ان کو بھی چاہیے کہ اس گھر کے مالک کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں ۔ 
ایلافھم ۔ یہ پہلے ایلاف سے بدل ہے سال بھر میں قریشی دو سفر کرتے تھے سردیوں میں یمن کی طرف جاتے تھے کیونکہ یہ علاقہ ساحل بحر پر ہونے کی وجہ سے گرم تھا اور گرمیو مین شام جاتے تھے کیونکہ یہ علاقہ سرد تھاو ر بعض نےکہا ہے کہ دونو سفر شام کی طرف تھے۔البتہ سردیوں میں سمندر کے کنارے کنارے جاتے تھے اور گرمیوں مین بصری واذرعات کے رستے سے جاتے تھے پس یہ اپنے ہاں سے چمڑے کا سامانا لے جانے تھا اور وہاں سے کپڑا غلہ اور دیگر ضروریات زندگی خرید لاتے تھے ۔ 


Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *